یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں تین روزہ انٹرپرینیورشپ گالا اور بک فیئر کا باقاعدہ آغاز ہوگیا، جس میں طلبائ کی ایک بڑی تعداد بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شرکت کر رہی ہے۔ یہ تقریب ڈائریکٹوریٹ آف اورک، گرین یوتھ موومنٹ اور شعبۂ اُردو کے اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے۔
جامعہ کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے 70 سے زائد طلبہ گروپس نے اپنے جدید کاروباری منصوبوں کے خصوصی اسٹالز لگائے ہیں، جبکہ 15 نامور پبلشرز بک فیئر میں شریک ہیں۔
تقریب کا افتتاح وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین نے کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر غلام مصطفیٰ ،چیئرمین شعبۂ مینجمنٹ سائنسز و ڈائریکٹر اورک، ڈاکٹر ثقلین حیدر،لیکچرار اُردو، اور شعبۂ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے ڈاکٹر سائرہ ستار بھی ان کے ہمراہ تھے۔
وائس چانسلر نے تمام اسٹالز کا دورہ کیا اور طلبہ کے کاروباری منصوبوں کے متعلق اُن سے گفتگو کی۔ انہوں نے نامیاتی غذائی مصنوعات، کاسمیٹکس، فن پاروں، میڈیکل یونٹس اور فوڈ پوائنٹس سمیت مختلف نوعیت کے منصوبوں میں جدّت اور تنوع کو سراہا۔
بک فیئر میں سانج پبلیکیشنز، کولاج، نیشنل بک فاؤنڈیشن اور کتابی دنیا سمیت متعدد معروف ادارے شریک ہیں۔
جامعہ کے ترجمان کے مطابق یونیورسٹی کے اساتذہ و طلبہ کے ساتھ ساتھ مقامی کمیونٹی کے لوگ بھی بک فیئر میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔
تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر مبین نے کہا، “اس ایونٹ کا مقصد نوجوانوں میں مطالعہ کی عادت کو فروغ دینا اور طلبہ کا رشتہ کتابوں کے ساتھ مضبوط کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ پلیٹ فارم طلبہ کو اپنے اسٹارٹ اَپ آئیڈیاز کو عملی شکل دینے اور انہیں مارکیٹ میں متعارف کرانے کی ترغیب بھی فراہم کرتا ہے۔ اس سے خطے میں انٹرپرینیورشپ کے رجحان کو مزید تقویت ملے گی۔”
Uncategorized
نظریاتی بحث کے فروغ میں جامعات کا کلیدی کردا رہے،بات میں دلیل اور الفاظ میں شائستگی ہونی چاہیے، زبردستی نہیں ہونی چاہیے۔…… پرووائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود
پنجاب یونیورسٹی کے پرووائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود نے کہا ہے کہ نظریاتی بحث کے فروغ میں جامعات کا کلیدی کردا رہے،بات میں دلیل اور الفاظ میں شائستگی ہونی چاہیے، زبردستی نہیں ہونی چاہیے۔وہ پنجاب یونیورسٹی سنٹر فار سویلیٹی اینڈ اینٹی گریٹی ڈویلپمنٹ کے زیر اہتمام پنجاب سنٹر آف ایکسیلینس آن کاؤنٹر وائلنٹ ایکسٹریمزم کے اشتراک سے ’تشدد پر مبنی انتہا پسندی کا مقابلہ کرنا: معاشرے میں شائستگی اور دیانت داری کو مضبوط بنانا‘ کے موضوع پر الرازی ہال میں منعقدہ پالیسی سیمینار سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر سیکریٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاویدقاضی،چیئرمین مرکزرویت ہلال کمیٹی مولانہ سید عبدالخبیر آزاد،دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر)غلام مصطفی،سابق وزیر قانون احمر بلال صوفی ڈائریکٹر سی سی آئی ڈی ڈاکٹر شبیر احمد خان، سکیورٹی ایڈوائزر ڈاکٹر تحمینہ اسلم رانجھا، میڈیا کنسلٹنٹ منصور اعظم قاضی، فیکلٹی ممبران اور طلباؤطالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اپنے خطاب میں پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود نے کہا کہ انسان نے معاشرے میں کیسے رہنا ہے، نظم و نسق کیسے چلانا ہے، ان سب پر بات کرنے کے لئے جامعہ ہی بہترین جگہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں رواداری، برداشت، سچ، محبت اور اخلاقیات کے فروغ کیلئے کام کررہے ہیں۔ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کہا ہے کہ پاکستان میں امن، رواداری اوربرداشت کے کلچر کو فروغ دینے اورانتہاپسندی کے خاتمے کیلئے مسلم و غیر مسلم کو قوانین کی پاسداری کرنی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو اس بات کا ادراک کرناہوگاکہ پاکستان کا باقی رہنا ہر بات سے زیادہ اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ طلباؤطالبات پیغام پاکستان کو پڑھیں اور مثبت سوچ کو پھیلانے کیلئے کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ کتاب بہترین ساتھی ہے جو سیکھنے کے عمل کو جاری رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تشدد، ناانصافی اور انتہا پسندی کی روک تھام کیلئے اپنے گھر سے آغاز کریں۔ انہوں نے کہا کہ رواں برس مشکلات کے باوجود اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو جنگ اور کھیل کے میدانوں میں سرخرو کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو مل کر ایک مہذب معاشرہ تشکیل دینا ہے اور دوسروں کے لئے آسا نیاں پیدا کرنی ہیں۔مولانہ سید عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ امن کے قیام اور دہشت گردی کی روک تھام کے لئے نبی کریم ﷺ کی تعلیمات پرعمل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں فرقوں میں بٹ کر ایک دوسرے کی دل آزاری کا باعث نہیں بنناچاہیے۔انہوں نے کہا کہ قوم یکجا ہوئی تو بنیان المرصو ص میں دشمن کو شکست فاش دی۔ جنرل (ر) غلام مصطفی نے کہاکہ آج ہم ایک دوسرے کی بات کوسُن رہے ہیں مگر سمجھنے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علم اورانفارمیشن میں فرق ہے،مگرآج کی نسل کی ذہن سازی سوشل میڈیا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ دورِ جدید میں نوجوان موبائل کے قیدی بن چکے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کونصیحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ترقی اور امن کے لئے منفی ذہنیت والے افراد سے بچنا ہے۔احمر بلال صوفی نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے جس میں قرآن کریم کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی معاہدہ کرکے اس کی پاسداری لازمی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ طلباؤطالبات داخلہ لیتے وقت پر تشد کاروائیوں کا حصہ نہ بننے کی شرائط پر دستخط کرتے ہیں اور ان پر عمل نہ کرکے غلط کرتے ہیں۔ ڈاکٹر شبیر احمد خان نے کہاکہ جامعات کے فرائض میں علم و تحقیق کی ترویج کے ساتھ افراد کی تربیت اور نشوونما کرنابھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین، محققین، صحافی، اساتذہ سمیت ہر شعبے کے لئے افرادی قوت پیدا کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں مرکز ترقی و تہذیب و دیانت کے قیام کا مقصد اعلیٰ اخلاق کے مالک، امانت اور دیانت دار گریجوئیٹس پیدا کرنا ہے۔ڈاکٹر تحمینہ اسلم رانجھا نے کہاکہ افریقہ، ڈنمارک اور مراکش میں خواتین کی شمولیت سے دہشت گردی پر کا خاتمہ کرنے میں مدد ملی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ میں کئی قربانیاں دی مگر خواتین کی شمولیت کے بغیر امن کا پیغام ادھورا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن کے خلاف اچھے طریقے سے مقابلہ کرسکتی ہیں۔ منصور اعظم قاضی نے کہا کہ بیانیہ بنانے میں میڈیا کاکردار بہت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو مل کروطن عزیر کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کیلئے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے نوجوان طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہاکہ کسی بھی معلومات کی تصدیق کئے بغیر آگے شیئر نہ کریں۔
یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور میں 6th انٹرنیشنل کانفرنس AIMS-2025 کا شاندار انعقاد…….دنیا کے 13 ممالک سے 172 ماہرینِ سائنس کی شرکت
لاہور: شعبہ فزکس، ڈویژن آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، یونیورسٹی آف ایجوکیشن (UE) لاہور کے زیرِ اہتمام 6th سالانہ انٹرنیشنل کانفرنس آن ایڈوانسز اِن میٹیریلز سائنس (AIMS-2025) کا کامیاب انعقاد 3 اور 4 دسمبر 2025 کو کیا گیا۔ کانفرنس کا افتتاحی اجلاس ملک اور بیرونِ ملک کے ممتاز سائنس دانوں کی موجودگی میں منعقد ہوا۔
تقریب کے چیف گیسٹ پروفیسر سعید احمد بُزدَار، وائس چانسلر تھل یونیورسٹی بھکر تھے، جبکہ وائس چانسلر یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور، پروفیسر ڈاکٹر عاقف انور چوہدری نے صدارت کے فرائض انجام دیے۔ اس موقع پر پروفیسر این۔ ایم۔ بٹ، پروفیسر فضلِ علیم، پروفیسر راشد احمد، پروفیسر ریاض احمد اور پروفیسر ابرار احمد ظفر نے بطور گیسٹس آف آنر شرکت کی۔ ڈاکٹر فہیم خورشید بٹ کانفرنس چیئر رہے۔
یونیورسٹی آف ایجوکیشن کی تاریخ میں یہ کانفرنس سب سے بڑے سائنسی اجتماعات میں سے ایک قرار دی جا رہی ہے۔ AIMS-2025 میں 13 ممالک—برطانیہ، اسپین، آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، چین، جنوبی کوریا، ملائیشیا، برازیل، سعودی عرب، مصر، مراکش، پرتگال اور پاکستان—سے 172 کلیدی مقررین، مدعو محققین اور بین الاقوامی ماہرین نے شرکت کی۔
کانفرنس میں 46 پوسٹر پریزینٹرز اور 46 رجسٹرڈ اسپیکرز بھی شامل تھے، جنہوں نے جدید میٹیریلز سائنس میں تحقیق، جدت اور ٹیکنالوجی کے نئے رجحانات پر گفتگو کی۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق یہ کانفرنس تحقیق و ترقی کے فروغ اور عالمی سائنسی برادری سے روابط مضبوط کرنے میں سنگِ میل ثابت ہوگی۔
#AIMS2025 #UE_Lahore #UniversityOfEducation #MaterialsScience
خصوصی افراد کے حقوق کا تحفظ اور تمام شعبہ ہائے زندگی میں ان کی شمولیت کو یقینی بنانا قومی ترقی کیلئے نا گزیر ہے،وزیراعظم شہبازشریف کا خصوصی افراد کے عالمی دن پر پیغام
اسلام آباد۔2دسمبر (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے تمام شہریوں بالخصوص کمزور اور خصوصی استعداد کے حامل طبقات کے بنیادی شہری حقوق کے تحفظ اور انہیں مساوی سہولیات کی فراہمی کو حکومت کی ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات کئےجارہے ہیں۔
منگل کووزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے خصوصی افراد کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج خصوصی افراد کا عالمی دن اس عزم کے ساتھ منایا جا رہا ہے کہ خصوصی افراد کے حقوق کا تحفظ اور تمام شعبہ ہائے زندگی میں ان کی شمولیت کو یقینی بنانا قومی ترقی کے لئے نا گزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال یہ عالمی دن “خصوصی افراد کی معاشرے میں شمولیت اور سماجی ترقی” کے عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان تمام شہریوں کو مساوی حقوق اور مساوی شمولیت کی ضمانت دیتا ہے، خصوصی افراد ہمارے معاشرے کی سماجی، معاشرتی اور ثقافتی اساس کا کلیدی حصہ ہیں، کسی بھی