لاہور: نامور ریڈیولوجسٹ اور اولڈ راوین پروفیسر ڈاکٹر صفدر علی ملک کی جانب سے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے اینڈوومنٹ فنڈ ٹرسٹ کو 10 لاکھ روپے کی رقم عطیہ۔ اس رقم سے ہر سال میرٹ پر ایک مستحق طالب علم کو اسکالرشپ دی جائے گی۔ یہ پروفیسر صفدر کی جانب سے عطیہ کی جانے والی ساتویں سکالرشپ ہے۔پروفیسر ڈاکٹر صفدر علی ملک نے 10 لاکھ روپے کا چیک وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر چوہدری کو وائس چانسلر آفس میں ایک تقریب کے دوران پیش کیا۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر خالد منظور بٹ اور یونیورسٹی آف بلتستان، اسکردو کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود اختر بھی موجود تھے۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر چوہدری نے عطیے پر پروفیسر ڈاکٹر صفدر علی ملک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اس رقم کو میرٹ اسکالرشپ میں تبدیل کیا جائے، تاکہ ہر سال ایک مستحق طالب علم کو تعلیمی معاونت فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اسکالرشپ ایک طالب علم کی زندگی بدل دیتی ہے اور تعلیم کے ذریعے پورا خاندان بہتر مستقبل کی طرف بڑھتا ہے۔
Ilmiat
ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال نے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول رستم خان جمالی میں کے این کے جاپان (KnK Japan) کے تعاون سے مکمل ہونے والی اسکول عمارت اور جدید سہولیات سے آراستہ عمارت کا باقاعدہ افتتاح کیا۔
ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال نے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول رستم خان جمالی میں کے این کے جاپان (KnK Japan) کے تعاون سے مکمل ہونے والی اسکول عمارت اور جدید سہولیات سے آراستہ عمارت کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر استامحمد بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔یہ منصوبہ KnK Japan اور مقامی شراکت دار تنظیم YMSESDO کے تعاون سے مکمل کیا گیا، جس کے تحت اسکول میں معیاری اور جدید تعلیمی سہولیات فراہم کی گئیں۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد اسکول عمارت کو باضابطہ طور پر اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ضلع ستامحمد کے حوالے کر دیا گیا۔منصوبے کے تحت فراہم کی گئی نمایاں سہولیات میں سات کمروں پر مشتمل سنگل اسٹوری ریٹروفٹڈ اسکول عمارت، چار انکلو سیو ٹوائلٹ یونٹس (بحالی اور سولرائزیشن کے ساتھ)، اندرونی الیکٹریفیکیشن، طلبہ کے لیے ریمپس اور ہینڈ ریلز، ایلومینیم کھڑکیاں حفاظتی گرلز کے ساتھ، معیاری اسکول فرنیچر اور گرین بورڈز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 5.6 کے وی اے ہائبرڈ سولر سسٹم بمعہ بیٹریاں اور سولر پلیٹس، واٹر ٹینک، راہداری/برآمدہ، چھت کی ٹریٹمنٹ اور دیگر ضروری سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر استامحمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معیاری تعلیمی ماحول کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، اور ایسے ترقیاتی منصوبے بچیوں کی تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے KnK Japan اور YMSESDO کے تعاون کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا اور اسکول انتظامیہ کو ہدایت کی کہ فراہم کردہ سہولیات کی مو¿ثر دیکھ بھال کو یقینی بنایاجائےآخر میں ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے اسکول کی بہتر کارکردگی، اساتذہ کی محنت اور طالبات کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناو¿ں کا اظہار کیا۔
پنجاب یونیورسٹی نے تحقیق کے فروغ کے لئے17 کروڑ روپے مختص کئے ہیں، اساتذہ تحقیق کے فنڈکو ملک، معاشرہ اور یونیورسٹی کی بہتری کے لئے استعمال کریں…….وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی
اساتذہ تحقیقی فنڈ کو ملک، معاشرہ اور یونیورسٹی کی بہتری کے لئے استعمال کریں، وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی
لاہور: (22 جنوری،جمعرات):وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر محمد علی نے کہا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی نے تحقیق کے فروغ کے لئے17 کروڑ روپے مختص کئے ہیں، اساتذہ تحقیق کے فنڈکو ملک، معاشرہ اور یونیورسٹی کی بہتری کے لئے استعمال کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب یونیورسٹی آفس آف ریسرچ انوویشن ایند کمرشلائیزیشن(اورک) کے زیر اہتمام ’پی یو ریسرچ گرانٹ ایوارڈ سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وائس چانسلریونیورسٹی آف سوات ڈاکٹرداؤد چاند،پرو وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر خالد محمود، ڈائریکٹر اورک ڈاکٹر عقیل انعام، فیکلٹیوں کے ڈینز اور ریسرچ گرانٹ حاصل کرنے والے اساتذہ و محققین نے شرکت کی۔اپنے خطاب میں وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی ایک ماں کی مانند ہے اس لئے جامعہ آپ کا فخر ہونا چاہیے اورسب مل کراس کی ترقی میں کردار اد اکرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ طلباؤ طالبات کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی وقت پر پروموشن ہونا بہت ضروری ہے،جن اساتذہ کے کیسز مکمل ہیں، ان کے سلیکشن بورڈ شیڈول کر دئیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مختلف شعبوں میں بچت اورذرائع آمدن بڑھاکر پنشن اور انڈومنٹ فنڈ قائم کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ بیرونی گرانٹ حاصل کرنے پر ذیادہ توجہ دیں۔ڈاکٹر عقیل انعام نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں امسال 403 ریسرچ گرانٹس کی منظوری دی گئی ہے۔

لاہور: (22 جنوری،جمعرات):وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہاہے کہ اساتذہ ہائیر ایجوکیشن کے نظام کو ٹرانسفارم کرنے میں بنیادی عنصر ہیں،اساتذہ کی ترقی میں ٹیچنگ کا پیرامیٹر شامل ہوناچاہیے۔وہ پنجاب یونیورسٹی اور ایچ ای سی کی نیشنل اکیڈیمی آف ہائیر ایجوکیشن کے زیر اہتمام اساتذہ کے لئے نیشنل آوٹ ریچ پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔اس موقع پر صدرپنجاب یونیورسٹی اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن ڈاکٹر امجدمگسی،ایم ڈی نیشنل اکیڈیمی ڈاکٹر نور آمنہ، ٹریننگ کوآرڈینیٹرڈاکٹر سنیہ زہرا اور فیکلٹی ممبران نے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ تربیتی پروگرام کے انعقاد کا مقصد اساتذہ کی تدریسی و انتظامی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام جامعات میں معیاری تعلیم کی جانب اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تربیتی پروگرام میں تدریس میں ٹیکنالوجی کا استعمال سکھایا جائے گاجس سے اساتذہ کو طلباؤ طالبات میں صلاحیتیں پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے بہترین تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ انسان کو زندگی کے ہر مرحلے میں سیکھنے کی ضرورت رہتی ہے۔ ڈاکٹر نور آمنہ نے کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی جامعہ سے اساتذہ تربیتی پروگرام کا انعقاد کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تربیتی پروگرام کیلئے بہترین ریسورس پرسنز کا بندوبست کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی تربیت ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی ترجیحات میں شامل ہے۔ڈاکٹرسنیہ زہرا نے کہا کہ تربیتی پروگرام 4 ہفتوں پر مشتمل ہے جس میں 9 ماڈیولز ہوں گے۔
نیشنل ریسرچ پروگرام فار یونیورسٹیز این آر پی یو 2025–26: ایچ ای سی نے تحقیقی منصوبوں کےجائزہ کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا
ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے ریسرچ اینڈ انوویشن ڈویژن کے تحت نیشنل ریسرچ پروگرام فار یونیورسٹیز (NRPU) نے کال 2025–26 کے لیے سخت اور شفاف بلائنڈ ریویو عمل کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ایچ ای سی کو اس سال ملک بھر سے 6,926 تحقیقی تجاویز موصول ہوئیں، جو اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے اور پاکستان میں تحقیقی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
