عالمی درجہ بندی میں بہترین کارکردگی دکھانے والے یو ای ٹی کے مختلف شعبہ جات کے سربراہان کو ایوارڈز اور تعریفی اسناد سے نوازنے کیلئے خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب میں چیئرمین پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن (پی ایچ ای سی) پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خان نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر نے رینکنگ کمیٹی ممبران کے ہمراہ انکا استقبال کیا۔ڈاکٹر اقرار احمد خان نے یو ای ٹی کی حالیہ عالمی درجہ بندی میں بہترین رینکنگ کو سراہتے ہوئے بہترین محقق،انتہائی حوالہ شدہ محقق اور عالمی درجہ بندی میں بہترین رینکنگ حاصل کرنیوالے شعبہ جات کے سربراہان اور فیکلٹی ممبران کوایوارڈز اور تعریفی اسناد سے نوازا۔انہوں نے وائس چانسلر سمیت تمام فیکلٹی کی حوصلہ افزائی بھی کی۔اپنے خطاب میں چیئرمین پی ایچ ای سی نے کہا کہ جامعات کو چاہیئے کہ وہ تحقیق، جدت، اور عالمی رینکنگ کے معیار پر خصوصی توجہ دیں تاکہ وہ عالمی اداروں کا مؤثر مقابلہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یو ای ٹی کی عالمی رینکنگ میں نمایاں بہتری خوش آئند ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد منیر کی قیادت میں یو ای ٹی مزید ترقی کرے گی اور نمایاں مقام حاصل کرے گی۔وائس چانسلر یو ای ٹی پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر نے چیئرمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یو ای ٹی تحقیق، تدریس، اور انوویشن کے میدان میں مسلسل بہتری کے لیے پرعزم ہے اور یہ کامیابیاں پوری ٹیم کی محنت کا نتیجہ ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یو ای ٹی کی عالمی سطح پر شناخت کو مستحکم بنانے کے لیے ہم مستقبل میں بھی ریسرچ، انڈسٹری لنکیج، اور تعلیمی معیار پر بھرپور توجہ مرکوز رکھیں گے۔تفصیلات کے مطابق ترقی کی سیڑھی پر چڑھتے ہوئے چیئرمین فزکس پروفیسر ڈاکٹر محمد شاہد رفیق کو 601-675 رینکنگ حاصل کرنے پرایوارڈسے نوازا گیا،اسی طرح چیئرپرسن کیمسٹری پروفیسر ڈاکٹر فرحت یاسمینکو551-600رینکنگ،چیئرمین ریاضیپروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق کو451-500رینکنگ،چیئرمین کمپیوٹر سائنسپروفیسر ڈاکٹر محمد عثمان غنی خان کو401-450رینکنگ،چیئرمین کیمیکل انجینئرنگپروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد ظہیر اسلم / ڈاکٹر نوید رمضان کو351-400رینکنگ ،چیئرمین میٹالرجیکل اینڈ میٹیریل انجینئرنگپروفیسر ڈاکٹر محمد آصف رفیقکو351-400رینکنگ، چیئرمینمکینیکل انجینئرنگ پروفیسر ڈاکٹر اسد نعیم شاہ کو251-300رینکنگ،جبکہ چیئرمین الیکٹریکل انجینئرنگ ڈاکٹر سید عبدالرحمن کاشفکو201-250رینکنگاور چیئرمین پیٹرولیم اینڈ گیس انجینئرنگ پروفیسر ڈاکٹر محمد خرم ظہورکو51-100رینکنگ حاصل کرنے پر ایوارڈز سے نوازا گیا۔
اہم خبریں
اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پورکے 4 سابق طلباو طالبات نے ژونگنان یونیورسٹی آف اکنامکس اینڈ لاء عوامی جمہوریہ چین سے کامیابی کے ساتھ اپنی ڈگریاں مکمل کی ہیں۔
)اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پورکے 4 سابق طلباو طالبات امل عطا، ثناء جمیل، قرۃ العین اور وقاص یونس نے ژونگنان یونیورسٹی آف اکنامکس اینڈ لاء عوامی جمہوریہ چین سے کامیابی کے ساتھ اپنی ڈگریاں مکمل کی ہیں۔ یہ کامیابی اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور اور ژونگنان یونیورسٹی آف اکنامکس اینڈ لاء چائنہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا نتیجہ ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور اورژونگنان یونیورسٹی آف اکنامکس اینڈ لاء چائنہ کے مابین تعاون سے حالیہ برسوں میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے 15 سے زائد طلباء و طالبات کومختلف شعبوں میں مکمل طور پر فنڈڈ وظائف دیئے گئے۔ یہ وظائف تمام تعلیمی اوررہائش کے مکمل اخراجات کو پورا کرتے ہیں۔قرۃ العین اور ثنا جمیل نے ژونگنان یونیورسٹی آف اکنامکس اینڈ لاء چائنہ میں مکمل طور پر فنڈڈ پی ایچ ڈی ڈگری مکمل کی جبکہ امل عطا نے ایک اور معروف چینی یونیورسٹی میں مکمل طور پر فنڈڈ پی ایچ ڈی ڈگری مکمل کی۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے کہا ہے کہ بین الاقوامی تعاون اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے طلباء وطالبات کے کیریئر کے لیے نئی منزلوں کا تعین کر رہا ہے۔ یہ شراکتیں عالمی سطح کی تعلیم، تحقیق کے متنوع مواقع، اور عالمی نیٹ ورکس تک بے مثال رسائی فراہم کرتی ہیں، جو طلبا کی ضروریات اوردنیا میں ترقی کی منازل طے کرنے کے لیے درکار مہارتوں اور نمائش سے آراستہ کرتی ہیں۔ بیرون ملک تعلیم حاصل کرکے، ان طلباؤ طالبات نے نہ صرف اعلیٰ تعلیمی قابلیت حاصل کی ہے بلکہ ثقافتی قابلیت، موافقت، اور عالمی تناظر بھی تیار کیا ہے۔ وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور نے سابق طلباء کو ان کی نمایاں کامیابیوں پر مبارکباد دی اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اور ژونگنان یونیورسٹی آف اکنامکس اینڈ لاء چائنہ کے درمیان باہمی تعاون کے جذبے کو سراہا۔انہوں نے ژونگنان یونیورسٹی آف اکنامکس اینڈ لا ء چائنہ کے انٹرنیشنل اسکول کے وائس ڈین وانگ کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے چین میں اپنے تعلیمی سفر کے دوران اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاول پور کے طلباء کی مسلسل حمایت اور سہولت فراہم کی۔ پروفیسر ڈاکٹر جواد اقبال ڈین فیکلٹی آف مینجمنٹ سائنسز اور ڈاکٹر عابد شہزاد، ڈائریکٹر انٹرنیشنل لنکیجز کی کاوشوں سے بین الاقوامی تعلیمی تعاون کو فروغ دینے میں مدد ملی ہے
شعبہ خزانہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور نے فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کے فیصلوں کی روشنی میں 80 بی ایس تعلیمی پروگراموں کی فیس میں غیر معمولی کمی کر کے طے شدہ فیسوں کا شیڈول جاری کیا ہے۔ ………. نئی طے شدہ فیس اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کی 100 سالہ تکمیل پر طلباءوطالبات اور والدین کے لیے بہترین تحفہ ہے۔
