یونیورسٹی آف اوکاڑہ کی تیسری کانووکیشن میں مجموعی طور پر 4,924 ڈگریاں اور 72 گولڈ میڈلز عطا کیے گئے۔ اس تقریب کی صدارت صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم، رانا سکندر حیات نے کی۔گزشتہ ایک برس کے دوران اپنی تعلیم مکمل کرنے والے 18 پی ایچ ڈی اسکالرز نے بھی اپنی ڈگریاں وصول کیں۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی رانا سکندر حیات نے اپنے خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین کی قیادت میں یونیورسٹی آف اوکاڑہ کی تعلیمی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقیاتی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ کو مبارک باد دیتے ہوئے انہیں بڑے خواب دیکھنے اور محنت کے ذریعے روشن مستقبل کی تعمیر کی تلقین کی۔ وزیر برائے اعلیٰ تعلیم نے وائس چانسلر کی قیادت میں یونیورسٹی کی قومی اور بین الاقوامی درجہ بندی میں نمایاں بہتری پر بھی اطمینان کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ جلد ہی یونیورسٹی آف اوکاڑہ پاکستان کا اعلیٰ ترین درجہ رکھنے والا ادارہ بنے گی۔
رانا سکندر حیات نے یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے مرکزِ امتیاز (Center of Excellence) کے قیام کا اعلان بھی کیا۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین نے اپنے خطاب میں کانووکیشن میں شرکت پر وزیرِ اعلیٰ تعلیم کا شکریہ ادا کیا اور یونیورسٹی کے مختلف تعلیمی اور انفراسٹرکچر ترقیاتی منصوبوں پر روشنی ڈالی۔ فارغ التحصیل طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، “جب آپ عملی زندگی میں قدم رکھیں گے تو مسابقت اور چیلنجز کا سامنا ہوگا، مگر پُراعتماد رہیں، بڑے خواب دیکھیں، جدت کے ساتھ سوچیں اور لگن و دیانت داری سے محنت کریں۔”
کانووکیشن کی تقریب میں وائس چانسلر نے مختلف شعبہ جات کے 72 پوزیشن ہولڈرز کو گولڈ میڈلز جبکہ 18 پی ایچ ڈی اسکالرز کو ڈگریاں عطا کیں۔ کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر فہیم ارشد، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر محمد واجد اور رجسٹرار جمیل عاصم بھی اسٹیج پر موجود تھے اور اسناد و اعزازی شیلڈز کی تقسیم میں شریک ہوئے۔
کانفرنسز / کانووکیشن
BUITEMS QUETTA………بیوٹمزیونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والے گریجویٹس پاکستان اور بالخصوص بلوچستان کی امنگوں کے ترجمان ہیں …..گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل
گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ کانووکیشن کی تقریبات محض رسمی اجتماعات نہیں ہیں بلکہ وہ اہم سنگ میلوں کی نمائندگی کرتے ہیں جو فکری ترقی، ذاتی کامیابی اور معاشرے کی خدمت کرنے کی تیاری کی نشاندہی کرتے ہیں۔ آج بیوٹمز یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والے گریجویٹس پاکستان اور بلوچستان کی امنگوں کو مجسم کرتے ہوئے علم اور ترقی کے مشعل راہ ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ اور ان کی پوری ٹیم کی دور اندیش قیادت میں، تعلیمی طاقت اور جدت کی علامت کے طور پر مسلسل ابھرا ہے۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی ہے کہ ٹائمز ہائر ایجوکیشن ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ 2026 میں بیوٹمز یونیورسٹی عالمی بینڈ 1500 میں رکھا گیا ہے. یہ بلوچستان کی واحد یونیورسٹی ہے جسے عالمی سطح پر رینکینگ کیا گیا ہے۔ یہ کامیابی یونیورسٹی کی معیاری تعلیم، تحقیق اور ادارہ جاتی ترقی کیلئے مستقل عزم کی عکاسی کرتی ہے.

