پنجاب یونیورسٹی شعبہ آرکیالوجی اور انسٹیٹیوٹ آف آرکیالوجی چائنیز اکیڈمی آف سوشل سائنسز نے”سی پیک: ون بیلٹ ون روڈ انیشیٹو“ کے سلسلے میں دوطرفہ تاریخی روابط کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ سائنسی تحقیقی فیلڈ پراجیکٹس کے قیام پر اتفاق کرلیا۔ اس سلسلے میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی آفس کے کمیٹی روم میں منعقد ہوئی۔تقریب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی، انسٹیٹیوٹ آف آرکیالوجی چائنیز اکیڈمی آف سوشل سائنسزکے سینئر ریسرچرزڈاکٹر ٹونگ تاؤ، ڈاکٹر لی سنچن، اسسٹنٹ ریسرچرز ڈاکٹر ائی وانکیاو، ڈاکٹر کوو جنگ، ریسرچر ڈاکٹر جیا ہوئی، ڈائریکٹر پنجاب آرکیالوجی محمد اقبال خان منج، پنجاب یونیورسٹی ڈائریکٹر ایکسٹرنل لنکجز ڈاکٹر یامینہ سلمان، چیئر مین شعبہ آرکیالوجی ڈاکٹر محمد حمید، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد عظیم ودیگرنے شرکت کی۔ معاہدے کے مطابق، دونوں ادارے دنیا کی دو قدیم تہذیبوں یعنی وادی سندھ کی تہذیب اور چینی تہذیب کے درمیان ممکنہ مقامات کی منظم اور سائنسی کھوج اور کھدائی کے ذریعے آثار قدیمہ اور تاریخی روابط کا سراغ لگانے پر کام کریں گے۔اس تعاون کے طویل مدتی مقاصد میں مقامات کا تحفظ، شعورکی بیداری اور ملک میں سیاحت کی ترقی کیلئے کام کرنا شامل ہے۔
Uncategorized
یو ای ٹی کو پاکستان کا سب سے اعلیٰ تحقیقاتی مرکز بنائیں گے، احسن اقبال……….. احسن اقبال کی یو ای ٹی آمد خوش آئند ہے…….. وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد منیر
وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی، احسن اقبال نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی) لاہور کا دورہ کیا، جہاں وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد منیر نے اُن کا پرتپاک استقبال کیا۔ دورے کے دوران وفاقی وزیر نے یو ای ٹی اور اس کے سب کیمپسز میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے یونیورسٹی کے ہاسٹلز، تدریسی عمارات، اور دیگر انفراسٹرکچر پر جاری تعمیراتی کاموں کا معائنہ کیا، جبکہ متعدد نئے منصوبوں کی بھی منظوری دی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ “یو ای ٹی کو پاکستان کے سب سے اعلیٰ تحقیقاتی مرکز کے طور پر بنایا جائے گا۔ جو ایکسیلینس سینٹرز اور اعلیٰ پائے کی جدید لیبارٹریز سے آراستہ ایک ادارہ ہو گا تاکہ یہاں سے فارغ التحصیل طلباء عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کرتے رہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ انجینئرنگ کی تعلیم پوری دنیا میں اپنی اہمیت رکھتی ہے اور کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں انجینئرز کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔
وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد منیر نے کہا کہ “وفاقی وزیر کی یونیورسٹی آمد ہمارے لیے باعث فخر ہے۔ احسن اقبال ہمیشہ یو ای ٹی کی ترقی میں خصوصی دلچسپی لیتے رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ رواں سال یونیورسٹی کے بجٹ میں بھی اضافہ ہوگا تاکہ یونیورسٹی کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کے حوالے سے جو منصوبہ جات ہیں وہ عملی شکل اختیار کر سکیں۔اس اہم ملاقات میں کیمپس کوآرڈینیٹر ڈاکٹر شہباز، پی آر او ڈاکٹر تنویر قاسم، اور پراجیکٹ ڈائریکٹر سرمد ریاض بھی موجود تھے، جبکہ چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد، ممبر ایچ ای سی نوید شاہ، اور یونیورسٹی آف نارووال کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد یونس ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔ اختتام پر وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد منیر نے یو ای ٹی آمد پر وفاقی وزیر کا شکریہ ادا کیا اور ان کی کوششوں کو سراہا۔