شعبہ خزانہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور نے فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کے فیصلوں کی روشنی میں 80 بی ایس تعلیمی پروگراموں کی فیس میں غیر معمولی کمی کر کے طے شدہ فیسوں کا شیڈول جاری کیا ہے۔ فیسوں میں غیر معمولی کمی اور نئی طے شدہ فیس اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کی 100 سالہ تکمیل پر طلباءوطالبات اور والدین کے لیے بہترین تحفہ ہے۔ ان بی ایس پروگراموں کی پہلے اور دوسرے سیمسٹر کی فیس 25 ہزار روپے ، تیسرے اور چوتھے سیمسٹر کی فیس 30 ہزار روپے، پانچویں اور چھٹے سیمسٹر کی فیس 35 ہزار روپے اور ساتویں اور آٹھویں سیمسٹر کی فیس 40 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ ان بی ایس پروگراموں میں فیکلٹی آف آرٹس اینڈ لینگوئجز میں ہسٹری، آرکیالوجی، پاکستان اسٹڈیز ، فارسی، سرائیکی، اقبال اسٹڈیز، فلاسفی، فائن آرٹس شامل ہیں۔فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے بی ایس پروگراموں میں اکنامکس اینڈ فنانس، اکنامکس، ہوم اکنامکس، ڈویلپمنٹ اسٹڈیز، بزنس اکنامکس، اکنامکس وتھ آئی ٹی ، انٹرنیشنل ریلیشنز، ایڈ منسٹریٹو اینڈ مینجمنٹ سائنسز، ماس کمیونیکیشن، پولیٹیکل سائنس، پولیٹیکل اینڈ پارلیمنٹری اسٹڈیز، جینڈر اسٹڈیز، پبلک ایڈمنسٹریشن، پبلک پالیسی اینڈ گورننس، سوشل ورک، سوشیالوجی، انتھراپالوجی شامل ہیں۔ فیکلٹی آف ایگریکلچر اینڈ انوائرمنٹ کے بی ایس پروگراموں میں ایگری بزنس، انوائرمنٹ سائنس، فارسٹری، سیڈز سائنس اینڈٹیکنالوجی،جینیٹکس شامل ہیں۔



فیکلٹی آف ایجوکیشن کے بی ایس پروگراموں میں سکینڈری ایجوکیشن، ایلیمنٹری ایجوکیشن، ایجوکیشنل لیڈرشپ اینڈ مینجمنٹ، ارلی چائیڈ ہوڈ ایجوکیشن، بی ایڈ 4 سالہ، سپیشل ایجوکیشن، ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ مینجمنٹ، بی ایڈ سائنس، انگلش لینگوئج ٹیچنگ شامل ہیں۔ فیکلٹی آف اسلامک اینڈ عربیک کے بی ایس پروگراموں میں عربی، حدیث اینڈ شرعیہ، قرانک اسٹڈیز، بین المذاہب اور ہم آہنگی، ٹرانسلیشن اسٹڈیز، فقہ اینڈ شرعیہ شامل ہیں۔ فیکلٹی آف انجینئرنگ کے بی ایس پروگراموں میں ٹیلی کمیونیکیشن انجینئرنگ، الیکٹریکل انجینئرنگ ٹیکنالوجی، بائیو میڈیکل انجینئرنگ ٹیکنالوجی، انٹیلیجٹس سسٹم اینڈ روبوٹیکس، انفارمیشن انجینئرنگ ٹیکنالوجی، ایوی ایشن سائنسز، ایئر کرافٹ مینٹینس شامل ہیں۔ فیکلٹی آف لاء کے بی ایس پروگرام میں کریمنالوجی شامل ہے۔ فیکلٹی آف میڈیسن اینڈ الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے بی ایس پروگراموں میں فرانزک سائنس اور پبلک ہیلتھ شامل ہیں۔ فیکلٹی آف فزیکل اینڈ میتھمیٹیکل سائنسز کے بی ایس پروگراموں میں جغرافیہ، ریموٹ سنسینگ اینڈ جی آئی ایس شامل ہیں۔ فیکلٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کے بی ایس پروگراموں میں اینیمل سائنسز، پولٹر ی سائنس، اور فزیالوجی شامل ہیں۔ فیکلٹی آف کمپیوٹنگ کے بی ایس پروگراموں میں انفارمیشن سسٹم، ڈیجیٹل میڈیا، نیٹ ورکس اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن اور انٹرنیٹ اینڈ تھینگزشامل ہیں۔ فیکلٹی آف مینجمنٹ سائنسز اینڈ کامرس کے بی ایس پروگراموں میں بینکنگ اینڈ فنانس، ای کامرس، کامرس، فنانس اینڈ انواسٹمنٹ، فن ٹیک ، انفارمیشن مینجمنٹ، ڈیس اسٹر مینجمنٹ، لیڈر شپ مینجمنٹ، انٹرپرینیورشپ اینڈ انوویشن، ڈیجیٹل اٹرپرینیورشپ اینڈ بزنس مینجمنٹ ، ٹورازم اینڈ ہاسپٹلیٹی مینجمنٹ، ہیوم ریسوس مینجمنٹ ، ایوی ایشن مینجمنٹ ، مارکیٹنگ اینڈ انٹرنیشنل بزنس مینجمنٹ شامل ہیں۔
سندھ حکومت نے جدید ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے پیپلز آئی ٹی پروگرام (PITP) کے دوسرے مرحلے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے
سندھ حکومت نے جدید ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے پیپلز آئی ٹی پروگرام (PITP) کے دوسرے مرحلے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔سندھ کے وزیر اطلاعات، شرجیل انعام میمن نے اعلان کیا کہ پیپلز آئی ٹی پروگرام کے دوسرے مرحلے کے لیے 1.4 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام صوبے کے نوجوانوں کو عالمی ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بنانے کے لیے ایک مثالی ڈیجیٹل منصوبے کے طور پر سامنے آیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں 13,565 طلبا و طالبات کو جدید آئی ٹی شعبوں میں تربیت فراہم کی گئی، جب کہ اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے 300 طلبہ کو گوگل کروم بکس اور لیپ ٹاپس بطور انعام دیے گئے۔پروگرام کے دوسرے مرحلے میں 12 ہائی ڈیمانڈ ڈیجیٹل سیکٹرز میں 35,000 طلبہ کو تربیت دی جائے گی، جس کا مقصد صوبے کی ڈیجیٹل افرادی قوت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اعلیٰ تعلیم کے لیے ریکارڈ بجٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کر کے انہیں پیشہ ورانہ دنیا کے لیے تیار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے تعلیمی اصلاحات کو نوجوانوں کے روشن مستقبل اور سندھ کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے سنگ میل قرار دیا۔مزید برآں، سندھ حکومت کے محکمہ انفارمیشن سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت ہیومن کیپیٹل ڈیولپمنٹ پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے، جس کا مقصد روزگار کے مواقع بڑھانا اور صنعتوں کے لیے تربیت یافتہ افرادی قوت کی قلت کو پورا کرنا ہے۔
اس پروگرام کے تحت غیر آئی سی ٹی گریجویٹس، انڈرگریجویٹس یا مساوی تعلیم یافتہ افراد (جنہیں کمپیوٹر یا پروگرامنگ کی بنیادی سمجھ ہو) کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور سافٹ اسکلز کی تربیت فراہم کی جائے گی۔ یہ تربیت آئی سی ٹی فیکلٹی اور صنعت کے ماہرین دیں گے، جس سے پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری کے لیے افرادی قوت کی مقدار اور معیار میں بہتری آئے گی۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کی دینی اور ملی خدمات کی 100 سالہ تقریبات شایاں نشان انداز میں منائی جائیں گی۔ اس موقع پر اسٹیٹ بنک آف پاکستان 100 روپے مالیت کا یادگاری سکہ جاری کرے گا۔ پاکستان پوسٹل سروسز خصوصی یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کرے گا۔ ………وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے کہا ہے کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کی دینی اور ملی خدمات کی 100 سالہ تقریبات شایاں نشان انداز میں منائی جائیں گی۔ اس موقع پر اسٹیٹ بنک آف پاکستان 100 روپے مالیت کا یادگاری سکہ جاری کرے گا۔ پاکستان پوسٹل سروسز خصوصی یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کرے گا۔ وائس چانسلر نے ان خیالات کا اظہار اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کی 100 سالہ تقریبات کے لیے بنائی گئی خصوصی کمیٹی اور منتظمین کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ڈینز، پرنسپل آفیسر، شعبہ جات کے سربراہان، فیکلٹی ممبران اور افسران شریک ہوئے۔ ان تقریبات کے لیے قائم کی گئی کمیٹی سیکریٹری ڈاکٹر شہزا د احمد خالد نے یکم اگست 2025 سے جون 2026 تک منعقد ہونے والی تقریبات کی تفصیل بیان کی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کی صد سالہ تقریبات کا لوگو اور سلوگن”ماضی کی شان،مستقبل کی امید، 100 سالہ تعلیمی میراث” جاری کر دیا گیا ہے۔ یکم اگست کو عباسیہ کیمپس میں منعقد ہونے والی تقریب میں بانی جامعہ عباسیہ سر صادق محمد خان عباسی پنجم اور اولین شیخ الجامعہ مولانا غلام محمد گھوٹوی کو خراج تحسین پیش کیا جائے گا۔ اس موقع پر منعقدہ تقریب میں خاندان عباسیہ کے افراد، پارلیمنٹرینز، سرکاری حکام، معززین شہر، سول سوسائٹی، اساتذہ اور طلباو طالبات شریک ہوں گے۔ وائس چانسلر نے کہا کہ عباسیہ کیمپس کیمرکزی دروازے کوصد سالہ تقریبات سے منسوب کیا جائے گا۔ 100 درختوں پر مشتمل باغ کی شجرکاری ہو گی اور ان کو جامعہ کی 100 نامور شخصیات کے نام کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ کا ترانہ بھی مرتب کیا جائے گا۔ نومبر کے مہینے میں جامعہ کا صد سالہ کانووکیشن اور ایلومنائی کی عظیم و شان تقریب منعقد ہو گی۔ اس سال طلباو طالبات کی تعارفی تقریب میں حلف لینے کی خصوصی روایت کا آغاز بھی کیا جائے گا۔ خصوصی ایونٹس میں کانفرنسز، سیمینار، کتاب میلہ، ریسرچ ایکسپو، سو سالہ ایوارڈز، جاب فیئر، پھولوں کی نمائش اور دیگر تقریبات شامل ہیں۔


پنجاب یونیورسٹی کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن کے شعبہ گرافک ڈیزائن کے زیر اہتمام ’ہائیپ آف تھیسس‘ کے عنوان سے سیمینارکا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر معروف آرٹ ڈائریکٹر علی اسلم نے طلباؤطالبات کو ڈیزائن کی تھیسس کیمپینز تیار کرنے کے حوالے سے کار آمد اور تخلیقی معلومات فراہم کیں۔انہوں نے طلباء کوکیمپین میکنگ کے ہر مرحلے کو عملی مثالیں دے کر سمجھایا۔ اس موقع پر طلباء نے ماحول، سماجی تقسیم، عورتوں کے حقوق، جانوروں سے محبت، اور مثبت سوچ کا پھیلاؤ جیسے موضوعات پر تھیسس بنانے سے متعلق سوالات کئے۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین شعبہ گرافک ڈیزائن پروفیسر ڈاکٹر احمد بلال نے ڈیزائن اور سوسائٹی کے مابین ربط پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے سیمینار میں ہونے والی گفتگو کو عملی اور بامقصد قرار دیا جس کے چیدہ چیدہ نکات کو سمجھ کر کسی بھی ڈیزائن پراجیکٹ میں جان ڈالی جا سکتی ہے۔اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے طلباکا کہناتھا کہ انہیں اس سیمینار سے مارکیٹ کے رجحانات کو سمجھنے میں مدد ملی ہے جس سے ان کے کام میں مقصدیت پیدا ہو گی۔انہوں نے گرافک ڈیزائن کے شعبہ کو مارکیٹ لیڈر قرار دیتے ہوئے اس میں ہونے والی علمی اور تکنیکی سرگرمیوں کو خوب سراہا۔
—
یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور اور پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (PPMC) کے درمیان توانائی کے شعبے میں بہتری کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے کا مقصد وزارت توانائی (پاور ڈویژن) اور اس کے ذیلی اداروں کے ساتھ مل کر پالیسی سازی، مانیٹرنگ، کوآرڈینیشن اور جدید تحقیقی و تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ کے ذریعے توانائی کے شعبے کو ترقی دینا ہے۔ معاہدے کے تحت دونوں ادارے سائنسی، فنی اور تحقیقی معلومات کے تبادلے، مشترکہ تحقیقی منصوبوں، تعلیمی و تحقیقی تبادلوں، اور جدید ٹیکنالوجی کی کمرشلائزیشن کے لیے مل کر کام کریں گے۔ اس کے علاوہ سیمینارز، کانفرنسز، تربیتی کورسز، ورکشاپس اور سائنسی اجلاسوں میں بھی باہمی تعاون کو یقینی بنائیں گے۔ یو ای ٹی میں وزارت توانائی اور اس کے متعلقہ اداروں کے ملازمین کے لیے ایم ایس اور پی ایچ ڈی پروگرامز میں داخلے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے، جبکہ یو ای ٹی کے اساتذہ اور طلبہ کو بھی توانائی سے متعلق غیر تجارتی تحقیقی منصوبوں میں شمولیت کا موقع دیا جائے گا۔ معاہدے کے تحت توانائی ڈیٹا مینجمنٹ کے حوالے سے یو ای ٹی کو درکار ڈیٹا کی فراہمی، ڈیٹا بینک کے قیام، اور ایک ماہر ٹیم کی تشکیل جیسے اقدامات بھی معاہدے کا حصہ ہیں۔ پرو وائس چانسلر یو ای ٹی پروفیسر ڈاکٹر ناصر حیات اور ٹیم لیڈ، انٹیگریٹڈ پلاننگ اینڈ اکنامک انالسز، ڈاکٹر جہانزیب ناصر نے معاہدے کی دستاویزات پر دستخط کیے۔ اس موقع پر ڈاکٹر فہیم گوہر اعوان اور ڈائریکٹر الخوارزمی انسٹیٹیوٹ آف کمپیوٹر سائنس، ڈاکٹر وقار محمود بھی موجود تھے۔
زیر تعلیم کی زیر صدارت سکولوں میں سہولیات کے فقدان کے حوالے سے اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس ……..فنڈز کی دستیابی، اقدامات، پیش رفت کا جائزہ،,,,,,,, فنڈز کا موثر استعمال، شفافیت یقینی بنائی جائے۔ سمجھتونہ نہیں، سہولیات کی فراہمی کیلئے اقدامات کی رفتار تیز کی جائے۔ وزیر تعلیم رانا سکندر حیات
وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات آن لائن سی ای او زایجوکیشن سے خطاب کر رہے ہیں
وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی زیر صدارت پنجاب کے ڈپٹی کمشنرز اور سی ای اوز کا اجلاس منعقد ہوا جس میں سکولوں میں سہولیات کا فقدان دور کرنے اور انفراسٹرکچر کی بہتری کیلئے اقدامات اور پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر تعلیم نے سکولوں میں کمروں، دیواروں، فلٹریشن پلانٹس، فرنیچر اور دیگر سہولیات کی فراہمی کیلئے اقدامات کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ گرمی کی چھٹیوں کے دوران سہولیات کا فقدان دور کرنے اور سکولوں کو ٹرانسفارم کرنے کیلئے فعال کردار ادا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سکولوں کو ماڈل طرز پر بنانے کیلئے ڈپٹی کمشنرز اور ایجوکیشن افسران کی مربوط مشاورت ضروری ہے۔ رانا سکندر حیات نے مزید کہا کہ سکولوں کو سہولیات سے آراستہ کرنے کیلئے فنڈز جاری ہو چکے ہیں۔ اربوں روپے کے فنڈز ملنا بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ فنڈز کا موثر استعمال اور شفافیت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کام کی کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اس ضمن میں کوالٹی کی مانیٹرنگ کیلئے ڈپٹی کمشنرز کا کردار انتہائی اہم ہوگا۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ ماضی میں 50 لاکھ والا کمرہ 12 لاکھ میں بنا کر ٹیکس کا پیسہ بچا کر دکھایا۔ اسی طرز پر کم لاگت اور شفافیت سے کام کر کے عوامی وسائل کی بچت کی مثال قائم کی جائے۔ رانا سکندر حیات نے کہا کہ سکولوں سے فیک انرولمنٹ ختم کر دی ہے۔ اب سی ای اوز کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا ڈیٹا درست اور مکمل رکھیں، میں کسی بھی وقت چیک کروں گا اور اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
