Uncategorized
HEC کی ایجوکیشن ایکسپوز: بنگلادیشی طلبہ کو پاکستان۔بنگلہ دیش نالج کوریڈور سے متعارف کرایا گیا
پاکستان کی ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور 15 پاکستانی جامعات کے نمائندوں نے سدرن یونیورسٹی بنگلادیش اور یونیورسٹی آف چٹاگانگ میں ایجوکیشن ایکسپوز منعقد کیے، جن کا مقصد بنگلادیشی طلبہ کو پاکستان۔بنگلہ دیش نالج کوریڈور کے تحت اعلیٰ تعلیم کے مواقع سے آگاہ کرنا تھا۔سدرن یونیورسٹی بنگلادیش میں HEC کے وفد کا استقبال یونیورسٹی کے بانی پروفیسر ڈاکٹر سرور جہاں نے کیا۔ وفد نے ایک تفصیلی سیمینار میں طلبہ کو پاکستان میں دستیاب اسکالرشپس، داخلہ طریقۂ کار، فیکلٹی و اسٹوڈنٹ ایکسچینج پروگرامز اور مشترکہ تحقیقی امکانات کے بارے میں آگاہ کیا۔ وائس چانسلر ڈاکٹر شریف اشرف الزمان، یونیورسٹی کی سینیئر قیادت، ڈینز اور فیکلٹی ممبران نے بھی سیشن میں شرکت کی۔ سیمینار کے بعد منعقدہ ایجوکیشن ایکسپو میں سیکڑوں طلبہ نے پاکستانی جامعات کے داخلہ معیار، تعلیمی پروگرامز اور اسکالرشپس سے متعلق معلومات حاصل کیں۔

یونیورسٹی آف چٹاگانگ میں ایکسپو کا افتتاح وائس چانسلر ڈاکٹر محمد یحییٰ اختر اور پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر جناب محمد واسع نے کیا۔ اس موقع پر فیکلٹی، میڈیا نمائندگان، طلبہ اور والدین نے پاکستانی وفد کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور پاکستان میں دستیاب اعلیٰ تعلیمی مواقع کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کیں۔یہ ایجوکیشن ایکسپوز پاکستان۔بنگلہ دیش نالج کوریڈور کا بنیادی حصہ ہیں، جس کے تحت حکومتِ پاکستان بنگلادیشی طلبہ کے لیے 500 مکمل فنڈڈ علامہ محمد اقبال اسکالرشپس فراہم کر رہی ہے، تاکہ وہ پاکستان کی اعلیٰ جامعات میں معیاری تعلیم حاصل کر سکیں۔
#Pakistan-Bangladesh Knowledge Corridor,#HEC #ILMIATONLINE
سبزیاں، سویّا، میوہ جات اور بیج دل کی صحت کے لیے مؤثر؛ ’پورٹ فولیو ڈائٹ‘ سے 30 فیصد تک LDL کم ہوسکتا ہے

یڈلائن:
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے کولیسٹرول کے علاج کے لیے دواؤں کی ضرورت ہر بار نہیں پڑتی، بلکہ مناسب غذائیں استعمال کر کے بھی خطرناک LDL کولیسٹرول کو نمایاں حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔عموماً درمیانی عمر میں ڈاکٹر مریضوں کو خبردار کرتے ہیں کہ ان کے خون میں کولیسٹرول، خصوصاً کم کثافت لیپو پروٹین (LDL)، خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے جو دل کی شریانوں میں رکاوٹ، خون کے بہاؤ میں کمی اور دل یا دماغی فالج کے خدشات میں اضافہ کرتا ہے۔تاہم ماہرین کے مطابق اکثر مریضوں کو فوری طور پر ادویات شروع کرنے کے بجائے خوراک میں تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس حوالے سے تازہ ترین تحقیق بتاتی ہے کہ غذائی عادات میں بہتری لازمی ادویات جتنی مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔
کولیسٹرول کا نظامِ کار کیا ہے؟
کولیسٹرول مکمل طور پر مضر نہیں۔ انسانی خلیات کی ساخت اور کئی اہم ہارمونز — جیسے ٹیسٹوسٹرون اور ایسٹروجن — اسی سے بنتے ہیں۔ اگرچہ کچھ کولیسٹرول غذا سے بھی آتا ہے، لیکن زیادہ تر جگر میں تیار ہوتا ہے اور LDL جیسے مالیکیولز کے ذریعے خون میں سفر کرتا ہے۔سیر شدہ چکنائیوں—جیسے مکھن، پنیر، ناریل کا تیل اور چربی والا گوشت—کے زیادہ استعمال سے جگر میں LDL ریسیپٹرز کم ہوجاتے ہیں، جو کولیسٹرول کی صفائی کے عمل کو سست کردیتے ہیں۔ اس کے برعکس سیر شدہ چکنائیوں میں کمی LDL ی سطح میں واضح کمی لاتی ہے۔

