اہم خبریں
پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن (PHEC) میں چیف آپریٹنگ آفیسر (COO) ڈاکٹر منصور احمد بلوچ کی چار سالہ مدتِ ملازمت کی کامیاب تکمیل کے موقع پر ایک پروقار الوداعی تقریب کا انعقاد
پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن (PHEC) میں چیف آپریٹنگ آفیسر (COO) ڈاکٹر منصور احمد بلوچ کی چار سالہ مدتِ ملازمت کی کامیاب تکمیل کے موقع پر ایک پروقار الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب میں چیئرپرسن PHEC پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خان سمیت کمیشن کے افسران اور عملے نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر منصور احمد بلوچ کی خدمات کو سراہا گیا اور ادارے کی ترقی کے لیے ان کی پیشہ ورانہ کاوشوں پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
شرکاء نے ڈاکٹر منصور احمد بلوچ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے ان کے آئندہ پیشہ ورانہ سفر میں کامیابی اور خوشحالی کی دعا کی۔
#EducationForAll #PunjabEducationFoundation #YoungEntrepreneur #PEF #EmpoweringEducation #Education #NGOs #School #Taleem #SED #PunjabEducation,
Nawaz Sharif Center of Excellence for Early Childhood Education Rana Sikandar Hayat,
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کےبغداد الجدید کیمپس میں پرائم منسٹر یوتھ ڈویلپمنٹ سینٹر کا باضابطہ افتتاح
وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے آج بغداد الجدید کیمپس میں پرائم منسٹر یوتھ ڈویلپمنٹ سینٹر کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس سنٹر کا قیام پاکستانی نوجوان نسل کو بااختیار بنانے کے وفاقی حکومت کے مشن کے ساتھ یونیورسٹی کے تعلیمی ماحول کو ہم آہنگ کرنے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی خوشحالی مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز پر نوجوانوں کی مہارت سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید عالمی معیشت میں روایتی تعلیم کو ہائی ٹیک مہارتوں کے ساتھ ضم کرنا ضروری ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ طلباء صرف ڈگری ہولڈر نہیں ہیں بلکہ عالمی سطح پر مسابقتی پیشہ ور ہیں۔ وائس چانسلر نے کہا کہ ہمارے نوجوان ڈیجیٹل پاکستان کے معمار ہیں۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے وژن پر عمل کرتے ہوئے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے جہاں طلباء و طالبات جدت اور تکنیکی مہارت کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کو معاشی طاقت میں تبدیل کر سکتے ہیں۔تقریب کے دوران پرائم منسٹر یوتھ ڈویلپمنٹ سینٹرکے فوکل پرسن ڈاکٹر فیصل شہزاد اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ کی چیئرپرسن اور یوتھ ایمبیسیڈر ڈاکٹر ناجیہ سحر نے سینٹر کے آپریشنل فریم ورک کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ اس سینٹر کو طلباء و طالبات کے لیے “ون اسٹاپ شاپ” کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جس میں چار اہم ستونوں پر توجہ دی گئی ہے۔ تعلیم قومی اور بین الاقوامی اسکالرشپس تک رسائی فراہم کرنا، ملازمت کی جگہوں اور انٹرنشپ کے ذریعے اکیڈمیا اور صنعت کے درمیان فرق کو ختم کرنا، طلباء و طالبات کلبوں، سوسائٹیز اور نوجوانوں کے قومی مکالموں کے ذریعے قیادت کو فروغ دینا،