بیروز گار افراد کے لئے خوش خبری۔۔۔۔۔۔۔۔۔حکومت پنجاب 23000 ہزار اساتزہ بھرتی کرے گی
پنجاب حکومت نصوبے بھر کے 2,000 اپگریڈ شدہ اسکولوں میں 23,000 انٹرن اساتذہ تعینات کرے گی،فصیلات کے مطابق، یہ اسکول گزشتہ پانچ سالوں کے دوران متعلقہ علاقوں کے ایم پی ایز اور سماجی شخصیات کی سفارشات پر اپگریڈ کیے گئے تھے۔موجودہ حکومت نے 781 اسکولوں کے لیے ایس این ای (سیکنڈری نان ایجوکیشن) کی منظوری بھی دے دی ہے۔ ان اساتذہ کی تعیناتی انہی اسکولوں میں کی جائے گی۔گزشتہ حکومت کے دور میں 1229 پرائمری اسکولوں کو اپگریڈ کیا گیا اور انہیں اعلیٰ سطحی کیڈر دیا گیا۔
لاہور میں 51 اسکولوں کو اپگریڈ کیا گیا، جبکہ اسکول ٹیچر انٹرن شپ (STI) کی تعیناتی کا عمل رواں سال اگست تک مکمل کر لیا جائے گا۔اس منصوبے کے لیے بجٹ کی منظوری صوبائی کابینہ کمیٹی سے لی جائے گی۔ایس ٹی آئیز (STIs) کی تعیناتی صوبے میں اساتذہ کی خالی آسامیوں کو پُر کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔اب تک تقریباً 1200 اسکول ٹیچر انٹرن پہلے ہی تعینات کیے جا چکے ہیں۔
4o
پروفیسر محمد عمر چوہدری جی سی یو کے وائس چانسلر مقرر……انہوں نے ناروے سے پی ایچ ڈی اور ایم ایس، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی (بی زیڈ یو) ملتان سے ایم فل، اور گورنمنٹ کالج لاہور (جی سی یو) سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی — وہی ادارہ جس سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ اب بطور وائس چانسلر واپس آئے ہیں۔
ڈاکٹر محمد عمر چوہدری
ڈاکٹر محمد عمر چوہدری بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہر معیشت ہیں، جنہیں ایفیشنسی اور پروڈکٹیوٹی اینالیسس اور ڈیولپمنٹ اکنامکس میں مہارت حاصل ہے۔ جی سی یو کے اساتذہ اور عملے نے ایک ایسے اولڈ راوین کو وائس چانسلر مقرر کیے جانے کا خیر مقدم کیا ہے، جن کا علمی پس منظر شاندار ہے، اور جو اپنے ساتھ علمی بصیرت، وسیع تجربہ اور جی سی یو کی روایت سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔انہوں نے ناروے سے پی ایچ ڈی اور ایم ایس، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی (بی زیڈ یو) ملتان سے ایم فل، اور گورنمنٹ کالج لاہور (جی سی یو) سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی — وہی ادارہ جس سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ اب بطور وائس چانسلر واپس آئے ہیں۔
پروفیسر عمر چوہدری اس وقت بی زیڈ یو ملتان میں اکنامکس کے پروفیسر کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں، جہاں وہ انسٹیٹیوٹ آف سوشیئل اینڈ کلچرل اسٹڈیز کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں، اور کنٹرولر امتحانات اور رجسٹرار کے فرائض بھی انجام دے چکے ہیں۔ بی زیڈ یو میں ان کی قیادت کے مختلف کردار ان کی علمی قیادت اور ادارہ جاتی ترقی سے وابستگی کو ظاہر کرتے ہیں۔
اولڈ راوینز نے بھی پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر چوہدری کی بطور نئے جی سی یو وائس چانسلر تقرری کا پرجوش خیر مقدم کیا ہے۔جی سی یو کے سینئر اساتذہ کا کہنا ہے کہ پروفیسر عمر، جنہوں نے جی سی یو لاہور میں بھی تعلیم حاصل کی، راوین روایات میں گہرائی سے رچے بسے ہیں، اور اسی لیے وہ اپنے مادرِ علمی کو اس مقام تک لے جانے کے لیے بہترین شخصیت ہیں، جہاں کلاسیکی اقدار جدید علمی، تحقیقی اور قومی تعمیر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو جاتی ہیں۔
4o
ٹیکنالوجی کی دنیا میں جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یو ای ٹی جدید علوم پر فوکس کر رہی ہے،ڈاکٹر شاہد منیر……..یو ای ٹی لاہور میں سالانہ کیریئر فیئر2025کا انعقاد……100سے زائدکمپنیوں نے180 سٹال لگائے
یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں سالانہ جاب فیئر2025ء کا وائس چانسلر ڈاکٹرشاہدمنیر نے افتتاح کر دیا۔میلے میں 100سے زائدکمپنیوں نے حصہ لیااور180اسٹالز لگائے۔50سے زائد کمپنیوں نے طلباء کی بھرتی کیلئے انٹرویوکیے جبکہ20کمپنیوں نے جاب کیلئے ٹیسٹ بھی لیا۔میلے میں 8 ہزار سے زائدطلباء نے شرکت کی۔اس موقع پر وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد منیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس جاب فیئرکا مقصدتعلیمی اور صنعتی شعبوں کو ایک چھت تلے جمع کر کے طلبہ کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔یو ای ٹی کواپنے گریجوایٹس پر فخر ہے،یو ای ٹی گریجوایٹس ہزاروں کی تعداد میں مختلف فرمز میں کام کر رہے ہیں۔انہوں نے میلے میں شریک کمپنیوں کے ذمہ داران کا شکریہ ادا کیا جن کی وجہ سے سینکڑوں کی تعداد میں فریش گریجوایٹس کو روزگار کے مواقع میسر آئے۔انکا مزید کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یو ای ٹی جدید علوم پر فوکس کر رہی ہے۔حکومتی ادارے اور دیگر صنعتیں بھی انجینئرز کی کھپت کو پورا کرنے کیلئے یو ای ٹی کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ ہونہار سکالرشپ پروگرام کا اجراء لائق تحسین ہے، جس سے ہزاروں طلباء مستفید ہو رہے ہیں۔اسی طرح لیپ ٹاپ سکیم کیلئے بھی حکومت پنجاب کے ممنون و مشکور ہیں۔میلے میں شریک طلباء و طالبات کی دلچسپی قابل قدر تھی۔ڈاکٹر شاہد منیر نے جاب فیئر کے کامیاب انعقاد پرڈاکٹر نوید رمضان اور ڈاکٹر آصف علی قیصر اور انکی ٹیم کو سراہا۔ تقریب میں وائس چانسلر سمیت کمپنیوں کے نمائندوں، ڈینز، اساتذہ اور طلباء و طالبات کی کثیر تعدادنے شرکت کی۔ جاب فیئر کے اختتام پرخصوصی تقریب کا انتظام کیا گیاجس میں کمپنیوں کے نمائندگان اور منتظمین کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔
بی جے پی کی سیاست کے بعد ہندوتوا کا اندازہ ہوا, سیاست کی بنیاد نظریات، سوشل ویلفیئر اور انسانیت پر ہونی چاہیے،مہاراجہ رنجیت سنگھ کاتعلیمی نظام حیران کن تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شاہ۔۔۔۔۔۔۔۔ہندوؤں نے چالاکی سے سکھوں کو اپنا بھائی کہہ کر مسلمانوں کے خلاف اکسایا۔انہوں نے کہا کہ کانگرس ایک سیکولر جماعت تھی جس میں مسلمانوں سمیت دیگر مذاہب کے لوگ بھی شامل تھے مگر اچانک اقلیتوں کے خلاف ہوگئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر اجیت پال سنگھ سندھو،بانی سکھ ہیریٹج، ایجوکیشن اینڈ کلچرل آرگنائزیشن
وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا ہے کہ بابا گورونانک کی تعلیمات میں امن کے فروغ کا درس ملتا ہے اور خطے میں امن کے فروغ میں انہوں نے اہم کردار ادا کیاہے۔وہ پنجاب یونیورسٹی شعبہ سیاسیات کے زیر اہتمام ڈین فیکلٹی آف بیہوریل اینڈ سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر ارم خالد کی تصانیف ’ہندوتواں دی ٹرسٹ بی ہائنڈ‘ اور ’دی ٹیل آف مہاراجہ رنجیت سنگھ ایجوکیشن سسٹم ان پنجاب‘کی تقریب رونمائی سے الرازی ہال میں خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پرنائب صدرسکھ ہیریٹج ایجوکیشن اینڈ کلچرل آرگنائزیشن امریکہ ڈاکٹر اجیت پال سنگھ سندھو،بانی سکھ ہیریٹج، ایجوکیشن اینڈ کلچرل آرگنائزیشن ڈاکٹر گوریندر سنگھ گریوال،پرووائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر خالد محمود،دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) فاروق حمید، کالم نگارسلمان عابد، ڈین فیکلٹی آف بیہوریل اینڈ سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر ارم خالد، چیئرمین شعبہ سیاسیات پروفیسر ڈاکٹر رانا اعجاز احمد،ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف سوشل اینڈ کلچرل سٹڈیز پروفیسر ڈاکٹر فرحان نوید یوسف، ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر مریم کمال، فیکلٹی ممبران اور طلباؤطالبات نے شرکت کی۔ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شاہ اپنے خطاب میں ربی جے پی کی سیاست کے بعد ہندوتوا کا اندازہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کی بنیاد نظریات، سوشل ویلفیئر اور انسانیت پر ہونی چاہیےنے کہا کہ اپنے مذہب پر فخر کرنے میں کوئی حرج نہیں مگر ہندوتواکا نظریہ مختلف ہے اوربی جے پی کی سیاست کے بعد ہندوتوا کا اندازہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کی بنیاد نظریات، سوشل ویلفیئر اور انسانیت پر ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سکھ برادری ہمیں اپنے آپ سے بھی پیاری ہے۔انہوں نے کہا کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کاتعلیمی نظام حیران کن تھا۔انہوں نے بہترین موضوعات پر کتب تحریرکرنے پر پروفیسرڈاکٹر ارم خالد کی تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ یہ کتابیں مختلف ادیان کے تقابلی جائزے میں دلچسپی رکھنے والوں کے بہترین رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ ڈاکٹر اجیت سنگھ نے کہا کہ پاکستان آکر ہمیشہ خوشی محسوس ہوتی ہے بلکہ میں اپنے آپ کو پاکستانی مانتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم تاریخ اور سچائی سے ناواقف ہیں جسے جاننے میں ڈاکٹر ارم خالد کی کتب مددگار ثابت ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ ہندوؤں نے چالاکی سے سکھوں کو اپنا بھائی کہہ کر مسلمانوں کے خلاف اکسایا۔انہوں نے کہا کہ کانگرس ایک سیکولر جماعت تھی جس میں مسلمانوں سمیت دیگر مذاہب کے لوگ بھی شامل تھے مگر اچانک اقلیتوں کے خلاف ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں رہنے والے مسلمان ڈر میں جیتے ہیں اور مقبوضہ کشمیر میں انڈین آرمی کا کنٹرول ہے۔ انہوں نے کہا کہ سچائی سے آگاہی سب کا حق ہے۔ ڈاکٹر گوریندر سنگھ گریوال نے کہا کہ میرے والدین پاکستانی ہیں اسی لئے میں بھی خود کو پاکستانی کہلوانا پسند کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کی ثقافت،زبان، طرز زندگی اورتاریخ سے سب کو واقف ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو اختلاف رائے کو رکاوٹ کی بجائے موقع سمجھنا چاہیے اور مل کر بہتر مستقبل کیلئے کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے سے سیکھ کر اور ایک دوسرے کو سمجھ کر ہی اتحاد اور محبت قائم ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی ثقافتی تبادلوں اور زبانوں کو سیکھنے کے لئے بہترین جگہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کا حل نکالنے، چیلنجز سے نمٹنے اور دنیا کو ملانے کے لئے طلباء اپنا بھر پور کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے طلباء کو ہدایت کی کہ وہ ڈگری مکمل کرنے کے بعد بھی پڑھنے لکھنے کا سلسلہ جاری رکھیں۔پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود نے کہا کہ زیادہ تعداد میں ہندو اور کم تعداد میں اقلیتوں کا وجود مسئلہ نہیں بلکہ تنگ نظری مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ شدت پسندی کا رجحان ہرجگہ ہے مگر لوگ ہندوتوا کے نظریہ کو اپنارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس اور شیو سینا کا نظریہ ہے کہ یا تو لوگ ہندو ہو جائیں یا پھر بھارت چھوڑ کر چلے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی نسبت اب اس نظریے کو زیادہ تقویت مل رہی ہے۔ انہوں نے کہ تاریخی اعتبار سے دیکھیں تو ہندو عرصہ دراز تک مسلمان حکمرانوں کے ساتھ رہے،مگر اب جو ہورہا ہے وہ انڈیا کی بربادی تک ٹھیک نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہندو شدت پسندی کے ساتھ سیاست نہیں کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی ماہرین کو شدت پسندی کی تحریک کو روکنے کیلئے دنیا کو احساس دلانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اپنے چالیس سالہ دور حکومت میں صرف لاہور میں لڑکیوں کے 18سکول قائم کئے جو ایک مثبت پہلو ہے۔ بریگیڈئیر (ر)فاروق حمید نے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر ارم کو بہترین کام پر قومی اعزازملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی نے ہمیشہ پاکستان کی یکجہتی کے لئے کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہندوتواں ایک تشدد پسند نظریہ ہے جو اقلیتوں کے لئے نقصان دہ ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر ارم خالد نے شر کاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتب مطالعے کی عادات کو فروغ دینے میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔ تقریب سے ڈاکٹر رانا اعجاز،ڈاکٹر مریم کمال، ڈاکٹر فرحان نوید یوسف نے بھی خطاب کیا۔
نیشنل رحمت اللعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی (NRKNA) کے فلیگ شپ منصوبے “رحمت اللعالمین یوتھ کلبز”اور بلوچستان کے ایک نمایاں تعلیمی ادارے، “تعمیرِ نو ٹرسٹ” کےما بین ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ۔۔۔۔۔۔۔ معاہدے کے تحت ٹرسٹ اپنے تعلیمی اداروں کے نیٹ ورک میں سیرت النبی ﷺ سے متعلقہ سرگرمیوں کا آغاز کرے گا۔
ایک تاریخی پیش رفت کے طور پر، نیشنل رحمت اللعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی (NRKNA) کے فلیگ شپ منصوبے “رحمت اللعالمین یوتھ کلبز” نے اب بلوچستان تک اپنی رسائی کو بڑھا دیا ہے۔ علاقے کے ایک نمایاں تعلیمی ادارے، “تعمیرِ نو ٹرسٹ” نے NRKNA کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت (MOU) پر دستخط کیے ہیں تاکہ اپنے تعلیمی اداروں کے نیٹ ورک میں سیرت النبی ﷺ سے متعلقہ سرگرمیوں کا آغاز کیا جا سکے۔
اس حوالے سے ایک اہم اجلاس جناب محمد نسیم لہڑی، سیکریٹری تعمیرِ نو ٹرسٹ کوئٹہ، کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں اہم شخصیات نے شرکت کی، جن میں حافظ محمد طاہر (رکن بورڈ آف ٹرسٹیز)، پروفیسر محمد عابد (پرنسپل تعمیرِ نو کالج)، پروفیسر ڈاکٹر عرفان بیگ (کوارڈینیٹر رحمت اللعالمین یوتھ کلبز)، مفتی عبدالرحمٰن، پروفیسر بلال درانی اور دیگر ممتاز اراکین شامل تھے۔اجلاس کے دوران حافظ محمد طاہر نے نیشنل رحمت اللعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی کے مشن اور مقاصد پر روشنی ڈالی اور تعمیرِ نو کے اداروں کے سربراہان اور فوکل پرسنز کو منصوبے کی بنیادی اقدار اور اہداف سے آگاہ کیا۔ جناب لہڑی نے نوجوانوں کو بااختیار اور باحوصلہ بنانے میں یوتھ کلبز کے مرکزی کردار کو اجاگر کیا، اور اس بات پر زور دیا کہ ان کلبز کے ذریعے سیرت النبی ﷺ کی سچی تفہیم کو فروغ دیا جائے تاکہ نوجوان معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔
مذاکرات کا ایک نمایاں پہلو یہ اعلان تھا کہ جلد ہی کوئٹہ میں ایک شاندار حلف برداری کی تقریب منعقد کی جائے گی، جس میں بلوچستان کے نوجوان سیرت النبی ﷺ کی اقدار سے اپنی وابستگی کا اعادہ کریں گے۔ تعمیرِ نو کے تعلیمی اداروں کے سربراہان نے سیرتِ مبارکہ ﷺ کے اصولوں کی روشنی میں طلبہ و طالبات کی تعلیم و تربیت کے لیے بھرپور تعاون کا عہد کیا۔یہ شراکت داری NRKNA کی جانب سے سیرت النبی ﷺ کے پیغام کو عام کرنے اور ایک ایسی نوجوان نسل کی تربیت کے لیے ایک اہم قدم ہے جو حضور نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات سے بااختیار ہو۔
4o
نان فارمل سکولوں کے ذریعے آؤٹ آف سکول بچوں کے چیلنج سے بہتر نبٹا جا سکتا ہے۔ رانا سکندر حیات ,,,,,,,,,,اڈلٹ لٹریسی کا دائرہ کار بڑھانے کی ضرورت، بجٹ، سہولیات کا فقدان دور کریں گے۔ وزیر تعلیم
وزیر تعلیم رانا سکندر حیات اور سیکرٹری لٹریسی سید حیدر اقبال کی زیر صدارت محکمہ لٹریسی کا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں اڈلٹ لٹریسی کا دائرہ کار بڑھانے اور نان فارمل سکولوں کے ذریعے آؤٹ آف سکول بچوں کے چیلنج سے نبٹنے کیلئے اقدامات پر مشاورت کی گئی۔ وزیر تعلیم نے محکمہ لٹریسی کی کارکردگی کو سراہا اور اڈلٹ لٹریسی پر کام کا دائرہ کار بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نان فارمل سکولوں کے ذریعے لٹریسی ریٹ مزید بہتر کیا جا سکتا ہے اور آف سکول بچوں کی بڑھتی تعداد پر اڈلٹ لٹریسی کے ذریعے قابو پایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اڈلٹ لٹریسی پراجیکٹ کے ذریعے انرولمنٹ اور شرح تعلیم کی بہتری پر توجہ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب تعلیم کیلئے بہت مہربان اور بجٹ اور ریسورسز کی شارٹیج دور کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔ وزیر تعلیم نے محکمہ لٹریسی کو ہدایت کی کہ بجٹ کی شارٹیج کے حوالے سے فوری آگاہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر نان فارمل سکولوں کو ٹیبز فراہم کر دئیے گئے ہیں جبکہ دیگر سکولوں میں بھی سہولیات بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
ایک ایسا نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو طلباء میں تخلیقی صلاحیت، جدت طرازی اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو فروغ دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد
چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد نے “جی ایچ ای ڈی ای ایکس گلوبل” میں اپنے ویڈیو پیغام میں علمی برتری اور انسانیت کی بہتری کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اسکول کی تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا کیونکہ یہ طلباء کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کرنے اور انہیں تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے درکار مہارتوں سے آراستہ کرنے کی بنیاد ہے۔ڈاکٹر مختار احمد نے اس بات پر زور دیا کہ ایک ایسا نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو طلباء میں تخلیقی صلاحیت، جدت طرازی اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو فروغ دے۔
گلوبل ہائر ایجوکیشن ایگزیبیشن (GHEDEX) 2025 عمان کنونشن اینڈ ایگزیبیشن سینٹر میںجاری ہے۔ مسقط میں پاکستانی سفارتخانے نے اس ایونٹ میں پاکستان کی شرکت کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی روابط کو مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔


4o
بلوچستان کے پہاڑوں سے لے کر خیبر پختونخوا کے برف سے ڈھکے پہاڑوں اور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان سے لے کر سندھ کی وادیوں اور پنجاب کے میدانوں تک پورا پاکستان معدنیات سے مالا مال ہے۔ ان عظیم اثاثوں سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے……..پاکستان کھربوں ڈالر کے معدنی ذخائر سے استفادہ کر کے قرضوں سے آزادی حاصل کر سکتا ہے……..وزیراعظم محمد شہباز شریف
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خلیجی ممالک ، یورپ ، چین ، امریکا اور دیگر خطوں سے معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتےہوئے کہا ہےکہ پاکستان کھربوں ڈالر کے معدنی ذخائر سے استفادہ کر کے قرضوں سے آزادی حاصل کر سکتا ہے، معدنیات کی ویلیو ایڈیشن کر کے برآمدات کو فروغ دیں گے، یہ سرمایہ کاری سب کے لئے فائدہ مند ہے، سرمایہ کار کمپنیاں نوجوانوں کو ہنر کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کریں، مل کر پاکستا ن کو دنیاکا عظیم ملک بنائیں گے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کو یہاں پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2025 سے خطاب کرتےہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزرا، وزرائے اعلیٰ، اراکان اسمبلی، پاک فوج کے سربراہ کے علاوہ چین، عرب ، خلیج، امریکا اور یورپ سمیت کئی ممالک کے سفرا اور کاروباری شخصیات کی بڑی تعداد موجود تھی۔