کن غذاؤں سے فائدہ ہوتا ہے؟
تحقیق کے مطابق کچھ غذائیں کولیسٹرول کے دوبارہ جذب ہونے کو کم کر دیتی ہیں، جیسے:
- گاڑھی فائبر والی غذائیں: جئی، جو، سیب
- فائٹو اسٹرولز (پودوں کے اسٹیرولز): بیج، میوہ جات، اور مارکیٹ میں دستیاب کچھ فیٹ اسپریڈ
- سویّا پروٹین: ٹوفو، سویّا ملک
- دیگر مؤثر غذائیں: بادام، فلیکس سیڈ، ہلدی، سُمّاق، لہسن پاؤڈر
یہ اجزاء آنتوں میں کولیسٹرول کے دوبارہ جذب ہونے کے عمل میں رکاوٹ بنتے ہیں، جس سے خون میں LDL کی سطح کم ہو جاتی ہے۔
’پورٹ فولیو ڈائٹ‘—ایک کامیاب تجربہ
ٹورنٹو یونیورسٹی کے ماہر غذائیت پروفیسر ڈیوڈ جینکنز کی 2002 میں تیار کردہ “پورٹ فولیو ڈائٹ” اس حوالے سے سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئی ہے۔
ایک رینڈمائزڈ کلینیکل ٹرائل کے مطابق، اس ڈائٹ میں یہ چار گروپس شامل ہیں:
- 50 گرام سویّا پروٹین
- 30 گرام بادام
- 20 گرام گاڑھی فائبر
- 2 گرام پودوں کے فائیٹو اسٹرولز
صرف چار ہفتوں میں شرکاء کے LDL کولیسٹرول میں تقریباً 30 فیصد کمی دیکھی گئی، جو معروف ادویات جیسے اسٹاٹنز کے برابر نتیجہ ہے۔
اس ڈائٹ کا بنیادی اصول یہ ہے کہ افراد اپنی پسند کے مطابق میوہ جات، بیج، پودوں پر مبنی پروٹین اور مختلف مصالحے استعمال کر سکتے ہیں، تاکہ غذا صحت مند ہونے کے ساتھ مزیدار بھی رہے۔
ماہرین کا مشورہ
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اگر کوئی غذا دلچسپ اور خوش ذائقہ نہ ہو تو لوگ اسے دیر تک برقرار نہیں رکھتے۔ اس لی
شعبہ انگلش لینگوئسٹکس اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے زیر اہتمام عالمی انگریزی زبان اور مقامی ثقافت کی مطابقت کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر ہو گئی
شعبہ انگلش لینگوئسٹکس اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے زیر اہتمام عالمی انگریزی زبان اور مقامی ثقافت کی مطابقت کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر ہو گئی۔ دوروزہ کانفرنس میں ترکیہ ،عمان اور پاکستانی جامعات سے مندوبین شریک ہوئے۔اختتامی سیشن میں رجسٹرار محمد شجیع الرحمن، ریزیڈنٹ آڈیٹرشہزاد اختر مہمانان اعزاز تھے۔ چیئرمین شعبہ ڈاکٹر ریاض حسین نے کہا ہے کہ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں 28 مقالہ جات پیش کیے گئے۔ انگریزی زبان کے طلباو طالبات کو لسانیات کی مختلف جہتوں ، ثقافتی ہم آہنگی ، لسانیات کی عالمی اور مقامی مطابقت جاننے اور موازنہ کرنے کا موقع ملا۔انہوں نے کانفرنس کے انعقاد میں تعاون اور سرپرستی پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران اور ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ لینگویجز پروفیسر ڈاکٹر سید عامر سہیل کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پرچیئرمین شعبہ سوشل ورک پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف نوید رانجھا، ایڈیشنل رجسٹرار عارف رموز اور طلباو طالبات نے شرکت کی۔

سابق اسٹیشن ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان بہاول پور ، سابق چیئرمین شعبہ سرائیکی و پرنسپل یونیورسٹی کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور ڈاکٹر نصراللہ خان ناصر خالق حقیقی سے جاملے۔
سابق اسٹیشن ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان بہاول پور ، سابق چیئرمین شعبہ سرائیکی و پرنسپل یونیورسٹی کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور ڈاکٹر نصراللہ خان ناصر خالق حقیقی سے جاملے۔ وہ معروف محقق، دانشور، ادیب ، شاعر، تاریخ دان تھے۔ انہیں ان کی قومی خدمات کے اعتراف میں صدر پاکستان نے صدارتی ایوارڈ سے نوازا۔ وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران، ڈینز،چیئرمین شعبہ سرائیکی ڈاکٹرمحمد ممتازخان،پرنسپل یونیورسٹی کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن ڈاکٹر فرحانہ الطاف قریشی، رجسٹرار محمد شجیع الرحمن، ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز ڈاکٹر شہزاد احمد خالد نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی صاحبزادی ڈاکٹر اریبہ خان سے اظہار تعزیت کیاہے۔
پاکستان نے نیشنل آرٹیفیشل انٹیلی جنس پالیسی 2025 جاری کر دی………. Ignite کے R&D فنڈ کا 30 فیصد اے آئی کے لیے مختص؛ NAIF فنڈ قائم………جامعات میں سینٹرز آف ایکسیلنس ان اے آئی کے قیام کا اعلان……… سالانہ 2 لاکھ نوجوانوں کی اے آئی اسکل ڈویلپمنٹ ٹریننگ………..9. صنعتی شعبے کو AI اپنانے پر سبسڈی اور ٹیکس میں خصوصی رعایت…….پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے نئے دور میں داخل

اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے نیشنل آرٹیفیشل انٹیلی جنس پالیسی 2025 باضابطہ طور پر جاری کر دی ہے، جس کا مقصد ملک میں جدید اے آئی ٹیکنالوجی کے فروغ، اس کے ذمہ دارانہ استعمال اور سماجی و معاشی ترقی کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرنا ہے۔ پالیسی کی تیاری میں مختلف وفاقی وزارتوں، صوبائی محکموں، اعلیٰ تعلیمی اداروں اور صنعت کے نمایاں ماہرین نے کردار ادا کیا، جن کا حکومت نے خصوصی شکریہ ادا کیا ہے۔
پالیسی کا بنیادی وژن ایک مضبوط اور ذمہ دار قومی اے آئی ایکو سسٹم تشکیل دینا ہے، جو ملکی ترقی، اقتصادی استحکام اور عوامی فلاح کے لیے جدید ٹیکنالوجیز کو عملی شکل دے۔ پالیسی کے اہم مقاصد میں اقتصادی ترقی میں اضافہ، اے آئی تعلیم کا فروغ، مقامی استعداد کار میں بہتری، اور اخلاقی اصولوں پر مبنی اے آئی استعمال شامل ہے۔
پالیسی کے چار بنیادی ستون
1۔ اے آئی انوویشن ایکو سسٹم:
پالیسی کے تحت نیشنل آرٹیفیشل انٹیلی جنس فنڈ (NAIF) قائم کیا گیا ہے، جس میں Ignite کے R&D فنڈ کا کم از کم 30 فیصد مخصوص ہوگا۔ مختلف جامعات میں سینٹرز آف ایکسیلنس ان اے آئی قائم کیے جائیں گے، جو تحقیق، انفراسٹرکچر اور مقامی اسٹارٹ اپس کی معاونت کریں گے۔
2۔ آگاہی اور تیاری:
عوام میں اے آئی کے ذمہ دارانہ استعمال کے فروغ کے لیے نیشنل آگاہی پروگرام شروع کیا جائے گا، جبکہ نیشنل اے آئی اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت سالانہ 2 لاکھ نوجوانوں کو تربیت دی جائے گی۔
3۔ محفوظ اے آئی ایکو سسٹم:
پالیسی میں ڈیٹا سیکیورٹی، پرائیویسی، سائبر تحفظ اور انسانی نگرانی پر مبنی اے آئی کے اخلاقی استعمال کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات شامل ہیں۔ اے آئی پر مبنی سائبر سیکیورٹی حل بھی تیار کیے جائیں گے۔
4۔ تبدیلی اور پیش رفت:
ملکی شعبوں میں اے آئی کے عملی اطلاق کے لیے قومی سطح پر اے آئی کمپیوٹ گرڈ قائم کیا جائے گا، جو تحقیقی سرگرمیوں اور صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔
شعبہ جاتی روڈمیپ
تعلیم، صحت، گورننس، زراعت، توانائی، مینوفیکچرنگ اور ماحولیات سمیت مختلف ترجیحی شعبوں کے لیے 2025–26 کے دوران اے آئی روڈمیپ تیار کیے جائیں گے، تاکہ سرکاری اداروں میں جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ اس حوالے سے خصوصی تربیتی پروگرام بھی متعارف کرائے جائیں گے۔
انفراسٹرکچر اور صنعتی ترقی
حکومت نے ملک میں جدید ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ (HPC) سینٹرز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ساتھ ہی 100 سے زائد جامعات کو ڈیٹا سیٹس اور کمپیوٹنگ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔صنعتی شعبے کو اے آئی اپنانے پر سبسڈی اور ٹیکس میں چھوٹ دی جائے گی، جبکہ دانشورانہ املاک کے تحفظ کے لیے قانونی فریم ورک کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
بین الاقوامی تعاون
پالیسی کے تحت عالمی سطح پر اے آئی کے شعبے میں ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ دو طرفہ و کثیر الجہتی تعاون بڑھایا جائے گا، اور مشترکہ تحقیقی مراکز قائم کیے جائیں گے۔ پاکستان بین الاقوامی اے آئی فورمز میں فعال کردار ادا کرے گا۔
نفاذ کا طریقہ کار
پالیسی کے شفاف اور موثر نفاذ کے لیے اے آئی کونسل تشکیل دی گئی ہے، جو وفاقی و صوبائی سطح پر اقدامات کی نگرانی کرے گی۔ کلیدی کارکردگی کے اشاریے (KPIs) ہر ستون کی پیش رفت کا جائزہ لیں گے۔مزید برآں، ایک ملین آئی ٹی گریجویٹس کے لیے اے آئی ٹریننگ پروگرام اور 30 فیصد اضافے کے ساتھ اسکالرشپس بھی متعارف کرائی جائیں گی۔
اگلے سال تک پنجاب ماحول دوستی کے اعتبار سے مثالی صوبہ گردانا جائے گا۔ وزیر تعلیم ۔۔۔۔۔کوپ 30 کے مشاہدات پنجاب کے سکولوں پر لاگو کر کے ماحول دوستی کا کلچر پروان چڑھائیں گے۔ رانا سکندر حیات

وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے کہا ہے کہ کوپ 30 کے دوران سابق وزیر اعظم نیوزی لینڈ جاسنڈا آرڈرن نے پنجاب کی تعلیمی اصلاحات کو سراہتے ہوئے سکول میل پروگرام، سٹیم ایجوکیشن، میٹرک ان ٹیکنالوجی، ارلی چائلڈ ہود ایجوکیشن اور سکالرشپ سکیم پروگرامات کی تعریف کی۔ عالمی سطح پر پنجاب کی ایجوکیشن ریفارمز کو سراہنے سے میرا سر فخر سے بلند ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوپ 30 کانفرنس سے بہت کچھ سیکھنے کو مل رہا ہے۔ کوپ 30 کے مشاہدات پنجاب کے سکولوں پر لاگو کر کے ماحول دوستی کا کلچر پروان چڑھائیں گے۔ وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ کوپ 30 میں پاکستانی پویلین سب کی توجہ کا مرکز ہے۔ پنجاب کی حکمت عملی کو پذیرائی ملنا پاکستانی وفد کیلئے قابل فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کلائمیٹ چینج وارئیر بن کر عالمی سطح پر پنجاب کی شناخت بڑھا رہے ہیں۔ رانا سکندر حیات نے کہا کہ پنجاب میں جنگلات اور ماحولیات کی وزارت کو پہلی مرتبہ سنجیدہ لیا جا رہا ہے۔ سموگ کے خاتمے کیلئے نہ صرف اے کیو آئی میٹرز کی تعددا بڑھائی ہے بلکہ سموگ گنز کے ذریعے بھی ماحولیاتی آلودگی پر قابو پا رہے ہیں۔ آج پنجاب میں کاربن کریڈٹس اور درختوں کی میپنگ پر تیزی سے کام ہو رہا ہے۔ رانا سکندر حیات نے کہا کہ حکومت کے اقدامات کی وجہ سے اس مرتبہ پنجاب میں سموگ پچھلے سال کے مقابلے میں صرف 35 سے 40 فیصد ہے۔ دوسری جانب جہاں کوڑے کے پہاڑ دکھائی دیتے تھے، آج وہاں سبزہ نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ 50 ہزار ٹن کوڑا جمع کر کے ری سائیکل جا رہا ہے۔ سیگریکیٹڈ ویسٹ اور ایک ملین دودھ کے پیک ری سائیکل ہو رہے ہیں۔ وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے کہا کہ ماحول کی بہتری کیلئے پہلی مرتبہ سیگریکیٹڈ ویسٹ کے تحت سمارٹ سکول کونسیپٹ متعارف کرواتے ہوئے 14 ہزار سکولوں میں ویسٹ بن لگائی گئی ہیں جبکہ بچوں کو ستھرا پنجاب کے تناظر میں آگاہی دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے سال تک پنجاب ماحول دوستی کے اعتبار سے مثالی صوبہ گردانا جائے گا۔
پنجاب یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ آف انڈسٹریل انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ میں جدید سہولیات اورویڈیو کانفرنسنگ نظام سے مزین ”ڈیڈیکٹک اینڈ ڈائیلاگ سینٹر“ کا افتتاح ………پنجاب یونیورسٹی شعبہ امتحانات نے ڈاکٹر آف فارمیسی (فارم۔ڈی) فائنل پروفیشنل،اینول2025ء کے امتحانی نتائج کا اعلان
:پنجاب یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ آف انڈسٹریل انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ میں جدید سہولیات اورویڈیو کانفرنسنگ نظام سے مزین ”ڈیڈیکٹک اینڈ ڈائیلاگ سینٹر“ کا افتتاح ہوگیا۔ اس سنٹر میں 86 انچ کا انٹرایکٹو اسمارٹ ایل ای ڈی ڈسپلے شامل ہے جو تدریسی تعلیم، اشتراکِ عمل اور علم کے تبادلے کے مواقع کو مزیدموثر بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔یہ سنٹر ایراسمس پلس (Erasmus+) یورپی مشترکہ فنڈ سے چلنے والے منصوبے کے تحت قائم کیا گیا ہے،جو پنجاب یونیورسٹی کی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ یورپی کمیشن کی جانب سے یونیورسٹی کو دیا جانے والا پہلا منصوبہ ہے۔اس موقع پر ڈائریکٹرانسٹیٹیوٹ آف انڈسٹریل انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ اور پراجیکٹ لیڈر ڈاکٹر محمد شفیق نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ منصوبہ انجینئرنگ تعلیم کو مضبوط بنانے اور اختراعات کو فروغ دینے کے لیے ایک بین الاقوامی کیپیسٹی بلڈنگ پروگرام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ڈی سی کا قیام وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی کے ویژن سے ہم آہنگ ہے، جو معیاری تعلیم و تحقیق اور تکنیکی ترقی کے فروغ کے لیے پرعزم ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈیڈیکٹک اینڈ ڈائیلاگ سینٹر انٹرایکٹو لرننگ، تحقیق اور اختراعات کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ سنٹرپنجاب یونیورسٹی اور صنعت کے درمیان تعاون کے ایک ایسے موثر پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گاجہاں طلباء، اساتذہ اور صنعتی ماہرین کے مابین بامعنی مکالمہ، عملی تحقیق اور علم کا تبادلہ ممکن ہو سکے۔اس سلسلے میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں ڈین فیکلٹی آف کوالٹی اینڈ انڈسٹریل سسٹمز انجینئرنگ، ڈائریکٹرانسٹیٹیوٹ آف انڈسٹریل انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ،ڈائریکٹر آئی کیو ٹی ایم اورفیکلٹی ممبران نے شرکت کی۔
