اسلام آباد: نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) کو آج بوسنیا و ہرزیگووینا کے پاکستان میں سفیر، ہز ایکسی لینسی مسٹر ایمن چوہوداریوِچ کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہوا۔یونیورسٹی آمد کے موقع پر سفیر کی ملاقات ریکٹر نسٹ، ڈاکٹر محمد زاہد لطیف سے ہوئی، جہاں دونوں جانب سے تعلیمی تعاون، تحقیقی شراکت داری اور طلبہ کے تبادلے کے مواقع پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ نUST اور بوسنیا کی معروف یونیورسٹیوں کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں اور جدید تعلیمی پروگراموں کے ذریعے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔ملاقات کے دوران جدت، استعداد کار میں اضافہ، اور عوامی روابط کے فروغ جیسے باہمی دلچسپی کے اہم نکات پر بھی بات چیت ہوئی۔ دونوں فریقین نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں تعاون کے یہ نئے راستے دونوں ممالک کے تعلیمی اور تحقیقی شعبوں کے لیے مفید ثابت ہوں گے۔
Ilmiat
صدر مملکت آصف علی زرداری کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں 27 ویں نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کے شرکا سے خطاب
:صدر مملکت آصف علی زرداری نے یشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کا دورہ کیا اور 27 ویں نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کیا۔ ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق ورکشاپ نے اراکین پارلیمنٹ، سینئر سول اور فوجی افسران، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو اکٹھا ہونے کا موقع فراہم کیا۔ ۔ صدر مملکت اپنے خطاب میں ورکشاپ کو کامیابی سے مکمل کرنے پر شرکاکو مبارکباد دی اور قومی سلامتی کے بارے میں آگاہی کو مضبوط بنانے کے لیے ان کی لگن کو سراہا۔
انہوں نے پاکستان کے عصری سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے باخبر قیادت، قومی ہم آہنگی اور مربوط پالیسی سازی کی اہمیت پر زور دیا ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق27 ویں نیشنل سکیورٹی ورکشاپ میں جامع قومی سلامتی کے فریم ورک کے تحت قومی طاقت کے مختلف عناصر کے درمیان باہمی تعامل کے بارے میں شرکا کی سمجھ کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی قومی سلامتی ورکشاپ قومی سطح کے مکالمے کو فروغ دینے، ادارہ جاتی صلاحیت کو بڑھانے اور قومی سلامتی کے لیے پورے ملک کے نقطہ نظر کو فروغ دینے کے لیے ملک کے اہم پلیٹ فارمز میں سے ایک ہے۔ صدر مملکت نے گریجویٹ ہونے والے شرکاکو اسناد بھی دیں۔

سلسہ تقریبات پندرہ سو سالہ جشن ولادتِ مصطفیﷺ، اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں مکالمہ بین المذاہب کے نبوی اصول کے عنوان سے ایک روزہ قومی سیمینار کا انعقاد
