خبریں
PU News………حضرت محمد (ﷺ) نے حقوق العباد اور جو ریاستی نظام قائم کیااس پر سوشل میڈیا پروافر مواد ہونا چاہیے۔ دنیا میں کامیابی کا راز اسوہ حسنہ ہے۔………حضرت محمد (ﷺ) کی ولادت اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا احسان ہے۔ حضرت محمد (ﷺ) کی ذات کے ذریعے ہم نے اللہ کو پہچاناہے……..وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی
وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا ہے کہ فرقہ واریت کے کوئی معنی نہیں، سب مسلمان حضرت محمد (ﷺ) سے جڑیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی شیخ زاید اسلامک سنٹر کے زیر اہتمام تین روزہ اسماالنبی ﷺپر قومی مقابلہ و نمائش خطاطی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرہے تھے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر سنٹر پروفیسرڈاکٹر محمد عبداللہ،پرنسپل کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ نسیم، صدر نشین جامعہ محمدیہ شریف چنیوٹ صاحبزادہ محمد قمر الحق،صدر اقبال یوتھ فورم ملک عمیر اعوان، چیف آرگنائیزر اور بانی اشرف القلم پاکستان محمد اشرف ھیرا، آرٹسٹس،اساتذہ اور طلباؤطالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اپنے خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ ہم اس نمائش کے ذریعے عشق رسول ﷺکا پیغام دینا چاہتے ہیں۔
ہمیں حضور (ﷺ) کے طرز زندگی سے استفادہ کرنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے حضرت محمد (ﷺ) کا غیر مسلموں،خواتین اور بچوں کے ساتھ کیسا سلوک تھا۔ حضرت محمد (ﷺ) کے پیغام کو پہنچانا بھی ہمارا فرض ہے………..وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی
نہوں نے صاحبزادہ قمر الحق کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا جسے رسولﷺ سے عشق ہے وہ بہترین مسلمان ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت محمد (ﷺ) کی ولادت اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا احسان ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت محمد (ﷺ) کی ذات کے ذریعے ہم نے اللہ کو پہچاناہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں حضور (ﷺ) کے طرز زندگی سے استفادہ کرنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے حضرت محمد (ﷺ) کا غیر مسلموں،خواتین اور بچوں کے ساتھ کیسا سلوک تھا۔انہوں نے کہا کہ حضرت محمد (ﷺ) کے پیغام کو پہنچانا بھی ہمارا فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر سیرت النبی ﷺپر مواد بہت کم ہے۔انہوں نے کہاکہ حضرت محمد (ﷺ) نے حقوق العباد اور جو ریاستی نظام قائم کیااس پر سوشل میڈیا پروافر مواد ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں کامیابی کا راز اسوہ حسنہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فن پارے بہت ہی خوبصورت ہیں، ان کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ انہوں نے اسماء النبی ﷺپر قومی مقابلہ و نمائش خطاطی پر ڈاکٹر محمد عبداللہ اور انکی ٹیم کوخراج تحسین پیش کیا۔ ڈاکٹر محمد عبداللہ نے کہا کہ پاکستان کے تمام صوبوں سے آرٹسٹس مقابلے میں حصہ لے رہے ہیں۔ ڈاکٹر ثمینہ نسیم نے کہا کہ فن خدا کا دیا ہوا تحفہ ہوتا ہے۔ محمد اشرف ھیرا نے کہا کہ 500 کے قریب فن پارے آئے جس میں سے 250 منتخب کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ 85 فیصد فن پارے خواتین نے پیش کئے۔

اسٹڈی یوکے ایلومنائی ایوارڈز‘ کے لیے درخواست دینے کا طریقہ ،آن لائن ویبینار 23 ستمبر کو ہوگا
برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی و دیگر طلباء کے لیے برٹش کونسل کی جانب سے ’اسٹڈی یوکے ایلومنائی ایوارڈز‘ میں شرکت کے لیے ایک معلوماتی ویبینار کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ برٹش کونسل کے مطابق یہ معلوماتی ویبینار 23 ستمبر بروز پیر، برطانوی وقت کے مطابق صبح 10 بجے منعقد ہوگا۔
اس ویبینار میں ماہرین شرکاء کو درخواست جمع کرانے کے طریقۂ کار، مؤثر درخواست لکھنے کے نکات اور عمومی رہنمائی فراہم کریں گے۔ ویبینار میں شرکت کے لیے آن لائن رجسٹریشن لازمی ہے۔ رجسٹریشن دیئے گئے لنکow.ly/t9Zu50WSVhp پر کرائی جا سکتی ہے۔
پاکستان کی تعمیر کریں گے جس کا خواب قائداعظم نے دیکھا ، جمہوری ریاست ، قانون کی حکمرانی اور ادارے عوام کے سامنے جوابدہ ہوں،صدر مملکت آصف علی زرداری کا قائداعظم محمد علی جناحؒ کی 77 ویں برسی کے موقع پر پیغام
اصدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ مجھے یقین ہے کہ قائداعظم کی تعلیمات پر عمل کریں تو ہم ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان بنا سکتے ہیں، قائداعظم نے صرف ایک ملک قائم نہیں کیا بلکہ ایک قوم کو اس کی شناخت، عزت اور آزادی سے جینے کا حق دیا، وہ ایک ایسے پاکستان کا خواب رکھتے تھے جو انصاف، مساوات، رواداری اور جمہوریت کی بنیادوں پر قائم ہو، اُن کا خواب ایک ترقی پسند، جامع اور مستقبل کی جانب گامزن ریاست کا تھا جہاں ہر شہری چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا نسل سے ہو برابر کے حقوق اور مواقع سے مستفید ہو۔ ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی 77 ویں برسی 11 ستمبر، 2025 کے موقع پراپنے پیغام میں کیا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی 77ویں برسی کے موقع پر ہم بانی پاکستان کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں وہ ایسے عظیم رہنما تھے جن کی غیر معمولی بصیرت، غیر متزلزل عزم اور اصولی قیادت نے تاریخ کا دھارا بدل دیا۔
صدر مملکت نے کہا کہ آج ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن قائم کیا،جہاں ہم اپنی زندگیوں کو اپنے عقائد، امنگوں اور اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھال سکتے ہیں اور سماجی و معاشی انصاف کے اصولوں کو فروغ دے سکتے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ قائداعظم نے صرف ایک ملک قائم نہیں کیا بلکہ ایک قوم کو اس کی شناخت، عزت اور آزادی سے جینے کا حق دیا، وہ ایک ایسے پاکستان کا خواب رکھتے تھے جو انصاف، مساوات، رواداری اور جمہوریت کی بنیادوں پر قائم ہو۔ صدر مملکت نے کہا کہ قائد اعظم کا خواب ایک ترقی پسند، جامع اور مستقبل کی جانب گامزن ریاست کا تھا، جہاں ہر شہری، چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا نسل سے ہو، برابر کے حقوق اور مواقع سے مستفید ہو۔ انہوں نے کہا کہ آج بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ آر ایس ایس کے زیر اثر حکومت کے سلوک نے ایک بار پھر اس حقیقت کو آشکار کر دیا ہے کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کا پیش کردہ دو قومی نظریہ بالکل درست تھا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ خود بھارت کی اقلیتیں اس امر کو تسلیم کر رہی ہیں کہ ان کے مذہبی، سیاسی اور سماجی حقوق اب محفوظ نہیں رہے،یہ حالات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کا قیام ایک تاریخی اور ناگزیر فیصلہ تھا۔