پنجاب یونیورسٹی امتحانی نتائج
پنجاب یونیورسٹی شعبہ امتحانات نے ڈاکٹر آف فارمیسی (فارم۔ڈی) فائنل پروفیشنل،اینول2025ء کے امتحانی نتائج کا اعلان کر دیا
:پنجاب یونیورسٹی شعبہ امتحانات نے ڈاکٹر آف فارمیسی (فارم۔ڈی) فائنل پروفیشنل،اینول2025ء کے امتحانی نتائج کا اعلان کردیا ہے۔ تفصیلات پنجاب یونیورسٹی کی ویب سائٹ www.pu.edu.pkپر دیکھی جاسکتی ہیں۔
سعودی عرب میں غیر ملکی جامعات کے برانچ کیمپس کھولنے کی کوششیں ایک بار پھر زور پکڑ رہی ہیں، ……… معیشت کو متنوع بنانے کے لیے حکومت نئے تعلیمی منصوبوں کو فروغ دے رہی ہے۔

رپورٹ -: پیٹرک جیک
سعودی عرب میں غیر ملکی جامعات کے برانچ کیمپس کھولنے کی کوششیں ایک بار پھر زور پکڑ رہی ہیں، کیونکہ تیل پر انحصار کم کرنے اور معیشت کو متنوع بنانے کے لیے حکومت نئے تعلیمی منصوبوں کو فروغ دے رہی ہے۔ ت۔
امریکہ کی یونیورسٹی آف نیو ہیون اور اسکاٹ لینڈ کی ہیریٹ واٹ یونیورسٹی نے حال ہی میں سعودی عرب میں اپنے برانچ کیمپس کھولنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ یہ جامعات متحدہ عرب امارات میں غیر ملکی تعلیمی اداروں کی کامیابی کے بعد خلیجی خطے کے نئے تعلیمی مرکز کے طور پر سعودی عرب کو دیکھ رہی ہیں۔اس سے قبل آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف وولونگونگ (UOW) اپریل میں سعودی عرب میں سرمایہ کاری کا لائسنس حاصل کرنے والی پہلی غیر ملکی یونیورسٹی بنی تھی۔

قطر کے برعکس، سعودی عرب جامعات سے اپنے کیمپسز کے تمام اخراجات خود برداشت کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ پاوان کے مطابق، “سعودی حکومت سمجھتی ہے کہ وہ اتنی پرکشش ہے کہ غیر ملکی جامعات خود سرمایہ کاری کے لیے صف آراء ہوں گی۔”یونیورسٹی آف نیو ہیون کے مطابق، سعودی عرب میں برانچ کیمپس کھولنے سے ادارے کی بین الاقوامی ساکھ میں اضافہ اور نئے تعلیمی و مالی مواقع میسر آئیں گے۔
یونیورسٹی کے بیان میں کہا گیا:
“سعودی عرب میں اعلیٰ تعلیم تک بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے میں مدد دینا خطے کے ترقیاتی اہداف میں مؤثر کردار ادا کرے گا۔ ہم نئی نسلوں کے لیے روشن مستقبل تخلیق کرنے پر پُرجوش ہیں۔”
ہیریٹ واٹ یونیورسٹی کے ترجمان نے کہا کہ سعودی عرب اس کے لیے ایک “اہم اسٹریٹیجک مارکیٹ” ہے اور یونیورسٹی خود کو ملک کے وژن 2030 کے تعلیمی اہداف کی تکمیل میں معاون سمجھتی ہے۔
یاد رہے کہ سعودی عرب کا وژن 2030 منصوبہ ملک کو تحقیق، ترقی، سماجی اور ثقافتی لحاظ سے زیادہ جدید اور کھلے معاشرے میں تبدیل کرنے پر مرکوز ہے، جس کے تحت اعلیٰ تعلیم اور بین الاقوامی تعاون کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے
پنجاب یونیورسٹی نے مہوش امین دخترمحمدامین کواردو،سید خرم عمیر ولد سید محمود اسد اللہ کو کشمیر یات،حافظہ منزہ بتول دخترمحمد ارشاد اخترکوکیمسٹری، محمد عارف ولد محمداسلم کوفارسی، محمدارسلان اعظم ولد محمد اخترکوزوالوجی، عثمان احمدولد دلگیر احمدکوجیومیٹکس، اسماء سلیم دختر محمد سلیم کوایجوکیشن،اقرا یوسف دخترمہر محمدیوسف کومالیکیولربائیولوجی، حمیرہ داؤد دخترداؤد احمد کوآرٹ اینڈ ڈیزائن اور تحریم فاطمہ اعوان دختر شوکت علی اعوان کوسوشیالوجی کے مضمون میں،پی ایچ ڈی مقالہ جات کی تکمیل کے بعدڈگریاں جاری کردیں۔