انٹرپرینیورشپ سپورٹنگ اسٹارٹ اپس اور ڈیجیٹل فری لانسنگ اقدامات اور ڈیجیٹل اکانومی پر فوکس جیسے اقدامات شامل ہیں۔ طلبہ وزیر اعظم کے “ڈیجیٹل یوتھ ہب” اقدام میں سب سے آگے ہوں۔ افتتاحی تقریب میں ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر روبینہ بھٹی، چیئرمین شعبہ جغرافیہ پروفیسر ڈاکٹر شیر محمد ملک، چیئرمین شعبہ ہارٹیکلچرل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر محمد نفیس، چیئرمین شعبہ میڈیا اسٹڈیز ڈاکٹر عدنان ملک، ریاض حسین سنڈھرشعبہ سرائیکی، علی اعظم صدر اے ایس اے، ڈاکٹر حنان خان ترین شعبہ میڈیا اسٹڈیز، عنصر عباس ،معظم درانی، وقار مشتاق، رجسٹرار محمد شجیع الرحمن، ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز ڈاکٹر شہزاد احمد خالد، فیکلٹی ممبران اور طلباء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کا اختتام وائس چانسلر کے مرکز کے مختلف ونگز بشمول آئی ٹی انفراسٹرکچر اور کونسلنگ ڈیسک کے دورے کے ساتھ ہوا جہاں انہوں نے طلباء کے سفیروں سے بات چیت کی اور خطے میں ڈیجیٹل انقلاب کی قیادت کرنے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کی۔
مہارت پر مبنی اورضرورت کے مطابق تعلیم کو فروغ دینے کے لئے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔ ……:وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ
:وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑنے کہا ہے کہ نوجوان طلباؤطالبات پاکستان کا سب سے بڑا اور قیمتی اثاثہ ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہونے والی بے معنی یلغار اور نفرت کو چھوڑ کر پاکستان کا سوچیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی میں وزیرِاعظم لیپ ٹاپ تقسیم سکیم فیز۔IVکی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی، وزیر اعظم کے معاون خصوصی طلحہ برکی،وزیر پبلک افیئرَ رانا مبشر اقبال،ایم این اے شائستہ پرویز ملک، رجسٹرار ڈاکٹر احمد اسلام،صدر اکیڈمک سٹاف ایسو سی ایشن پروفیسرڈاکٹر امجد عباس خان مگسی، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندگان، فیکلٹی ممبران اور طلباؤ طالبات نے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ مہارت پر مبنی اورضرورت کے مطابق تعلیم کو فروغ دینے کے لئے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپ کے ہاتھ میں لیپ ٹاپ صرف ایک ٹول نہیں بلکہ کامیابی کی کنجی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید دور میں بھی کئی بچے ایسے ہیں جن کے پاس وسائل نہیں مگر حکومت کوشش کررہی ہے کہ کوئی باصلاحیت طالبعلم ان گیجٹس سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے نے بطور وزیر اعلیٰ نوجوانوں کیلئے جو سکیم شروع کی تھی اس کی روشنی آج پورے پاکستان میں پھیل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سکیم پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ اور تنقید بھی بہت ہوئی مگر کورونا کے دور میں کئی طلباء نے لیپ ٹاپ کا درست استعمال کرکے فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ استاد کو عزت دیئے بغیر معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا ہے، آج جس مقام پر ہوں وہ پنجاب یونیورسٹی کی بدولت ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی و خوشحالی کے لئے سب کو محنت، لگن، دیانتداری سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے وقت کی ضرورت کے مطابق سکیم شروع کی جس کا ثمرمل رہا ہے اورلیپ ٹاپ کا مثبت استعمال سے طلباء کی زندگیاں بدل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کا ہر میدان میں آگے آنا پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لئے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعظم نذیر تارڑ سمیت جوڈیشری میں 80 فیصد افراد کا تعلق پنجاب یونیورسٹی سے ہے۔