دماغ کو تیز رکھنے کے لیے روزانہ کتنے قدم چلنا ضروری ہیں؟ نئی تحقیق میں اہم انکشاف……روزانہ 10 ہزار قدم چلنے کا ہدف لازمی نہیں، 8 سے 9 ہزار قدم چلنے والوں کی توجہ اور فیصلہ سازی کی صلاحیت بہتر پائی گئی
نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) دماغی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے روزانہ 10 ہزار قدم چلنے کا روایتی ہدف ضروری نہیں۔ نئی تحقیق کے مطابق روزانہ زیادہ قدم چلنے والے افراد میں توجہ برقرار رکھنے، غیر ضروری خلل کو نظرانداز کرنے اور سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے کی صلاحیت بہتر دیکھی گئی ہے۔امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کی 21 اکتوبر 2026ء کی رپورٹ کے مطابق، ہیوسٹن میں قائم Baylor College of Medicine کے محققین نے 18 سے 93 سال کی عمر کے 3,093 افراد کے 2009ء سے 2023ء تک کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔ تحقیق میں شرکا کی جسمانی سرگرمی کا اندازہ لگانے کے لیے فٹ بِٹ (Fitbit) ڈیوائسز سے حاصل کردہ ڈیٹا استعمال کیا گیا۔
تحقیق میں شرکا کو روزانہ چلنے کے اوسط قدموں کی بنیاد پر تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ کم سرگرم گروپ روزانہ اوسطاً 5,108 قدم، درمیانی سرگرمی والا گروپ 8,875 قدم، جبکہ زیادہ سرگرم گروپ تقریباً 14,161 قدم چلتا تھا۔شرکا کی دماغی کارکردگی جانچنے کے لیے توجہ برقرار رکھنے، فوری فائدے کے بجائے انتظار کرنے، جذباتی اشاروں کو پہچاننے اور غیر ضروری توجہ بٹانے والے عوامل کو نظرانداز کرنے کی صلاحیت کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ درمیانی اور زیادہ سرگرمی والے گروپوں نے توجہ برقرار رکھنے، خلل سے بچنے اور فوری ردعمل پر قابو پانے کے بعض ٹیسٹوں میں کم سرگرم گروپ کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھائی۔
محققین کے مطابق روزانہ معتدل رفتار سے چلنے والے ہر اضافی ایک ہزار قدم، جو تقریباً نو منٹ کی چہل قدمی کے برابر ہیں، توجہ برقرار رکھنے اور فیصلہ سازی سے متعلق بعض صلاحیتوں میں بہتر نتائج سے وابستہ تھے۔تحقیق میں بلڈ پریشر اور دماغی کارکردگی کے تعلق کا بھی جائزہ لیا گیا۔ زیادہ سسٹولک بلڈ پریشر کا تعلق فوری فائدے کے بجائے انتظار کرنے اور فیصلہ سازی کے بعض نتائج میں معمولی کمی سے سامنے آیا، تاہم بلڈ پریشر نے جسمانی سرگرمی اور فیصلہ سازی کے تعلق کی صرف تقریباً پانچ فیصد وضاحت کی۔
محققین نے واضح کیا کہ اس مطالعے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ زیادہ چلنے سے لازماً ذہنی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔ تحقیق میں دماغی کارکردگی صرف ایک مرتبہ جانچی گئی، اس لیے یہ بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ روزانہ چلنے سے عمر کے ساتھ یادداشت یا ذہنی صلاحیتوں میں کمی کی رفتار کم ہوتی ہے یا نہیں۔مطالعے کے شرکا میں زیادہ تر خواتین، سفید فام افراد اور کالج کی تعلیم یا صحت بیمہ رکھنے والے افراد شامل تھے، اس لیے نتائج کا اطلاق دیگر آبادیوں پر کرنے میں احتیاط ضروری ہے۔ماہرین کے لیے اس تحقیق کا اہم پیغام یہ ہے کہ جسمانی سرگرمی کے فوائد حاصل کرنے کے لیے لازماً 10 ہزار قدم مکمل کرنا ضروری نہیں؛ روزانہ چہل قدمی میں بتدریج اضافہ بھی صحت اور دماغی کارکردگی کے لیے مفید ہوسکتا ہے۔ تاہم نتائج کو دماغی صلاحیت بہتر ہونے کی قطعی ضمانت نہیں سمجھنا چاہیے۔