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بیوٹمز یونیورسٹی کے 21ویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا. اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، وائس چانسلر بیوٹمز یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر خالدحفیظ، آل بلوچستان پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز صاحبان، ڈین فیکلٹیز، مہمانانِ گرامی، والدین اور فارغ التحصیل ہونے والے گریجویٹس شریک تھے. واضح رہے کہ 21ویں کانووکیشن میں 10 پی ایچ ڈی، 685 بی ایس اور 41 ایم ایس اور ایم بی اے گریجویٹس پر مشتمل گریجویٹ طلباءکو گولڈ میڈل اور ڈگریاں دی گئیں۔

کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں 45ویں KEMUCON 2025 بین الاقوامی سائنسی کانفرنس کی شاندار اختتامی تقریب
کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں 45ویں سالانہ بین الاقوامی سائنسی کانفرنس KEMUCON 2025 کی شاندار اختتامی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن تھے، جبکہ سابق صوبائی وزیر صحت پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے مہمانِ اعزاز کی حیثیت سے شرکت کی۔ تقریب کی صدارت وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمود ایاز نے کی۔
اختتامی کلمات میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمود ایاز نے کہا کہ KEMUCON 2025 میں مختلف شعبہ جات اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے مندوبین نے شرکت کی، تاہم وہ ایک مشترکہ وژن، علمی ہم آہنگی اور جدت و معیارِ امتیاز کے عزم کے ساتھ رخصت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کانفرنس کے دوران حاصل ہونے والی توانائی، علم اور بصیرت کو عملی اقدامات اور مثبت تبدیلی میں ڈھالنا ہوگا، کیونکہ اصل کام کانفرنس ہال سے باہر شروع ہوتا ہے۔
اپنے خطاب میں صوبائی وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے کہا کہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی معیاری طبی تعلیم اور تحقیق میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں صحت کی سہولیات اور مریض دوست خدمات کے فروغ کے لیے کیے گئے اقدامات کا ذکر کیا اور KEMUCON 2025 کے کامیاب انعقاد پر جامعہ کی انتظامیہ کو مبارکباد دی۔

صدر KEMCAANA ڈاکٹر دانش بھٹی نے کہا کہ دنیا بھر میں موجود کنگ ایڈورڈ کے گریجویٹس اپنے ادارے سے مضبوط تعلق رکھتے ہیں اور تعلیمی، تحقیقی اور فلاحی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ صدر KEMCA-یو کے ڈاکٹر آصف خان نے کہا کہ KEMUCON عالمی سطح پر علمی روابط کے فروغ کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ہے اور یقین دہانی کرائی کہ KEMCA-یو کے آئندہ بھی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کی بھرپور معاونت جاری رکھے گا۔
پاکستان میں تعلیم کے نظام کو مضبوط بنانے اور شواہد پر مبنی اصلاحات کو فروغ دینے کے لیے دو روزہ ڈیئر-آر سی انٹرنیشنل ایجوکیشن سمٹ 2025 اختتام پذیر
پاکستان میں تعلیم کے نظام کو مضبوط بنانے اور شواہد پر مبنی اصلاحات کو فروغ دینے کے لیے دو روزہ ڈیئر-آر سی انٹرنیشنل ایجوکیشن سمٹ 2025 اختتام پذیر ہو گئی۔ جمعرات کو سمٹ کے دوسرے روز تحقیقاتی شواہد کو کلاس روم کی تدریس، اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی اور نظامی سطح پر تعلیمی حکمرانی میں موثر طریقے سے منتقل کرنے پر زور دیا جبکہ ملک بھر کے تعلیمی رہنما، پالیسی ساز اور بین الاقوامی ماہرین نے شواہد کے عملی اطلاق کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔دوسرے روز مجموعی طور پر نو سیشنز منعقد ہوئے جن میں ایک سپاٹ لائٹ خطاب، تین موضوعاتی پینل مباحثے، چار متوازی رائونڈ ٹیبل مکالمے اور ایک اختتامی پلینری شامل تھی۔ برٹش ہائی کمیشن کے ڈویلپمنٹ ڈائریکٹر سیم والڈک نے اختتامی کلمات میں حکومت، جامعات اور بین الاقوامی شراکت داروں کے درمیان پائیدار تعاون کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ تحقیق کو بامعنی نظامی اثرات میں تبدیل کرنا ہر سطح پر شراکت داری کا متقاضی ہے۔

ڈیئر-آر سی کی پروگرام ڈائریکٹر صائمہ انور نے ’’شواہد سے عمل کی طرف‘‘ فوری پیش رفت کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے بعد ایل یو ایم ایس کے ڈاکٹر عرفان مظفر نے سپاٹ لائٹ سیشن میں کلاس روم کی زمینی حقیقتوں کو نظامی اصلاحات کے ساتھ جوڑنے کے طریقے بیان کیے جس نے شرکا کو عملی تدابیر پر غور کرنے کی ترغیب دی۔
دن بھر کے پینل مباحثوں میں کیمبرج یونیورسٹی کے ڈاکٹر ریکارڈو سباتیز، آکسفورڈ یونیورسٹی کی ڈاکٹر عالیہ خالد اور وہاٹ ورکس ہب فار گلوبل ایجوکیشن کی ہیدر کیٹن سمیت بین الاقوامی سکالرز نے حصہ لیا جبکہ پاکستان کے تمام صوبوں سے سینئر سرکاری افسران بھی موجود تھے۔ شرکا نے شواہد پر مبنی تدریسی طریقے، اساتذہ کی بھرتی اور پیشہ ورانہ تربیت، جوابدہی اور کارکردگی کی نگرانی اور نظامی سطح پر تعلیمی حکمرانی جیسے موضوعات پر تفصیلی بات چیت کی۔

نوجوان معاشرے کا چہرہ ہیں انہیں والدین اور اساتذہ کی توقعات پر پورا اترے ہوئے ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا بھر پور کردار ادا کرنا ہے۔………..گورنر پنجاب/چانسلر سردار سلیم حیدر خان کایونیورسٹی آف فیصل آباد ، یو ای ٹی ٹیکسلا کے کانووکیشنز سے خطاب
جدید تقاضوں کے مطابق ٹیکنالوجی کی دنیا میں آگے بڑھنا ہو گا۔ٹیکنالوجی کی تعلیم کے حصول کے لیے یو ای ٹی ٹیکسلا کا کردار اہم ہے۔ملک و قو م کی ترقی اور خوشحالی کے لئے پڑھے لکھے نوجوان طبقے کوقومی جذبے کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو بر وئے لانا چاہئے۔این ایف سی ایوارڈ پر پیپلزپارٹی فیصلہ کرے گی۔ کے پی کے میں گورنر راج کی باتیں مفروضوں پر کی جا رہی ہیں۔ ان خیالات کا اظہارگورنر پنجاب/چانسلر سردار سلیم حیدر خان نے آج یہاںیونیورسٹی آف فیصل آباد ، یو ای ٹی ٹیکسلا کے کانووکیشن اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا کانووکیشن کی صدارت کرنا میرے لئے اعزاز و افتخار کی بات ہے۔اُنہوں نے کہا کہ یونیورسٹی آف فیصل آباد اور یو ای ٹی ٹیکسلا سے فارغ التحصیل طلبا وطالبات، ان کے والدین اور اساتذہ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔گورنر پنجاب نے کہا کہ طلبا ء کے لئے آج کا دن حصول مقصد کا دن ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کی مقتدر یونیورٹیوں سے تعلیم حاصل کرنا طلبا ء کے لئے ایک نعمت اور اعزاز کی بات ہے۔گورنر پنجاب نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی تعلیم کے حصول کے لیے یو ای ٹی ٹیکسلا کی گراں قدر خدمات ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ تعلیمی میدان میںگذشتہ تین دہائیوں سے یونیورسٹی اپنا عملی کردار ادا کر رہی ہے۔گورنر پنجاب نے کہا کہ یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ ریسرچ کے میدان میں یونیورسٹی کا کردار رزلٹ اورئینٹڈ ہے۔اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کو اللہ تعالی نے قدرتی خزانوں سے مالامال بنایا ہے۔گورنر پنجاب نے کہا کہ سندھ میں تھر کول کے ذخائر دو سو سال تک ہماری ضروریات پوری کرسکتے ہیں۔اُنہوں نے کہاکہ پاکستان عظیم ملک ہے اور یہ ملک ہمیشہ قائم رہنے کے لیے بنا ہے۔گورنر پنجاب نے کہا کہ قوم کو نوجوان نسل سے بہت امیدیں ہیں،ملک کی ترقی میں نوجوان نسل کا کردار اہم ہے۔اُنہوں نے طلبا ء سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ جدید تقاضوں کے مطابق ٹیکنالوجی کی دنیا میں آگے بڑھنا ہو گا۔گورنر پنجاب نے کہا کہ تعلیم کے ساتھ تربیت ہمارا نصب العین ہونا چاہیے۔اُنہوں نے کہا کہ نوجوان معاشرے کا چہرہ ہیں انہیں والدین اور اساتذہ کی توقعات پر پورا اترے ہوئے ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا بھر پور کردار ادا کرنا ہے۔گورنر پنجاب نے مزید کہا کہ این ایف سی ایوارڈ پر پاکستان پیپلز پارٹی خود فیصلہ کرے گی۔اُنہوں نے کہا کہ خیبر پختونخواہ میں گورنر راج کی باتیں مفروضوں پر کی جا رہی ہیں۔کانووکیشن میں وائس چانسلر،فیکلٹی ممبران، والدین اور طلبا و طالبات کی کثیر تعداد موجود تھی۔اس موقع پر گورنر پنجاب/چانسلر سردار سلیم حیدر خان نے طلبا میں میڈلز اور اسناد تقسیم کیں۔

فیکلٹی آف ایگریکلچر اینڈ اینوائرمنٹ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے زیر اہتمام موسمیاتی تبدیلی پانی اور ماحولیات کے تناظر میں کمیاب وسائل کے موثر استعمال اور پائیدار ترقی کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس کا آغا ز ہ
انسٹی ٹیوٹ آف ایگروانڈسٹری فیکلٹی آف ایگریکلچر اینڈ اینوائرمنٹ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے زیر اہتمام موسمیاتی تبدیلی پانی اور ماحولیات کے تناظر میں کمیاب وسائل کے موثر استعمال اور پائیدار ترقی کے موضوع پر تین روزہ دوسری بین الاقوامی کانفرنس کا آغا ز ہوگیا ۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ موضوع کے اعتبار سے یہ کانفرنس عالمی قومی اور علاقائی اہمیت کی حامل ہے۔ کانفرنس کا بنیادی مقصد قومی اور بین الاقوامی ماہرین اور محققین کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے پس منظر میں بدلتے حالات کے مطابق بنی نوع انسان کے تحفظ کے لیے تجاویز مرتب کر سکیں۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور قومی اور عالمی سطح کی بڑی جامعات میں سے ایک ہے جہاں طلباو طالبات کو دنیا کو درپیش چیلنجز سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے ۔ پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں سیلاب سموگ جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ نے پاکستان کو کلائمیٹ چینج سے متاثرہ ممالک میں شامل کر رکھا ہے۔ ایک یونیورسٹی کے طور پر جامعہ اسلامیہ اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے ۔ اس سلسلے میں بی ایس آرٹفیشل اینٹیلیجنس اینڈ کلائمیٹ چینج پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ یہ ڈگری پروگرام موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں مدد دے گا۔ ڈین فیکلٹی آف ایگریکلچر اینڈ اینوائرمنٹ پروفیسر ڈاکٹر تنویر حسین ترابی نے کہا کہ ہمارے سائنسدان ماحولیاتی تبدیلی گرین انرجی اوع گرین زراعت میں تحقیق اور جدت کے لیے کوشاں ہیں۔ اس سلسلے میں کپاس گندم چاول اور مختلف پھلوں اور سبزیات کے موسمیاتی موافقت رکھنے والے بیج دریافت کیے گئے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر غلام حسن عباسی کانفرنس فوکل پرسن نے کہاکہ انسٹی ٹیوٹ آف ایگروانڈسٹری کے زیر اہتمام یہ دوسری کانفرنس ہے ۔ اس کانفرنس میں 9 وائس چانسلرز اور 100 سے زائد مندوبین شریک ہیں جو مامولیاتی تبدیلیوں سے آگاہ کے ساتھ ساتھ سائنسی حل بھی پیش کریں گے۔ پہلے روز پروفیسر ڈاکٹر معظم جمیل سابق ڈین ایگریکلچر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور، پروفیسر ڈاکٹر محمد انوار الحق یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد، پروفیسر ڈاکٹر شفقت علی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمان یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد، پروفیسر ڈاکٹر اللہ ودھایو سندھ زرعی یونیورسٹی سندھ نے کلیدی خطبات دیئے۔

شعبہ انگلش لینگویسٹکس اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے زیر اہتمام عالمی انگریزی زبان اور مقامی ثقافت کی مطابقت کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز
شعبہ انگلش لینگویسٹکس اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے زیر اہتمام عالمی انگریزی زبان اور مقامی ثقافت کی مطابقت کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز ہو گیا۔ دوروزہ کانفرنس میں پاکستان ، ترکیہ اور عمان کی جامعات سے آن لائن ذرائع سے مندوبین شریک ہیں۔افتتاحی سیشن میں ایڈیشنل کمشنر کوارڈینیشن نیئر مصطفیٰ مہمان اعزازشریک تھے۔ کانفرنس کے نام اپنے پیغام میں وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے کہا ہے کہ انگریزی زبان کی دور حاضر میں اہمیت مسلمہ ہے۔ کانفرنس میں موجود ملکی اور غیر ملکی مندوبین انگریزی زبان کی عالمی اور مقامی اہمیت اور کلچر سے مطابقت پر تبادلہ خیال کریں گے۔ اس علمی مباحثےسے اساتذہ اور طلباو طالبات انگریزی زبان کی مختلف جیحات خصوصا مصنوعی ذہانت کی مدد سے تدریسی مواد کی تیاری اور عملی تدریس میں مدد ملےگی۔ چیئرمین شعبہ ڈاکٹر ریاض حسین نے کہا ہے کہ دوسری بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد انگریزی لسانیات میں اعلیٰ درجے کی تدریس و تحقیق کی عکاس ہے۔ انہوں نے کانفرنس کے انعقاد میں تعاون اور سرپرستی پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران اور ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ لینگویجز پروفیسر ڈاکٹر سید عامر سہیل کا شکریہ ادا کیا۔ افتتاحی سیشن میں پروفیسر ڈاکٹر علی کراکس مہمت عاکف ایرسوئے یونیورسٹی بردور ترکیہ،ڈاکٹر ماریہ اسابیل مالڈوناڈو گارشیا انسٹی ٹیوٹ آف لینگوئج اینڈ لینگوئسٹکس یونیورسٹی آف پنجاب،ڈاکٹر شمائلہ میمن سحر یونیورسٹی سلطنت آف عمان، ڈاکٹر محمد اجمل شعبہ انگلش شیخ ایاز یونیورسٹی شکارپور سندھ، ڈاکٹر ظہور حسین ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ انگلش اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، ڈاکٹر محمد کمال خان شعبہ انگلش علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد،ڈاکٹر سحرش افتخار یونیورسٹی آف سدرن پنجاب نے کلیدی خطاب کیا۔ اس موقع پر ڈین فیکلٹی آف لاء پروفیسر ڈاکٹر راؤ عمران حبیب، ڈین فیکلٹی آف اسلامک اینڈ عربیک اسٹڈیز پروفیسر ڈاکٹر شیخ شفیق الرحمن، چیئرمین شعبہ انٹرنیشنل ریلیشنز پروفیسر ڈاکٹر محمد اعجاز لطیف، چیئرمین شعبہ انگلش لٹریچرپروفیسر ڈاکٹر محمد آصف خان، چیئرمین شعبہ سرائیکی ڈاکٹرمحمد ممتاز خان ، ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز ڈاکٹر شہزاد احمد خالد موجود تھے۔
نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ پوری انسانیت کے لیے ایک جامع، روشن اور قابلِ عمل نمونہ ہے, رسول اللہ ﷺ کی زندگی کا ہر پہلواخلاق، عدل، رواداری، شفقت اور حکمت آج کے دور کے چیلنجز کا بہترین حل فراہم کرتا ہے۔……….وفاقی وزیر برائے مذہبی امور، سردار محمد یوسف

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور، سردار محمد یوسف نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ پوری انسانیت کے لیے ایک جامع، روشن اور قابلِ عمل نمونہ ہے, رسول اللہ ﷺ کی زندگی کا ہر پہلواخلاق، عدل، رواداری، شفقت اور حکمت آج کے دور کے چیلنجز کا بہترین حل فراہم کرتا ہے۔اِن خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی سیرت کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ صوفیائے کرام نے سیرتِ نبوی ﷺ کو صرف بیان نہیں کیا بلکہ اپنے کردار اور عمل سے اس کا زندہ نمونہ پیش کرکے ہماری رہنمائی کی۔ آج مختلف ادارے اسی مشن کو اپنے دائرہ کار میں آگے بڑھا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وزارتِ مذہبی امور ہر سال سیرت کانفرنس کا انعقاد کرتی ہے، سیرت پر لکھنے والوں کو ایوارڈز دیتی ہے اور اس پیغام کو مؤثر انداز میں عام کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں سیرت کانفرنس کا کامیاب اہتمام اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس پر یونیورسٹی انتظامیہ، کلیہ عربی و علومِ اسلامیہ اور وائس چانسلر واقعی مبارکباد کے مستحق ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا کہ حضور ﷺ سے بہتر انسان نہ آیا ہے نہ آئے گا اور اُن کی سیرت ہر دور کے لیے روشنی ہے۔

برصغیر کے صوفیاء نے اسی سیرت کو کتابوں سے نہیں، اپنے عمل سے زندہ کیا۔ وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ برابری، رحم دلی، سادگی، نفس کی اصلاح اور اقتدار سے دوری برصغیر پاک و ہند کے صوفیاء کی عملی تعلیمات تھیں۔ڈاکٹر ناصر محمود نے مزید کہا کہ صوفیاء نے ذاتِ رسول ﷺ سے عشق کو زندگی کے ہر پہلو میں ایسا سمویا کہ معاشرہ اُن کے کردار سے سیکھتا رہا، ہماری آج کی گفتگو بھی اسی ورثے کو سمجھنے اور اپنی زندگیوں کو بہتر بنانے کا ذریعہ بنے گی۔

جامعتہ الزیتونتہ، تیونس کے پروفیسر ڈاکٹر محمد العربی بوعزیزی نے برصغیر پاک و ہند میں صوفیاء کی خدماتِ سیرت پر اپنا کلیدی خطبہ پیش کیا۔کلیہ عربی و علوم اسلامیہ کے ڈین، پروفیسر ڈاکٹر شاہ محی الدین ہاشمی نے بھی سیرت کے مختلف پہلوں اور سیرت کے حوالے سے صوفیاء کی خدمات پر روشنی ڈالی۔صدر شعبہ سیرت سٹڈیز، پروفیسر ڈاکٹر شاہ معین الدین ہاشمی نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد تفصیل سے بیان کئے۔اس کانفرنس کے پہلے روز افتتاحی سیشن کے بعد علمی سیشن (1) اور متوازی علمی سیشن (2)، نیز ایک متوازی علمی کمبائن سیشن منعقد ہوگا جبکہ دوسرے روز علمی سیشن (1)، متوازی علمی سیشن (2) اور اختتامی تقریب کا اہتمام کیا جائے گا۔ سیرتِ النبیؐ پر 50 مقالات پیش کیے جائیں گے۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاول پور اور چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز بہاول پور کے زیر اہتمام پہلی ملٹی ڈسپلنری کانفرنس ریسرچ ، پالیسی اور ایکشن 2025 کا آغاز
اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاول پور اور چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز بہاول پور کے زیر اہتمام پہلی ملٹی ڈسپلنری کانفرنس برائے ایس ڈی جیز (اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف) ریسرچ ، پالیسی اور ایکشن 2025 کا آغاز بغداد الجدید کیمپس کے خواجہ غلام فرید آڈیٹوریم میں ہوگیا۔ اس موقع پر اپنے پیغام میں وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پورپروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے کہا کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور دیگر علاقائی جامعات کے ساتھ اقوام متحدہ کے دیرپا ترقی کے اہداف کے حصول اور عملدرآمد کے لیے اشتراک عمل کر رہی ہے ۔ کانفرنس کے موضوعات سماجی و معاشی ترقی و مساوات گورننس اور ماحولیات پر مبنی ہیں ۔ کانفرنس میں شریک قومی اور بین الاقوامی مندوبین یقینی طور پر عالمی قومی اور علاقائی چیلنجز سےنمٹنے کے لیے قابل عمل تجاویز دیں گے جس سے ہمارے اساتذہ اور طلباو طالبات مستفید ہوں گے۔ پروفیسر ڈاکٹر روبینہ بھٹی ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز نے کہا کہ کانفرنس کا مقصد محققین اکیڈیما صنعتی اور پیشہ ورانہ ماہرین میڈیا سرکاری اور نجی ترقیاتی اداروں کو دنیا بھر سے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا ہے تاکہ موجودہ دور کے سماجی و معاشی حالات کو اقوام متحدہ کے دیرپا ترقی کے اہداف کے تناظر میں دیکھا جا سکے۔ کانفرنس کے اہم موضوعات میں تخفیف غربت عدم مساوات زراعت اور ویٹرنری کے شعبے کی پائیدارترقی صحت تعلیم اور صنفی مساوات بہبود خواتین صاف پانی کی فراہمی صفائی اور دیرپا ترقی کے حامل شہر گرین انرجی یوتھ اور ٹیکنالوجی موسمیاتی تبدیلی اور پائیدار ماحول گورننس اور لیڈر شپ امن و انصاف و ادارہ جاتی مضبوطی ہے۔ افتتاحی اجلاس میں کانفرنس فوکل پرسن ڈاکٹر مریم عباس سہروردی نے اس پہلی کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے تینوں میزبان جامعات کے وائس چانسلرز کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاول پور پروفیسر ڈاکٹر شازیہ انجم اور وائس چانسلر چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز بہاول پور پروفیسر ڈاکٹر مظہر ایازنے کلیدی خطاب کیا۔ افتتاحی سیشن کے بعد منعقدہ پینل مباحثے میں پروفیسر ڈاکٹر سعید احمد بزدار وائس چانسلر تھل یونیورسٹی بھکر، پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار وائس چانسلر یونیورسٹی آف سدرن پنجاب ملتان، ڈاکٹر صوفیہ فرخ پرنسپل قائداعظم میڈیکل کالج بہاولپور، ڈاکٹر شاہد سرویا ڈائریکٹر جنرل پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن وفاقی وزارت تعلیم،ڈاکٹر فاروق شجاعت چیف آف ریسرچ/ڈائریکٹرفیکلٹی آف سوشل سائنسز، وقاص منظور چیمہ ڈائریکٹر آئی ٹی ڈی ایچ اےبہاولپور اور چولستان انووسٹا، ڈاکٹر حماد مجید شعبہ کیمسٹری کے سربراہ اور ڈائریکٹر اورک یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی سیالکوٹ کیمپس ،انجینئر مہمت انیس انڈسٹریل انجینئر آئی ٹی ماہر اور ہوازہونگ یونیورسٹی آف سائنس میں کنسلٹنٹ اینڈٹیکنالوجی چین ،پروفیسر ڈاکٹر آصف رانجھا چیئرمین شعبہ سوشل ورک سرپرست موسمیاتی تبدیلی پر کنسورشیم پائیداری اور تحفظ ،پروفیسر ڈاکٹر مقرب اکبر ڈائریکٹر پیس اینڈانسداد انتہا پسندی ریسرچ سینٹر، ڈاکٹر زینب عباس چیف کیمسٹ اینڈ واٹر ایکسپرٹ واٹر اینڈ سینی ٹیشن اتھارٹی، پروفیسر ڈاکٹر اظہر رسول ڈائریکٹراورک بابا گرونانک یونیورسٹی ننکانہ صاحب، پروفیسر ڈاکٹر ارشاد حسین ڈین فیکلٹی آف ایجوکیشن ،پروفیسر ڈاکٹر غلام مصطفی ڈین فیکلٹی آف میتھمیٹیکل سائنسز ، پروفیسر ڈاکٹر اسد اللہ مدنی ڈائریکٹر کیو ای سی ،پروفیسر ڈاکٹر واجد نسیم جتوئی ڈائریکٹرانٹرنیشنل سنٹر فار کلائمیٹ چینج فوڈ سیکورٹی اینڈ سسٹین ایبلیٹی، پروفیسر ڈاکٹر ثمر فہد، پروفیسر ڈاکٹر محمد عبداللہ اور ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز ڈاکٹر شہزاد احمد خالد شریک ہوئے۔ کانفرنس میں ملائیشیا انڈونیشیااور ترکیہ سے مندوبین شریک ہیں۔گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاول پور سے کانفرنس کی فوکل پرسن ڈاکٹر عظمی مقبول اور چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز بہاول پور سے محمد کمال شریک ہوئے اور کانفرنس کے سیکریٹری کے فرائض پروفیسر ڈاکٹر سلمان بن نعیم نے انجام دیئے۔
#IUB #UNO #PIE
تعلیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں،پاکستانی طلبہ میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے،انہیں درست سمت دیں گے تووہ دنیا میں آگے بڑھیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ
وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ نے کہا کہ تعلیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں،پاکستانی طلبہ میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے،انہیں درست سمت دیں گے تووہ دنیا میں آگے بڑھیں گے۔اتوار کے روزنیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈایمرجنگ سائنسز فاسٹ فیصل آباد چنیوٹ کیمپس میں 84ویں کانووکیشن کی تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور جنوبی کوریا ماضی میں ایک دوسرے کے ترقیاتی ماڈلز سے سیکھتے رہے ہیں اور دونوں ممالک کی معیشتیں ایک زمانے میں ہم پلہ تھیں،اسی طرح پاکستان کے کامیاب پانچ سالہ منصوبے جنوبی کوریا کی وزارت تعلیم و منصوبہ بندی کے لیے مثال رہے اور اس دور میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے تجربات سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔وفاقی وزیر نے ایوان اسمبلی میں حالیہ خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تعلیم، خصوصاً انٹرمیڈیٹ اور اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت ملک بھر کے طلبہ کی کارکردگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جب تک 12 سال کی بنیادی اور مضبوط تعلیم فراہم نہیں کی جاتی اس وقت تک ملکی ترقی کا سفر تیز نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہا کہ جن ممالک نے تعلیم پر خصوصی توجہ دی وہ آج نمایاں ترقی کر چکے ہیں۔ تھائی لینڈ کی مثال دیتے ہوئے قیصر احمد شیخ نے کہا کہ انہی ممالک نے تعلیم کو ترجیح بنا کر معاشی استحکام حاصل کیا۔قیصر احمد شیخ نے فارغ التحصیل طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے گریجوایٹس پر ملک کے مستقبل کی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے خصوصاً والدین کو بھی مبارکباد پیش کی جنہوں نے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے فاسٹ یونیورسٹی جیسے معیاری ادارے کے سپرد کیا۔وفاقی وزیر سرمایہ کاری نے بتایا کہ فاسٹ یونیورسٹی چنیوٹ کیمپس کا قیام ایک خواب تھا جو آج حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں ان کی فیملی، دوستوں اور کمپنی نے یونیورسٹی کیلئے 10 ایکڑ زمین فراہم کی۔ اس وقت کئی لوگ اسے ناکام قدم سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ چنیوٹ جیسے دوردراز علاقے میں فاسٹ یونیورسٹی کا کیمپس بنانا نقصان دہ ہوگا مگر آج یونیورسٹی کی کامیابی ان خدشات کا بہترین جواب ہے۔انہوں نے کہا کہ چنیوٹ اور گردونواح کے طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد، تعلیمی رجحان اور جدید سہولیات سے استفادہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ادارہ علاقے کے لیے علم و ترقی کا مرکز بن چکا ہے۔قیصراحمد شیخ نے کہا کہ کمپیوٹر سائنس اور جدید تعلیم ملک کے تابناک و روشن مستقبل کی ضمانت ہے جبکہ فاسٹ یونیورسٹی نوجوانوں کو عالمی معیار کی تعلیم فراہم کر رہی ہے تاہم یہ طلبا و طالبات کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا بہتر نقشہ خود بنائیں اور اپنی منزل کے حصول و مقاصد کی تکمیل کیلئے دن رات ایک کردیں کیونکہ محنت اور مسلسل جدوجہدمیں ہی کامیابی کا راز مضمرہے۔
وفاقی وزیر نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ جدید تعلیم کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو عالمی سطح پر نمایاں کرنے میں کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی اور کارپوریٹ سیکٹر کی مشترکہ کوششیں ملک کے تعلیمی اور ثقافتی مستقبل کیلئے سنگ میل ثابت ہوں گی۔ وفاقی وزیرقیصر احمد شیخ نے کہا کہ نوجوان اقبال کے شاہین اور ملک کا مستقبل ہیں جبکہ تعلیم کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتااسی لئے تعلیمی میدان میں سرکاری کیساتھ ساتھ نجی شعبہ کا کردار بہت اہم ہے چونکہ انہی نوجوانوں نے مستقبل میں ملک اور قوم کی باگ ڈور سنبھالنی ہے لہٰذا عالم اقوام کا مقابلہ کرنے کیلئے انہیں بھرپور محنت اور مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے ہم تعلیمی میدان میں اتنا آگے نہیں جاسکے جتناجاناچاہئے تھالیکن اس کے برعکس بیرونی ممالک نے تعلیم پر توجہ دی اورشاندار ومثالی ترقی کی۔انہوں نے کہا کہ چنیوٹ ایک تاریخی شہر ہے جبکہ اپنے کلچر اور تعلیمی میدان کے حوالے سے یہاں کے50 فیصد لوگ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدور منتخب ہوئے اور بزنس کمیونٹی کی خدمت کی۔
انہوں نے کہا کہ فاسٹ یونیورسٹی مستقبل میں لیڈر شپ پیدا کرے گی کیونکہ یہاں کے طلبا بے پناہ ٹیلنٹ اور خداداد صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس ادارے سے بہت خوش ہیں اور جب بھی یہاں کے طلباوطالبات سے ملتے ہیں تو انہیں دلی خوشی محسوس ہوتی ہے کیونکہ اس ادارہ کے حوالے سے انہوں نے جو خواب دیکھا تھا اس کی تعبیر مل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج طلباو طالبات کی کامیابی ان کے والدین واساتذہ کرام کی محنت اور دعاؤں کا نتیجہ ہے اور وہ ان کے روشن مستقبل کیلئے دعا گو ہیں کہ اللہ کریم ہمارے مستقبل کے معماروں کو زندگی کے ہر شعبہ میں کامیابیاں عطا فرمائے۔انہوں نے گولڈ میڈل حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے 10 لاکھ روپے اور مستحق طلبہ کے لیے 10 لاکھ روپے دینے کابھی اعلان کیا۔وفاقی وزیرقیصر شیخ نے یونیورسٹی انتظامیہ، اساتذہ، والدین اور فارغ التحصیل طلبہ کو کامیاب کانووکیشن پر مبارکباد پیش کی۔قبل ازیں ڈائریکٹر سیفائر گروپ محمد یونس نے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم ایک محفوظ اور ترقی یافتہ مستقبل کی سب سے مضبوط راہ ہے۔
