مصنوعی ذہانت کے دور میں جامعات کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟….. ییل، وینڈربلٹ اور کارنیل یونیورسٹیوں کی رپورٹس میں تعلیم کے مقصد پر نئی بحث؛ طلبہ میں تنقیدی سوچ، اخلاقی فیصلوں اور اختلافِ رائے برداشت کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے پر زور
لاہور (علمیات نیوز) — مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال اور اعلیٰ تعلیم پر عوامی اعتماد میں کمی کے تناظر میں امریکی جامعات نے اپنے بنیادی مقاصد پر نظرثانی شروع کر دی ہے۔ ییل، وینڈربلٹ اور کارنیل یونیورسٹیوں کی حالیہ رپورٹس میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ جامعات کا کردار محض علم کی فراہمی، ڈگریوں کے اجرا، تحقیق اور روزگار کی تیاری تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ طلبہ میں دانش مندانہ فیصلے کرنے، تنقیدی سوچ اپنانے اور معاشرتی ذمہ داری کا شعور پیدا کرنا بھی ان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔تعلیمی ماہر من بہادر بستا کے 21 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والے تجزیے کے مطابق، ییل یونیورسٹی نے علم کی تخلیق، تحفظ اور ترسیل کو بنیادی مقصد قرار دیا ہے، جبکہ وینڈربلٹ یونیورسٹی نے معیاری تحقیق، بامقصد تعلیم اور معاشرے کے ساتھ جامعات کے تعلق کو اہمیت دی ہے۔ اس کے برعکس، کارنیل یونیورسٹی کی رپورٹ میں ان تمام سرگرمیوں کو طلبہ میں درست، اخلاقی اور دانش مندانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے کے مشترکہ مقصد سے جوڑا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت معلومات فراہم، تحریری مواد تیار اور تحقیق میں معاونت تو کر سکتی ہے، لیکن پیچیدہ حالات میں درست فیصلہ کرنے، مختلف نقطۂ نظر کا جائزہ لینے اور فیصلوں کے اخلاقی و سماجی نتائج سمجھنے کی انسانی ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی۔کارنیل یونیورسٹی نے ایسی تعلیم کی ضرورت اجاگر کی ہے جو طلبہ میں اختلافات کے باوجود مل کر کام کرنے، شہری ذمہ داری نبھانے اور زندگی کے تجربات سے معنی اخذ کرنے کی صلاحیت پیدا کرے۔ رپورٹ کے مطابق، مشکل سوالات پر غور، غلطیوں سے سیکھنے، اساتذہ اور ساتھی طلبہ کے ساتھ بامعنی مکالمے اور غیر یقینی حالات میں فیصلہ سازی کو تعلیمی عمل کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔
تجزیے میں واضح کیا گیا ہے کہ ان امریکی جامعات کے تجربات کو دوسرے ممالک میں من و عن نافذ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ہر ملک کے تعلیمی نظام، مالی وسائل اور سماجی حالات مختلف ہیں۔ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی بنیادی سوال یہی ہے کہ جامعات صرف ملازمت کے لیے گریجویٹس تیار کریں یا ایسے افراد بھی پیدا کریں جو علم کو ذمہ داری سے استعمال، شواہد کی بنیاد پر سوچ اور معاشرتی مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ماہرِ تعلیم کے مطابق، اگر جامعات تنقیدی سوچ اور آزادانہ تحقیق کی بات تو کریں لیکن عملی طور پر رٹنے، امتحانی نمبروں، تحقیقی مقالوں کی تعداد اور ڈگریوں کو کامیابی کا بنیادی پیمانہ بنائے رکھیں تو تعلیمی مقاصد میں حقیقی تبدیلی ممکن نہیں ہوگی۔ مصنوعی ذہانت کے دور میں جامعات کی اصل کامیابی اس بات سے جانچی جانی چاہیے کہ وہ طلبہ کو کتنا باخبر، ذمہ دار، باصلاحیت اور بہتر فیصلے کرنے والا انسان بناتی ہیں۔