طرح کی جسمانی کمی انسانی ذہنی صلاحیتوں اور حقوق کی نفی نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کو خصوصی افراد کے حقوق کی اہمیت کا مکمل ادراک ہے اور حکومت ان کے تحفظ کے لئے کوشاں ہے، اس ضمن میں تمام ضروری اور موثر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ خصوصی افراد کے لیے ہمدردانہ، دوستانہ اور معاون معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ قانونی پس منظر میں وفاقی اور صوبائی سطح پر خصوصی افراد کے حقوق کے ایکٹ ایسے افراد کو ہر طرح کا ضروری قانونی تحفظ فراہم کرتے ہیں ،مزید یہ ایکٹ خصوصی افراد کے اندراج اور ان کی معاونت ،امداد اور دیگر موثر خدمات سر انجام دینے کے لئے بھی بنیاد فراہم کرتے ہیں، خصوصی افراد کے حقوق کی کونسل، سی آر پی ڈی بھی حقوق کی نگرانی اور حکومتی پالیسی اقدامات کو مضبوط کرنے میں بہت فعال طریقے سے کام کر رہی ہے، اس کے علاوہ دیگر اقدامات میں ہر 15 دن بعد طبی معائنہ، خصوصی افراد کے لیے معذوری کا سرٹیفیکیٹ، ان کے لئے سہولتی آلات، ہنر مندی میں اضافہ کے انتظامات، استعداد کار بڑھانے کی تربیت، ملازمتوں میں مخصوص کوٹہ، کام کی جگہ پر باآسانی رسائی کے لئے اقدامات شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت خصوصی افراد کی معاشرے میں ہر سطح اور ہر شعبے میں شمولیت کو یقینی بنانا چاہتی ہیں، حکومت نے پالیسی اور وعدوں کو عملی جامہ پہناتے ہوئے خصوصی کاوشیں کی ہیں تاکہ خصوصی افراد کو تعلیم، صحت، روزگار اور سماجی زندگی میں ہر طرح کی شمولیت یقینی ہو تاہم اس طبقے کی بھرپور نمائندگی اور مسائل کو حل کرنے کے لئے ابھی مزید موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، اب تک اٹھائے گئے اقدامات میں خصوصی افراد کے حقوق کی کونسل کی کاوشیں قابل ستائش ہیں اور وفاقی وزارت برائے انسانی حقوق بھی خصوصی افراد کے حقوق کے تحفظ اور مضبوطی کے لیے بڑی تندہی سے کام کر رہی ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ خصوصی افراد کی بھرپور شمولیت ہی معاشرتی نظام کی افادیت اور موثر کارکردگی کا امتحان ہے اور یہ ہمیں نظام کو مزید موثر بنانے کے لیے جامع حکمت عملی بنانے کی یاد دہانی بھی کراتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام شہریوں بالخصوص کمزور اور خصوصی استعداد کے حامل طبقات کے بنیادی شہری حقوق کا تخفظ اور مساوی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ وہ آج اس دن کے موقع پر عوام، صوبائی حکومتوں، متعلقہ نجی اداروں، سول سوسائٹی، اساتذہ اور معاشرے کے تمام سرکردہ افراد سے اپیل کرتے ہیں کہ آئیے مل کر ایسے پاکستان کی طرف پیش قدمی کریں جس میں خصوصی افراد اپنی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک دوستانہ ہمدردانہ ماحول میں معاشرے کا فعال حصہ بن سکیں۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی امتیازی سلوک سے پاک اور سماجی عدم مساوات سے قطع نظر تمام شہریوں کی صحت اور عزت و وقار کے تحفظ کے لیے ہمارا عزم غیر متزلزل ہونا چاہیے، آئیے آج کے دن تجدید عہد کریں کہ خصوصی افراد کے حقوق کے تحفظ کے لئے پہلے سے زیادہ باہمی تعاون سے موثر اقدامات کریں گے تاکہ ہم اس ضمن میں اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں پورا اتر سکیں۔
پاکستان کی آبادی میں ہر سال نیوزی لینڈ کی آبادی کے برابر اضافہ ہو رہا ہے، آبادی کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے معاشرے کے ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، عطاء اللہ تارڑ