سلسہ تقریبات پندرہ سو سالہ جشن ولادتِ مصطفیﷺ، اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں مکالمہ بین المذاہب کے نبوی اصول کے عنوان سے ایک روزہ قومی سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں اساتذہ اور طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ وائس چانسلراسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران اور ڈین فیکلٹی آف اسلامک اینڈ عریبک اسٹڈیز پروفیسر ڈاکٹر شیخ شفیق الرحمن کی زیر سرپرستی ہونے والے اس سیمینار کی میزبانی ڈاکٹر سجیلہ کوثر صدر شعبہ ادیان عالم وبین المذاہب ہم آہنگی نے کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر حافظ محمد سجاد تترالوی، صدر شعبہ اسلافی فکر، تاریخ و ثقافت، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد نے مہمان مقرر کے طور پر شرکت کی۔ پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الرحمن، صدر شعبہ قرآنک اسٹڈیز اور ڈاکٹر غلام حیدر، صدر شعبہ حدیث، ڈاکٹر زوہیب احمد، ڈاکٹر محمد خبیب اور ڈاکٹر سدرہ شعیب سمیت مختلف شعبہ جات کے اساتذہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ڈاکٹر سجیلہ کوثر نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ یونیورسٹی کو قائم ہوئے سو سال گزر چکے ہیں اور ہماری خوش نصیبی ہے کہ آقائے دو جہاں محمد مصطفیﷺ کے پندرہ سو سالہ جشن ولادت کی تقریبات بھی جاری ہیں لہذا شعبہ ادیان عالم و بین المذاہب ہم آہنگی نے اس شاندار سیمینار کا انعقاد کیا تاکہ سیرت رسولﷺ سے اس ضمن میں رہنمائی حاصل کی جا سکے کہ آپﷺ غیر مسلموں سے کس طرح پیش آتے اور کیسے ان کو دین کی دعوت دیتے تھے۔ڈاکٹر حافظ محمد سجاد تترالوی نے سیرت مصطفیﷺ کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ سیرت مصطفیﷺ کا گوشہ گوشہ اور حدیث نبویﷺ کا حرف حرف ہمارے لیے رہنما ہے کہ آپﷺ ہمیشہ نرمی، متانت اور سنجیدگی سےغیر مسلموں کو دعوت دیتے اور ایک ماہر نفسیات کی طرح ان کے ذہن میں چھپے اندیشوں کو جان لیتے۔ آپﷺ ان کو ہر لحاظ سے تسلی دیتے جس سے وہ مطمئن ہو کر راضی خوشی اسلام قبول کرتے۔ لہذاضرورت اس امر کی ہے کہ آج بھی اسی نبوی منھج پر عمل پیرا ہواجائے تاکہ وطن عزیز امن وآتشی کا گہوارہ بن سکے۔سیمینار کے اختتام پر سوال وجواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں طلبہ نے گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران کی نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد کے دورہ کے دوران ریکٹر ڈاکٹر محمد زاہد لطیف سے ملاقات
وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد کے دورہ کے دوران ریکٹر ڈاکٹر محمد زاہد لطیف سے ملاقات کی۔ دونوں تعلیمی رہنماؤں نے تعلیمی قیادت، یونیورسٹی گورننس اور پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے ابھرتے ہوئے منظر نامے پر گہری بات چیت کی۔ ملاقات کے دوران تعلیمی معیار کو مضبوط بنانے، تحقیقی عمدگی کو فروغ دینے، علم کی بنیاد پر بڑھانے اور بامعنی تعلیمی مکالمے کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیا۔ ریکٹر نے وائس چانسلر کو اپنی حال ہی میں جاری کردہ کتاب، پاکستان کی تلاش برائے امن و افغانستان، اسٹیٹ کرافٹ، پالیسی اور حکمت عملی کی ایک کاپی بھی پیش کی۔
ویٹرنری یونیورسٹی اور NexGen Connect کے در میان طلبہ میں پیشہ وارانہ عملی صلا حیتو ں کو انٹرن شپ کے زریعے اُجا گر کرنے کے لیئے مفاہمتی یاداشت کا معا ہد ہ طے پا یا
یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈاینیمل سائنسز لا ہو ر اور NexGen Connect پرا ئیو یٹ لیمیٹڈکے درمیان یواس بزنس سکول، بی بی اے، نیو ٹریشن اور ڈی وی ایم کے طلبہ میں پیشہ وارانہ عملی صلا حیتو ں کو انٹرن شپ کے زریعے اُجا گر کرنے کے لیئے مفاہمتی یاداشت کا معا ہد ہ طے پا یا۔یاداشت پر دستخط ویٹر نری یونیورسٹی سے وائس چانسلر میری ٹوریئس پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس (تمغہ امتیاز) نے اور NexGen Connect سے چیف ایگزیکٹیو آفیسر مسٹر بلاول علی شاہ نے یونیورسٹی میں منعقدہ تقریب میں کیئے جبکہ دیگر اہم شخصیات میں ڈین فیکلٹی آف ویٹر نری سائنس پروفیسر ڈاکٹر انیلہ ضمیر درا نی،ڈین فیکلٹی آف لائف سائنسز بزنس مینجمنٹ پروفیسر ڈاکٹررا نا محمد ایوب سمیت دونوں اداروں کے آفیشلز کی کثیر تعداد نے شر کت کی۔
مفاہمتی یاداشت کے تحت مستقبل میں NexGen Connect کمپنی ویٹر نری یونیورسٹی کے طلبہ کوما رکیٹنگ،فنانس، ہیو من ریسورس، سپلا ئی چین مینجمنٹ اور انفارمیشن ٹیکنا لو جی کے شعبوں میں انٹرن شپس کے موا قع مہیا کرے گا تا کہ وہ فیلڈ سے متعلقہ پیشہ وارا نہ عملی صلا حیتیں سیکھ سکیں۔دونوں ادارے مستقبل میں ملکر ورکشا
پس، کانفرنس،سیمینار اور تر بیتی ٹریننگ کا انعقاد بھی کروا ئیں گے نیز آپس میں ماہرین اور طلبہ کا عملی اور تحقیقی کاموں میں تبا دلہ بھی کیا جائے گا نیز دونوں ادارے اشترا کی تحقیق اور کنسلٹینسی پراجیکٹس کے موا قع بھی تلا ش کریں گی۔دونوں آرگنائزیشن اپنے ماہر تجربہ کار افراد کو حکمت عملی کے اجلاس، ورکشاپس اور تر بیتی ٹریننگ میں لیکچرز دینے کے لیئے بطور مہمان مقررین مد عو بھی کریں گے۔
دریں اثنا ء وائس چانسلر میری ٹوریئس پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس (تمغہ امتیاز) نے پشاور چڑ یا گھر سے آئے ٹیکنیکل سٹاف کی ایکس رے اور گیس اینستھیزیا مشین کے مو ضو ع پر پانچ روز سے جاری تر بیتی ٹریننگ کی اختتا می تقریب کی صدارت کرتے ہو ئے شر کا میں سر ٹیفیکیٹس تقسیم کیئے۔ قبل ازیں ڈین فیکلٹی آف ویٹر نری سائنس پروفیسر ڈاکٹر انیلہ ضمیر درا نی نے تقریب حلف برداری کی صدارت کرتے ہوئے کریکٹر بلڈنگ سو سا ئٹی کے نئے عہدے داروں سے حلف بھی لیا۔
غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان میں کوالٹی انہانسمنٹ سیل کے زیر اہتمام پی آر ای ای معیارات کے مطابق جانچ رپورٹس کی تیاری‘‘ کے عنوان سے ایک تربیتی نشست کا اہتمام کیا گیا
غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اشفاق احمد کی زیر سرپرستی کوالٹی انہانسمنٹ سیل کے زیر اہتمام پی آر ای ای معیارات کے مطابق جانچ رپورٹس کی تیاری‘‘ کے عنوان سے یونیورسٹی کے سیمینار ہال میں ایک تربیتی نشست کا اہتمام کیا گیا۔
ڈائریکٹر کوالٹی انہانسمنٹ سیل ڈاکٹر عنصر علی نے ورکشاپ کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا اور بنیادی نکات اور جانچ رپورٹس کی تیاری پر گفتگو کی ۔ ڈائریکٹر کوالٹی انہانسمنٹ سیل ایگریکلچر یونیورسٹی ملتان پروفیسر ڈاکٹر حماد ندیم نے شرکا کو دستاویزی عمل کو مضبوط بنانے، جانچ کے تقاضوں کو بہتر کرنے اور قومی معیار پر پورا اترنے کے طریقہ کار سے تفصیلاً آگاہ کیا۔ تربیت میں غازی یونیورسٹی اور اس سے ملحقہ کالجوں کی پروگرام ٹیموں نے شرکت کی اور تعلیمی معیار بہتر بنانے، متعلقہ فریقوں کی شمولیت بڑھانے اور مسلسل بہتری کے نظام کو مضبوط کرنے کے امور پر گفتگو کی۔