انہوں نے کہا کہ لاہور کی 70 فیصد آئی ٹی مارکیٹ میں بھی پنجاب یونیورسٹی کالج آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کے گریجویٹس خدمات انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے طلبا کو ماڈرن ٹیکنالوجی سے روشناس کرانے کے لئے اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ طلباء کو پنجاب یونیورسٹی میں پرامن ماحول فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کمیونٹی کی طرف سے وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کا شکریہ اداکرتاہوں۔ اس سکیم کے تحت پنجاب یونیورسٹی کے 3140ہونہار طلباؤطالبات کو لیپ ٹاپ ملیں گے۔

میرٹ پر ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز کی تقرری۔۔۔۔۔۔۔ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (HED) پنجاب نے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی زیر نگرانی تین روزہ انٹرویوز کا سخت اور جامع مرحلہ کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔
ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (HED) پنجاب نے صوبہ بھر میں ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز کی تقرری کے لیے تین روزہ انٹرویوز کا سخت اور جامع مرحلہ کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ 🎓📜
محکمہ اعلیٰ تعلیم کے مطابق تقرری کا پورا عمل سو فیصد شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر انجام دیا گیا، جس میں امیدواروں کی تعلیمی قابلیت، انتظامی صلاحیت اور پیشہ ورانہ تجربے کو مدنظر رکھا گیا۔ اس شفاف نظامِ انتخاب کا مقصد صوبے کے کالجز کو باصلاحیت، اہل اور فرض شناس قیادت فراہم کرنا ہے۔

ایچ ای سی نے ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ فنڈ (TDF)تحت تیار کردہ 100 سے زائد کامیاب ٹیکنالوجی حل ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ فنڈ امپیکٹ شوکیسنگ (TIS’25) کے موقع پر نمائش کے لیے پیش کیے
اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے اپنے فلیگ شپ ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ فنڈ (TDF) کے تحت تیار کیے گئے 100 سے زائد کامیاب ٹیکنالوجی حل ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ فنڈ امپیکٹ شوکیسنگ (TIS’25) کے موقع پر نمائش کے لیے پیش کیے۔
نمائش میں صحت، زراعت، بایوٹیکنالوجی، انجینئرنگ، توانائی کے نظام، ماحولیاتی نظم و نسق اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سمیت اہم شعبوں سے تعلق رکھنے والی اختراعات شامل تھیں، جو اس امر کی عکاسی کرتی ہیں کہ جامعات میں ہونے والی تحقیق کو عملی اور حقیقی دنیا کے حل میں کیسے تبدیل کیا جا رہا ہے۔ایچ ای سی کے مطابق، ٹی ڈی ایف کے تحت اب تک دیے گئے 238 منصوبوں میں سے 192 کامیابی سے مکمل ہو چکے ہیں، جن کے نتیجے میں پیٹنٹس، مصنوعات، پروٹوٹائپس، ٹیکنالوجی لائسنسز، اسٹارٹ اپس، تحقیقی اشاعتیں اور ہنر مند افرادی قوت کی بڑے پیمانے پر تربیت ممکن ہوئی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایچ ای سی مسٹر ندیم محبوب نے کہا کہ TIS’25 اس بات کا ثبوت ہے کہ ایچ ای سی پاکستان کے مستقبل کو اکیڈمیا اور صنعت کے درمیان مضبوط اور پائیدار ربط میں دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ڈی ایف کا مقصد تحقیقی خیالات کو مارکیٹ کے لیے تیار حل میں تبدیل کرنا اور جامعات کو سماجی و معاشی ترقی کے محرک کے طور پر بااختیار بنانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام سے پاکستان کے ٹرپل ہیلیکس ماڈل (حکومت، صنعت اور