حالیہ رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کے رجحان میں تیزی سے کمی آئی ہے، جس کی بڑی وجہ خطے میں جاری کشیدگی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ تعلیمی ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے Studyportals کے مطابق مارچ 2026 میں طلبہ کی دلچسپی میں واضح کمی دیکھنے میں آئی۔
اعداد و شمار کے مطابق خلیج تعاون کونسل (GCC) کے ممالک—بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات—میں دسمبر 2025 کی بلند ترین سطح کے مقابلے میں طلبہ کی طلب میں 43 فیصد کمی جبکہ فروری 2026 سے اب تک تقریباً 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ کمی وقتی اتار چڑھاؤ نہیں بلکہ ایک واضح رجحان کی نشاندہی کرتی ہے، جو خطے میں عدم استحکام کے تاثر سے جڑا ہوا ہے۔ Edwin van Rest کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک تیزی سے ایک اہم تعلیمی مرکز کے طور پر ابھر رہے تھے، مگر موجودہ تنازع نے طلبہ کے فیصلوں کو متاثر کیا ہے۔
خلیج بطور تعلیمی مرکز
گزشتہ برسوں میں خلیجی ممالک نے بھاری سرمایہ کاری کے ذریعے خود کو عالمی تعلیمی مرکز بنانے کی کوشش کی۔ امریکی، برطانوی اور آسٹریلوی جامعات کے برانچ کیمپسز کے قیام نے اس خطے کو ایشیا اور افریقہ کے طلبہ کے لیے ایک پرکشش متبادل بنا دیا تھا۔
تاہم، موجودہ صورتحال نے اس ترقی کی رفتار کو متاثر کیا ہے، جس سے نہ صرف طلبہ کی بھرتی بلکہ طویل المدتی تعلیمی پالیسیوں کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں ایران کی صورتحال کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جہاں فروری 2026 کے حملوں کے بعد انٹرنیٹ کی رسائی 1 سے 4 فیصد تک محدود ہو گئی۔ اس سے طلبہ کی آن لائن معلومات تک رسائی اور بیرونِ ملک تعلیم کے مواقع تلاش کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی۔
امید کی کرن
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان مستقل نہیں ہو سکتا۔ ماضی میں بھی ایسے حالات کے بعد طلبہ کی دلچسپی دوبارہ بحال ہو چکی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی تعلیم کی بنیادی طلب اب بھی برقرار ہے۔ماہرین کے مطابق اگرچہ موجودہ کشیدگی نے خلیجی ممالک کی تعلیمی حکمتِ عملی کو چیلنج کیا ہے، لیکن مضبوط سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر اور عالمی شراکت داریوں کی بدولت یہ خطہ مستقبل میں دوبارہ اپنی پوزیشن بحال کر سکتا ہے۔