اس ورکشاپ کے انعقاد میں ڈاکٹر صوفیہ خاکوانی ، ڈاکٹر محمد فاروق اور محمد ناصر نعیم نے اہم کردار ادا کیا۔ شرکا نے اس مفید اور جامع تربیت کے اہتمام پر محکمہ معیار افزائی کا شکریہ ادا کیا، جس کا مقصد ادارے میں تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانا تھا۔
تقریب کے اختتام پر تمام شعبہ جات نے جانچ رپورٹس کی بہتر تیاری اور معیار کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔
پنجاب یونیورسٹی اور ہائیر پاکستان کے مابین معاہدہ طے پاگیا…….معاہدے کے مطابق تقریباً 100 اسکالرشپس طلبہ کو میرٹ و ضرورت کی بنیاد پر فراہم کئے جائیں گے
لاہور(28نومبر،جمعہ): پنجاب یونیورسٹی اور ہائیر پاکستان پرائیویٹ (لمیٹڈ)کے مابین مستحق طلبہ کو معیاری تعلیم تک بہتر رسائی فراہم کرنے کے لیے معاہدہ طے پاگیا۔ اس سلسلے میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب وائس چانسلر آفس کے کمیٹی روم میں منعقد ہوئی جس میں رجسٹرار ڈاکٹر احمد اسلام،ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ ڈاکٹر حافظ محمد انور اصغر، ڈائریکٹر ایکسٹرنل لنکجزڈاکٹر یامینہ سلمان، ہائیر پاکستان کی جانب سے چینی مینجمنٹ کے نمائندہ ژانگ، ڈائریکٹر مارکیٹنگ ہمائیوں بشیر و دیگر نے شرکت کی۔ معاہدے کے مطابق تقریباً 100 اسکالرشپس طلبہ کو میرٹ و ضرورت کی بنیاد پر فراہم کئے جائیں گے۔
وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے جمعرات کو نیشنل لائبریری آف پاکستان میں انڈونیشین بک کارنر کا افتتاح کیا جو پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان ثقافتی تعاون کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
:وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے جمعرات کو نیشنل لائبریری آف پاکستان میں انڈونیشین بک کارنر کا افتتاح کیا جو پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان ثقافتی تعاون کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ تقریب کے دوران نیشنل لائبریری آف پاکستان اور نیشنل لائبریری آف انڈونیشیا کے مابین مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو ) پر بھی دستخط کئے گئے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اورنگزیب کھچی نے کہا کہ انڈونیشین کارنر کا افتتاح اس لئے بھی اہم ہے کہ دونوں ممالک اس سال سفارتی تعلقات کے 75 سال پورے ہونے کا جشن منا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا باہمی احترام، مشترکہ اقدار اور ثقافت و تعلیم سمیت بین الاقوامی فورمز پر دیرینہ تعاون کی بنیاد پر قائم مضبوط رشتوں کے حامل ہیں، انڈونیشین کارنر دونوں ممالک کے عوام کے درمیان رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ ثابت ہوگا اور پاکستان میں انڈونیشیا کی ادب، ثقافت اور فکری روایات تک رسائی فراہم کرے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ دونوں لائبریریوں کے درمیان طے پانے والا ایم او یو کتابوں کے تبادلے، مشترکہ ثقافتی سرگرمیوں، تربیت اور تحقیقی اشتراک کو فروغ دے گا۔ انہوں نے انڈونیشین سفارتخانے کے تعاون اور نیشنل لائبریری آف پاکستان کی بین الاقوامی ثقافتی روابط کے فروغ کے لئے کاوشوں کو سراہا۔

