اسلام آباد: نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) کو آج بوسنیا و ہرزیگووینا کے پاکستان میں سفیر، ہز ایکسی لینسی مسٹر ایمن چوہوداریوِچ کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہوا۔یونیورسٹی آمد کے موقع پر سفیر کی ملاقات ریکٹر نسٹ، ڈاکٹر محمد زاہد لطیف سے ہوئی، جہاں دونوں جانب سے تعلیمی تعاون، تحقیقی شراکت داری اور طلبہ کے تبادلے کے مواقع پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ نUST اور بوسنیا کی معروف یونیورسٹیوں کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں اور جدید تعلیمی پروگراموں کے ذریعے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔ملاقات کے دوران جدت، استعداد کار میں اضافہ، اور عوامی روابط کے فروغ جیسے باہمی دلچسپی کے اہم نکات پر بھی بات چیت ہوئی۔ دونوں فریقین نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں تعاون کے یہ نئے راستے دونوں ممالک کے تعلیمی اور تحقیقی شعبوں کے لیے مفید ثابت ہوں گے۔
اہم خبریں
صدر مملکت آصف علی زرداری کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں 27 ویں نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کے شرکا سے خطاب
:صدر مملکت آصف علی زرداری نے یشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کا دورہ کیا اور 27 ویں نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کیا۔ ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق ورکشاپ نے اراکین پارلیمنٹ، سینئر سول اور فوجی افسران، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو اکٹھا ہونے کا موقع فراہم کیا۔ ۔ صدر مملکت اپنے خطاب میں ورکشاپ کو کامیابی سے مکمل کرنے پر شرکاکو مبارکباد دی اور قومی سلامتی کے بارے میں آگاہی کو مضبوط بنانے کے لیے ان کی لگن کو سراہا۔
انہوں نے پاکستان کے عصری سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے باخبر قیادت، قومی ہم آہنگی اور مربوط پالیسی سازی کی اہمیت پر زور دیا ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق27 ویں نیشنل سکیورٹی ورکشاپ میں جامع قومی سلامتی کے فریم ورک کے تحت قومی طاقت کے مختلف عناصر کے درمیان باہمی تعامل کے بارے میں شرکا کی سمجھ کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی قومی سلامتی ورکشاپ قومی سطح کے مکالمے کو فروغ دینے، ادارہ جاتی صلاحیت کو بڑھانے اور قومی سلامتی کے لیے پورے ملک کے نقطہ نظر کو فروغ دینے کے لیے ملک کے اہم پلیٹ فارمز میں سے ایک ہے۔ صدر مملکت نے گریجویٹ ہونے والے شرکاکو اسناد بھی دیں۔

سلسہ تقریبات پندرہ سو سالہ جشن ولادتِ مصطفیﷺ، اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں مکالمہ بین المذاہب کے نبوی اصول کے عنوان سے ایک روزہ قومی سیمینار کا انعقاد
سلسہ تقریبات پندرہ سو سالہ جشن ولادتِ مصطفیﷺ، اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں مکالمہ بین المذاہب کے نبوی اصول کے عنوان سے ایک روزہ قومی سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں اساتذہ اور طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ وائس چانسلراسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران اور ڈین فیکلٹی آف اسلامک اینڈ عریبک اسٹڈیز پروفیسر ڈاکٹر شیخ شفیق الرحمن کی زیر سرپرستی ہونے والے اس سیمینار کی میزبانی ڈاکٹر سجیلہ کوثر صدر شعبہ ادیان عالم وبین المذاہب ہم آہنگی نے کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر حافظ محمد سجاد تترالوی، صدر شعبہ اسلافی فکر، تاریخ و ثقافت، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد نے مہمان مقرر کے طور پر شرکت کی۔ پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الرحمن، صدر شعبہ قرآنک اسٹڈیز اور ڈاکٹر غلام حیدر، صدر شعبہ حدیث، ڈاکٹر زوہیب احمد، ڈاکٹر محمد خبیب اور ڈاکٹر سدرہ شعیب سمیت مختلف شعبہ جات کے اساتذہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ڈاکٹر سجیلہ کوثر نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ یونیورسٹی کو قائم ہوئے سو سال گزر چکے ہیں اور ہماری خوش نصیبی ہے کہ آقائے دو جہاں محمد مصطفیﷺ کے پندرہ سو سالہ جشن ولادت کی تقریبات بھی جاری ہیں لہذا شعبہ ادیان عالم و بین المذاہب ہم آہنگی نے اس شاندار سیمینار کا انعقاد کیا تاکہ سیرت رسولﷺ سے اس ضمن میں رہنمائی حاصل کی جا سکے کہ آپﷺ غیر مسلموں سے کس طرح پیش آتے اور کیسے ان کو دین کی دعوت دیتے تھے۔ڈاکٹر حافظ محمد سجاد تترالوی نے سیرت مصطفیﷺ کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ سیرت مصطفیﷺ کا گوشہ گوشہ اور حدیث نبویﷺ کا حرف حرف ہمارے لیے رہنما ہے کہ آپﷺ ہمیشہ نرمی، متانت اور سنجیدگی سےغیر مسلموں کو دعوت دیتے اور ایک ماہر نفسیات کی طرح ان کے ذہن میں چھپے اندیشوں کو جان لیتے۔ آپﷺ ان کو ہر لحاظ سے تسلی دیتے جس سے وہ مطمئن ہو کر راضی خوشی اسلام قبول کرتے۔ لہذاضرورت اس امر کی ہے کہ آج بھی اسی نبوی منھج پر عمل پیرا ہواجائے تاکہ وطن عزیز امن وآتشی کا گہوارہ بن سکے۔سیمینار کے اختتام پر سوال وجواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں طلبہ نے گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران کی نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد کے دورہ کے دوران ریکٹر ڈاکٹر محمد زاہد لطیف سے ملاقات
وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد کے دورہ کے دوران ریکٹر ڈاکٹر محمد زاہد لطیف سے ملاقات کی۔ دونوں تعلیمی رہنماؤں نے تعلیمی قیادت، یونیورسٹی گورننس اور پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے ابھرتے ہوئے منظر نامے پر گہری بات چیت کی۔ ملاقات کے دوران تعلیمی معیار کو مضبوط بنانے، تحقیقی عمدگی کو فروغ دینے، علم کی بنیاد پر بڑھانے اور بامعنی تعلیمی مکالمے کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیا۔ ریکٹر نے وائس چانسلر کو اپنی حال ہی میں جاری کردہ کتاب، پاکستان کی تلاش برائے امن و افغانستان، اسٹیٹ کرافٹ، پالیسی اور حکمت عملی کی ایک کاپی بھی پیش کی۔
غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان میں کوالٹی انہانسمنٹ سیل کے زیر اہتمام پی آر ای ای معیارات کے مطابق جانچ رپورٹس کی تیاری‘‘ کے عنوان سے ایک تربیتی نشست کا اہتمام کیا گیا
غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اشفاق احمد کی زیر سرپرستی کوالٹی انہانسمنٹ سیل کے زیر اہتمام پی آر ای ای معیارات کے مطابق جانچ رپورٹس کی تیاری‘‘ کے عنوان سے یونیورسٹی کے سیمینار ہال میں ایک تربیتی نشست کا اہتمام کیا گیا۔
ڈائریکٹر کوالٹی انہانسمنٹ سیل ڈاکٹر عنصر علی نے ورکشاپ کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا اور بنیادی نکات اور جانچ رپورٹس کی تیاری پر گفتگو کی ۔ ڈائریکٹر کوالٹی انہانسمنٹ سیل ایگریکلچر یونیورسٹی ملتان پروفیسر ڈاکٹر حماد ندیم نے شرکا کو دستاویزی عمل کو مضبوط بنانے، جانچ کے تقاضوں کو بہتر کرنے اور قومی معیار پر پورا اترنے کے طریقہ کار سے تفصیلاً آگاہ کیا۔ تربیت میں غازی یونیورسٹی اور اس سے ملحقہ کالجوں کی پروگرام ٹیموں نے شرکت کی اور تعلیمی معیار بہتر بنانے، متعلقہ فریقوں کی شمولیت بڑھانے اور مسلسل بہتری کے نظام کو مضبوط کرنے کے امور پر گفتگو کی۔
اس ورکشاپ کے انعقاد میں ڈاکٹر صوفیہ خاکوانی ، ڈاکٹر محمد فاروق اور محمد ناصر نعیم نے اہم کردار ادا کیا۔ شرکا نے اس مفید اور جامع تربیت کے اہتمام پر محکمہ معیار افزائی کا شکریہ ادا کیا، جس کا مقصد ادارے میں تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانا تھا۔
تقریب کے اختتام پر تمام شعبہ جات نے جانچ رپورٹس کی بہتر تیاری اور معیار کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔
پنجاب یونیورسٹی اور ہائیر پاکستان کے مابین معاہدہ طے پاگیا…….معاہدے کے مطابق تقریباً 100 اسکالرشپس طلبہ کو میرٹ و ضرورت کی بنیاد پر فراہم کئے جائیں گے
