نامور ریڈیولوجسٹ اولڈ راوئین ڈاکٹر صفدر علی کی جانب سے ساتویں سکالر شپ کا اجراء
لاہور: نامور ریڈیولوجسٹ اور اولڈ راوین پروفیسر ڈاکٹر صفدر علی ملک کی جانب سے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے اینڈوومنٹ فنڈ ٹرسٹ کو 10 لاکھ روپے کی رقم عطیہ۔ اس رقم سے ہر سال میرٹ پر ایک مستحق طالب علم کو اسکالرشپ دی جائے گی۔ یہ پروفیسر صفدر کی جانب سے عطیہ کی جانے والی ساتویں سکالرشپ ہے۔پروفیسر ڈاکٹر صفدر علی ملک نے 10 لاکھ روپے کا چیک وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر چوہدری کو وائس چانسلر آفس میں ایک تقریب کے دوران پیش کیا۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر خالد منظور بٹ اور یونیورسٹی آف بلتستان، اسکردو کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود اختر بھی موجود تھے۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر چوہدری نے عطیے پر پروفیسر ڈاکٹر صفدر علی ملک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اس رقم کو میرٹ اسکالرشپ میں تبدیل کیا جائے، تاکہ ہر سال ایک مستحق طالب علم کو تعلیمی معاونت فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اسکالرشپ ایک طالب علم کی زندگی بدل دیتی ہے اور تعلیم کے ذریعے پورا خاندان بہتر مستقبل کی طرف بڑھتا ہے۔
اہم خبریں
ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال نے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول رستم خان جمالی میں کے این کے جاپان (KnK Japan) کے تعاون سے مکمل ہونے والی اسکول عمارت اور جدید سہولیات سے آراستہ عمارت کا باقاعدہ افتتاح کیا۔
ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال نے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول رستم خان جمالی میں کے این کے جاپان (KnK Japan) کے تعاون سے مکمل ہونے والی اسکول عمارت اور جدید سہولیات سے آراستہ عمارت کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر استامحمد بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔یہ منصوبہ KnK Japan اور مقامی شراکت دار تنظیم YMSESDO کے تعاون سے مکمل کیا گیا، جس کے تحت اسکول میں معیاری اور جدید تعلیمی سہولیات فراہم کی گئیں۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد اسکول عمارت کو باضابطہ طور پر اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ضلع ستامحمد کے حوالے کر دیا گیا۔منصوبے کے تحت فراہم کی گئی نمایاں سہولیات میں سات کمروں پر مشتمل سنگل اسٹوری ریٹروفٹڈ اسکول عمارت، چار انکلو سیو ٹوائلٹ یونٹس (بحالی اور سولرائزیشن کے ساتھ)، اندرونی الیکٹریفیکیشن، طلبہ کے لیے ریمپس اور ہینڈ ریلز، ایلومینیم کھڑکیاں حفاظتی گرلز کے ساتھ، معیاری اسکول فرنیچر اور گرین بورڈز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 5.6 کے وی اے ہائبرڈ سولر سسٹم بمعہ بیٹریاں اور سولر پلیٹس، واٹر ٹینک، راہداری/برآمدہ، چھت کی ٹریٹمنٹ اور دیگر ضروری سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر استامحمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معیاری تعلیمی ماحول کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، اور ایسے ترقیاتی منصوبے بچیوں کی تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے KnK Japan اور YMSESDO کے تعاون کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا اور اسکول انتظامیہ کو ہدایت کی کہ فراہم کردہ سہولیات کی مو¿ثر دیکھ بھال کو یقینی بنایاجائےآخر میں ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے اسکول کی بہتر کارکردگی، اساتذہ کی محنت اور طالبات کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناو¿ں کا اظہار کیا۔
پنجاب یونیورسٹی نے تحقیق کے فروغ کے لئے17 کروڑ روپے مختص کئے ہیں، اساتذہ تحقیق کے فنڈکو ملک، معاشرہ اور یونیورسٹی کی بہتری کے لئے استعمال کریں…….وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی
اساتذہ تحقیقی فنڈ کو ملک، معاشرہ اور یونیورسٹی کی بہتری کے لئے استعمال کریں، وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی
لاہور: (22 جنوری،جمعرات):وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر محمد علی نے کہا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی نے تحقیق کے فروغ کے لئے17 کروڑ روپے مختص کئے ہیں، اساتذہ تحقیق کے فنڈکو ملک، معاشرہ اور یونیورسٹی کی بہتری کے لئے استعمال کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب یونیورسٹی آفس آف ریسرچ انوویشن ایند کمرشلائیزیشن(اورک) کے زیر اہتمام ’پی یو ریسرچ گرانٹ ایوارڈ سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وائس چانسلریونیورسٹی آف سوات ڈاکٹرداؤد چاند،پرو وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر خالد محمود، ڈائریکٹر اورک ڈاکٹر عقیل انعام، فیکلٹیوں کے ڈینز اور ریسرچ گرانٹ حاصل کرنے والے اساتذہ و محققین نے شرکت کی۔اپنے خطاب میں وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی ایک ماں کی مانند ہے اس لئے جامعہ آپ کا فخر ہونا چاہیے اورسب مل کراس کی ترقی میں کردار اد اکرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ طلباؤ طالبات کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی وقت پر پروموشن ہونا بہت ضروری ہے،جن اساتذہ کے کیسز مکمل ہیں، ان کے سلیکشن بورڈ شیڈول کر دئیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مختلف شعبوں میں بچت اورذرائع آمدن بڑھاکر پنشن اور انڈومنٹ فنڈ قائم کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ بیرونی گرانٹ حاصل کرنے پر ذیادہ توجہ دیں۔ڈاکٹر عقیل انعام نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں امسال 403 ریسرچ گرانٹس کی منظوری دی گئی ہے۔

لاہور: (22 جنوری،جمعرات):وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہاہے کہ اساتذہ ہائیر ایجوکیشن کے نظام کو ٹرانسفارم کرنے میں بنیادی عنصر ہیں،اساتذہ کی ترقی میں ٹیچنگ کا پیرامیٹر شامل ہوناچاہیے۔وہ پنجاب یونیورسٹی اور ایچ ای سی کی نیشنل اکیڈیمی آف ہائیر ایجوکیشن کے زیر اہتمام اساتذہ کے لئے نیشنل آوٹ ریچ پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔اس موقع پر صدرپنجاب یونیورسٹی اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن ڈاکٹر امجدمگسی،ایم ڈی نیشنل اکیڈیمی ڈاکٹر نور آمنہ، ٹریننگ کوآرڈینیٹرڈاکٹر سنیہ زہرا اور فیکلٹی ممبران نے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ تربیتی پروگرام کے انعقاد کا مقصد اساتذہ کی تدریسی و انتظامی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام جامعات میں معیاری تعلیم کی جانب اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تربیتی پروگرام میں تدریس میں ٹیکنالوجی کا استعمال سکھایا جائے گاجس سے اساتذہ کو طلباؤ طالبات میں صلاحیتیں پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے بہترین تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ انسان کو زندگی کے ہر مرحلے میں سیکھنے کی ضرورت رہتی ہے۔ ڈاکٹر نور آمنہ نے کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی جامعہ سے اساتذہ تربیتی پروگرام کا انعقاد کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تربیتی پروگرام کیلئے بہترین ریسورس پرسنز کا بندوبست کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی تربیت ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی ترجیحات میں شامل ہے۔ڈاکٹرسنیہ زہرا نے کہا کہ تربیتی پروگرام 4 ہفتوں پر مشتمل ہے جس میں 9 ماڈیولز ہوں گے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے کی زیر ہدائت محکمۂ ہائر ایجوکیشن کے چوتھے اسپورٹس ایونٹس 2025-26جیت لو میدان کا آغاز