صدر مملکت نے کہا کہ آج پاکستان ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے، ہمیں متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں معاشی مشکلات، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات، سماجی ناہمواری، انتہا پسندی اور ادارہ جاتی اصلاحات کی اشد ضرورت شامل ہے تاہم ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ہم پہلی نسل نہیں جو آزمائش سے گزر رہی ہے، ہمیں تحریکِ پاکستان کے رہنماؤں اور کارکنان خصوصاً قائداعظم سے حوصلہ اور رہنمائی حاصل کرنی چاہئے جنہوں نے انتہائی مشکل حالات میں اتحاد، عزم، اور مقصد کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔ صدر مملکت نے کہا کہ آئیے اس دن ہم اپنے عزم کا اعادہ کریں کہ ہم اُس پاکستان کی تعمیر کریں گے جس کا خواب قائداعظم نے دیکھا تھا، ایک جمہوری ریاست، جہاں قانون کی حکمرانی ہو اور ادارے عوام کے سامنے جوابدہ ہوں۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ ہمیں ایک ایسا ملک بنانا ہے جہاں کوئی بھی پیچھے نہ رہ جائے، جہاں ہمارے نوجوانوں کے لئے مواقع ہوں، خواتین بااختیار ہوں اور اقلیتوں کو مکمل عزت و تحفظ حاصل ہو۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ یہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے اور قائداعظم کے رہنما اصول اتحاد، ایمان اور قربانی ہمیں اس سفر میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قائد کے نظریات آج بھی اُتنے ہی اہم اور مؤثر ہیں جتنے 1947 میں تھے۔ صدر مملکت نے کہا کہ اگر ہم اُن کے وژن کو خلوصِ نیت اور عملی اقدامات کے ذریعے اپنائیں، تو کوئی چیلنج ایسا نہیں جس پر قابو نہ پایا جا سکے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم قائداعظم کی تعلیمات پر عمل کریں تو ہم ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان بنا سکتے ہیں۔
یو ای ٹی لاہور اور بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد کے درمیان تحقیقی و تعلیمی تعاون پر معاہدہ………معا ہد ے کا مقصد دونوں اداروں کی صلاحیتوں اور مہارتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے تعلیمی و تحقیقی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ ……وائس چانسلر یو ای ٹی ،پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر
یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی) لاہور اور بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔ معاہدے کا مقصد دونوں اداروں کی صلاحیتوں اور مہارتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے تعلیمی و تحقیقی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ وائس چانسلر یو ای ٹی پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر اور ریکٹر بحریہ یونیورسٹی وائس ایڈمرل (ر) آصف خلیق (ہلالِ امتیاز ملٹری) نے معاہدے کی دستاویزات پر دستخط کئے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر یونیورسٹی ایڈوانسمنٹ اینڈ ایکسٹرنل لنکیجز ڈاکٹر محمد وقاص، ڈائریکٹر او آر آئی سی پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف رفیق، ڈائریکٹر سٹڈیز پروفیسر ڈاکٹر امجد حسین اور دیگر معزز شرکاء موجود تھے۔ معاہدے کے تحت دونوں ادارے باہمی دلچسپی کے مختلف شعبہ جات مثلاً قابلِ تجدید توانائی، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور میری ٹائم اسٹڈیز میں جدید تحقیقی منصوبوں پر مشترکہ تعاون کریں گے۔ جس سے عالمی چیلنجز سے نمٹنے اور ٹیکنالوجی میں جدت کے فروغ کے لیے مشترکہ تحقیقی مراکز اور لیبارٹریز قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
مزید برآں، یہ تعاون میری ٹائم انڈسٹری، سرکاری اداروں، بحری افواج کے اداروں اور نجی شعبے کے ساتھ ادارہ جاتی روابط کو بھی مضبوط کرے گا۔ اس کے علاوہ تحقیق اور جدت کے لیے مشترکہ فنڈنگ اور گرانٹس کے حصول پر کام کیا جائے گا جبکہ طلباء، اساتذہ اور انڈسٹری کے ماہرین کی صلاحیتوں میں اضافہ کے لیے ورکشاپس، سیمینارز اور تربیتی پروگرامز کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔ اس مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں ادارے خصوصی شعبہ جات میں سرٹیفیکیشن پروگرامز اور قلیل مدتی کورسز بھی متعارف کروائیں گے