اکیڈمیا) کو تقویت ملی ہے، جو ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی، مسٹر امتیاز علی رستگار (چیئرمین رستگار گروپ آف کمپنیز) نے جدید معاشروں میں ٹیکنالوجی کے کلیدی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے اختراع پر مبنی منصوبوں میں تسلسل اور مستقل مزاجی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ORICs اور بزنس انکیوبیشن سینٹرز جیسے اقدامات کے ذریعے یونیورسٹی اور صنعت کے روابط مضبوط بنانے پر ایچ ای سی کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ جامعات صنعتی مسائل کے حل، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور شہری و دیہی دونوں سطحوں پر پائیدار معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔واضح رہے کہ ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ فنڈ کا آغاز 2016 میں پی ایس ڈی پی کے تحت کیا گیا تھا، جو تعلیمی اختراعات کو سماجی و معاشی اثرات میں تبدیل کرنے کا ایک قومی نظام ہے، اور اس پروگرام میں جون 2027 تک توسیع کر دی گئی ہے۔

وفاقی وزیر نیشنل ہیریٹیج اینڈ کلچر ڈویژن اورنگزیب خان کھچی سے ریکٹر نمل کی ملاقات، زبان اور ثقافت کے شعبوں میں باہمی دلچسپی کے امور اور تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال
:وفاقی وزیر برائے نیشنل ہیریٹیج اینڈ کلچر ڈویژن اورنگزیب خان کھچی سے نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) کے ریکٹر میجر جنرل (ر) شاہد محمود کیانی نے بدھ کو ملاقات کی جس میں زبان اور ثقافت کے شعبوں میں باہمی دلچسپی کے امور اور تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران فریقین نے نیشنل ہیریٹیج اینڈ کلچر ڈویژن اور نمل کے درمیان زبانوں کے فروغ، ثقافتی تبادلوں، تعلیمی تعاون اور مشترکہ ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ریکٹر نمل نے وفاقی ے قومی ثقافتی پالیسیوں کے نفاذ میں اہم کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
میجروزیر کو یونیورسٹی کے تعلیمی اور ادارہ جاتی امور سے آگاہ کیا اور بتایا کہ نمل تعلیم، تحقیق اور آئوٹ ریچ پروگرامز کے ذریع جنرل (ر) شاہد محمود کیانی نے بتایا کہ نمل گلگت بلتستان میں تعلیمی خدمات کے فروغ کے لیے زمین کے حصول یا عمارت کرائے پر لینے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت نمل کے مختلف کیمپسز میں تقریباً 9 ہزار طلبہ کو مفت تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔ریکٹر نے اس بات پر زور دیا کہ نمل ایک فلاحی ادارہ ہے جو اپنی مالی ضروریات خود پوری کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) نمل کے بورڈ آف گورنرز (بی او جی)کے چیئرمین ہیں اور ان کے وژن کے مطابق جس میں زبانوں کو ثقافت کا لازمی جزو قرار دیا گیا ہے، آئندہ بی او جی اجلاس (جو جنوری 2026ء کے اختتام پر متوقع ہے) میں لینگویجز ڈیپارٹمنٹ کا نام تبدیل کر کے ’’لینگویجز اینڈ کلچر‘‘ رکھنے کی تجویز دی جائے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نمل ہر سال اپریل میں سمر گالا کا انعقاد کرتی ہے جس میں طلبہ اپنی مقامی ثقافتوں کو اجاگر کرتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان بھر کی مقامی ثقافتوں اور زبانوں کا تحفظ اور فروغ ہے۔ریکٹر نمل نے نیشنل ہیریٹیج اینڈ کلچر ڈویژن کے تعاون سے نمل میں ایک ثقافتی پروگرام کے آغاز کی خواہش کا اظہار کیا جس کا مقصد طلبہ کو پاکستان کی متنوع علاقائی ثقافتوں سے روشناس کرانا اور ثقافتی شعور اجاگر کرنا ہے۔وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے نمل میں لوک میلہ کی طرز پر اپریل میں ’’کلچرل ایونٹ ویک‘‘ کے انعقاد کی تجویز دی۔