لاہور(28نومبر،جمعہ): پنجاب یونیورسٹی اور ہائیر پاکستان پرائیویٹ (لمیٹڈ)کے مابین مستحق طلبہ کو معیاری تعلیم تک بہتر رسائی فراہم کرنے کے لیے معاہدہ طے پاگیا۔ اس سلسلے میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب وائس چانسلر آفس کے کمیٹی روم میں منعقد ہوئی جس میں رجسٹرار ڈاکٹر احمد اسلام،ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ ڈاکٹر حافظ محمد انور اصغر، ڈائریکٹر ایکسٹرنل لنکجزڈاکٹر یامینہ سلمان، ہائیر پاکستان کی جانب سے چینی مینجمنٹ کے نمائندہ ژانگ، ڈائریکٹر مارکیٹنگ ہمائیوں بشیر و دیگر نے شرکت کی۔ معاہدے کے مطابق تقریباً 100 اسکالرشپس طلبہ کو میرٹ و ضرورت کی بنیاد پر فراہم کئے جائیں گے۔
وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے جمعرات کو نیشنل لائبریری آف پاکستان میں انڈونیشین بک کارنر کا افتتاح کیا جو پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان ثقافتی تعاون کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
:وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے جمعرات کو نیشنل لائبریری آف پاکستان میں انڈونیشین بک کارنر کا افتتاح کیا جو پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان ثقافتی تعاون کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ تقریب کے دوران نیشنل لائبریری آف پاکستان اور نیشنل لائبریری آف انڈونیشیا کے مابین مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو ) پر بھی دستخط کئے گئے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اورنگزیب کھچی نے کہا کہ انڈونیشین کارنر کا افتتاح اس لئے بھی اہم ہے کہ دونوں ممالک اس سال سفارتی تعلقات کے 75 سال پورے ہونے کا جشن منا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا باہمی احترام، مشترکہ اقدار اور ثقافت و تعلیم سمیت بین الاقوامی فورمز پر دیرینہ تعاون کی بنیاد پر قائم مضبوط رشتوں کے حامل ہیں، انڈونیشین کارنر دونوں ممالک کے عوام کے درمیان رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ ثابت ہوگا اور پاکستان میں انڈونیشیا کی ادب، ثقافت اور فکری روایات تک رسائی فراہم کرے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ دونوں لائبریریوں کے درمیان طے پانے والا ایم او یو کتابوں کے تبادلے، مشترکہ ثقافتی سرگرمیوں، تربیت اور تحقیقی اشتراک کو فروغ دے گا۔ انہوں نے انڈونیشین سفارتخانے کے تعاون اور نیشنل لائبریری آف پاکستان کی بین الاقوامی ثقافتی روابط کے فروغ کے لئے کاوشوں کو سراہا۔

انڈونیشیا کے سفیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) چندرا ورسینانتو سکوچو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انڈونیشین کارنر دونوں دوست ممالک کے عوام کے درمیان باہمی سمجھ کو مزید گہرا کرنے میں مدد دے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس کارنر میں انڈونیشیا کی سیاست، معیشت، سکیورٹی، ثقافت، سیاحت، خارجہ پالیسی، کھانوں کی روایات اور قومی ترقی سے متعلق کتابیں اور مواد شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں قومی لائبریریوں کے درمیان دستخط ہونے والا معاہدہ ادارہ جاتی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس اشتراک کے نتیجے میں دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔سفیر چندرا ورسینانتو سکوچو نے وزارت قوم ورثہ و ثقافت اور نیشنل لائبریری آف پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور سابق و موجودہ لائبریری قیادت کی خدمات کو سراہا۔تقریب میں چیئر آسیان کمیٹی و سفیر تھائی لینڈ رونگ وڈی ویرابتر، آسیان ممالک کے سفیر و ہائی کمشنرز، نیشنل لائبریری آف انڈونیشیا کے پرائم سیکرٹری جوکو سانتوسو، نیشنل لائبریری آف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل محمد علی شہزاد مظفر اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں تین روزہ پاکستان انگلش کانفرنس کا آغاز ہوگیا۔ کانفرنس میں ملک کی 50 سے زائد جامعات سے 250 سے زیادہ تحقیقی مقالہ نگار شریک ہیں۔