گورنمنٹ گریجویٹ کالج بھکر کے طالب علم کی شاندار کامیابی — جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے ADS امتحان میں پہلی پوزیشن
گورنمنٹ گریجویٹ کالج بھکر نے ایک بار پھر تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے ایسوسی ایٹ ڈگری اِن سائنس (ADS) امتحان 2025 میں کالج کے ہونہار طالب علم نے 675 نمبروں کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کر کے نہ صرف ادارے بلکہ ضلع بھکر کا نام بھی روشن کر دیا۔
کامیابی کی خبر پر کالج کے پرنسپل نے طالب علم کو مبارکباد دیتے ہوئے اسے ادارے کے معیارِ تعلیم، محنتی اساتذہ اور طلبہ کی مسلسل جدوجہد کا ثبوت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کامیابی کالج کی علمی روایت کا تسلسل اور آئندہ مزید بہتر نتائج کی بنیاد ہے۔
یونیورسٹی کی 12ویں کانووکیشن میں کامیاب طالب علم کو میرٹ سرٹیفکیٹ، ڈگری، گولڈ میڈل اور کیش انعام سے نوازا جائے گا، جو اس کی محنت اور لگن کا عملی اعتراف ہے۔
گورنمنٹ گریجویٹ کالج بھکر کی یہ نمایاں کامیابی ادارے کے لیے فخر اور علاقے کے لیے خوشی کا باعث ہے، جس سے طلبہ میں مزید جوش و جذبہ پیدا ہوا ہے۔
اہم خبریں
دو روزہ تربیتی ورکشاپ: “ایڈوانسڈ ایکسل برائے ڈیٹا مینجمنٹ اور اینالسس” کا انعقاد
دو روزہ تربیتی ورکشاپ: “ایڈوانسڈ ایکسل برائے ڈیٹا مینجمنٹ اور اینالسس” کا انعقاد
اسلام آباد: امریکی محکمۂ خارجہ کے میرٹ اینڈ نیڈز بیسڈ اسکالرشپ پروگرام کے تحت، جسے ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نافذ کر رہا ہے، “Advanced Excel for Data Management and Analysis” کے عنوان سے دو روزہ عملی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ میں وفاقی اور راولپنڈی کی مختلف جامعات کے افسران کے علاوہ ایچ ای سی کے ایچ آر ڈی ڈویژن کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اس ورکشاپ کا مقصد شرکاء کی عملی صلاحیتوں کو مائیکروسافٹ ایکسل کے ذریعے ڈیٹا ہینڈلنگ، تجزیہ اور رپورٹنگ میں مضبوط بنانا تھا۔
ماہر ٹرینر مسٹر تمکین احمد نے ایڈوانسڈ فنکشنز، ڈیٹا ویژولائزیشن، ڈیش بورڈز، پائیوٹ ٹیبلز، اور پروجیکٹ مینجمنٹ میں استعمال ہونے والے تجزیاتی ٹولز پر ہینڈز آن سیشنز کروائے۔ شرکاء نے ڈیٹا کلیننگ، آٹومیشن اور ماڈل بلڈنگ پر عملی مشقیں کیں اور ورکشاپ کے انٹرایکٹو اور عملی نوعیت کے فارمیٹ کو خوب سراہا۔
دوسرے روز ایڈوائزر اسکالرشپس، ایچ ای سی، مسٹر محمد رضا چوہان نے “Building Financially Sustainable Universities: The Role of Governance, Responsibility & Autonomy” کے موضوع پر خصوصی سیشن لیا۔ انہوں نے اچھی گورننس کے بنیادی ستونوں — دیانت داری، جوابدہی، شفافیت اور کارکردگی — پر زور دیا۔ انہوں نے برانڈ ڈیولپمنٹ، ریسرچ کمرشلائزیشن، انڈسٹری پارٹنرشپس اور مارکیٹ سے ہم آہنگ تعلیمی پروگراموں کو جامعات کی طویل مدتی مالی پائیداری کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
شرکاء نے ادارہ جاتی چیلنجز اور جامعات کے بدلتے ہوئے کردار پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ایڈوائزر چوہان نے مسئلہ حل کرنے پر مبنی جدید قیادت کی ضرورت پر زور دیا اور کووڈ-19 کے دوران اعلیٰ تعلیم کے شعبے کی مؤثر پالیسی سازی کو قابلِ تقلید مثال قرار دیا۔
ورکشاپ کا اختتام سرٹیفکیٹس کی تقسیم کے ساتھ ہوا۔ ایڈوائزر اسکالرشپس نے امید ظاہر کی کہ شرکاء حاصل شدہ ڈیٹا مینجمنٹ اور اینالسس کی مہارتوں کو اپنے اداروں میں مؤثر طریقے سے استعمال کریں گے۔ جامعات کے نمائندگان نے ایچ ای سی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس تربیت کو اپنے ادارہ جاتی نظام میں نافذ کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
او آئی سی کامسٹیک سیکرٹریٹ اسلام آباد میں چھٹی ریکٹرز کانفرنس، 170 سے زائد وائس چانسلرزو ریکٹرز کی شرکت
و آئی سی کامسٹیک سیکرٹریٹ اسلام آباد میں ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز پاکستان (ایپ سپ ) اور کامسٹیک کے اشتراک سے چھٹی ریکٹرز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ملک بھر کی ممتاز جامعات کے تقریباً 170 وائس چانسلرز و ریکٹرز اور 17 ممالک سے 40 غیر ملکی مندوبین نے شرکت کی۔ کانفرنس کو پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کا ایک اہم بین الاقوامی اجتماع قرار دیا جا رہا ہے۔افتتاحی اجلاس کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبد الرحمن، چیئرمین ایپ سپ نے کی۔ کوآرڈینیٹر جنرل کامسٹیک پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد مسلم دنیا اور پاکستان کی جامعات کو ایک مضبوط، باہمی تعاون پر مبنی تعلیمی ماڈل کی طرف لے جانا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جدید دور میں تحقیق، اختراع اور قیادت وہ ستون ہیں جن پر مستقبل کی مضبوط قومیں کھڑی ہوتی ہیں۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کامسٹیک خطے کی سائنسی و تعلیمی ترقی کے لئے شواہد پر مبنی پالیسی سازی، تحقیق کے فروغ اور اکیڈمیا کے درمیان اشتراک کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھے گا۔ صدر ایپ سپ فیڈرل چیپٹر ڈاکٹر عبدالباسط نے خوش آمدیدی کلمات پیش کئے جبکہ ریکٹر سپیریئر یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر سمیرا رحمان نے ’’کردار کے ساتھ قیادت: خواہش سے عمل تک‘‘ کے موضوع پر کلیدی خطاب کیا۔تقریب سے منسٹر قونصلر برائے پبلک ڈپلومیسی امریکی سفارتخانہ اسلام آباد اینڈریو ہالس اور سفیر رومانیہ برائے پاکستان اکٹر ڈین اسٹونیسکو نے بھی خطاب کیا۔
مہمان خصوصی چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے ایپ سپ اور کامسٹیک کی اس مشترکہ کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ قومی و عالمی تعلیمی قیادت کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا اعلیٰ تعلیم کے مستقبل کے لئے خوش آئند ہے۔ اجلاس کا اختتام تعریفی شیلڈز کی تقسیم، گروپ فوٹو اور نیٹ ورکنگ بریک پر ہوا۔ بعد ازاں کانفرنس پالیسی سازی کے لئے چار ویلیڈیشن فورمز میں تقسیم ہوئی۔ پہلے فورم میں پاکستان کو درپیش حکمرانی کے بحران اور جوابدہ نظام کی ضرورت پر گفتگو ہوئی۔
دوسرے فورم میں اکیڈمیا میں قیادت کے بحران اور کردار و دیانت پر مبنی قائدانہ ماڈل پر روشنی ڈالی گئی۔تیسرے فورم میں اعلیٰ تعلیم میں اصلاحات، جدید نصاب، تحقیق کی ترجیحات اور عالمی مسابقت پر بحث ہوئی۔ چوتھے فورم میں بین الاقوامی مندوبین نے اپنے تجربات اور تجاویز پیش کیں۔کانفرنس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور مسلم دنیا کی جامعات شواہد پر مبنی پالیسی سازی، موثر گورننس اور مشترکہ تحقیق کے ذریعے اعلیٰ تعلیم کو نئی سمت دینے کے لیے اپنے تعاون کو مزید مضبوط کریں گی۔
پنجاب یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ سائیکالوجی کے زیر اہتمام مسلم سائیکالوجی پر کانفرنس کا انعقاد