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے آبادی میں تیزی سے اضافے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی آبادی میں ہر سال نیوزی لینڈ کی آبادی کے برابر اضافہ ہو رہا ہے، بڑھتی آبادی کی وجہ سے صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں چیلنجز سامنے آ رہے ہیں جبکہ معیشت اور بنیادی سہولیات پر بھی اس کا بوجھ بڑھ رہا ہے، آبادی کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے معاشرے کے ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
منگل کو یہاں مقامی ہوٹل میں ”دی پاکستان پاپولیشن سمٹ“ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہمیں یہ احساس کرنا ہوگا کہ آبادی میں اضافہ ایک بڑا سنگین مسئلہ ہے، پاکستان کی آبادی میں ہر سال نیوزی لینڈ کی آبادی کے برابر اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبادی میں اضافے سے دیگر مسائل بھی جڑے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بچوں میں اموات کی شرح بڑھتی جا رہی ہے، یونیسف کے اعداد و شمار کے مطابق ہزار میں سے پچاس بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوزائیدہ بچوں، زچہ و بچہ کی دیکھ بھال یا تولیدی صحت کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہم متعدد قیمتی جانیں کھو دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کا ایک اور اہم پہلو یہ ادراک ہے کہ آبادی میں اضافہ خود سنگین چیلنج ہے، وسائل کی بحث اپنی جگہ مگر زندگی کا حق بنیادی انسانی حق ہے جو اس مسئلے سے متاثر ہوتا ہے۔
اگر آبادی کے مسئلے کو تسلیم نہ کیا جائے اور اس کا احساس موجود نہ ہو تو یہ ایک بڑا المیہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں اکثر بچوں کی ماؤں کے مسائل ثانوی حیثیت اختیار کرلیتے ہیں اور آگاہی کے فقدان کے باعث انہیں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنا ہر طبقے کی مشترکہ ذمہ داری ہے، علما کرام، میڈیا، حکومت، قانون دان اور صحافی سب کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حقوق اور ذمہ داریاں دونوں اس مسئلے سے براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔ بڑھتی آبادی ترقی کی رفتار سست کر سکتی ہے جبکہ یہ معیشت اور بنیادی سہولیات پر بھی بوجھ ڈال رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارے خطے میں ورکنگ ویمن کی شرح دیگر خطوں کے مقابلے میں کم ہے، یہ معاشرتی مسئلہ ہے اسے آگاہی کے ذریعے حل کرنا ہوگا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ آبادی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے ورکنگ گروپ تشکیل دینا ضروری ہے، ویمن کاکس کے پلیٹ فارم کو استعمال کرکے ایوان میں بحث کے ذریعے اس مسئلے کو اجاگر کیا جا سکتا ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کا اس حوالے سے اقدام قابل ستائش ہے، ترقی برقرار رکھنے کے لئے متوازن آبادی ضروری ہے۔
وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور پروفیسر ڈاکٹر محمدکامران نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے زیر اہتمام 27 ویں نیشنل سیکورٹی ورکشاپ میں شرکت کی۔ ورکشاپ کے اختتام پر صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری نے پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران کو سرٹیفکیٹ دیا۔
وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور پروفیسر ڈاکٹر محمدکامران نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے زیر اہتمام ایک ماہ دورانیے کی 27 ویں نیشنل سیکورٹی ورکشاپ میں شرکت کی۔ ورکشاپ کے اختتام پر صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری نے پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران کو سرٹیفکیٹ دیا۔ اس موقع پر خاتون اول ممبر قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری اور لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار اور صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی بھی موجود تھے۔ یہ سیکورٹی ورکشاپ 27 اکتوبر سے 28 نومبر تک انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز، ریسرچ اینڈ اینالائسیس کے زیر اہتمام منعقد ہوئی۔
HEC کی ایجوکیشن ایکسپوز: بنگلادیشی طلبہ کو پاکستان۔بنگلہ دیش نالج کوریڈور سے متعارف کرایا گیا
پاکستان کی ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور 15 پاکستانی جامعات کے نمائندوں نے سدرن یونیورسٹی بنگلادیش اور یونیورسٹی آف چٹاگانگ میں ایجوکیشن ایکسپوز منعقد کیے، جن کا مقصد بنگلادیشی طلبہ کو پاکستان۔بنگلہ دیش نالج کوریڈور کے تحت اعلیٰ تعلیم کے مواقع سے آگاہ کرنا تھا۔سدرن یونیورسٹی بنگلادیش میں HEC کے وفد کا استقبال یونیورسٹی کے بانی پروفیسر ڈاکٹر سرور جہاں نے کیا۔ وفد نے ایک تفصیلی سیمینار میں طلبہ کو پاکستان میں دستیاب اسکالرشپس، داخلہ طریقۂ کار، فیکلٹی و اسٹوڈنٹ ایکسچینج پروگرامز اور مشترکہ تحقیقی امکانات کے بارے میں آگاہ کیا۔ وائس چانسلر ڈاکٹر شریف اشرف الزمان، یونیورسٹی کی سینیئر قیادت، ڈینز اور فیکلٹی ممبران نے بھی سیشن میں شرکت کی۔ سیمینار کے بعد منعقدہ ایجوکیشن ایکسپو میں سیکڑوں طلبہ نے پاکستانی جامعات کے داخلہ معیار، تعلیمی پروگرامز اور اسکالرشپس سے متعلق معلومات حاصل کیں۔

یونیورسٹی آف چٹاگانگ میں ایکسپو کا افتتاح وائس چانسلر ڈاکٹر محمد یحییٰ اختر اور پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر جناب محمد واسع نے کیا۔ اس موقع پر فیکلٹی، میڈیا نمائندگان، طلبہ اور والدین نے پاکستانی وفد کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور پاکستان میں دستیاب اعلیٰ تعلیمی مواقع کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کیں۔یہ ایجوکیشن ایکسپوز پاکستان۔بنگلہ دیش نالج کوریڈور کا بنیادی حصہ ہیں، جس کے تحت حکومتِ پاکستان بنگلادیشی طلبہ کے لیے 500 مکمل فنڈڈ علامہ محمد اقبال اسکالرشپس فراہم کر رہی ہے، تاکہ وہ پاکستان کی اعلیٰ جامعات میں معیاری تعلیم حاصل کر سکیں۔
#Pakistan-Bangladesh Knowledge Corridor,#HEC #ILMIATONLINE
سبزیاں، سویّا، میوہ جات اور بیج دل کی صحت کے لیے مؤثر؛ ’پورٹ فولیو ڈائٹ‘ سے 30 فیصد تک LDL کم ہوسکتا ہے

یڈلائن:
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے کولیسٹرول کے علاج کے لیے دواؤں کی ضرورت ہر بار نہیں پڑتی، بلکہ مناسب غذائیں استعمال کر کے بھی خطرناک LDL کولیسٹرول کو نمایاں حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔عموماً درمیانی عمر میں ڈاکٹر مریضوں کو خبردار کرتے ہیں کہ ان کے خون میں کولیسٹرول، خصوصاً کم کثافت لیپو پروٹین (LDL)، خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے جو دل کی شریانوں میں رکاوٹ، خون کے بہاؤ میں کمی اور دل یا دماغی فالج کے خدشات میں اضافہ کرتا ہے۔تاہم ماہرین کے مطابق اکثر مریضوں کو فوری طور پر ادویات شروع کرنے کے بجائے خوراک میں تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس حوالے سے تازہ ترین تحقیق بتاتی ہے کہ غذائی عادات میں بہتری لازمی ادویات جتنی مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔
کولیسٹرول کا نظامِ کار کیا ہے؟
کولیسٹرول مکمل طور پر مضر نہیں۔ انسانی خلیات کی ساخت اور کئی اہم ہارمونز — جیسے ٹیسٹوسٹرون اور ایسٹروجن — اسی سے بنتے ہیں۔ اگرچہ کچھ کولیسٹرول غذا سے بھی آتا ہے، لیکن زیادہ تر جگر میں تیار ہوتا ہے اور LDL جیسے مالیکیولز کے ذریعے خون میں سفر کرتا ہے۔سیر شدہ چکنائیوں—جیسے مکھن، پنیر، ناریل کا تیل اور چربی والا گوشت—کے زیادہ استعمال سے جگر میں LDL ریسیپٹرز کم ہوجاتے ہیں، جو کولیسٹرول کی صفائی کے عمل کو سست کردیتے ہیں۔ اس کے برعکس سیر شدہ چکنائیوں میں کمی LDL ی سطح میں واضح کمی لاتی ہے۔

کن غذاؤں سے فائدہ ہوتا ہے؟
تحقیق کے مطابق کچھ غذائیں کولیسٹرول کے دوبارہ جذب ہونے کو کم کر دیتی ہیں، جیسے:
- گاڑھی فائبر والی غذائیں: جئی، جو، سیب
- فائٹو اسٹرولز (پودوں کے اسٹیرولز): بیج، میوہ جات، اور مارکیٹ میں دستیاب کچھ فیٹ اسپریڈ
- سویّا پروٹین: ٹوفو، سویّا ملک
- دیگر مؤثر غذائیں: بادام، فلیکس سیڈ، ہلدی، سُمّاق، لہسن پاؤڈر
یہ اجزاء آنتوں میں کولیسٹرول کے دوبارہ جذب ہونے کے عمل میں رکاوٹ بنتے ہیں، جس سے خون میں LDL کی سطح کم ہو جاتی ہے۔
’پورٹ فولیو ڈائٹ‘—ایک کامیاب تجربہ
ٹورنٹو یونیورسٹی کے ماہر غذائیت پروفیسر ڈیوڈ جینکنز کی 2002 میں تیار کردہ “پورٹ فولیو ڈائٹ” اس حوالے سے سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئی ہے۔
ایک رینڈمائزڈ کلینیکل ٹرائل کے مطابق، اس ڈائٹ میں یہ چار گروپس شامل ہیں:
- 50 گرام سویّا پروٹین
- 30 گرام بادام
- 20 گرام گاڑھی فائبر
- 2 گرام پودوں کے فائیٹو اسٹرولز
صرف چار ہفتوں میں شرکاء کے LDL کولیسٹرول میں تقریباً 30 فیصد کمی دیکھی گئی، جو معروف ادویات جیسے اسٹاٹنز کے برابر نتیجہ ہے۔
اس ڈائٹ کا بنیادی اصول یہ ہے کہ افراد اپنی پسند کے مطابق میوہ جات، بیج، پودوں پر مبنی پروٹین اور مختلف مصالحے استعمال کر سکتے ہیں، تاکہ غذا صحت مند ہونے کے ساتھ مزیدار بھی رہے۔
ماہرین کا مشورہ
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اگر کوئی غذا دلچسپ اور خوش ذائقہ نہ ہو تو لوگ اسے دیر تک برقرار نہیں رکھتے۔ اس لی
شعبہ انگلش لینگوئسٹکس اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے زیر اہتمام عالمی انگریزی زبان اور مقامی ثقافت کی مطابقت کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر ہو گئی
شعبہ انگلش لینگوئسٹکس اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے زیر اہتمام عالمی انگریزی زبان اور مقامی ثقافت کی مطابقت کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر ہو گئی۔ دوروزہ کانفرنس میں ترکیہ ،عمان اور پاکستانی جامعات سے مندوبین شریک ہوئے۔اختتامی سیشن میں رجسٹرار محمد شجیع الرحمن، ریزیڈنٹ آڈیٹرشہزاد اختر مہمانان اعزاز تھے۔ چیئرمین شعبہ ڈاکٹر ریاض حسین نے کہا ہے کہ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں 28 مقالہ جات پیش کیے گئے۔ انگریزی زبان کے طلباو طالبات کو لسانیات کی مختلف جہتوں ، ثقافتی ہم آہنگی ، لسانیات کی عالمی اور مقامی مطابقت جاننے اور موازنہ کرنے کا موقع ملا۔انہوں نے کانفرنس کے انعقاد میں تعاون اور سرپرستی پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران اور ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ لینگویجز پروفیسر ڈاکٹر سید عامر سہیل کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پرچیئرمین شعبہ سوشل ورک پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف نوید رانجھا، ایڈیشنل رجسٹرار عارف رموز اور طلباو طالبات نے شرکت کی۔