معروف ماہرِ تعلیم ڈاکٹر سید علی رضوان کی کتاب تھیوری آف انڈیٹرمنیٹ اسٹرکچرز کی تقریب رونمائی۔۔۔۔۔وائس چانسلر یو ای ٹی ڈاکٹر شاہد منیر کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت
پاکستان انجینئرنگ کونسل (پی ای سی) کے زیر اہتمام معروف ماہرِ تعلیم پروفیسر ڈاکٹر سید علی رضوان کی تصنیف ”Theory of Indeterminate Structures” کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی۔ وائس چانسلر یو ای ٹی ڈاکٹر شاہد منیر نے کتاب کی تقریب رونمائی میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ ان کی موجودگی علمی تحقیق، تدریس اور انجینئرنگ کے شعبے میں معیاری خدمات کے فروغ سے وابستگی کی عکاس تھی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہد منیر نے پروفیسر ڈاکٹر سید علی رضوان کی علمی کاوش کو سراہا اور اسے سٹرکچرل انجینئرنگ کی تعلیم میں ایک سنگِ میل قرار دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ کتاب نہ صرف مصنف کی انتھک محنت اور علمی بصیرت کا مظہر ہے بلکہ پاکستان میں انجینئرنگ کی تعلیم کے بین الاقوامی معیار کو بھی اُجاگر کرتی ہے۔ مصنف ڈاکٹر سید علی رضوان نے اپنے خطاب میں کتاب کی تیاری کے دوران درپیش چیلنجز، ذاتی محرکات اور مسلسل محنت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ علمی تحریر ایک صبر آزما مگر بامقصد سفر ہے۔ تقریب میں پی ای سی کے چیئرمین انجینئر وسیم نذیر، وائس چیئرمین پنجاب پروفیسر ڈاکٹر سہیل آفتاب قریشی، مختلف جامعات کے اساتذہ اور انجینئرنگ سے وابستہ اہم شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کا اختتام پروفیسر ڈاکٹر سید علی رضوان کی جانب سے اپنی کتاب کی علامتی پیشکش کے ساتھ ہوا، جو انہوں نے پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر کو پیش کی۔ یہ لمحہ پاکستان میں انجینئرنگ کی علمی برادری کے لیے فخر کا باعث قرار دیا گیا۔
ڈائریکٹوریٹ آف ایلومنائی افیئرز نے وائس چانسلراسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور پروفیسر ڈاکٹرمحمد کامران کے ساتھ بہاولپور چیپٹر کے سابق طلباء کاایک اجلاس منعقد کیا۔
ڈائریکٹوریٹ آف ایلومنائی افیئرز نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرمحمد کامران کے ساتھ بہاولپور چیپٹر کے سابق طلباء کاایک اجلاس منعقد کیا۔ ممتاز سابق طلباء، مسعود صابر، سید تنصیر، محمود مجید، سردار عقیل خان، راجہ شفقت محمود، محمد نعمان فاروقی، ڈاکٹر محمد شہزاد رانا، ڈاکٹر اصغر سیال، ڈاکٹر ڈاکٹر رفیق الاسلام اور ڈائریکٹر ایلومنائی افیئرز ڈاکٹر شاہد محمود کے ساتھ سٹریٹجک اقدام کے حوالے سے بات چیت کی۔ یونیورسٹی، سابق طلباء کا دوبارہ اتحاد، سابق طلباء کے انڈومنٹ فنڈ کی تشکیل، بین الاقوامی سابق طلباء کا باب اور یونیورسٹی کی صد سالہ تقریبات۔ اس باہمی تبادلے نے نہ صرف سابق طلباء کی مدد کے ذریعے ادارے کو بااختیار بنانے پر توجہ مرکوز کی بلکہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر کے وژن کو بھی اجاگر کیا۔