پنجاب یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ سائیکالوجی کے زیراہتمام سوسائٹی فار ایڈوانسمنٹ آف مسلم سائیکالوجی،پاکستان سائیکالوجیکل ایسوسی ایشن لاہور چیپٹر اور فاؤنٹین ہاؤس کے اشتراک سے بیسویں ’مسلم سائیکالوجی کانفرنس‘ کاانعقاد کیاگیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی، ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ سائیکالوجی اور پی پی اے کی صدر پروفیسر ڈاکٹر رافعہ رفیق، سوسائٹی فار ایڈوانسمنٹ آف مسلم سائیکالوجی کے صدر ڈاکٹر امجد طفیل، نامور ماہرینِ نفسیات، محققین، فیکلٹی ممبران اورطلباؤطالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اپنے خطاب میں وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ نفسیات ایک نہایت اہم مضمون ہے۔ انہوں نے موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے پاکستان میں مسلم سائیکالوجی اور ذہنی صحت کے فروغ پر پُراثر خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ۔19کے دوران ماہرینِ نفسیات نے معاشرے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم سائیکالوجی ہمیں اپنے ملک سے محبت کا درس دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان وسائل اور بہترین مواقعوں سے بھرپور ملک ہے۔ انہوں نے کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر منتظمین کی کاوشوں کو سراہا۔پروفیسر ڈاکٹر رافعہ رفیق نے کامیاب کانفرنس کیلئے تعاون کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ تقریب کا مرکزی موضوع ’آفات اور ایمرجنسی صورتحال میں ذہنی صحت: مسلم نقط نظر‘ تھا، جس نے ماہرینِ نفسیات، سکالرز اور طلبہ کو ثقافتی بنیادوں پر مبنی ذہنی صحت کی حکمتِ عملیوں پر بھرپور بحث و مباحثہ کے لیے پلیٹ فارم مہیا کیا۔ کانفرنس میں ڈاکٹر علی اکبر، ڈاکٹر امجد طفیل، ریاض فتیانہ، پروفیسر ڈاکٹر اسمعۃ اللہ، ڈاکٹر عثمان رشید، ڈاکٹر فاطمہ کمران، پروفیسر ڈاکٹر روحی اور ڈاکٹر عفیفہ نے بطور پینلسٹ اور کلیدی مقررین خدمات سرانجام دیں اور تقریب کی پیشہ ورانہ تنظیم میں اہم کردار ادا کیا۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے زیرِ اہتمام فیض ادبی میلہ سیزن 4 اختتام پذیر
بہاول پور (پ ر) اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے زیرِ اہتمام فیض ادبی میلہ سیزن 4 اختتام پذیر ہو گیا۔اختتامی روز مصنوعی ذہانت اور سوشل میڈیا کے موضوع پر دانشور جامی چانڈیواور ڈاکٹر روبینہ شاہ جہاں ڈین فیکلٹی آف آرٹس پشاور یونیورسٹی پشاورکی زیر صدارت سیشن میں خلیل کنبھار، گل نو خیز اختر، ڈاکٹر نیر مصطفیٰ اور دیگر نے خطاب کیا۔ براڈ کاسٹر اور ماہر تعلیم ڈاکٹر نصراللہ خان ناصر مرحوم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا جس میں ڈاکٹر روبینہ رفیق ڈاکٹر مقبول گیلانی ڈاکٹر زوار شاہ اور دیگر نے خطاب کیا۔ اختتامی سیشن ڈاکٹر روبینہ ترین سابق چیئرپرسن شعبہ اردو زکریا یونیورسٹی ملتان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اس موقع پر ڈاکٹر تقی عابدی، جامی چانڈیو، ڈاکٹر عاصم ثقلین ،رانا محبوب اختر، شوکت اشفاق نے خطاب کیا۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر واصف اقبال نے سرانجام دیئے۔ فیض ادبی میلے کے روح رواں ڈین فیکلٹی آف آرٹس پروفیسر ڈاکٹر سید عامر سہیل نے کہا کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں شعبہ اردو و اقبالیات کے زیر اہتمام چوتھا فیض ادبی میلہ جامعہ کی 100 سالہ تقریبات کا حصہ ہے ۔ انہوں نے اس میلے کے انعقاد پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران کی سرپرستی فیکلٹی و یونیورسٹی انتظامیہ کے تعاون اور پاکستان بھر سے آئے مندوبین کی شرکت پر شکریہ ادا کیا۔ چوتھے فیض ادبی میلے میں کتاب میلہ اور ثقافتی رنگ پر مشتمل محفل بھی منعقد ہوئی۔