نیشنل یونیورسٹی آف سائینس اینڈ ٹیکنولوجی (نسٹ) میں خواتین پوسٹ گریجویٹ طالبات کے لیے اسکالرشپ فنڈ قائم۔۔۔۔۔۔۔نسٹ میں 10 خواتین پوسٹ گریجویٹ طالبات کے لیے خصوصی اسکالرشپ فنڈ قائم کیا جائے گا۔
لاہور (اسٹاف رپورٹر) ریکٹر ڈاکٹر محمد زاہد لطیف نے مسٹر اور مسز علی محمود کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت (DoU) پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت نسٹ میں 10 خواتین پوسٹ گریجویٹ طالبات کے لیے خصوصی اسکالرشپ فنڈ قائم کیا جائے گا۔یہ فنڈ طالبات کو مستقل مالی معاونت فراہم کرے گا، خصوصاً ان خواتین کے لیے جو مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔ اسکالرشپ فنڈ کے قیام کو جامعہ میں خواتین کی اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔دستخطی تقریب میں سابق رکن قومی اسمبلی محترمہ شہناز وزیر علی نے بھی شرکت کی اور اس اقدام کو خواتین کے تعلیمی مستقبل کے لیے نہایت خوش آئند قرار دیا۔
PU News……….پنجاب یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (UMT) نے تعلیمی فضیلت اور معاشرتی بھلائی کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے
لاہور(3ستمبر،بدھ):پنجاب یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (UMT) نے تعلیمی فضیلت اور معاشرتی بھلائی کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے جس کی میزبانی پنجاب یونیورسٹی ڈیپارٹمنٹ آف سوشل ورک نے کی۔ معاہدے پر وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی، اور پروفیسر ڈاکٹر اصغر زیدی پرووسٹ یو ایم ٹی نے دستخط کئے جبکہ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ عاشق، چیئرپرسن ڈیپارٹمنٹ آف سوشل ورک اور دیگر فیکلٹی ممبران بھی موجود تھے۔ یہ شراکت داری مشترکہ تحقیق، فیکلٹی اور طلباء کے تبادلے، سیمینارز اور کانفرنسوں، اور پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کے ساتھ منسلک معاشرتی منصوبوں پر مرکوز ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے سماجی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے کردار پر زور دیا، جبکہ پروفیسر ڈاکٹر اصغر زیدی نے جدت اور سماجی اثرات کے لیے دونوں اداروں کے مشترکہ وژن پر روشنی ڈالی۔ شعبہ سوشل ورک اس تعاون کے موثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے مرکزی نقطہ کے طور پر کام کرے گا۔
یوم دفاع کے حوالے سے دفاع وطن بقائے وطن اور پرعزم پراعتمادپاکستانی کے عنوان سے غلام محمد گھوٹوی ہال اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں سیمینار کا انعقاد,,,,,,,,,شہداء کے خاندان شہید کیپٹن سہیل اکبر کے والد اکبر بھٹی اور بھائی ,شہید کیپٹن حسان عابد کے والد ڈاکٹر محمد عابد اور شہید کیپٹن محمد آصف کے بھائی محمد عارف بطورمہمانان اعزاز تقریب میں شریک ہوئے۔,
