وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے سکولوں کو ایک ماہ کیلئے سمر کیمپ کے انعقاد کی اجازت دے دی۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ خواہشمند سکولز 16 جون سے 15 جولائی تک ایک ماہ کیلئے سمر کیمپ لگا سکتے ہیں۔ سمر کیمپ 30 روز سے زیادہ کے انعقاد کی اجازت نہیں دی جائے گی جبکہ کسی سکول کو سمر کیمپ کیلیے الگ فیس لینے کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔ وزیر تعلیم نے سمر کیمپ کی اجازت سے متعلق ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ سمر کیمپ کا دورانیہ صبح 7 سے 10 بجے تک ہوگا جبکہ طلباء کو یونیفارم سے بھی استثنیٰ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سمر کیمپ کے انعقاد کیلئے ضروری ہے کہ سکولز گرمی سے حفاظت کا انتظام رکھیں اور گرمی سے بچاؤ سے متعلق فرسٹ ایڈ، صاف پانی سمیت تمام متعلقہ بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں۔ رانا سکندر حیات نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسز کو بھی ہدایات دیں کہ تمام سی ای اوز سمر کیمپ کے دوران سکولوں کی مانیٹرنگ اور سہولیات کی فراہمی کا جائزہ لیتے رہیں۔ وزیر تعلیم نے واضح کیا کہ سمر کیمپ میں شرکت کیلئے کسی طالبعلم پر زبردستی کی اجازت نہیں۔ جو طلباء اپنی مرضی سے آنا چاہیں صرف انہیں ہی سمر کیمپ میں بلایا جائے۔ دوسری جانب وزیر تعلیم نے سہولیات کی فراہمی کی شرط پر تمام پبلک سکولز اور آفٹر نون سکولز کو بھی سمر کیمپ کے انعقاد کی اجازت دے دی ہے۔ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے سمر کیمپ کے حوالے سے تفصیلی نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا
Uncategorized
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وفاقی بجٹ 26-2025کےلئے قومی اسمبلی کے شیڈول کی منظوری دے دی……..وفاقی بجٹ 26-2025دس جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا،,,,,,,25 جون کو ڈیمانڈز،گرانٹس،کٹوتی کی تحاریک پر بحث اور ووٹنگ ہوگی، 26 جون کو فنانس بل کی قومی اسمبلی سے منظوری ہوگی
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وفاقی بجٹ 26-2025کےلئے قومی اسمبلی کے شیڈول کی منظوری دے دی، وفاقی بجٹ 26-2025دس جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، 11 اور 12 جون کو قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں ہوگا۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کےڈائریکٹوریٹ جنرل آف میڈیا کی طرف سے جاری بیان میں سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ 13 جون کو قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ پر بحث کا آغاز ہوگا۔قومی اسمبلی میں موجود پارلیمانی جماعتوں کو قواعد و ضوابط کے مطابق بحث کےلئے وقت دیا جائے گا،وفاقی بجٹ پر بحث 21 جون تک جاری ہے گی ۔وفاقی بجٹ26-2025پر بجٹ 21 جون کو سمیٹی جائے گی-
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ 22 جون کو قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں ہو گا، 23 جون کو قومی اسمبلی میں 26-2025کے مختص کردہ ضروری اخراجات پر بحث ہوگی۔
سردار ایاز صادق نے کہا کہ 24 اور 25 جون کو ڈیمانڈز،گرانٹس،کٹوتی کی تحاریک پر بحث اور ووٹنگ ہوگی، 26 جون کو فنانس بل کی قومی اسمبلی سے منظوری ہوگی۔27 جون کو سپلیمنٹری گرانٹس سمیت دیگر امور پر بحث اور ووٹنگ ہوگی۔قومی اسمبلی کے شیڈول سیشن میں کسی قسم کی تبدیلی سپیکر کے اجازت سے ممکن ہوگی
ایک قابل رسائی اور مساوی دنیا کی تعمیر میں اختراع کا کردار” کے موضوع پر مبنی، ایسِسٹوو ٹیکنالوجی اینڈ انکلُوژن سمِٹ (ATIS-2025) نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) میں منعقد ہوا، جس میں 200 سے زائد تبدیلی کے خواہاں افراد، ماہرین اور شراکت داروں نے شرکت کی۔