راولپنڈی: وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے کی زیر ہدائت محکمۂ ہائر ایجوکیشن کے چوتھے اسپورٹس ایونٹس 2025-26 کے سلسلے میں صوبائی سطح پر ہاکی (بوائز اینڈ گرلز) چیمپئن شپ کی رنگا رنگ اور شاندار افتتاحی تقریب گورنمنٹ وقارُالنسا گرلز کالج راولپنڈی کی اسٹیٹ آف دی آرٹ اسپورٹس سہولیات میں منعقد ہوئی۔
افتتاحی تقریب کی مہمانِ خصوصی ممبر صوبائی اسمبلی اور پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات و ثقافت، محترمہ شازیہ رضوان تھیں۔ چیمپئن شپ میں پنجاب کے 9 ڈویژنز سے تعلق رکھنے والے 230 نامور اور باصلاحیت کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں، جو صوبائی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔
اس موقع پر طلبہ و طالبات اور کھلاڑیوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز اور صوبائی وزیر برائے ہائر ایجوکیشن رانا سکندر حیات (تعلیم کا سپاہی) کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں کھیلوں کے فروغ، طلبہ کو بھرپور مواقع فراہم کرنے اور اسپورٹس کلچر کو مضبوط بنانے کے لیے ان کی انتھک کاوشیں اور پختہ عزم قابلِ تحسین ہیں۔
منتظمین کے مطابق یہ ایونٹ نوجوانوں میں صحت مند سرگرمیوں، مثبت مقابلے، نظم و ضبط اور قائدانہ صلاحیتوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اسپورٹس ایونٹس کا پیغام ہے: “جیت لو ہر میدان”۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پورمیں محمد شجیع الرحمن کو ریگولر رجسٹرار اور طالب حسین کو ریگولر کنٹرولر امتحانات تعینات کر دیاگیا
اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پورمیں محمد شجیع الرحمن کو ریگولر رجسٹرار اور طالب حسین کو ریگولر کنٹرولر امتحانات تعینات کر دیاگیا ہے۔ اس موقع پر تقرر نامے دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے کہا کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں طویل عرصے بعد باقاعدہ پرنسپل افسران کا تقرر کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں سلیکشن بورڈ میں مقابلے کے بعد میرٹ پر افسران کی تقرری کی گئی ہے جس کی منظوری سینڈیکیٹ نے دی ہے۔ سینڈیکیٹ کے فیصلے کی روشنی میں نوٹیفکیشن جاری کر دیئے گئے ہیں۔ اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے پرووائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرعبدالروف کے ہمراہ نئے تعینات ہونے والے رجسٹرار محمد شجیع الرحمن اور کنٹرولر امتحانات طالب حسین کو تقرر نامے دیئے۔ اس موقع پر ڈینز، اساتذہ کرام اور افسران بڑی تعدا دمیں موجود تھے۔
فودان یونیورسٹی چین کا انٹرنیشنل ایلیٹ پاینیر پروگرام: ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کے لیے داخلوں کا اعلان
چین کی معروف جامعہ فودان یونیورسٹی نے انٹرنیشنل ایلیٹ پاینیر پروگرام کے تحت بین الاقوامی طلبہ کے لیے ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ ڈگری پروگرامز میں داخلوں کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ پروگرام عالمی معیار کی تحقیق، جدید علمی سہولیات اور بین الاقوامی تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق اس پروگرام کا مقصد باصلاحیت طلبہ کو تحقیق، جدت اور قیادت کی صلاحیتوں کے فروغ کے مواقع فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ عالمی سطح پر تعلیمی اور سماجی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
دلچسپی رکھنے والے امیدوار آن لائن درخواست درج ذیل لنک کے ذریعے جمع کرا سکتے ہیں:
https://istudent.fudan.edu.cn/apply/#/
مزید تفصیلات، اہلیت کے معیار اور درخواست کے طریقہ کار کے لیے امیدوار فودان یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ سے رجوع کریں۔
:پنجاب یونیورسٹی سینٹر آف ایکسیلینس اِن مالیکیولر بائیولوجی (کیمب) لاہورنے پاکستان میں زرعی جدت کو فروغ دینے کے لیے تحقیق و ترقی کے دو اہم معاہدوں پر دستخط
پنجاب یونیورسٹی سینٹر آف ایکسیلینس اِن مالیکیولر بائیولوجی (کیمب) لاہورنے پاکستان میں زرعی جدت کو فروغ دینے کے لیے تحقیق و ترقی کے دو اہم معاہدوں پر دستخط کیے۔ ان معاہدوں پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے دستخط کیے۔پہلا معاہدہ بہتر کپاس کی اقسام کی تیاری سے متعلق ہے، جو ڈاکٹر محمد ادریس خان، سیکریٹری پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی، ہیڈکوارٹرز اور ڈاکٹر صباحت حسین، ڈائریکٹر سینٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ، ملتان کے ساتھ طے پایا۔ اس اشتراکِ عمل سے جدید تحقیق اور افزائشی حکمتِ عملیوں کے ذریعے کپاس کی پیداوار میں بہتری اور قومی کاٹن سیکٹر کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔دوسرا معاہدہ ڈاکٹر جلال ادریس، سی ای او جین ٹیک لینڈز کے ساتھ طے پایا، جس کے تحت جدید حیاتیاتی تکنیکوں کو استعمال کرتے ہوئے بالخصوص کپاس اور مکئی کی ہائبرڈ فصلوں کی اقسام تیار کی جائیں گی۔اس موقع پرڈائریکٹر کیمب پروفیسر ڈاکٹر معاذ الرحمان، پروفیسر ڈاکٹر بشریٰ رشید، پروفیسر ڈاکٹر عبدالقیم راؤ، ڈاکٹر اللہ بخش اور مسٹر محمداعجاز نے شرکت کی۔ یہ معاہدے اکیڈیمیا اور صنعت کے مابین تعاون کے فروغ اور پاکستان میں پائیدار زرعی ترقی کی جانب اہم قدم ہیں۔
پنجاب یونیورسٹی اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے شاہد جاوید برکی انسٹیٹیوٹ آف پبلک پالیسی (بی آئی پی پی) کے مابین جامعہ میں شمسی توانائی کا نظام نصب کرنے اور طلبہ کے لیے وظائف کی فراہمی کے حوالے سے معاہدہ

پنجاب یونیورسٹی اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے شاہد جاوید برکی انسٹیٹیوٹ آف پبلک پالیسی (بی آئی پی پی) کے مابین جامعہ میں شمسی توانائی کا نظام نصب کرنے اور طلبہ کے لیے وظائف کی فراہمی کے حوالے سے معاہدہ طے پاگیا۔ اس سلسلے میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب وائس چانسلر آفس، پنجاب یونیورسٹی میں منعقد ہوئی۔اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی، چیئرمین بی آئی پی پی مسٹر شاہد جاوید برکی، ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر حافظ انوار اصغر، ڈائریکٹر ایکسٹرنل لنکجز پروفیسر ڈاکٹر یامینہ سلمان سمیت دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔ معاہدے کے تحت بی آئی پی پی پنجاب یونیورسٹی میں شمسی توانائی کا نظام نصب کرنے کے لیے 40 ہزار امریکی ڈالر عطیہ کرے گا، نیٹ میٹرنگ کے ذریعے حاصل ہونے والی بچت کو شاہد جاوید برکی (ایس جے بی) سکالرشپ فنڈ کے تحت 25 سالہ مدت کے لیے وظائف کی فراہمی میں استعمال کیا جائے گا، جس سے مختلف تعلیمی شعبوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ مستفید ہوں گے۔پنجاب یونیورسٹی منصوبے کے شفاف نفاذ کو یقینی بنائے گی، وظائف حاصل کرنے والے طلبہ کی تعلیمی کارکردگی سے متعلق رپورٹس باقاعدگی سے بی آئی پی پی کو فراہم کرے گی اور یونیورسٹی کی ڈونر وال پر اعتراف کے ذریعے ادارہ جاتی سطح پر شکریہ ادا کرے گی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ یہ معاہدہ یونیورسٹی میں پائیدار شمسی توانائی کے حل کے قیام میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پنجاب یونیورسٹی صاف اور سرسبز ماحول کے فروغ کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے لیے ایک سرسبز اور پائیدار مستقبل کی تشکیل میں شاہد جاوید برکی انسٹیٹیوٹ آف پبلک پالیسی کی خدمات کو سراہا۔یہ اشتراک دونوں اداروں کے مابین پائیدار توانائی کے منصوبوں اور تعلیمی ترقی کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
محکمہ ثانوی تعلیم بلوچستان نے تعلیمی سال 2026ءکے لیے درسی کتب کی ترسیل اور اشاعت میں ایک تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔
محکمہ ثانوی تعلیم بلوچستان نے تعلیمی سال 2026ءکے لیے درسی کتب کی ترسیل اور اشاعت میں ایک تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے درسی کتب کی پچاس فیصد سے زائد کتب کامیابی کے ساتھ مکمل کرکے لاہور سے کوئٹہ پہنچا دی گئی ہیں۔جو گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی مقررہ وقت سے پہلے صوبے بھر کے تمام اضلاع میں طلبہ کو مفت فراہم کی جائیں گی۔پرنٹنگ ٹینڈرز کے عمل میں مکمل شفافیت کو یقینی بناتے ہوئے صوبائی خزانے کو تقریباً ایک ارب 25 کروڑ روپے کی خطیر بچت فراہم کی گئی ہے۔ یہ تمام اقدامات وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی اور صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی کے وژن اور سیکرٹری محکمہ تعلیم اسفندیار خان کی واضح ہدایات کی روشنی میں عمل میں لائے گئے۔محکمہ کی رپورٹ کے مطابق تعلیمی سال 2023-24 میں 92 لاکھ 54 ہزار 625 درسی کتابیں 2 ارب 12 کروڑ 46 لاکھ روپے کی لاگت سے شائع کی گئیں، جبکہ 2024-25 میں 93 لاکھ 9 ہزار کتابوں کی اشاعت پر 1 ارب 8 کروڑ 66 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ اس کے برعکس 2025-26ئمیں ایک کروڑ 15 لاکھ درسی کتابیں محض 88 کروڑ 31 لاکھ روپے میں تیار کی گئیں، جو غیر معمولی بچت کی عکاس ہے۔اعداد و شمار کے مطابق رواں برس کتابوں کی اشاعت 0.65 پیسہ فی صفحہ کے حساب سے ممکن بنائی گئی، جو ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں کم ترین لاگت ہے۔ مثال کے طور پر خیبر پختونخوا میں یہی لاگت 0.79 پیسہ فی صفحہ رہی۔اسکول ڈائریکٹوریٹ کے مطابق رواں تعلیمی سال کے لیے ایک کروڑ 15 لاکھ کتابوں کی ڈیمانڈ کی گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 22 لاکھ زیادہ ہے۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ صوبائی حکومت کی جانب سے تقریباً 4 ہزار بند اسکولوں کی بحالی اور 10 ہزار سے زائد نئے اساتذہ کی بھرتی ہے۔نیشنل کریکلم آف پاکستان 2022-23 کے تحت پرائمری سے انٹرمیڈیٹ سطح تک نئے نصاب کے مطابق درسی کتب تیار کر لی گئی ہیں۔ نصاب میں ناظرہ و ترجمہ? قرآن، کمپیوٹر ایجوکیشن اور سپلیمنٹری لرننگ مٹیریل جیسے ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی، صحت و جسمانی تعلیم، شہریت اور اخلاقیات کو شامل کیا گیا ہے آئندہ بھی جاری
ابلاغیات کے شعبے کو جدید اور موثر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت اور آئی ٹی کے دیگر جہتوں سے مزین کرنا وقت کی ضرورت ہے۔……..وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران
وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے کہا ہے کہ ابلاغیات کے شعبے کو جدید اور موثر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت اور آئی ٹی کے دیگر جہتوں سے مزین کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور اس سلسلے میں شارٹ کورسز کو متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ سلیبس کو جدید بنانے پر بھی اقدامات کررہی ہے۔ وائس چانسلر نے ان خیالات کا اظہار ریجنل ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز بہاول پور ڈاکٹر ناصر حمید سے اپنے دفتر میں ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر رجسٹرار محمد شجیع الرحمن ، خزانہ دار ڈاکٹر عبدالستار ظہوری، ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز ڈاکٹر شہزاد احمد خالد موجود تھے۔ وائس چانسلر نے کہا کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشنز حکومت پنجاب تعلیم، ثقافت اور آگاہی کے لیے نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ ڈویژنل انفارمیشن آفس بہاول پور بھی تعلیمی ترقی میں جامعات اور تعلیمی اداروں کے شانہ بشانہ کام کر رہا ہے۔ ڈاکٹر ناصر حمید نے یونیورسٹی کی نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے اپنے تعاون کا اظہار کیا ۔
آنے والا دور مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا ہے، اس لیے ہمیں 2025 سے 2030 کے درمیان اپنے پرائمری سکولوں سے ہی اے آئی اور ڈیجیٹل تعلیم کا آغاز کرنا ہوگا