یوم دفاع کے حوالے سے دفاع وطن بقائے وطن اور پرعزم پراعتمادپاکستانی کے عنوان سے غلام محمد گھوٹوی ہال اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں سیمینار منعقد ہوا۔ اس موقع پر اسٹیشن کمانڈر بہاولپور گیریزن بریگیڈیئر غضنفر اقبال مہمان خصوصی تھے اور پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران وائس چانسلر نے صدارت کی۔ اس موقع پر شہداء کے خاندان شہید کیپٹن سہیل اکبر کے والد اکبر بھٹی اور بھائی شہید کیپٹن حسان عابد کے والد ڈاکٹر محمد عابد اور شہید کیپٹن محمد آصف کے بھائی محمد عارف مہمانان اعزاز تقریب میں شریک ہوئے۔ تقریب میں پروفیسر ڈاکٹر شیخ شفیق الرحمن ڈین فیکلٹی آف عربیک اینڈ اسلامک اسٹڈیز نے معرکہ حق بنیان المرصوص اور ڈاکٹر روبینہ یاسمین چیئرپرسن شعبہ مطالعہ پاکستان نے پرعزم پر اعتماد پاکستانی کے مضوع پر خصوصی لیکچر دیا۔ شہید کیپٹن سہیل اکبر کے والد اکبر بھٹی اور شہید کیپٹن محمد آصف کےبھائی محمد عارف نے اظہار خیال کیا اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کی جانب سے تقریب کے انعقاد کو سراہا۔ اس موقع پر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور پرفارمنگ آرٹ سوسائٹی کے طلباو طالبات نے ملی نغمے پیش کیے۔ تقریب میں ڈین فیکلٹی آف فزیکل اینڈ میتھمیٹیکل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر غلام مصطفیٰ، رجسٹرار محمد شجیع الرحمن ، خزانہ دار طارق محمود شیخ، ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز ڈاکٹر شہزاد احمد خالد طلباو طالبات اور ملازمین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

یوم ولادت رسولؐ اور مولانا مودودیؒ کا موقف……اگر مسلمان یہ سمجھ کر کہ یہ خدا کے سب سے بڑے نبی اور دنیا کے سب سے بڑے ہادی کی پیدایش کا دن ہے اور یہ وہ دن ہے جس میں انسان کے لیے خدا کی سب سے بڑی نعمت ظہور میں آئی۔ اس کو عید کی طرح سمجھیں تو کچھ بے جانہیں ہے۔”……….آج کے روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور دنوں سے زیادہ پھیلاؤ۔ آپ کے اخلاق اور آپ کی ہدایات سے سبق حاصل کرو اور کم از کم آپ کی تعلیم کا اتنا چرچا تو کرو کہ سال بھر تک اس کا اثر باقی رہے۔
*یوم ولادت رسولؐ اور مولانا مودودیؒ کا موقف*
مولانا مودودی علیہ الرحمہ نے 1942 میں میلاد النبی کے حوالہ سے دو خطاب کیے تھے، پہلا خطاب آل انڈیا ریڈیو لاہور سے کیا تھا اور دوسرا خطاب دارالاسلام پٹھان کوٹ میں خطبہ جمعہ دیا تھا۔ یہ دونوں خطاب بعد میں مضامین کی شکل میں ماہ نامہ ترجمان القرآن اپریل 1942 اور اپریل 1943 میں شائع ہوئے۔
مولانا مودودی، یوم ولادت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ تو بدعت قرار دیتے تھے اور نہ اسے کوئی معیوب سرگرمی سمجھتے تھے۔ وہ اس کو ایک ایک تاریخی دن مانتے تھے، چنانچہ بارہ ربیع الاول کے دن کو غیرمعمولی طور پر اہم قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
“آج اس عظیم الشان انسان کا جنم دن ہے، جو زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کے لیے رحمت بن کر آیا تھا اور وہ اصول اپنے ساتھ لایا تھا، جن کی پیروی میں ہر فرد انسانی، ہر قوم وملک اور تمام نوع انسان کے لیے یکساں فلاح اور سلامتی ہے۔ یہ دن اگرچہ ہر سال آتا ہے، مگر اب کی سال یہ ایسے نازک موقع پر آیا ہے، جب کہ زمین کے باشندے ہمیشہ سے بڑھ کر اس دانائے کامل کی رہنمائی کے محتاج ہیں”۔ (ترجمان القرآن، اپریل 1942)
دوسرے مضمون میں لکھتے ہیں:
“آج کا دن دنیا کے لیے ایک بڑی برکت کا دن ہے، کیوں کہ یہی تاریخ تھی جس میں ساری دنیا کے رہنما حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے۔ اگر چہ شریعت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کےیوم پیدائش کو عید قرار نہیں دیا گیا ہے اور نہ اس کے لیے کسی قسم کے مراسم مقرر کیے گئے ہیں، لیکن اگر مسلمان یہ سمجھ کر کہ یہ خدا کے سب سے بڑے نبی اور دنیا کے سب سے بڑے ہادی کی پیدایش کا دن ہے اور یہ وہ دن ہے جس میں انسان کے لیے خدا کی سب سے بڑی نعمت ظہور میں آئی۔ اس کو عید کی طرح سمجھیں تو کچھ بے جانہیں ہے۔” (ترجمان القرآن، اپریل 1943)