امل ترقی کے لیے انقلابی حل: ایک قابل رسائی اور مساوی دنیا کی تعمیر میں اختراع کا کردار” کے موضوع پر مبنی، ایسِسٹوو ٹیکنالوجی اینڈ انکلُوژن سمِٹ (ATIS-2025) نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) میں منعقد ہوا، جس میں 200 سے زائد تبدیلی کے خواہاں افراد، ماہرین اور شراکت داروں نے شرکت کی۔
یہ سمٹ NUST اور پاک ایور برائٹ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (PEDO) کے اشتراک سے منعقد کیا گیا، جس کا مقصد پاکستان میں خصوصی افراد اور بزرگ شہریوں کے لیے معاون آلات، خصوصاً ڈیجیٹل ڈیوائسز، کی ضرورت کو اجاگر کرنا تھا۔ یہ سمٹ ایسے پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آیا جو صارفین اور سہولت فراہم کرنے والوں کے درمیان خلا کو پُر کرے، معاون ٹیکنالوجی کے بارے میں شعور بیدار کرے، اور ان اہم ڈیوائسز کی مقامی سطح پر کم لاگت پر دستیابی اور دیکھ بھال کے مواقع پیدا کرے۔
تقریب کے دوران NUST ڈس ایبلٹی ریسورس سینٹر (NDRC) کا باقاعدہ افتتاح بھی کیا گیا۔ PEDO کے تعاون سے قائم کیا گیا یہ مرکز اعلیٰ تعلیمی سطح پر شامل تعلیم (inclusive education) کو فروغ دینے اور خصوصی طلبہ کے لیے ایک قابل رسائی تعلیمی ماحول فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
مسٹر شہاب الدین، سی ای او PEDO نے کہا:
“ATIS-2025 پاکستان میں ایک حقیقی طور پر شامل معاشرے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ہماری مشترکہ کوششیں آج تحقیق و ترقی کو فروغ دیں گی اور شراکت داروں کو ڈیجیٹل ڈیوائسز کی اختراع میں کردار ادا کرنے کے لیے بااختیار بنائیں گی۔”
مسٹر احمد الموسٰی المالکاوی، ہیڈ آف فزیکل ریہیبلیٹیشن پروگرام (PRP)، انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (ICRC) نے کہا کہ ICRC اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ جسمانی بحالی اور معاون ٹیکنالوجی خصوصی افراد کو بااختیار بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا: “ATIS-2025 نے علم کے تبادلے، تعاون کو فروغ دینے، اور خودمختاری و شمولیت کو بڑھانے والے حلوں کو تیز کرنے کے لیے ایک بے حد قیمتی پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔”
15 علامہ محمد اقبال اسکالرشپ پروگرام کے تحت سری لنکن طلباء کے HEC Newsایک گروپ نے کامیابی کے ساتھ اپنی تعلیم مکمل کر لی۔۔۔۔ جس کا انتظام ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان نے کیا۔
15 سری لنکن طلباء کے ایک گروپ نے کامیابی کے ساتھ اپنی تعلیم مکمل کی، جو کہ سری لنکن طلباء کے لیے معزز علامہ محمد اقبال اسکالرشپ پروگرام کے تحت ممکن ہوئی، جسے ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC)kia دیا۔
فارغ التحصیل طلباء کو ان کے ادارے، پاک آسٹریا فاخ ہوخشول انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی، کی جانب سے منعقدہ کانووکیشن کے دوران ڈگریاں دی گئیں۔ پاکستان میں قیام کے دوران ان طلباء نے نہ صرف تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی دکھائی بلکہ سری لنکا اور پاکستان کے درمیان دوستی اور ثقافتی تبادلے کے رشتوں کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
علامہ محمد اقبال اسکالرشپ پروگرام شراکت دار ممالک کے درمیان علاقائی تعاون کو فروغ دینے اور مستقبل کے رہنما تیار کرنے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

انڈسٹری اکیڈمیا ڈائیلاگ برائے بجٹ 2025-26 کااسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں انعقاد۔۔۔۔۔۔۔۔ یونیورسٹی کا کام تدریس و تحقیق کے ساتھ ساتھ تھنک ٹینک کا ہے جو سماجی اور معاشی ترقی کے لیئے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر اداروں کے علاوہ دیگر معاشرتی طبقات کے لیئے علمی راہنمائی کا ذریعہ بنے۔۔۔۔۔ بجٹ عوام پر مرکوز، پیداواری صلاحیت پر مبنی اور طویل مدتی معاشی استحکام پر مرکوز ہونا چاہیے۔ ۔۔۔۔۔۔۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران
ڈسٹری اکیڈمیا ڈائیلاگ برائے بجٹ 2025-26 اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں منعقد ہوا۔ شعبہ معاشیات اور شعبہ اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس کے زیر اہتمام اس ڈائیلاگ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو،ایوان صنعت و تجارت، انجمن تاجران، کسان کمیونٹی، نجی و سرکاری کاروباری اداروں اور اکیڈمیا کے نمائندوں نے بھرپور شرکت کی۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے صدارت کرتے ہوئے اس کاوش کو انتہائی برمحل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کا کام تدریس و تحقیق کے ساتھ ساتھ تھنک ٹینک کا ہے جو سماجی اور معاشی ترقی کے لیئے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر اداروں کے علاوہ دیگر معاشرتی طبقات کے لیئے علمی راہنمائی کا ذریعہ بنے۔ آیندہ بجٹ کے لیئے یونیورسٹی میں اسٹیک ہولڈرز کا مل بیٹھنا انتہائی مثبت اقدام ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر عابد رشید گل اور ڈاکٹر اریبہ خان نے گزشتہ بجٹ اور آئندہ بجٹ کے اہداف پر بریفنگ دی۔ اس موقع پر ماہرین کی گفتگو اور آراء کی روشنی میں سفارشات پیش کی گئیں۔بجٹ سفارشات کے مطابق پاکستان کے مالیاتی بجٹ 2025-26 میں غیر تسلی بخش کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پبلک سیکٹر اداروں کا سائز کم کرنے، بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کم کرنے کے لیے ٹیکس کے نظام میں اصلاحات اور براہ راست ٹیکسوں کو بڑھا کر ادارہ جاتی اصلاحات کو ترجیح دیئے جانے، توانائی کے شعبے کی ناکامیوں پر قابو پاتے ہوئے کم لاگت اور غیر روایتی ذرائع سے توانائی کے حصول ، این ایف سی ایوارڈ پر نظر ثانی اور مالیاتی عدم مرکزیت کے فروغ ، پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے قومی بچت اور سرمایہ کاری میں اضافہ، آئی ٹی اور زراعت جیسے اعلیٰ صلاحیت والے شعبوں کے فروغ اور کاروباری مدد و تعلیم اور صحت تک بہتر رسائی کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانے، نوجوانوں کی مہارت کی ترقی میں سرمایہ کاری اور انسان دوستی کو پیداواری شعبوں سے ہم آہنگ کرنے پر زور دیا گیا ۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ بجٹ عوام پر مرکوز، پیداواری صلاحیت پر مبنی اور طویل مدتی معاشی استحکام پر مرکوز ہونا چاہیے۔ بجٹ ڈائیلاگ میں چیف کمشنر ریجنل انکم ٹیکس بہاولپور صاحبزادہ عبدالمتین، سردار نجیب اللہ خان سرپرست متحدہ انجمن تاجران، عمران یوسف ڈپٹی کمشنر ان لینڈ ریونیو، راؤ انیس الرحمان ممبر ٹیکسیشن کمیٹی بہاولپور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ، عائشہ خان نائب صدر ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ، ملک اعجاز ناظم ڈائریکٹر ناظم گروپ آف انڈسٹریز، عذرا شیخ پروگریسو فارمر، مجید اے گل سینئر نامہ نگار روزنامہ ڈان، رضا ملک روہی ٹی وی نے شرکت کی۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی جانب سے پروفیسر ڈاکٹر روبینہ بھٹی ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر جواد اقبال ڈین فیکلٹی آف مینجمنٹ سائنسز اینڈ کامرس، ڈاکٹر عبدالستار ظہوری خزانہ دار، پروفیسر ڈاکٹر آصف نوید رانجھا چیئرمین شعبہ سوشل ورک، پروفیسر ڈاکٹر اریبہ خان، ڈائریکٹر فنانشل اسسٹنس، ڈاکٹر عابد رشید گل شعبہ معاشیات، ڈاکٹر شہزاد احمد خالد ڈائریکٹر میڈیا اینڈ پبلک ریلیشنز، ڈاکٹر شہباز علی خان چیئرمین شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن، ڈاکٹر سجیلہ کوثر، چیئرپرسن شعبہ تقابل ادیان، ڈاکٹر اویس شفیق چیئرمین شعبہ اسلامک اور روایتی بینکنگ، ڈاکٹر ممتازکانجو، ڈاکٹر اظہر علی ، ڈاکٹر عائشہ شوکت شعبہ کامرس، ڈاکٹر جام سجاد حسین شعبہ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیز، شعبہ معاشیات سے چئیرمین ڈاکٹر عاطف نواز، ڈاکٹر علی اعظم، ڈاکٹر مظہر ندیم، نادیہ حسن، محمد فہد ملک، ڈاکٹر محمد خالد شیخ ایگزیکٹیو سیکرٹری برائے وائس چانسلر، فضیلۃ العلوم سے ڈپٹی سیکرٹری جنرل فضیٰ علی اور دیگر نے شرکت کی۔
2 Attachments • Scanned by Gmail
پاکستان میں وسائل کا درست استعمال کرکے شعبہ آئی ٹی کی ایکسپورٹ 30بلین ڈالر تک پہنچائی جا سکتی ہیں، حذیفہ رحمان
:وزیر مملکت برائے قومی ورثہ اور ثقافت، وزیر اعظم کے معاون خصوصی اور پنجاب یونیورسٹی کے سابق طالب علم حذیفہ رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں وسائل کا درست استعمال کرکے شعبہ آئی ٹی میں اقدامات کے ذریعے ایکسپورٹ 30بلین ڈالر تک پہنچائی جاسکتی ہیں۔وہ پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام اپنے اعزاز میں منعقدہ خصوصی تقریب سے لاء کالج کے آڈیٹوریم میں خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر وائس چانسلرپنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی، ڈائریکٹر سکول آف کمیونیکیشن سٹڈیز پروفیسر ڈاکٹر عابدہ اشرف، ڈائریکٹر ایلومنائی آفس پروفیسر ڈاکٹر حامد سعید، سکول کے شعبہ جات سے سربراہان، فیکلٹی ممبران اور طلباؤطالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اپنے خطاب میں حذیفہ رحمان نے کہا کہ آج میں جس مقام پر ہوں اس میں والدین کے بعد میرے پنجاب یونیورسٹی ادارہ علوم ابلاغیات کے اساتذہ کا بہت بڑا کردار ہے۔ انہوں نے طلباء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے بغیر ترقی کا حصول ممکن نہیں، یہی کامیابی کی کنجی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہیلی باربطور وزیرمملکت قائد اعظم محمد جناح کے مزار پر گارڈ آف آنر لیا تو بہت خوشی اور فخر محسو س کیا اور دوسری بار آج اپنی مادر علمی میں آکرجو خوشی اور اطمینان ملا، وہ الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے اب اس کی ترقی و خوشحالی کے لئے کام کرنے کا وقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب اور ایف آئی اے کے خوف سے لوگ اپنے دوستوں کو چھوڑ دیتے ہیں، لیکن مشکل میں ہی اصل دوستوں کی پہچان ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی ایک بہت شاندار ادارہ ہے جس میں سہولیات سے بھرپور تعلیمی ماحول کی فضاء قائم ہے۔ انہوں نے اپنے مرحوم اساتذہ پروفیسر ڈاکٹر احسن اختر ناز اور پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کی پنجاب یونیورسٹی کے لئے خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے اپنے اعزاز میں منعقدہ تقریب کیلئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا اور پنجاب یونیورسٹی کے لئے ہمہ وقت اپنی خدمات پیش کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر محمد علی نے حذیفہ رحمان کو خوش آمدید کرتے ہوئے کہا کہ اتنی چھوٹی عمر میں پنجاب یونیورسٹی کے سابق طالب علم کی وفاقی کابینہ میں شمولیت ادارہ کے لئے اعزا ز ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے طلباء کے لئے بھی سیکھنے کا موقع ہے کہ کیسے محنت اور لگن سے خود کو منوایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میرے اساتذہ میری وجہ سے خود کو بھی وائس چانسلر سمجھتے ہیں جو میرے لئے بہت بڑی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی ایک عظیم ادارہ ہے اس کی اچھائیوں پر نظر رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی نے نامور ججز، وکلاء، بیورکریٹس، ماہر ین تعلیم، وزراء، انجینئرز، سوشل سائنسدان سمیت بڑی بڑی نامور شخصیات پیدا کی ہیں۔انہوں نے کہاکہ دنیا میں سر اٹھا کر جینا ہے تو مالی طور پر مستحکم ہونے اور ٹیکنالوجی سے استفادہ کرناہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ پاک بھارت جنگ میں فتح کے بعد پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ سبز پاسپورٹ پر فخرمحسوس ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج اور قوم نے دشمن کو وہ سبق سکھایا جو اس کی نسلیں یاد رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ کہہ کر کہ ’تم ہمارا پانی بند کروگے، ہم تمہاری سانسیں بند کر دیں گے‘، پوری قوم کی بھرپور ترجمانی کی ہے۔ پروفیسرڈاکٹر عابدہ اشرف نے کہا کہ حذیفہ رحمان پنجاب یونیورسٹی ادارہ علوم ابلاغیات کیلئے روشن مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ حذیفہ نے اپنی تعلیم کے ساتھ بطور صحافی اپنے سفر کو جاری رکھا جو ہمارے نوجوان طلباؤطالبات کے لئے قابل تقلید ہے۔انہوں نے کہا کہ طلباؤطالبات ضرور بڑے خواب دیکھیں مگر اس کی تعبیر کیلئے محنت، لگن اور ایمانداری کا دامن نہ چھوڑیں۔ بعد ازاں حذیفہ رحمان کو ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزاز ی شیلڈز سے نوازا گیا۔
—
امریکی حکومت اور ملک کی سب سے پرانی یونیورسٹی ہارورڈ کے درمیان جاری شدید تنازعے میں ایک نیا موڑ تب آیا جب ضلعی جج ایلیسن بَروگز نے گزشتہ روز ایک عارضی حکمِ امتناعی جاری کیا، جس کے تحت حکومت کی وہ ہدایت روک دی گئی ہے جس کے تحت ہارورڈ کو غیر ملکی طلبہ کو داخلہ دینے کے حق سے محروم کیا جا رہا تھا۔ یہ فیصلہ بین الاقوامی تعلیم کے شعبے کے لیے ایک بڑی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ اقدام اُس وقت سامنے آیا جب ہارورڈ یونیورسٹی نے تیزی سے حکومت کی اُس شرط کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر ادارہ دوبارہ SEVP کا درجہ حاصل کرنا چاہتا ہے تو اُسے گزشتہ پانچ سال کے تمام غیر ملکی طلبہ کے تادیبی ریکارڈ فراہم کرنے ہوں گے۔اپنی درخواست میں ہارورڈ یونیورسٹی نے کہا:
“صرف ایک دستخط سے، حکومت نے ہارورڈ کے طلبہ کی ایک چوتھائی تعداد کو مٹانے کی کوشش کی ہے، وہ بین الاقوامی طلبہ جو یونیورسٹی اور اس کے مشن میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔”
کیس کی اگلی سماعت 29 مئی کو بوسٹن میں ہوگی۔
اگر حکومت کی یہ پابندی لاگو کر دی جاتی ہے، تو ہارورڈ کی مالی حالت پر اس کا سنگین اثر پڑے گا، کیونکہ گزشتہ سال کے 6,793 غیر ملکی طلبہ ادارے کے کل طلبہ کا 27 فیصد تھے۔ٹرمپ انتظامیہ کے احکامات کے تحت نہ صرف ہارورڈ کو 2025/26 تعلیمی سال کے لیے F-1 یا J-1 ویزہ رکھنے والے کسی بھی نئے طالبعلم کو داخلہ دینے سے روکا جائے گا، بلکہ موجودہ غیر ملکی طلبہ کو بھی امریکہ میں قیام کے لیے کسی دوسرے ادارے میں منتقل ہونا پڑے گا۔
اس اقدام نے دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے طلبہ میں شدید پریشانی اور بے چینی پیدا کر دی ہے — خاص طور پر ان طلبہ میں جو صرف ایک ہفتے بعد گریجویشن کرنے والے ہیں۔طلبہ نے PIE نیوز کو بتایا کہ وہ صورتحال سے پریشان ہیں، لیکن اُنہیں ہارورڈ پر بھروسہ ہے کہ “وہ ہمارا ساتھ دے گا۔”ہارورڈ کا حکومت کے ساتھ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب اس نے انتظامیہ کے متعدد مطالبات کے خلاف موقف اختیار کیا — جو کہ امریکہ میں چند ہی اداروں نے کیا — جن میں کیمپس پر یہود مخالف جذبات کے خلاف داخلے اور بھرتیوں کی پالیسیوں میں تبدیلی، DEI (تنوع، مساوات اور شمولیت) اقدامات کا خاتمہ، اور غیر ملکی طلبہ کی رپورٹس کی فراہمی شامل تھے۔جب ادارے نے ان مطالبات کو ماننے سے انکار کیا، تو حکومت نے ہارورڈ کی 2.2 ارب ڈالر کی فنڈنگ منجمد کر دی، اس کا ٹیکس فری درجہ ختم کرنے کی دھمکی دی، اور SEVP سرٹیفکیشن برقرار رکھنے کے لیے غیر ملکی طلبہ کے ریکارڈ مانگے۔اگرچہ ہارورڈ نے 30 اپریل کو کچھ طلبہ کی معلومات فراہم کر دی تھیں اور کہا تھا کہ وہ وہی معلومات فراہم کر رہا ہے جس کا وہ قانونی طور پر پابند ہے، لیکن بظاہر یہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ناکافی ثابت ہوا۔

نیشنل کالج آف آرٹس میں ’’آپ کی حفاظت، ہمارا مشن: پولیس کا معاشرتی تحفظ میں کردار‘‘ کے عنوان سے آگاہی سیشن کا انعقاد
نیشنل کالج آف آرٹس میں ’’آپ کی حفاظت، ہمارا مشن: پولیس کا معاشرتی تحفظ میں کردار‘‘ کے عنوان سے آگاہی سیشن کا انعقاد کیا گیا۔ اس سیشن میں ڈی آئی جی آپریشنز پنجاب پولیس محمد فیصل کامران نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ ڈی آئی جی محمد فیصل کامران نے وائس چانسلر این سی اے پروفیسر ڈاکٹر مرتضیٰ جعفری سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں این سی اے کے کمیونٹی آوٹ ریچ پروگرام کے بارے میں بتاتے ہوئے وائس چانسلر این سی اے کا کہنا تھا کہ این سی اے کے دروازے سب کے لئے کھلے ہیں، سمر کیمپ، شارٹ کورسز کے ذریعے زیادہ سے زیادہ افراد کو آرٹ اینڈ ڈیزائن کے بارے میں آگاہی ہو رہی ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز محمد فیصل کامران نے سراہا اور کہا کہ انہیں این سی اے آکر بہت خوشی ہوئی۔ این سی اے ایک تاریخی ادارہ ہے اور آرٹ کی دنیا میں منفرد مقام رکھتا ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز محمد فیصل کامران نے اپنے لیکچر میں پنجاب پولیس میں جاری عمومی بہتری، اپ گریڈیشن اور جدید اصلاحات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کا بنیادی مقصد عوام کی جان و مال کا تحفظ ہے اور ادارے کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے طلباء کو پولیس کے مختلف شعبہ جات، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور کمیونٹی پولیسنگ کے نئے رجحانات سے بھی آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد کا فروغ ایک محفوظ اور پُرامن معاشرے کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔
اس موقع پر سینئر فیکلٹی ممبر شہناز ملہی اور ڈپٹی رجسٹرار شہزاد تنویر نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے اس آگاہی سیشن کو طلباء کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کے پروگرامز نوجوانوں کو ادارہ جاتی ساخت اور عوامی خدمت کے بارے میں بہتر شعور دیتے ہیں۔
لیکچر کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا جس میں طلباء نے پولیس سے متعلق مختلف پہلوؤں پر سوالات کیے اور سیشن کو معلوماتی اور متاثر کن قرار دیا۔

):وفاقی کابینہ نے معرکہ حق، آپریشن بنیان مرصوص کی اعلیٰ حکمتِ عملی اور دلیرانہ قیادت کی بنیاد پر ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے اور دشمن کو شِکست فاش دینے پر جنرل سید عاصم منیر (نشان امتیاز ملٹری) کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کی منظوری دیتے ہوئے کہا ہے کہ آرمی چیف کی بے مثال قیادت کی بدولت پاکستان کو معرکہ میں تاریخی کامیابی حاصل ہوئی۔ وفاقی کابینہ نے ایئرچیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی مدت ملازمت پوری ہونے پر ان کی خدمات کو جاری رکھنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
):وفاقی کابینہ نے معرکہ حق، آپریشن بنیان مرصوص کی اعلیٰ حکمتِ عملی اور دلیرانہ قیادت کی بنیاد پر ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے اور دشمن کو شِکست فاش دینے پر جنرل سید عاصم منیر (نشان امتیاز ملٹری) کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کی منظوری دیتے ہوئے کہا ہے کہ آرمی چیف کی بے مثال قیادت کی بدولت پاکستان کو معرکہ میں تاریخی کامیابی حاصل ہوئی۔ وفاقی کابینہ نے ایئرچیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی مدت ملازمت پوری ہونے پر ان کی خدمات کو جاری رکھنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
منگل کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے۔ وزیرِ اعظم نے پوری پاکستانی قوم کو معرکہ حق کے دوران آپریشن بنیان مرصوص کی شاندار کامیابی اور دشمن کے عزائم خاک میں ملانے پر مبارکباد دی۔ حکومت پاکستان کی جانب سے معرکہ حق، آپریشن بنیان مرصوص کی اعلیٰ حکمتِ عملی اور دلیرانہ قیادت کی بنیاد پر ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے اور دشمن کو شِکست فاش دینے پر جنرل سید عاصم منیر (نشان امتیاز ملٹری) کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کی منظوری دی گئی۔
وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں پاکستان تاریخ کے کٹھن مرحلے سے گزرا۔ وفاقی کابینہ نے کہا کہ 6 اور 7 مئی 2025 کی رات بھارت نے پاکستان پر بلا اشتعال اور بلا جواز جنگ مسلط کی، پاکستان کی سول آبادی میں معصوم شہریوں بشمول خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا گیا، دشمن کی جانب سے پاکستان کی خود مختاری اور سرحدی سالمیت کو پامال کرنے کی مذموم کوشش کی گئی۔ وفاقی کابینہ نے کہا کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر نے مثالی جرأت اور عزم کے ساتھ پاک فوج کی قیادت کی اور مسلح افواج کی جنگی حکمتِ عملی اور کاوشوں کو بھرپور طریقے سے ہم آہنگ کیا، آرمی چیف کی بے مثال قیادت کی بدولت پاکستان کو معرکہ حق میں تاریخی کامیابی حاصل ہوئی۔
وفاقی کابینہ نے وزیراعظم کی طرف سے جنرل سید عاصم منیر کو ان کی شاندار عسکری قیادت، جرأت اور بہادری، پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے اور دشمن کے مقابلے میں دلیرانہ دفاع کے اعتراف میں فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کی تجویز منظور کر لی۔ بیان کے مطابق وزیراعظم نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کرکے انہیں اس فیصلے کے حوالے سے اعتماد میں لیا۔ حکومت نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی مدت ملازمت پوری ہونے پر ان کی خدمات کو جاری رکھنے کا بھی متفقہ فیصلہ کیا۔
وفاقی کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ افواج پاکستان کے افسران و جوان، غازیان، شہداء اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانی شہریوں کو آپریشن بنیان مرصوص کے دوران ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں اعلی سرکاری ایوارڈز سے نوازا جائے گا۔
فیلڈ مارشل کا اعزاز ملنے پر اللّٰہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں – فیلڈ مارشل عاصم منیر یہ اعزاز پوری قوم، افواجِ پاکستان، خاص کر سول اور ملٹری شہداء اور غازیوں کے نام وقف کرتا ہوں – فیلڈ مارشل عاصم منیر صدر پاکستان، وزیرِ اعظم اور کابینہ کے اعتماد کا شکر گزار ہوں۔
فیلڈ مارشل کا اعزاز ملنے پر اللّٰہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں، فیلڈ مارشل عاصم منیر
یہ اعزاز پوری قوم، افواجِ پاکستان، خاص کر سول اور ملٹری شہداء اور غازیوں کے نام وقف کرتا ہوں، فیلڈ مارشل عاصم منیر
یہ اعزاز قوم کی امانت ہے جس کو نبھانے کے لیے لاکھوں عاصم بھی قربان، فیلڈ مارشل عاصم منیر
یہ انفرادی نہیں بلکہ افواجِ پاکستان اور پوری قوم کے لئے اعزاز ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر
:وفاقی کابینہ نے معرکہ حق، آپریشن بنیان مرصوص کی اعلیٰ حکمتِ عملی اور دلیرانہ قیادت کی بنیاد پر ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے اور دشمن کو شِکست فاش دینے پر جنرل سید عاصم منیر (نشان امتیاز ملٹری) کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کی منظوری دیتے ہوئے کہا ہے کہ آرمی چیف کی بے مثال قیادت کی بدولت پاکستان کو معرکہ میں تاریخی کامیابی حاصل ہوئی۔ وفاقی کابینہ نے ایئرچیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی مدت ملازمت پوری ہونے پر ان کی خدمات کو جاری رکھنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
منگل کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے۔ وزیرِ اعظم نے پوری پاکستانی قوم کو معرکہ حق کے دوران آپریشن بنیان مرصوص کی شاندار کامیابی اور دشمن کے عزائم خاک میں ملانے پر مبارکباد دی۔ حکومت پاکستان کی جانب سے معرکہ حق، آپریشن بنیان مرصوص کی اعلیٰ حکمتِ عملی اور دلیرانہ قیادت کی بنیاد پر ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے اور دشمن کو شِکست فاش دینے پر جنرل سید عاصم منیر (نشان امتیاز ملٹری) کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کی منظوری دی گئی۔

وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں پاکستان تاریخ کے کٹھن مرحلے سے گزرا۔ وفاقی کابینہ نے کہا کہ 6 اور 7 مئی 2025 کی رات بھارت نے پاکستان پر بلا اشتعال اور بلا جواز جنگ مسلط کی، پاکستان کی سول آبادی میں معصوم شہریوں بشمول خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا گیا، دشمن کی جانب سے پاکستان کی خود مختاری اور سرحدی سالمیت کو پامال کرنے کی مذموم کوشش کی گئی۔ وفاقی کابینہ نے کہا کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر نے مثالی جرأت اور عزم کے ساتھ پاک فوج کی قیادت کی اور مسلح افواج کی جنگی حکمتِ عملی اور کاوشوں کو بھرپور طریقے سے ہم آہنگ کیا، آرمی چیف کی بے مثال قیادت کی بدولت پاکستان کو معرکہ حق میں تاریخی کامیابی حاصل ہوئی۔
وفاقی کابینہ نے وزیراعظم کی طرف سے جنرل سید عاصم منیر کو ان کی شاندار عسکری قیادت، جرأت اور بہادری، پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے اور دشمن کے مقابلے میں دلیرانہ دفاع کے اعتراف میں فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کی تجویز منظور کر لی۔ بیان کے مطابق وزیراعظم نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کرکے انہیں اس فیصلے کے حوالے سے اعتماد میں لیا۔ حکومت نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی مدت ملازمت پوری ہونے پر ان کی خدمات کو جاری رکھنے کا بھی متفقہ فیصلہ کیا۔
وفاقی کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ افواج پاکستان کے افسران و جوان، غازیان، شہداء اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانی شہریوں کو آپریشن بنیان مرصوص کے دوران ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں اعلی سرکاری ایوارڈز سے نوازا جائے گا۔