NUST TABA کلب کا “Book Asylum 6.0″—گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول چک خاص روات میں تعلیمی خدمت کا خوبصورت اقدام
اسلام آباد/روات: NUST Community Services Club (TABA) کی ٹیم نے تعلیم و خواندگی کے فروغ کے لیے ایک اہم سماجی خدمت پروگرام Book Asylum 6.0 کا انعقاد گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول، چک خاص روات میں کیا۔ اس سرگرمی کا مقصد طالبات میں مطالعے کا شوق بیدار کرنا اور انہیں بہتر تعلیمی مواقع فراہم کرنا تھا۔
تقریب کے دوران طلبہ کو کتابوں، کہانیوں اور دلچسپ سرگرمیوں کے ذریعے نہ صرف علم تک رسائی فراہم کی گئی بلکہ ان میں بڑے خواب دیکھنے اور آگے بڑھنے کی تحریک بھی پیدا کی گئی۔ رضاکاروں نے بچوں کے ساتھ وقت گزارا، کتابیں شیئر کیں اور انہیں پڑھنے کی اہمیت سے آگاہ کیا، جس سے کمیونٹی اور طلبہ کے درمیان مضبوط تعلق قائم ہوا۔
پروگرام کے تحت اسکول میں ایک چھوٹی لائبریری بھی قائم کی گئی، جبکہ کتابوں کا بڑا مجموعہ عطیہ کیا گیا، تاکہ اس مہم کا اثر ایک دن سے بڑھ کر مستقل بنیادوں پر طلبہ کی تعلیمی ترقی میں کام آئے۔
اس اقدام کو مقامی کمیونٹی اور اسکول انتظامیہ نے انتہائی سراہا، جو NUST TABA کلب کے علم دوستی اور سماجی خدمت کے جذبے کی بہترین مثال ہے۔
خصوصی افراد کا عالمی دن، لبرٹی چوک میں فرینڈشپ سرکل، بچوں کی کھلی کچہری، وزیر تعلیم کی خصوصی شرکت
وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے لبرٹی چوک میں غزالی ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے خصوصی افراد کے عالمی دن کی مناسبت ست بنائَے گئے فرینڈشپ سرکل میں شرکت کی جہاں وہ غزالی سکولوں کے خصوصی بچوں میں گھل مل گئے، ان میں پھول اور تحائف تقسیم کئے اور ان کے مسائل سنے۔ اس موقع پر وزیر تعلیم نے فرینڈشپ سرکل میں دیگر خصوصی افراد سے بھی ملاقات کی اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔ رانا سکندر حیات نے کہا کہ غزالی ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی خصوصی بچوں کی تعلیم کیلئے کاوشیں قابل تحسین ہیں۔ ایسے ادارے خصوصی بچوں کی تعلیم و بہبود کیلئے حکومت کا دست و بازو ہیں۔ پنجاب حکومت غزالی ایجوکیشن فاؤنڈیشن جیسے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ خصوصی بچوں کی فلاح و بہبود کیلئے پنجاب بھر میں سپیشل ایجوکیشن مراکز کی تعمیر نو کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ڈسٹرکٹ میں سنٹر آف ایکسیلنس فار برائے خصوصی طلباء بھی بنانے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب سپیشل طلباء کیلئے ہمت کارڈ لا رہی ہیں۔ رانا سکندر حیات نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے خصوصی بچوں کیلئے تعلیم پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے پاکستان کا اپنی نوعیت کا پہلا سٹیٹ آف دی آرٹ آٹزم سکول شروع کیا ہے جہاں خصوصی بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ غذائی منصوبہ بھی شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے سکولوں میں خصوصی بچوں کیلئے انکلوسو ایجوکیشن ماڈل پر بھی کام کیا جا رہا ہے اور خصوصی بچوں کی بہتر ذہنی اور جسمانی ترقی کو یقینی بنانے کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