انڈونیشیا کے سفیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) چندرا ورسینانتو سکوچو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انڈونیشین کارنر دونوں دوست ممالک کے عوام کے درمیان باہمی سمجھ کو مزید گہرا کرنے میں مدد دے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس کارنر میں انڈونیشیا کی سیاست، معیشت، سکیورٹی، ثقافت، سیاحت، خارجہ پالیسی، کھانوں کی روایات اور قومی ترقی سے متعلق کتابیں اور مواد شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں قومی لائبریریوں کے درمیان دستخط ہونے والا معاہدہ ادارہ جاتی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس اشتراک کے نتیجے میں دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔سفیر چندرا ورسینانتو سکوچو نے وزارت قوم ورثہ و ثقافت اور نیشنل لائبریری آف پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور سابق و موجودہ لائبریری قیادت کی خدمات کو سراہا۔تقریب میں چیئر آسیان کمیٹی و سفیر تھائی لینڈ رونگ وڈی ویرابتر، آسیان ممالک کے سفیر و ہائی کمشنرز، نیشنل لائبریری آف انڈونیشیا کے پرائم سیکرٹری جوکو سانتوسو، نیشنل لائبریری آف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل محمد علی شہزاد مظفر اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔
سبزیاں، سویّا، میوہ جات اور بیج دل کی صحت کے لیے مؤثر؛ ’پورٹ فولیو ڈائٹ‘ سے 30 فیصد تک LDL کم ہوسکتا ہے

یڈلائن:
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے کولیسٹرول کے علاج کے لیے دواؤں کی ضرورت ہر بار نہیں پڑتی، بلکہ مناسب غذائیں استعمال کر کے بھی خطرناک LDL کولیسٹرول کو نمایاں حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔عموماً درمیانی عمر میں ڈاکٹر مریضوں کو خبردار کرتے ہیں کہ ان کے خون میں کولیسٹرول، خصوصاً کم کثافت لیپو پروٹین (LDL)، خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے جو دل کی شریانوں میں رکاوٹ، خون کے بہاؤ میں کمی اور دل یا دماغی فالج کے خدشات میں اضافہ کرتا ہے۔تاہم ماہرین کے مطابق اکثر مریضوں کو فوری طور پر ادویات شروع کرنے کے بجائے خوراک میں تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس حوالے سے تازہ ترین تحقیق بتاتی ہے کہ غذائی عادات میں بہتری لازمی ادویات جتنی مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔
کولیسٹرول کا نظامِ کار کیا ہے؟
کولیسٹرول مکمل طور پر مضر نہیں۔ انسانی خلیات کی ساخت اور کئی اہم ہارمونز — جیسے ٹیسٹوسٹرون اور ایسٹروجن — اسی سے بنتے ہیں۔ اگرچہ کچھ کولیسٹرول غذا سے بھی آتا ہے، لیکن زیادہ تر جگر میں تیار ہوتا ہے اور LDL جیسے مالیکیولز کے ذریعے خون میں سفر کرتا ہے۔سیر شدہ چکنائیوں—جیسے مکھن، پنیر، ناریل کا تیل اور چربی والا گوشت—کے زیادہ استعمال سے جگر میں LDL ریسیپٹرز کم ہوجاتے ہیں، جو کولیسٹرول کی صفائی کے عمل کو سست کردیتے ہیں۔ اس کے برعکس سیر شدہ چکنائیوں میں کمی LDL ی سطح میں واضح کمی لاتی ہے۔

کن غذاؤں سے فائدہ ہوتا ہے؟
تحقیق کے مطابق کچھ غذائیں کولیسٹرول کے دوبارہ جذب ہونے کو کم کر دیتی ہیں، جیسے:
- گاڑھی فائبر والی غذائیں: جئی، جو، سیب
- فائٹو اسٹرولز (پودوں کے اسٹیرولز): بیج، میوہ جات، اور مارکیٹ میں دستیاب کچھ فیٹ اسپریڈ
- سویّا پروٹین: ٹوفو، سویّا ملک