وزیراعظم نے فورم میں غیر ملکی مندوبین کا خیرمقدم کرتےہوئے کہا کہ وہ انہیں پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ انہوں نے فورم کے کامیاب انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد دی اور کہا کہ اس فورم کے انعقاد سے مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہو گا اور یہ فورم معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافے کا باعث بنے گا۔ وزیراعظم نے ریکو ڈک منصوبے پر پیشرفت کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ منرلز کاشعبہ برسوں سے ہماری توجہ کا مستحق تھا۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کوقدرتی وسائل اور معدنیات سے مالا مال کیا ہے۔ پاکستان میں کھربوں ڈالر کے معدنی ذخائر ہیں جن سے استفادہ کر کے پاکستان قرضوں کے چنگل سے آزاد ہو سکتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان کے پہاڑوں سے لے کر خیبر پختونخوا کے برف سے ڈھکے پہاڑوں اور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان سے لے کر سندھ کی وادیوں اور پنجاب کے میدانوں تک پورا پاکستان معدنیات سے مالا مال ہے۔ ان عظیم اثاثوں سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کےمیدان ذرخیز اور عوام بہادر اور چیلنج قبول کرنےوالے ہیں اور اپنی محنت سے ریت کو سونے میں بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ وفاق ، صوبائی حکومتیں اور پاکستان کے ادارے مل کر کام کریں تو بہت جلد ہم اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں لیکن اس کےلئے عزم اور ارادے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان میں کان کنی سے مقامی نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں انہیں ضروری فنی تربیت فراہم کرنے کے لئے ادارے قائم کئے گئے ہیں ۔ بلوچستان میں کان کنی سے سماجی و معاشی ترقی ہو گی۔
وزیراعظم نے خلیجی ممالک ، چین، یورپ ، امریکا سمیت دیگر خطوں سے سرمایہ کاروں کا خیرمقدم کرتےہوئے کہا کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے بھرپور استفادہ کریں۔معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری سب کے لئے سود مند ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دنیا کے سب سے بڑے کوئلے کے ذخائر موجود ہیں، سندھ حکومت کوئلے کے ذخائر سے استفادہ کرنے کےلئے بھرپور کام کررہی ہے، درآمدی کوئلے کی بجائے مقامی کوئلے پر انحصار کر کے قیمتی زرمبادلہ کی بچت کی جارہی ہے۔ ان ذخائر کو سیمنٹ پلانٹس اور صنعتی ترقی کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ پنجاب میں چنیوٹ کے قریب لوہے کےبڑے ذخائر دریافت ہوئے جنہیں سٹیل میں بدلا جاسکتا ہے۔ بلوچستان ، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزادکشمیر میں بھی معدنیات کے شعبے میں بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ خام مال کی بجائے تیار شدہ مصنوعات کی برآمد کو یقینی بنایاجائےگا۔ ہم نے مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن کر کے برآمدات کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے سرمایہ کاروں پر زور دیاکہ وہ تیار مصنوعات پر کام کریں، اس سے انہیں فریٹ چارجز کی مد میں بھی بڑی بچت ہو گی۔ انہوں نے کان کنی کی صنعت کے لئے فنی تربیت کو لازم و ملزوم قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو فنی تربیت کے لئے نجی شعبے اور حکومتی سطح پر شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔
سرمایہ کار کمپنیاں نوجوانو ں کو ہنر کی فراہمی میں کردار ادا کریں۔ اس سے ٹیکنالوجی کی منتقلی میں بھی مدد ملےگی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے قدرتی وسائل سے مالا مال علاقے ترقی کا مرکز بننے جا رہے ہیں۔ ہم مل کر پاکستان کو دنیا کا عظیم ملک بنائیں گے۔