Home عالمی خبریں برطانیہ کی جامعات کو ایشیا میں بڑھتے ہوئے تعلیمی مقابلے پر تشویش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔برطانیہ میں تعلیم کے لیے دلچسپی میں 13 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش کے طلبہ اب مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا میں تعلیم کے مواقع زیادہ تلاش کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سنگاپور کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں طلبہ کی دلچسپی میں سالانہ بنیادوں پر 75 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ملائیشیا اور تھائی لینڈ بھی تیزی سے ابھرتے ہوئے تعلیمی مراکز کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔

برطانیہ کی جامعات کو ایشیا میں بڑھتے ہوئے تعلیمی مقابلے پر تشویش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔برطانیہ میں تعلیم کے لیے دلچسپی میں 13 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش کے طلبہ اب مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا میں تعلیم کے مواقع زیادہ تلاش کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سنگاپور کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں طلبہ کی دلچسپی میں سالانہ بنیادوں پر 75 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ملائیشیا اور تھائی لینڈ بھی تیزی سے ابھرتے ہوئے تعلیمی مراکز کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔

by Ilmiat

 نئی تحقیق اور اعداد و شمار سے انکشاف ہوا ہے کہ جنوبی ایشیا کے طلبہ تیزی سے برطانیہ کے بجائے ایشیائی ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں، جس پر ماہرین نے برطانوی جامعات کو بڑھتے ہوئے عالمی مقابلے کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔

کی اسٹون (Keystone) کے حالیہ ڈیٹا کے مطابق اپریل 2026 میں جنوبی ایشیائی طلبہ کی جانب سے برطانیہ میں تعلیم کے لیے دلچسپی میں 13 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ تحقیق و تجزیہ کے نائب صدر مارک بینیٹ کے مطابق بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش کے طلبہ اب مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا میں تعلیم کے مواقع زیادہ تلاش کر رہے ہیں۔

اگرچہ برطانیہ اب بھی مجموعی طور پر دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ تلاش کیا جانے والا تعلیمی مرکز ہے اور جنوبی ایشیا کی 10 فیصد دلچسپی برقرار رکھتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ شرح بتدریج کم ہو رہی ہے۔ خاص طور پر بھارت سے دلچسپی میں تقریباً 30 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

دوسری جانب سنگاپور کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں طلبہ کی دلچسپی میں سالانہ بنیادوں پر 75 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ملائیشیا اور تھائی لینڈ بھی تیزی سے ابھرتے ہوئے تعلیمی مراکز کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔

برٹش یونیورسٹیز انٹرنیشنل لائژن ایسوسی ایشن (BUILA) کے سروے کے مطابق رواں سال برطانیہ کی جامعات میں بین الاقوامی طلبہ کے داخلوں میں 30 فیصد کمی آئی ہے، جس میں سب سے زیادہ کمی جنوبی ایشیائی ممالک سے دیکھی گئی۔ سروے کے مطابق 82 فیصد جامعات نے پاکستان سے آنے والے طلبہ میں کمی کی نشاندہی کی، جبکہ بھارت سے 76 فیصد اور بنگلہ دیش سے 65 فیصد کمی رپورٹ ہوئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت کی جانب سے امیگریشن اور تعلیمی ضوابط میں سختی کے اثرات پہلے ہی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ لندن میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے ڈائریکٹر اسٹوڈنٹ ریکروٹمنٹ کیان ژو کے مطابق تعلیمی اداروں کو بدلتے ہوئے حالات کے مطابق تیزی سے حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

تاہم ماہرین نے یہ بھی واضح کیا کہ مسئلہ صرف حکومتی پالیسیوں تک محدود نہیں بلکہ طلبہ کے رجحانات بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔ یونی کوئسٹ کی چیف مارکیٹ آفیسر جینیفر پارسنز کے مطابق ایشیائی ثقافت، خصوصاً کے-پاپ اور جدید ثقافتی اثرات، طلبہ کو مشرقی ممالک کی طرف راغب کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب طلبہ صرف تعلیمی معیار یا اخراجات نہیں دیکھتے بلکہ ثقافتی کشش بھی فیصلہ سازی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی فیسیں اور مجموعی اخراجات بھی طلبہ کے فیصلوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں، جس کے باعث جامعات کو تعلیم کی لاگت اور مستقبل میں روزگار کے مواقع کے حوالے سے زیادہ شفاف معلومات فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

تعلیمی ماہرین نے زور دیا ہے کہ برطانوی جامعات کو نئے عالمی رجحانات کے مطابق اپنی پالیسیوں، مارکیٹنگ اور داخلہ حکمت عملی کو متنوع بنانا ہوگا، بصورت دیگر ایشیائی ممالک اس میدان میں مزید برتری حاصل کر سکتے ہیں۔

You may also like

Leave a Comment