شفافیت، میرٹ اور علمی دیانت داری کو یقینی بنانے کے لیے ملک کی ممتاز جامعات سے تعلق رکھنے والے معروف ماہرینِ مضامین اور ریویورز کو اسلام آباد اور تمام علاقائی مراکز، بشمول پشاور، لاہور، کراچی اور کوئٹہ میں، نیز آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے شامل کیا گیا۔ این آر پی یو ٹیم نے ہزاروں تحقیقی تجاویز کی جانچ کا مشکل مرحلہ منظم ٹیم ورک، سخت ضابطۂ کار کی پابندی اور ایچ ای سی کی اعلیٰ قیادت کی بھرپور معاونت سے مقررہ وقت میں مکمل کیا۔ایچ ای سی نے اس قومی ذمہ داری میں حصہ لینے والے تمام ریویورز کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا ہے، جبکہ دوسرے مرحلے کے لیے منتخب ہونے والے درخواست گزاروں کو مبارکباد دی ہے۔
ایچ ای سی کے مطابق تفصیلی تحقیقی تجویز جمع کرانے کی آخری تاریخ 6 فروری 2026 مقرر کی گئی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے کی زیر ہدائت محکمۂ ہائر ایجوکیشن کے چوتھے اسپورٹس ایونٹس 2025-26جیت لو میدان کا آغاز
راولپنڈی: وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے کی زیر ہدائت محکمۂ ہائر ایجوکیشن کے چوتھے اسپورٹس ایونٹس 2025-26 کے سلسلے میں صوبائی سطح پر ہاکی (بوائز اینڈ گرلز) چیمپئن شپ کی رنگا رنگ اور شاندار افتتاحی تقریب گورنمنٹ وقارُالنسا گرلز کالج راولپنڈی کی اسٹیٹ آف دی آرٹ اسپورٹس سہولیات میں منعقد ہوئی۔
افتتاحی تقریب کی مہمانِ خصوصی ممبر صوبائی اسمبلی اور پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات و ثقافت، محترمہ شازیہ رضوان تھیں۔ چیمپئن شپ میں پنجاب کے 9 ڈویژنز سے تعلق رکھنے والے 230 نامور اور باصلاحیت کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں، جو صوبائی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔
اس موقع پر طلبہ و طالبات اور کھلاڑیوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز اور صوبائی وزیر برائے ہائر ایجوکیشن رانا سکندر حیات (تعلیم کا سپاہی) کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں کھیلوں کے فروغ، طلبہ کو بھرپور مواقع فراہم کرنے اور اسپورٹس کلچر کو مضبوط بنانے کے لیے ان کی انتھک کاوشیں اور پختہ عزم قابلِ تحسین ہیں۔
منتظمین کے مطابق یہ ایونٹ نوجوانوں میں صحت مند سرگرمیوں، مثبت مقابلے، نظم و ضبط اور قائدانہ صلاحیتوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اسپورٹس ایونٹس کا پیغام ہے: “جیت لو ہر میدان”۔
AI ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کے مابین قانونی کشمکش۔۔۔ایلون مسک کا اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ کے خلاف 134 ارب ڈالر کا دعوی
ٹیکنالوجی کے معروف کاروباری شخصیت ایلون مسک نے اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ کے خلاف امریکی وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کرتے ہوئے دونوں کمپنیوں سے 134 ارب ڈالر تک ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایلون مسک کا مؤقف ہے کہ اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ نے ان کے ابتدائی تعاون اور سرمایہ کاری سے جو “غیر منصفانہ مالی فوائد” حاصل کیے، وہ دراصل انہیں واپس ملنے چاہییں۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق، ایلون مسک کا کہنا ہے کہ 2015 سے اوپن اے آئی کو ان کے تعاون کے نتیجے میں 65.5 ارب سے 109.4 ارب ڈالر تک کا فائدہ ہوا، جبکہ مائیکروسافٹ نے 13.3 ارب سے 25.1 ارب ڈالر تک کے فوائد حاصل کیے۔ یہ دعویٰ مسک نے اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ کے خلاف متوقع مقدمے کی سماعت سے قبل دائر کیا ہے، جس کا آغاز اپریل میں متوقع ہے۔
ایلون مسک کے مرکزی وکیل اسٹیون مولُو کے مطابق،