- دیگر مؤثر غذائیں: بادام، فلیکس سیڈ، ہلدی، سُمّاق، لہسن پاؤڈر
یہ اجزاء آنتوں میں کولیسٹرول کے دوبارہ جذب ہونے کے عمل میں رکاوٹ بنتے ہیں، جس سے خون میں LDL کی سطح کم ہو جاتی ہے۔
’پورٹ فولیو ڈائٹ‘—ایک کامیاب تجربہ
ٹورنٹو یونیورسٹی کے ماہر غذائیت پروفیسر ڈیوڈ جینکنز کی 2002 میں تیار کردہ “پورٹ فولیو ڈائٹ” اس حوالے سے سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئی ہے۔
ایک رینڈمائزڈ کلینیکل ٹرائل کے مطابق، اس ڈائٹ میں یہ چار گروپس شامل ہیں:
- 50 گرام سویّا پروٹین
- 30 گرام بادام
- 20 گرام گاڑھی فائبر
- 2 گرام پودوں کے فائیٹو اسٹرولز
صرف چار ہفتوں میں شرکاء کے LDL کولیسٹرول میں تقریباً 30 فیصد کمی دیکھی گئی، جو معروف ادویات جیسے اسٹاٹنز کے برابر نتیجہ ہے۔
اس ڈائٹ کا بنیادی اصول یہ ہے کہ افراد اپنی پسند کے مطابق میوہ جات، بیج، پودوں پر مبنی پروٹین اور مختلف مصالحے استعمال کر سکتے ہیں، تاکہ غذا صحت مند ہونے کے ساتھ مزیدار بھی رہے۔
ماہرین کا مشورہ
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اگر کوئی غذا دلچسپ اور خوش ذائقہ نہ ہو تو لوگ اسے دیر تک برقرار نہیں رکھتے۔ اس لی

دنیا کے مؤثر ریاستی نظاموں میں بیوروکریسی انتظامی استحکام، پالیسی کے تسلسل اور عوامی خدمت کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ ایک اچھا اور قابل بیوروکریٹ نہ صرف حکومتی پالیسیوں کے نفاذ کو یقینی بناتا ہے بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد اور شفافیت کا رشتہ بھی مضبوط کرتا ہے۔ کسی ملک کی ترقی بڑے پیمانے پر اس کے انتظامی ڈھانچے اور سرکاری افسران کی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور وژن پر منحصر ہوتی ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس کی وجہ سے بیوروکریٹ کی شخصیت میں چند بنیادی خصوصیات کا پایا جانا لازم ہے۔
ایک مؤثر بیوروکریٹ کی اولین خوبی دیانت داری اور شفافیت ہے۔ ریاستی عہدہ ایک امانت ہے، جس کے لیے ایمانداری، غیر جانبداری اور کرپشن سے پاک فیصلہ سازی بنیادی شرط ہے۔ قوانین پر عبور، آئینی تقاضوں کی مکمل سمجھ، اور پالیسی سازی کے مختلف مراحل سے آگاہی ایک بیوروکریٹ کو انتظامی فیصلوں میں مضبوط بنا دیتی ہے۔ مزید برآں، تجزیاتی صلاحیت، بحران کے دوران بروقت فیصلہ سازی، مؤثر ابلاغ، اور وسائل کے درست استعمال کا ہنر اسے انتظامی میدان میں ایک مثالی کردار بناتا ہے۔ عوامی خدمت کا جذبہ، وقت کی پابندی، ٹیم ورک اور جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگی بھی اس کی کارکردگی کو مضبوط کرتی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ایک اچھا بیوروکریٹ ریاست، نظام اور عوام کے درمیان انصاف، اعتماد اور نظم کا پل ہوتا ہے۔
بیوروکریٹس بطور سربراہِ تعلیمی ادارہ: پاکستان کا ابھرتا ہوا رجحان
پاکستان میں گزشتہ چند برسوں سے یہ رجحان نمایاں ہوا ہے کہ تعلیمی اداروں—خصوصاً امتحانی بورڈز اور یونیورسٹیوں—کی سربراہی بیوروکریٹس کے ہاتھ میں دے دی جائے۔ پنجاب کے تقریباً تمام تعلیمی بورڈز کے سربراہ کمشنر ہیں، جبکہ سندھ میں بیوروکریٹس کو وائس چانسلر تعینات کرنے کے لیے قانون میں باقاعدہ ترمیم کی گئی ہے۔ اس فیصلے نے متعدد سوالات کو جنم دیا ہے: کیا یہ انتظامی لحاظ سے فائدہ مند قدم ہے؟ یا اس سے اساتذہ کی حق تلفی اور اداروں کی علمی خودمختاری متاثر ہو رہی ہے؟