سرکاری جامعات خصوصی افراد کے لئے تربیت یافتہ افرادی قوت پیدا کر رہی ہیں، پروفیسرڈاکٹر محمد علی لاہور

لاہور(3دسمبر،بدھ):وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا ہے کہ سرکاری جامعات خصوصی افراد کے لئے تربیت یافتہ افرادی قوت پیدا کررہی ہیں،سب کو سمجھنا ہے کہ خصوصی بچے ہمارے لئے باعث رحمت ہیں۔وہ پنجاب یونیورسٹی چائلڈ ویلفیئر سنٹر کے زیر اہتمام خصوصی افراد کے عالمی دن پرمنعقدہ تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پرممبر پنجاب اسمبلی سیدہ سلمیٰ سعید ہاشمی، ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف سپیشل ایجوکیشن ڈاکٹر حمیرا بانو،انچارچ سی ڈبلیو سی ڈاکٹرعائشہ وجیہہ اللہ،سی ای او اللہ والے ٹرسٹ شاہد لون، فیکلٹی ممبران،خصوصی بچے اور ان کے والدین نے بھرپور شرکت کی۔تقریب میں خصوصی بچوں نے آپریشن بنیان مرصوص پر مبنی ملی نغمے اور صوفیانہ کلام پر شاندار پرفارمنس پیش کی۔ سرتال اکیڈیمی کے بچوں کوصوفیانہ کلام پر وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی نے انعام سے نوازا۔ خصوصی بچوں نے پاکستان کے تمام صوبوں کی نمائندگی کے لئے لباس زیب تن کئے اورپنجاب کی ثقافت کو بھی پرفارمنس کے ذریعے اجاگر کیا۔اپنے خطاب میں پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ خصوصی بچوں کی پرفارمنس دیکھ کر بہت خوشی ہوئی،کچھ سے تو دوستی بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان بچوں کی اس طرح تربیت کرنی چاہیے کہ وہ ایک نارمل زندگی گزارسکیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری جامعات نان کمرشل مضامین کی سرپرستی کر کے معاشرہ متوازن بنانے میں کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی خصوصی بچوں کا ویسے ہی خیال رکھتی ہے، جیسے والدین رکھتے ہیں۔ سلمی ہاشمی نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی نے خصوصی بچوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے بہترین تقریب کا انعقاد کیا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں خصوصی بچوں کا احساس ہے اور ان سے بے حد محبت بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی بچوں کی پرفارمنس بہت متاثرکن ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ بہت باصلاحیت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمی خصوصی بچوں میں نہیں بلکہ ہم میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان بچوں کو معاشرے میں قبولیت اور مواقع فراہم کریں گے تو یہ معاشرے کا اہم حصہ بن سکتے ہیں۔ڈاکٹر حمیرا بانو نے کہا کہ ہمیں خصوصی بچوں کی ضروریات کو سمجھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں خصوصی افراد کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لئے قوت ارادی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ والدین اور اساتذہ کی کوششیں خصوصی بچوں کو معاشرے کا فعال رکن بنا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیم اور بنیادی سہولتیں خصوصی بچوں کا بھی حق ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے اساتذہ بین الاقوامی معیار کے مطابق خصوصی بچوں کو ٹریننگ دے رہے ہیں۔ڈاکٹر عائشہ وجیہہ اللہ نے کہا کہ خصوصی بچوں کو معاون ماحول فراہم کرنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی بچوں کو سہولیات دیں تو وہ معاشرتی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں خصوصی بچوں کی صلاحیتوں اور اعتماد کر سراہنا چاہیے۔