“اگر ایلون مسک نہ ہوتے تو اوپن اے آئی وجود میں ہی نہ آتی۔ انہوں نے ابتدائی سرمایہ فراہم کیا، اپنی ساکھ کو استعمال کیا، اور کمپنی کو کاروبار بڑھانے کے طریقے سکھائے۔ ایک ماہر معاشیات نے ان خدمات کی مالی قدر کا تعین کیا ہے۔”
ایلون مسک 2018 میں اوپن اے آئی سے علیحدہ ہو گئے تھے اور اس وقت وہ اپنی کمپنی xAI کے ذریعے چیٹ بوٹ Grok چلا رہے ہیں، جو اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی کا مقابل ہے۔ مسک کا الزام ہے کہ اوپن اے آئی نے اپنے قیام کے بنیادی مشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خود کو ایک غیر منافع بخش ادارے سے منافع بخش کمپنی میں تبدیل کیا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق، ایلون مسک نے اوپن اے آئی کے ابتدائی مرحلے میں تقریباً 38 ملین ڈالر فراہم کیے، جو اس وقت کی کل ابتدائی سرمایہ کاری کا 60 فیصد تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے عملہ بھرتی کرنے، بانیان کو کاروباری روابط فراہم کرنے اور منصوبے کو ساکھ دینے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔
دوسری جانب، اوپن اے آئی نے اس مقدمے کو “بے بنیاد” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایلون مسک کی جانب سے ہراسانی کی مہم کا حصہ ہے۔ مائیکروسافٹ کے وکیل نے بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ مائیکروسافٹ نے اوپن اے آئی کے کسی مبینہ غیر قانونی عمل میں معاونت کی ہو۔
اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ نے ایک علیحدہ عدالتی درخواست میں ایلون مسک کے مالیاتی ماہر کی رپورٹ کو مسترد کرنے کا مطالبہ کیا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ یہ تجزیہ “من گھڑت، ناقابلِ تصدیق اور غیر معمولی” ہے اور جیوری کو گمراہ کر سکتا ہے۔
عدالت کے مطابق، اگر جیوری نے اوپن اے آئی یا مائیکروسافٹ کو قصوروار قرار دیا تو ایلون مسک اضافی جرمانے، تعزیری ہرجانہ (punitive damages) اور ممکنہ عدالتی پابندی (injunction) کا بھی مطالبہ کر سکتے ہیں۔
کیلیفورنیا کے شہر اوکلینڈ میں ایک جج نے اس ماہ فیصلہ دیا ہے کہ اس مقدمے کی سماعت جیوری کرے گی، جو اپریل میں شروع ہونے کی توقع ہے۔ یہ مقدمہ مصنوعی ذہانت کی دنیا میں طاقت، سرمایہ اور اخلاقی اصولوں پر ایک بڑی قانونی جنگ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پورمیں محمد شجیع الرحمن کو ریگولر رجسٹرار اور طالب حسین کو ریگولر کنٹرولر امتحانات تعینات کر دیاگیا
اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پورمیں محمد شجیع الرحمن کو ریگولر رجسٹرار اور طالب حسین کو ریگولر کنٹرولر امتحانات تعینات کر دیاگیا ہے۔ اس موقع پر تقرر نامے دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے کہا کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں طویل عرصے بعد باقاعدہ پرنسپل افسران کا تقرر کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں سلیکشن بورڈ میں مقابلے کے بعد میرٹ پر افسران کی تقرری کی گئی ہے جس کی منظوری سینڈیکیٹ نے دی ہے۔ سینڈیکیٹ کے فیصلے کی روشنی میں نوٹیفکیشن جاری کر دیئے گئے ہیں۔ اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے پرووائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرعبدالروف کے ہمراہ نئے تعینات ہونے والے رجسٹرار محمد شجیع الرحمن اور کنٹرولر امتحانات طالب حسین کو تقرر نامے دیئے۔ اس موقع پر ڈینز، اساتذہ کرام اور افسران بڑی تعدا دمیں موجود تھے۔
پنجاب یونیورسٹی نے ایسو سی ایٹ ڈگری کے آن لائن داخلہ فارم جمع کرانے کا شیڈول جاری کردیا
پنجاب یونیورسٹی شعبہ امتحانات نے ایسوسی ایٹ ڈگری آرٹس، سائنس اور کامرس پارٹ ون اور پارٹ ٹوسالانہ امتحانات 2026 ء اور بی اے سماعت سے محروم افراد کے سالانہ امتحان 2026ء کے لیے آن لائن داخلہ فارم جمع کرانے کا شیڈول جاری کردیا۔ تفصیلات کے مطابق آن لائن داخلہ فارم سنگل فیس کے ساتھ 20 فروری 2026 ء تک جمع کرائے جاسکتے ہیں۔یہ شیڈول ریگولر امیدواروں، لیٹ کالج امیدواروں،پرائیویٹ امیدواروں اور ڈویژن میں بہتری کے لیے درخواست دینے والے امیدواروں پر لاگو ہوگا۔واضح رہے کہ پارٹ ون میں داخلے صرف ان امیدواروں کے لیے کھلے ہیں جن کے سپلی پیپرزہیں اورجن کے پاس امتحان میں شرکت کے لیے مواقع موجود ہیں، نئے امیدواروں کو پارٹ ون میں امتحان دینے کی اجازت نہیں ہوگی۔مزید برآں کوئی داخلہ فارم بذریعہ ڈاک یا دستی وصول نہیں کیا جائے گا اور تمام امیدواروں کو اپنے داخلہ فارم صرف آن لائن ہی جمع کرانا ہوں گے۔تفصیلات پنجاب یونیورسٹی کی ویب سائٹ www.pu.edu.pkپر دیکھی جاسکتی ہیں۔
فودان یونیورسٹی چین کا انٹرنیشنل ایلیٹ پاینیر پروگرام: ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کے لیے داخلوں کا اعلان
چین کی معروف جامعہ فودان یونیورسٹی نے انٹرنیشنل ایلیٹ پاینیر پروگرام کے تحت بین الاقوامی طلبہ کے لیے ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ ڈگری پروگرامز میں داخلوں کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ پروگرام عالمی معیار کی تحقیق، جدید علمی سہولیات اور بین الاقوامی تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق اس پروگرام کا مقصد باصلاحیت طلبہ کو تحقیق، جدت اور قیادت کی صلاحیتوں کے فروغ کے مواقع فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ عالمی سطح پر تعلیمی اور سماجی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
دلچسپی رکھنے والے امیدوار آن لائن درخواست درج ذیل لنک کے ذریعے جمع کرا سکتے ہیں:
https://istudent.fudan.edu.cn/apply/#/
مزید تفصیلات، اہلیت کے معیار اور درخواست کے طریقہ کار کے لیے امیدوار فودان یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ سے رجوع کریں۔
مقبوضہ کشمیر میں قائم شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لینس میں میرٹ پر داخلوں میں مسلم طلبہ کی اکثریت پر بھارت نے میڈیکل کالج بند کر دیا
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں قائم شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لینس کو دائیں بازو کی ہندو تنظیموں کے شدید احتجاج کے بعد بند کر دیا گیا ہے۔ احتجاج کی وجہ ادارے کے پہلے ایم بی بی ایس بیچ میں مسلم طلبہ کی واضح اکثریت بتائی جا رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 50 رکنی پہلے بیچ میں 42 مسلمان، 7 ہندو اور ایک سکھ طالب علم شامل تھا۔ داخلے کا یہ عمل بھارت بھر میں نافذ مرکزی داخلہ امتحان (NEET) کے ذریعے مکمل ہوا، جو مذہب سے بالاتر ایک مسابقتی نظام سمجھا جاتا ہے۔یہ ادارہ ایک ہندو مذہبی فلاحی ٹرسٹ کے تحت قائم کیا گیا تھا اور جزوی طور پر سرکاری فنڈز سے بھی مدد حاصل کرتا تھا۔ جس پر ہندو تنظیموں نے اعتراض کرتے ہوئے داخلوں کی منسوخی اور بعد ازاں کالج کی بندش کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ چونکہ ادارہ ایک ہندو مذہبی ٹرسٹ سے منسلک ہے، اس لیے مسلمان طلبہ کو وہاں داخلہ نہیں ملنا چاہیے۔
صورتحال کے پیشِ نظر نیشنل میڈیکل کمیشن نے 6 جنوری کو کالج کی منظوری منسوخ کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ادارہ تدریسی عملے، مریضوں کی تعداد اور دیگر بنیادی سہولیات کے مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتا۔
تاہم طلبہ، والدین اور ماہرین تعلیم نے اس فیصلے کو متنازع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام تعلیمی معیار کے بجائے مذہبی دباؤ کا نتیجہ ہے۔ سیاسی مبصرین نے بھی سوال اٹھایا ہے کہ اگر واقعی خامیاں موجود تھیں تو ادارے کو ابتدا میں منظوری کیوں دی گئی۔
کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اعلان کیا ہے کہ متاثرہ طلبہ کو دیگر میڈیکل کالجز میں ایڈجسٹ کیا جائے گا تاکہ ان کی تعلیم متاثر نہ ہو۔ انہوں نے اس معاملے کو تعلیم کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی خطرناک مثال قرار دیا۔
یہ واقعہ بھارت میں اقلیتوں کے حقوق، میرٹ پر مبنی نظامِ تعلیم اور تعلیمی اداروں کے سیاسی استعمال پر ایک بار پھر سنجیدہ سوالات کھڑے کر رہا ہے۔