دنیا سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت کے باعث بے مثال رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے اور صرف وہی قومیں عالمی میدان میں مقابلہ کر سکتی ہیں جو تحقیق، تنقیدی سوچ اور جدید علوم کو اپنا لیتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی ’انفارمیشن ایج‘ ہے جہاں معیشتیں محض روایتی صنعتوں کی بجائے مہارت، تخلیقی صلاحیت اور مسئلہ حل کرنے کی طاقت پر پروان چڑھتی ہیں۔فاسٹ یونیورسٹی کے اعلیٰ معیار تعلیم کے حامل ادارے کے طور پر تعریف کرتے ہوئے انہوں نے اسے پاکستان کی ٹیکنالوجیکل اور معاشی ترقی میں ایک اہم ستون قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی نے مختصر عرصے میں ہنرمند گریجویٹس کی تیاری سے لے کر تحقیق اور مقامی صنعت کی مضبوطی تک کئی شاندار سنگ میل عبور کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فاسٹ یونیورسٹی ہر سال دو ہزار سے زائد طلبہ کی مالی معاونت کے لیے تقریباً 8 کروڑ روپے کی خطیر رقم خرچ کرتی ہے اور آئندہ بھی نوجوانوں کو مختلف پس منظر سے اْٹھ کر با مقصد کیریئر بنانے کے مواقع فراہم کرتی رہے گی۔انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے نصیحت کی کہ وہ عملی زندگی میں خود اعتمادی، محنت، انکساری اور ملکی خدمت کے جذبے کے ساتھ قدم رکھیں۔ ان کے مطابق، تعلیم کا حقیقی مقصد اس کے عملی نفاذ میں ہے اور طلبہ کی کامیابی والدین، اساتذہ اور یونیورسٹی کی قیادت کی تعاون سے ہی ممکن ہوتی ہے۔نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ ایمرجنگ سائنسز کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر آفتاب احمد معروف نے کہا کہ یونیورسٹی نے طلبہ کو وہ مہارتیں، ذہنی صلاحیت اور اعتماد فراہم کیا ہے جس کے ذریعے وہ فوراً پروفیشنل دنیا میں قدم رکھ سکتے ہیں۔
فیکلٹی، کیمپس مینجمنٹ اور خصوصاً والدین کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک طالب علم کے تعلیمی سفر کی بنیاد میں خاندان کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے۔انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ پاکستان کو درپیش بڑے چیلنجز کا ادراک کریں اور ان کے حل کے لیے آگے بڑھیں۔ انہوں نے فارغ التحصیل نوجوانوں کو کاروبار اور اختراع اپنانے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو کبھی اپنے آپ کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔انہوں نے مشورہ دیا کہ نوجوان پروفیشنلز پہلے صنعت سے وابستہ ہو کر عملی تجربہ حاصل کریں، مالیاتی نظام کو سمجھیں اور پھر ایسی کاروباری راہیں تلاش کریں جو پاکستان کی ضروریات کا حل پیش کریں۔اپنے خطاب میں انہوں نے فاسٹ کی تاریخ سے متاثر کن واقعات بھی بیان کیے جن میں لاہور اور چنیوٹ کیمپس کی تعمیر کے لیے بڑے پیمانے پر زمین کے عطیات بھی شامل تھے۔
انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی نے ہمیشہ اپنے وسائل دیانت داری، شفافیت اور اعتماد کے ساتھ استعمال کیے ہیں اور فارغ التحصیل طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ یونیورسٹی سے مضبوط تعلق قائم رکھیں کیونکہ فاسٹ کی سہولیات اور سپورٹ نیٹ ورک ہمیشہ ان کے لیے کھلے رہیں گے۔پروفیسر ڈاکٹر شہزاد سرفراز ڈائریکٹرفاسٹ چنیوٹ فیصل آباد کیمپس نے استقبالیہ خطاب پیش کیا اور کیمپس کی نمایاں کامیابیوں پر روشنی ڈالی۔انہوں نے بتایا کہ پی ایچ ڈی الیکٹریکل انجینئرنگ، ایم ایس کمپیوٹر سائنس، ایم بی اے، بی ایس الیکٹریکل انجینئرنگ، بی بی اے، بی ایس کمپیوٹر سائنس اور بی ایس سافٹ ویئر انجینئرنگ میں ڈگریاں دی گئیں جبکہ میڈلسٹ اور نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو اعزازات سے نوازا گیا۔
اس موقع پرپاکستان میں تھائی لینڈ کے سفیر اور چیئر آف آسیان کمیٹی اسلام آباد رونگ وودھی ویرا بٹر،ملائیشیا کے ہائی کمشنر محمد اظہر مزلان، پاکستان میں میانمار کے سفیر وونا ہان، ریکٹر نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈایمرجنگ سائنسزفاسٹ ڈاکٹر آفتاب احمد معروف،پروفیسر ڈاکٹر شہزاد سرفراز ڈائریکٹرنیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ ایمرجنگ سائنسز چنیوٹ فیصل آباد کیمپس، محمد یونس ڈائریکٹر سیفائر گروپ آف انڈسٹریزکے علاوہ طلبا و طالبات، ان کے والدین، فیکلٹی ممبران اور مختلف مکاتب فکر کے اہم افراد بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ قبل ازیں تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک اور قومی ترانہ سے کیا گیا۔
کانووکیشن میں پی ایچ ڈی(سی ایس)، پی ایچ ڈی(ای ای)، ایم ایس (سی ایس)، ایم ایس (ای ای)، ایم بی اے، بی ایس (ای ای)، بی بی اے، بی ایس (سی ایس)، بی ایس (ایس ای) کے فارغ التحصیل گریجوایٹس میں ڈگریاں جبکہ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنیوالوں میں میڈلز بھی تقسیم کئے گئے۔بعد ازاں وزیرموصوف نے سفیروں اور دیگر مہمانوں میں شیلڈز تقسیم کیں۔ آخر میں یادگاری گروپ فوٹو بھی بنایا گیا۔؎