2025ء بھی تعلیم کی بہتری کیلئے اقدامات کا سال رہا۔ ڈویلپمنٹ بجٹ کو بڑھا کر تاریخ میں پہلی مرتبہ 110 ارب کیا گیا۔
وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے سال 2025 کی کارکردگی بتاتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ سال کی طرح 2025ء بھی تعلیم کی بہتری کیلئے اقدامات کا سال رہا۔ رواں سال 2 ملین کی گھوسٹ انرولمنٹ ختم کی۔ 26 ہزار اساتذہ کی ریشنلائزیشن کر کے اساتذہ کی کمی کے مسئلہ پر قابو پایا۔ پہلی مرتبہ کریکلم ریفارمز پر تاریخی کام ہوا اور خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہوئے کوالٹی آف ٹیچنگ میں بہتری لے کر آئے۔ 1 لاکھ اساتذہ کی ٹریننگ کروائی گئی۔ امتحانی اصلاحات لے کر آئے اور تعلیمی بورڈز کو ای مارکنگ پر منتقل کیا گیا۔ ارلی چائلڈ ہوڈ ایجوکیشن پر فوکس کیا گیا اور 10 ہزار سکولوں میں ای سی ای رومز بنائے۔ نیوٹریشن پروگرام کا دائرہ بتدریج وسیع کرتے ہوئے اس وقت روزانہ 11 لاکھ طلبہ و طالبات کو نیوٹریشن پروگرام سے مستفید کروایا جا رہا ہے، جبکہ 11 لاکھ نیوٹریشن بیگز پہلی مرتبہ روزانہ ری سائیکل ہو رہے ہیں۔ اس ری سائیکلنگ سے ڈیڑھ لاکھ کے قریب سکول بینچ بن رہے ہیں جو فرنیچر کی شارٹیج کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اساتذہ کیلئے سمال انسٹالمنٹ پر سکوٹیز سکیم لائے۔ سکولوں میں سہولیات کا فقدان دور کرنے کیلئے ریکارڈ اقدامات کئے گئے اور اس ضمن میں ڈویلپمنٹ بجٹ کو بڑھا کر تاریخ میں پہلی مرتبہ 110 ارب کیا گیا۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ 2025 میں 268 سکولوں کو اپ گریڈ کیا گیا۔ رڈواں سال اساتذہ کی ہراسمنٹ کے 37 کیسز پر فیصلے ہوئے۔ پہلی مرتبہ ٹیچر تکریم ایوارڈز لانچ کئے۔ 10 اضلاع میں سنٹر آف ایکسیلینس اور 300 سکول آف ایمینینس بنانے کا منصوبہ شروع کیا، جبکہ پہلا سکول آف ایمینینس لانچ ہو چکا ہے۔ نجی تعلیمی اداروں کے طلباء کو بھی لیپ ٹاپ سکیم میں شامل کرتے ہوئے 10 ہزار لیپ ٹاپ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ گوگل کے ساتھ ملکر طلباء، اساتذہ اور صحافیوں کو خصوصی ورکشاپس اور کورسز کروائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے 850 میں سے 550 کالجز میں مستقل پرنسپلز نہیں تھے، اس سال کے دورا ن 450 کالجز میں میرٹ پر پرنسپلز تعینات ہو چکے ہیں۔ جبکہ 29 یونیورسٹیوں میں مستقل وائس چانسلرز کی تعیناتی کا عمل بھی مکمل کیا گیا۔ سکولوں میں ٹیکنالوجی کو فروغ دیتے ہوئے تمام ہائی اور ہائیر سیکنڈری سکولوں سٹیم کلبز بن چکے ہیں جبکہ 50 فیصد ہائی اور ہائیر سیکنڈری سکولوں میں سٹیم لیبز بننا شروع ہو گئی ہیں۔ میٹرک ان ٹیکنالوجی میں صرف گریڈ 9 میں 51 ہزار بچے ٹیکنالوجی پڑھ رہے ہیں۔ سکولوں میں گوگل کلاؤڈ آئی ڈیز آ گئی ہیں جبکہ کروم بکس بھی ملنے والی ہیں۔ ہزاروں طلباء سکالرشپ پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں۔ 50 فیصد کالجز اور سکولز سولرائز ہو رہے ہیں۔ ٹیچر سرٹیفیکیشن لانچ کر دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سکول آؤٹ سورسنگ کے بعد 250 فیصد انرولمنٹ بڑھی ہے۔ سرکاری سکولوں پر عوام کا اعتماد بڑھانے کیلئے اپنے بیٹے کو سرکاری سکول میں داخل کروا کر ایک بے مثال روایت قائم کی۔ وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس بتانے کو بہت کچھ ہے۔ ہمارا کام دکھائی دیتا ہے۔ ہم صرف کرنے کا کہتے نہیں، بلکہ کر کے دکھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال بھی تعلیم کے میدان میں ریکارڈ کام کیا جائے گا۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور اور ندیم خان پیتھالوجی لیبارٹری کے مابین یونیورسٹی کمیونٹی کو میڈیکل ٹیسٹوں میں سہولیات فراہم کرنے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط
اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور اور ندیم خان پیتھالوجی لیبارٹری کے مابین یونیورسٹی کمیونٹی کو میڈیکل ٹیسٹوں میں سہولیات فراہم کرنے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔ وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران اور ڈائریکٹر پیتھالوجی لیب ندیم خان نے دستخط کیے۔ اس موقع پر ڈاکٹر سفینہ صدیق ڈائریکٹر ویمن ہیلتھ کیئر سنٹر اینڈ میٹرنٹی ہوم نے کہا کہ مذکورہ لیب اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے ملازمین کو میڈیکل ٹیسٹ میں 50فیصد رعایت دے گی۔ اس کے علاوہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے گریجویٹس کو ٹریننگ اور انٹرنشپ بھی فراہم کرے گی۔ اس موقع پر ڈاکٹر سمینہ اعجاز، ڈاکٹر سجاد حسین، ڈاکٹر شہزاد احمد خالد ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز موجود تھے۔

ویمن ہیلتھ کیئر سنٹر اینڈ میٹرنٹی ہوم کے زیر اہتمام فری میڈیکل کیمپ کا افتتاح
بعدا زاں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے ویمن ہیلتھ کیئر سنٹر اینڈ میٹرنٹی ہوم کے زیر اہتمام فری میڈیکل کیمپ کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز بہاول پور پروفیسر ڈاکٹر مظہر ایاز، پروفیسر ڈاکٹر روبینہ بھٹی ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز، سابق ایم پی اے فوزیہ ایوب قریشی، سابق سینڈیکیٹ ممبر ڈاکٹر نذیر اظہر و نامور معالجین ڈاکٹر منیر اظہر،پروفیسر ڈاکٹر قاضی مسرور احمداور پروفیسر ڈاکٹر اظہر خان موجود تھے ۔
پاکستان کا جوہر قابل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نسٹ کے پی ایچ ڈی طالب علم جُنید شاہ خان اورپروفیسر ڈاکٹر یاسر وحید
نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) نے اسکول آف سول اینڈ انوائرنمنٹل انجینئرنگ (SCEE) – نیشنل انسٹیٹیوٹ آف انفراسٹرکچر انجینئرنگ (NICE) کے پی ایچ ڈی طالب علم جُنید شاہ خان کو اسٹوڈنٹ ایوارڈ 2024 اورنیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) نے اسکول آف ہیلتھ سائنسز کے فیکلٹی ممبر پروفیسر ڈاکٹر یاسر وحید کو Distinguished Scientists کیٹیگری کے تحت OBADA پرائز جیتنے پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔
جُنید شاہ خان کی تحقیق میں مقامی طور پر تیار کردہ انٹرلاکنگ کمپریسڈ ارتھ بلاک (ICEB) میسنری سسٹمز کی زیادہ سے زیادہ متوقع زلزلہ (Maximum Considered Earthquake – MCE) کی شدت کے تحت حفاظت اور مضبوطی کی توثیق کی گئی ہے۔ یہ تحقیق زلزلہ زدہ علاقوں میں کم لاگت، ماحول دوست اور پائیدار رہائشی حل فراہم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

پروفیسر یاسر وحید کو مسلسل چھ برس (2020 تا 2025) دنیا کے ٹاپ 2 فیصد سب سے زیادہ حوالہ دیے جانے والے اسکول آف ہیلتھ سائنسز کے فیکلٹی ممبر محققین میں شامل رہنے کا اعزاز حاصل ہے۔ ان کے نام 275 بین الاقوامی تحقیقی اشاعتیں ہیں، جنہیں اب تک 113,000 سے زائد حوالہ جات (Citations) مل چکے ہیں، جو ان کی عالمی سطح پر علمی اثرپذیری کا واضح ثبوت ہیں۔وہ پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے رکن ہیں اور مصطفیٰ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فاؤنڈیشن کے ایڈوائزری بورڈ میں بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ دنیا کے مختلف ممالک میں ایڈجنکٹ پروفیسر کی حیثیت سے بھی وابستہ ہیں۔