: قائم مقام گورنر پنجاب ملک محمد احمد خان کہا ہے کہ آنے والا دور مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا ہے، اس لیے ہمیں 2025 سے 2030 کے درمیان اپنے پرائمری سکولوں سے ہی اے آئی اور ڈیجیٹل تعلیم کا آغاز کرنا ہوگا۔ وہ پنجاب یونیورسٹی الرازی ہال میں ہنرمند پنجاب اسکالرشپ کی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی اپنے خیالات کا اظہار کررہے تھے۔ اس موقع پر وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات، وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی،فیکلٹی ممبران اورطلباؤطالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قائم مقام گورنر پنجاب ملک محمد احمد خان نے کہا کہ کسی بھی شعبے میں امتیازی کامیابی اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثمر ہوتی ہے اور موجودہ پنجاب حکومت وزیر اعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں اس خطے کی واحد حکومت ہے جس نے اپنے تعلیمی بجٹ کو تین گنا بڑھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہنرمند پنجاب اور ای روزگار جیسے پروگرام وقت کی اہم ضرورت ہیں اور ہماری نوجوان نسل کو جدید تقاضوں کے مطابق ہنرمند بنانا ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل اسکلز میسر نہ ہونے کے باعث میری نسل ایک بحرانی دور سے گزری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 60 ہزار سرکاری سکول موجود ہیں اور اگر اس سطح پر انقلابی فیصلے کوئی کر سکتا ہے تو وہ وزیر اعلیٰ مریم نواز ہیں۔ انہوں نے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے اخراجات کا تقابل کرتے ہوئے کہا کہ نجی سکولوں میں ایک بچے پر ماہانہ بھاری اخراجات آتے ہیں جبکہ سرکاری سکولوں میں سالانہ بہت کم رقم خرچ کی جاتی ہے، اس لیے ہمیں سرکاری سکولوں میں پڑھنے والے بچوں پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے کہا کہ حکومت پنجاب نوجوانوں کی تعلیم اور فلاح کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کے بالمقابل پھولوں کی مارکیٹ میں دکانوں کی نیلامی سے حکومتی آمدن میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ گوگل کے اشتراک سے ہزاروں طلبہ کو مفید ڈیجیٹل کورسز کروائے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دو برسوں میں پانچ لاکھ بچوں کو ڈیجیٹل اسکلز فراہم کی جائیں گی، ایک ملین ڈیجیٹل کورسز کروائے جائیں گے اور صوبے بھر کے ہائی سکولوں میں چار ہزار اے آئی لیبز قائم کی جا رہی ہیں۔
پنجاب یونیورسٹی اور ہنرمند پنجاب کنسورشیم کے درمیان نوجوانوں کی مہارتوں میں اضافے اورجدیدٹیکنالوجیز میں استعداد کار بڑھانے کے لیے معاہدہ طے پاگیا۔

پنجاب یونیورسٹی اور ہنرمند پنجاب کنسورشیم کے درمیان نوجوانوں کی مہارتوں میں اضافے اورجدیدٹیکنالوجیز میں استعداد کار بڑھانے کے لیے معاہدہ طے پاگیا۔ اس سلسلے میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی کے آفس میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی، سی ای او ہنرمند پنجاب کنسورشیم محمد عمران، ڈائریکٹر سینٹر فار ہائی انرجی فزکس ڈاکٹر قدیر افضل ملک، ڈائریکٹر ایکسٹرنل لنکجز پروفیسر ڈاکٹر یامینہ سلمان و دیگرنے شرکت کی۔ تفصیلات کے مطابق یہ اشتراک پنجاب یونیورسٹی سینٹر فار ہائی انرجی فزکس کے ذریعے نافذ کیا جائے گا، جس کا مقصد نوجوانوں کو صنعت سے ہم آہنگ ڈیجیٹل اور تکنیکی مہارتیں فراہم کرنا ہے تاکہ ان کی ملازمت کے مواقع بڑھیں اور صوبے میں بے روزگاری میں کمی لائی جا سکے۔معاہدے کے تحت جدید شعبوں میں پیشہ ورانہ تربیتی پروگرامز پیش کیے جائیں گے جن میں مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، سائبر سیکیورٹی اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ تربیتی پروگرامز کا دورانیہ تین سے چار ماہ ہوگا جبکہ پانچ سے زائد طلبہ کو تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ہنرمند پنجاب کنسورشیم، جس میں سائبر سیکیورٹی پاکستان، نیشنل انیشی ایٹو فار ای کامرس اینڈ انکیوبیشن پروگرام اور نیشنل انیشی ایٹو فار سمارٹ اکانومی شامل ہیں، مارکیٹنگ، اساتذہ کی فراہمی، نصاب کی تیاری، تعلیمی نظم و نسق، مانیٹرنگ، کوالٹی اشورنس اور تشخیص کی ذمہ داریاں انجام دے گا