افتتاحی سیشن سے ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف انگلش لینگویج اینڈ لیٹریچر، ڈاکٹر سجاد علی، وائس چانسلر یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر پروفیسر ناصر جمال خٹک خان، نامور مصنف،ادکار اور ہدایتکار پروفیسر نوید شہزاد اور ڈاکٹر عبداللہ نے خطاب کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سجاد علی خان نے کہا کہ کانفرنس علمی تبادلہ خیال اور فکری روابط کے فروغ کے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہے۔
وائس چانسلر یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر پروفیسر ناصر جمال خٹک نے پاکستانی تناظر میں تھیوری اور پوسٹ کولونیلزم کے مطالعہ پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ عموماً تھیوری کو مشکل اور خشک مضمون سمجھتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ اس کے بنیادی تصورات، خصوصاً پوسٹ کولونیلزم، کو ان کے تاریخی اور ثقافتی پس منظر کے ساتھ سمجھایا جائے۔ پروفیسر خٹک نے اس بات پر زور دیا کہ اساتذہ اور محققین کو اپنے تدریسی و تحقیقی کام میں مختلف خطوں اور طبقات کی آوازوں کو شامل کرنا چاہیے، کیونکہ متنوع تجربات اور پس منظر کو سننا اور سمجھنا ہی ادب، تھیوری اور ملٹی کلچرل ازم کے گہرے اور بامعنی مطالعے کو ممکن بناتا ہے۔نامور مصنف،ادکار اور ہدایتکار پروفیسر نوید شہزاد کا کہنا تھا کہ ادب کا کام صرف دکھ سنانا نہیں بلکہ اس خاموش دکھ کو آواز دینا ہے۔
ڈاکٹر عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ تین روزہ کانفرنس کے دوران ہونے والی علمی گفتگو کو دستاویزی شکل بھی دی جائے گی اور منتخب مقالات کو کتاب کی صورت میں شائع کیا جائے گا۔
آئی یو بی فلڈ ریلیف سیل کی جانب سے احمدپور تحصیل کے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی تقسیم
احمدپور:
آئی یو بی فلڈ ریلیف سیل کی ٹیم نے اتوار، 9 نومبر 2025 کو احمدپور تحصیل کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں انجام دیں۔ فوکل پرسن آئی یو بی فلڈ ریلیف سیل، پروفیسر ڈاکٹر آصف نوید رانجھا کی سربراہی میں ٹیم نے موضع رسولپور اور بیت بختیاری کے سیلاب متاثرین میں کھانا اور راشن تقسیم کیا۔اس امدادی کارروائی کا مقصد متاثرہ خاندانوں کی فوری ضروریات پوری کرنا اور مشکل وقت میں اُن کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا تھا۔ ٹیم نے اس موقع پر متاثرین کی صورتحال کا جائزہ بھی لیا اور آئندہ کے لیے مزید عملی اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔
ایچ ای سی کا سول سروسز اکیڈمی کے تعاون سے اعلیٰ افسران کیلئے تربیتی پروگرام کی کامیاب تکمیل
اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے سول سروسز اکیڈمی (CSA) لاہور کے تعاون سے پانچ مراحل پر مشتمل استعداد کار بڑھانے کے خصوصی پروگرام کو کامیابی سے مکمل کر لیا، جس میں تقریباً 100 افسران—including ڈائریکٹر جنرلز، ڈائریکٹرز، ڈپٹی اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرز—نے شرکت کی۔یہ پروگرام نیشنل اکادمی آف ہائر ایجوکیشن (NAHE) کی مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر نور امنہ ملک کی قیادت میں شروع کیا گیا تھا، جس کا مقصد گورننس اور اختراعات کے بدلتے تقاضوں کے مطابق ایک مؤثر اور پروگریسو ورک فورس تیار کرنا تھا۔سینئر مینجمنٹ کوہورٹ کی اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی چیئرمین ایچ ای سی ندیم محبوب تھے۔ انہوں نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے سی ایس اے کے ساتھ تعاون کو ’’تاریخی سنگِ میل‘‘ قرار دیا۔ڈائریکٹر NAHE ڈاکٹر منیر احمد نے کہا کہ یہ شراکت داری ادارہ جاتی تعاون کی بہترین مثال ہے، جو مستقبل کے پروگرامز کے لیے رول ماڈل ثابت ہو گی۔پروگرام کی مؤثر ڈیزائننگ اور کامیاب تکمیل ڈپٹی ڈائریکٹر (NAHE) محترمہ سعدیہ بخاری نے انجام دی، جن کے کام کو بھی تقریب میں سراہا گیا۔