بیوروکریٹس کی تقرری کے حق میں دلائل
اس اقدام کے حامیوں کے مطابق بیوروکریٹس میں وہ انتظامی خصوصیات موجود ہیں جو بڑے اداروں کو بہتر طور پر چلا سکتی ہیں۔ پاکستان کے امتحانی بورڈز طویل عرصے سے بدانتظامی، پیپر لیک، تاخیر، اور کرپشن جیسے مسائل کا شکار رہے ہیں۔ حکومت کا خیال ہے کہ ایک تربیت یافتہ بیوروکریٹ—جو نظم و ضبط، فیصلہ سازی اور وسائل کے انتظام کا ماہر ہو—ان اداروں میں اصلاحات اور شفافیت لا سکتا ہے۔
اسی طرح یونیورسٹیوں میں بعض اوقات فنڈز کے غلط استعمال، سیاسی مداخلت اور انتظامی کمزوری جیسے مسائل موجود ہوتے ہیں، جنہیں بیوروکریٹک نظم و ضبط سے بہتر کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے بعض حلقوں کا ماننا ہے کہ بیوروکریٹس کا کردار تعلیمی انتظامی ڈھانچے میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔
اساتذہ کا نقطۂ نظر اور حق تلفی کا مسئلہ
دوسری جانب اساتذہ اور علمی حلقوں کا مؤقف ہے کہ تعلیمی اداروں کی سربراہی بیوروکریٹس کے حوالے کرنا واضح طور پر اساتذہ کی حق تلفی ہے۔ ان کے مطابق یونیورسٹیاں اور بورڈز محض انتظامی دفاتر نہیں ہوتے بلکہ علمی، تحقیقی اور فکری ادارے ہوتے ہیں جن کی قیادت وہ افراد ہی کر سکتے ہیں جنہیں تدریس، تحقیق، نصاب فہمی اور تعلیمی مسائل پر گہری بصیرت حاصل ہو۔ ایک بیوروکریٹ انتظامی طور پر مضبوط ضرور ہوتا ہے، مگر اس کے پاس وہ علمی تجربہ اور تحقیقی پس منظر نہیں ہوتا جو ایک وائس چانسلر یا چیئرمین کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔
اساتذہ کا کہنا ہے کہ ایسے فیصلوں سے نہ صرف علمی آزادی متاثر ہوتی ہے بلکہ اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی کے راستے بھی رک جاتے ہیں، کیونکہ جب اعلیٰ عہدے ہمیشہ غیر تدریسی پس منظر رکھنے والے افراد کے ہاتھ میں ہوں گے تو اساتذہ کے لیے ترقی کا فطری راستہ مسدود ہو جائے گا۔
بین الاقوامی تناظر: عالمی تجربات اور ان کی روشنی
ترقی یافتہ ممالک میں یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کی سربراہی عموماً ممتاز اسکالرز، محققین اور پروفیسران کے پاس ہوتی ہے۔ بیوروکریسی ان اداروں کی انتظامی معاونت ضرور کرتی ہے، لیکن ان کی علمی قیادت پر قبضہ نہیں کرتی۔ چین اور سنگاپور جیسے ملکوں کی ترقی میں بیوروکریسی کا اہم کردار ہے، مگر وہاں بھی تعلیمی اداروں کے سربراہ عام طور پر علمی پس منظر رکھنے والے افراد ہوتے ہیں، جبکہ بیوروکریسی پالیسی کے نفاذ اور طویل المدتی منصوبہ بندی پر توجہ دیتی ہے۔ پاکستان اس کے برعکس تعلیم کو بنیادی طور پر انتظامی مسئلہ سمجھ کر چلانے کی غلطی کرتا رہا ہے۔
متوازن نقطۂ نظر
اصل مسئلہ “بیوروکریٹ یا استاد” کا انتخاب نہیں، بلکہ صحیح جگہ پر صحیح شخص کی تعیناتی ہے۔ بہتر حل یہ ہے کہ:
- علمی اداروں کی قیادت ہمیشہ تعلیمی پس منظر رکھنے والے اہل ماہرین کے پاس ہو؛
- انتظامی ذمہ داریوں کے لیے بیوروکریٹک مہارت رکھنے والے افسران تعینات کیے جائیں؛
- بیوروکریٹس کو صرف بحران کے وقت یا اصلاحاتی مدت کے لیے لایا جائے، مستقل سربراہ نہ بنایا جائے؛
- تقرری کا طریقہ مکمل طور پر شفاف اور سیاسی اثر سے پاک ہو۔