FAST-NUCES لاہور کیمپس کو اپنے 86ویں کانووکیشن 2025 کی وسیع میڈیا کوریج ملی، جس میں فارغ التحصیل طلبہ کی کامیابیوں اور معزز مہمانوں کے متاثر کن پیغامات کو نمایاں کیا گیا۔تقریب سے ریکٹر FAST-NUCES ڈاکٹر آفتاب احمد معروف، ڈائریکٹر لاہور کیمپس ڈاکٹر سمیرہ سرفراز، اور مہمانِ خصوصی چیئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن (PHEC) ڈاکٹر اقرار احمد خان نے خطاب کیا۔ مقررین نے تعلیمی معیار، جدت، اور مستقبل کے قائدین تیار کرنے میں یونیورسٹی کے کردار پر زور دیا۔میڈیا کی جانب سے اس پذیرائی نے نہ صرف طلبہ، فیکلٹی اور انتظامیہ کی محنت کو سراہا بلکہ FAST-NUCES کی اعلیٰ تعلیم کے صفِ اوّل کے ادارے کے طور پر حیثیت کو بھی مزید مضبوط کیا ہے۔

بیلجیم کا ’لٹل آئن اسٹائن‘ 15 سال کی عمر میں کوانٹم فزکس میں پی ایچ ڈی حاصل کرنے میں کامیاب— نابغہ طالبعلم کا ’انسان کی لامحدود عمر کے امکانات دریافت کرنے‘ کے مشن کا اعلان
برسلز/اینٹورپ: بیلجیم کے 15 سالہ نابغہ طالبعلم لارینٹ سائمنز نے کوانٹم فزکس میں پی ایچ ڈی مکمل کرلی، یوں وہ دنیا کے کم عمر ترین پی ایچ ڈی ہولڈرز میں شامل ہوگئے ہیں۔ پی ایچ ڈی کی کامیاب تکمیل کے بعد اب ان کا نیا مقصد طبی تحقیق کے ذریعے “انسانی امرت” یا انسان کی لامحدود عمر کے امکانات دریافت کرنا ہے۔لارینٹ نے رواں ہفتے یونیورسٹی آف اینٹورپ میں اپنا ڈاکٹریٹ تھیسس کامیابی سے دفاع کیا۔ ان کی تحقیق کا موضوع “Bose Polarons in Superfluids and Supersolids” تھا، جس کا اعلان یونیورسٹی نے اپنی ویب سائٹ پر کیا۔ بوز—آئن سٹائن کنڈینسیٹ ایک انتہائی کم درجہ حرارت والی گیس ہوتی ہے جہاں ذرات مشترکہ کوانٹم حالت میں برتاؤ کرتے ہیں، اور یہ کثیر الجسیمی طبیعیات کے مطالعے کے لیے ایک قابلِ کنٹرول لیبارٹری کا کردار ادا کرتی ہے۔
بیلجیم میں پیدا ہونے والے لارینٹ اس وقت نیدرلینڈز میں رہتے ہیں۔ انہیں بچپن ہی سے “نابغہ” مانا جاتا ہے۔ انہوں نے آٹھ سال کی عمر میں تقریباً ایک سال کے اندر ہائی اسکول مکمل کیا، جیسا کہ رائٹرز نے رپورٹ کیا۔ 2019 میں وہ دس سال کی عمر سے پہلے گریجویشن کا ریکارڈ قائم کرنے کے قریب پہنچ گئے تھے، مگر گریجویشن شیڈول کے اختلافات کے باعث انہوں نے آئیندھووین یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کا الیکٹریکل انجینئرنگ پروگرام چھوڑ دیا۔بعد ازاں انہوں نے یونیورسٹی آف اینٹورپ سے فزکس میں بیچلرز کیا اور صرف 18 ماہ میں امتیازی نمبروں کے ساتھ گریجویشن مکمل کی—جو عام طور پر تین سال میں ہوتی ہے۔
صرف 12 سال کی عمر میں انہوں نے کوانٹم فزکس میں ماسٹرز بھی مکمل کر لیا۔ عام طلبہ کو یہ ڈگری دو سال میں ملتی ہے، لیکن لارینٹ نے تمام کورسز پہلے سمسٹر میں مکمل کیے اور دوسرے سمسٹر میں تھیسس اور انٹرن شپ کی طرف توجہ دی۔انہوں نے جرمنی کے Max Planck Institute میں کوانٹم آپٹکس میں انٹرن شپ کی، جہاں انہوں نے فزکس اور میڈیسن کے امتزاج پر کام شروع کیا۔ ان کی ماسٹرز ریسرچ بوزون اسٹیٹس اور بلیک ہولز کے درمیان مشابہت اور انتہائی کم درجہ حرارت والی کنڈینسیٹ گیسوں پر مرکوز تھی۔