Skip to main content

https://ilmiatonline.com

کالمز

پاکستان میں خواتین کی صلاحیتوں کا ضیاع۔

تحریر۔۔۔۔قریش خٹک

پاکستان ہر سال لاکھوں لڑکیوں کو تعلیم فراہم کرتا ہے اور بہت سی خواتین ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، استاد، سائنس دان، صحافی اور دیگر شعبوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرتی ہیں۔ تاہم شادی، بچوں کی پرورش، گھریلو ذمہ داریوں اور سماجی توقعات کے باعث بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ خواتین اپنی پیشہ ورانہ زندگی جاری نہیں رکھ پاتیں۔ یوں ان کی تعلیم اور مہارت سے ملک کو حاصل ہونے والا معاشی اور سماجی فائدہ محدود ہو جاتا ہے۔

مضمون کے مطابق پاکستان میں خواندگی کی مجموعی شرح 63 فیصد ہے، جبکہ مردوں میں یہ شرح 73 فیصد اور خواتین میں صرف 54 فیصد ہے۔ اصل مسئلہ صرف لڑکیوں کو تعلیم دلانا نہیں بلکہ یہ بھی یقینی بنانا ہے کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد خواتین اپنی قابلیت کو روزگار، کاروبار، معاشی خودمختاری اور قیادت میں استعمال کر سکیں۔سیاسی میدان میں بھی خواتین کی نمائندگی محدود ہے۔ قومی اسمبلی میں خواتین ارکان کی تعداد 73 جبکہ سینیٹ میں 18 ہے۔ وفاقی کابینہ میں بھی خواتین کی تعداد بہت کم ہے۔ مضمون اس بات پر زور دیتا ہے کہ صرف پارلیمانی نشستیں حاصل کرنا کافی نہیں، بلکہ خواتین کی فیصلہ سازی اور انتظامی عہدوں میں مؤثر شرکت بھی ضروری ہے۔

معاشی میدان میں صورتحال مزید نمایاں ہے۔ 2024-25 کے اعداد و شمار کے مطابق خواتین کی لیبر فورس میں شرکت 22.7 فیصد جبکہ مردوں کی 68.7 فیصد ہے۔ بہت سی خواتین زراعت، غیر رسمی شعبے اور بلا معاوضہ خاندانی کام میں مصروف ہیں، جہاں آمدنی، تحفظ اور ترقی کے مواقع محدود ہوتے ہیں۔مضمون کے مطابق مسئلہ صرف ملازمت تک محدود نہیں بلکہ ملکیت اور اثاثوں تک رسائی بھی اہم ہے۔ خواتین کی جائیداد اور زمین کی ملکیت بہت کم ہے اور بہت سی خواتین اپنے قانونی وراثتی حقوق کے باوجود عملی طور پر جائیداد حاصل نہیں کر پاتیں۔ اس کے نتیجے میں تعلیم یافتہ یا ملازمت پیشہ خواتین بھی معاشی طور پر کمزور رہ سکتی ہیں۔

مضمون کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ پاکستان اپنی معاشی، سیاسی اور سماجی صلاحیت کو اس وقت تک مکمل طور پر بروئے کار نہیں لا سکتا جب تک اس کی نصف آبادی کو تعلیم کے بعد عملی زندگی میں آگے بڑھنے کے مساوی مواقع حاصل نہ ہوں۔ خواتین کی ترقی محض خواتین کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی معاشی اور سماجی ترقی کی ضرورت ہے۔ اصل کامیابی یہ نہیں کہ کتنی لڑکیاں اسکول یا یونیورسٹی پہنچتی ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کتنی خواتین 10، 20 اور 30 سال بعد بھی اپنی تعلیم کو کمانے، ملکیت حاصل کرنے، کاروبار کرنے، فیصلہ سازی اور قیادت کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔

بشکریہ فرائڈے ٹائم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے