پاکستان اس وقت تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، کمزور معیشت، سیاسی عدم استحکام، داخلی و خارجی سیکیورٹی چیلنجز اور سماجی مسائل کے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی جنوری 2023 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی 238.1 ملین تک پہنچ چکی ہے، جو ریاستی وسائل، تعلیمی ڈھانچے اور تحقیقی نظام پر شدید دباؤ ڈال رہی ہے۔ جدید دنیا میں یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ کسی بھی قوم کی پائیدار ترقی کا انحصار معیاری تعلیم اور تحقیق (Research & Innovation) پر ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان اس میدان میں ترقی یافتہ ممالک ہی نہیں بلکہ بعض ہمسایہ ترقی پذیر ممالک سے بھی پیچھے دکھائی دیتا ہے۔
یہ مضمون پاکستان اور ترقی یافتہ ممالک کی یونیورسٹیوں میں تحقیق کے معیار کا تقابلی اور تنقیدی جائزہ لیتا ہے، جس میں عالمی درجہ بندیوں، تحقیقی ثقافت، بین الشعبہ جاتی تحقیق، ادارہ جاتی کمزوریوں اور پالیسی خلا کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔
آبادی کا دباؤ اور تعلیمی و تحقیقی بحران
پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی نے تعلیمی نظام کو مقداری (Quantity) تو بنا دیا ہے، مگر معیاری (Quality) ترقی نہ ہو سکی۔ یونیورسٹیاں بڑی تعداد میں ایم فل اور پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز پیدا کر رہی ہیں، مگر یہ سوال بدستور قائم ہے کہ:
کیا ہم مسئلہ حل کرنے والے محقق (Problem-solving Researchers) تیار کر رہے ہیں یا صرف ڈگری یافتہ افراد؟
ترقی یافتہ ممالک میں آبادی کے مقابلے میں تحقیق پر سرمایہ کاری کہیں زیادہ ہے، جبکہ پاکستان میں آبادی بڑھتی جا رہی ہے اور تحقیق و ترقی (R&D) کے بجٹ مسلسل سکڑ رہے ہیں، جو مستقبل کے لیے خطرناک اشارہ ہے۔
یونیورسٹیوں کی ساخت اور تحقیقی اہداف: ایک تقابلی جائزہ
پاکستانی یونیورسٹیاں
ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے مطابق پاکستان میں 247 تسلیم شدہ جامعات ہیں، جن میں 147 سرکاری اور 100 نجی ادارے شامل ہیں۔ بظاہر یہ تعداد خوش آئند معلوم ہوتی ہے، مگر عملی طور پر:
- جامعات تدریسی ادارے بن کر رہ گئی ہیں
- تحقیق کا مقصد سماجی مسائل کا حل نہیں بلکہ ڈگری کی تکمیل بن چکا ہے
- تحقیق کا دائرہ محدود، طریقۂ کار کمزور اور اثر (Impact) نہ ہونے کے برابر ہے
یوں جامعات علمی رہنمائی کے بجائے ڈگری فیکٹریوں کا تاثر دیتی ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک کی یونیورسٹیاں
اس کے برعکس امریکہ، برطانیہ، جرمنی، جاپان اور جنوبی کوریا میں یونیورسٹیوں کا بنیادی مقصد:
- علم کی تخلیق (Knowledge Production)
- صنعت اور ریاست کے لیے حل (Policy & Industrial Solutions)
- ٹیکنالوجی، پیٹنٹس اور اسٹارٹ اپس کی تیاری
وہاں یونیورسٹیاں قومی ترقی کا فکری انجن سمجھی جاتی ہیں۔
عالمی درجہ بندیاں اور تحقیقی حیثیت
اسکوپیگو جرنل رینک (SJR) کے مطابق پاکستان تحقیق میں 45ویں نمبر پر ہے، جو کئی ترقی پذیر ممالک سے بہتر ضرور ہے، مگر سوال یہ ہے کہ:
یہ فرق محض وسائل کا نہیں بلکہ تعلیمی وژن، تحقیقاتی ترجیحات اور پالیسی تسلسل کا نتیجہ ہے۔
ٹائمز ہائر ایجوکیشن (THE) رینکنگ کے مطابق:
- پاکستان کی صرف 55 جامعات عالمی فہرست میں شامل ہیں
- صرف تین جامعات 400–600 کے درمیان ہیں
- باقی جامعات 600 سے 1800 کے درمیان ہیں
تحقیقی کلچر، تشدد اور ادارہ جاتی بحران
پاکستان کی بڑی سرکاری جامعات—قائداعظم یونیورسٹی، پنجاب یونیورسٹی، پشاور یونیورسٹی—میں:
- تشدد
- نسلی و لسانی کشیدگی
- اسلحہ اور سیاسی گروہ بندی
جیسے عوامل تحقیق کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ قائداعظم یونیورسٹی کی حالیہ نسلی کشیدگیاں اگر قابو میں نہ آئیں تو اس کی عالمی درجہ بندی مزید گر سکتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں یونیورسٹیاں محفوظ، پُرامن اور علمی آزادی کی علامت ہوتی ہیں، جبکہ پاکستان میں تعلیمی ادارے خود ایک سماجی مسئلہ بنتے جا رہے ہیں۔
بین الشعبہ جاتی تحقیق: پاکستان کی سب سے بڑی کمزوری
جدید دنیا میں تحقیق اب یک رخی (Single-discipline) نہیں رہی۔ موسمیاتی تبدیلی، سیکیورٹی، آبادی، صحت اور معیشت جیسے مسائل بین الشعبہ جاتی تحقیق (Interdisciplinary Research) کے بغیر حل نہیں ہو سکتے۔
- ترقی یافتہ ممالک میں سوشل سائنس، سائنس، ٹیکنالوجی اور پالیسی ایک ساتھ کام کرتے ہیں
- پاکستان میں چند اداروں کے سوا بین الشعبہ جاتی تحقیق نہ ہونے کے برابر ہے
یہی وجہ ہے کہ ہماری تحقیق عالمی مکالمے کا حصہ نہیں بن پاتی۔
پی ایچ ڈی، سینئر طبقہ اور تحقیقی جمود
پاکستان میں پی ایچ ڈی کا مقصد اکثر:
- سرکاری ملازمت
- ترقی (Promotion)
- مراعات
تک محدود ہو جاتا ہے۔ مزید برآں:
- 60 سال کے بعد بار بار توسیع
- سینئر طبقے کی جانب سے نوجوانوں کے لیے مواقع کی بندش
- جدید تحقیق، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مہارتوں سے ناآشنائی
تحقیقی تنوع اور تخلیقی صلاحیت کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ HEC کو عمر، کارکردگی اور تحقیق کے سخت معیارات نافذ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
تحقیقی کمزوریوں کی بنیادی وجوہات
پاکستان میں تحقیق کے کمزور معیار کی نمایاں وجوہات میں شامل ہیں:
- تخلیقی صلاحیت (Creativity) کی کمی
- دہرائی گئی تحقیق (Repetitive Studies)
- ناقص تحقیقی طریقۂ کار
- اخلاقی اصولوں اور ڈیٹا پرائیویسی کی خلاف ورزی
- محققین اور اداروں کے درمیان تعاون کا فقدان
یہ تمام عوامل پاکستان کو عالمی تحقیقی منظرنامے سے دور رکھتے ہیں۔
بہتری کی سمت: ایک کثیرالجہتی حکمتِ عملی

پاکستان میں تحقیق کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:
- تحقیق و ترقی کے بجٹ میں نمایاں اضافہ
- بین الشعبہ جاتی تحقیقی مراکز کا قیام
- یونیورسٹی–انڈسٹری–حکومت اشتراک
- پی ایچ ڈی اور فیکلٹی کے لیے سخت کارکردگی معیارات
- تشدد سے پاک، محفوظ اور علمی ماحول
- اخلاقی تحقیق اور مؤثر Mentorship کا فروغ
پاکستان کے مسائل—آبادی، معیشت، سیکیورٹی، سیاست اور سماجی انتشار—کا مستقل حل معیاری تعلیم اور تحقیق کے بغیر ممکن نہیں۔ ترقی یافتہ ممالک نے تحقیق کو ریاستی پالیسی کا مرکز بنایا، جبکہ پاکستان نے اسے محض تعلیمی رسمیّت بنا دیا۔ اگر ہم تحقیق کو ڈگری سے نکال کر قومی بقا اور ترقی سے جوڑ دیں، بین الشعبہ جاتی سوچ اپنائیں اور نوجوان محققین کو حقیقی مواقع فراہم کریں تو پاکستان عالمی تحقیقی نقشے پر ایک باوقار مقام حاصل کر سکتا ہے۔





