مولانا مودودی کا کہنا یہ تھا کہ اس موقع پر ہمارا مسرت منانے کا انداز ہمارے دین اور ایمان کے شایانِ شان ہونا چاہیے، مولانا اس موقع پر فضول ایکٹوٹیز اور غیر سنجیدہ ہنگامہ آرائی کو غلط قرار دیتے تھے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں لکھتے ہیں:
“البتہ اس عید کے منانے کی یہ صورت نہیں کہ خوب کھاؤ پیو، چراغاں کرو، جلوس اور جھنڈے نکالو اور محض اپنی دل لگی کے لیے فضول نمایشی کام کرنے لگو۔ ایسا کرو گے تو تم میں اور جاہل قوموں میں کوئی فرق نہ رہے گا۔ جاہل قومیں بھی اپنی تاریخ کے بڑے بڑے واقعات کی یاد میلوں ٹھیلوں اور جلوسوں سے مناتی ہیں۔ اگر تم نے بھی ان کے میلوں اور تہواروں کی نقل اتاری تو جیسے وہ ہیں ویسے ہی تم بھی بن کر رہ جاؤ گے۔ اسلام نے تو یادگار منانے کے لیے نیا ہی ڈھنگ نکالا ہے۔ سب سے بڑی یاد گار حضرت ابراہیم کی قربانی ہے۔ جسے منانے کے لیے اللہ تعالی نے عید الاضحی کی نماز اور قربانی اور حج وطواف کا طریقہ مقرر کیا ہے۔ اس پر تم غور کرو تو اندازہ کر سکتے ہو کہ مسلمان کو اپنی تاریخ کے بڑے بڑے واقعات کی یاد کس طرح منانی چاہیے۔” (ایضاً)
مزید لکھتے ہیں:
“تم کو سوچنا چاہیے کہ بارہ ربیع الاول کی تاریخ کس لحاظ سے تمہارے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ اس لحاظ سے نہیں کہ عرب کے ایک شخص کے گھر میں آج ایک بچہ پیدا ہوا تھا، بلکہ اس لحاظ سے کہ آج اس پیغمبر اعظم کو خدا نے زمین پر بھیجا جس کے ذریعے سے انسان کو خدا کی معرفت حاصل ہوئی، جس کی بدولت انسان نے حقیقت میں انسان بننا سیکھا، جس کی ذات تمام جہان کے لیے خدا کی رحمت تھی اور جس نے روئے زمین پر ایمان اور عمل صالح کا نور پھیلایا۔ پس جب اس تاریخ کی اہمیت اس لحاظ سے ہے تو اس کی یاد گار بھی اس طرح منانی چاہیے کہ آج کے روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور دنوں سے زیادہ پھیلاؤ۔ آپ کے اخلاق اور آپ کی ہدایات سے سبق حاصل کرو اور کم از کم آپ کی تعلیم کا اتنا چرچا تو کرو کہ سال بھر تک اس کا اثر باقی رہے۔ اس طرح یادگار مناؤ گے تو حقیقت میں یہ ثابت ہوگا کہ تم یوم میلاد النبی کو سچے دل سے عید سمجھتے ہو اور اگر صرف کھاپی کر اور دل لگیاں ہی کر کے رہ گئے تو یہ مسلمانوں کی سی عید نہ ہوگی، بلکہ جاہلوں کی سی عید ہوگی، جس کی کوئی وقعت نہیں۔” (ایضاً)
مولانا مودودی علیہ الرحمہ میلاد النبی کو ملت کے لیے احتساب اور جائزہ کے ایک اہم موقع کے طور پر پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
“بھائیو! عید میلاد النبی آپ مناتے ہیں، بڑی خوشی کی بات ہے، مگر صرف اتنا عرض کروں گا کہ اپنے سردار کے دربار میں حاضر ہوتے وقت ذرا یہ بھی سوچ لیا کیجیے کہ کیا منہ لے کر ہم اس روح پاک کا سامنا کررہے ہیں۔ ایک خادم سے قصور ہوجائے تو وہ اپنے صاحب کے سامنے جاتا ہوا ڈرتا ہے اور منہ چھپاتا پھرتا ہے۔ پھر کیا منھ لے کر ان کے سامنے جائیں جن کے ایک دو نہیں، خدا جانے کتنے فرمانوں کی روز ہم خلاف ورزی کرتے ہیں”۔ (ایضًا)
سید مودودی علیہ الرحمہ کے یہ دونوں مضامین اپنے موضوع پر بہت ہی معتدل اور رہ نمائی پیش کرتے ہیں۔
عبد الحی ابڑو
The young volunteers of MSF and STF are setting a shining example of humanitarian service in this difficult time.The youth must remain present among the flood-affected communities, take care of their needs, and ensure that no shortages occur.— Minister for Education Rana Sikandar Hayat
On the directions of Minister for Education Rana Sikandar Hayat, the Sikandar Tiger Force (STF) is continuously engaged in flood relief activities across the province. In Kasur and all other affected districts, volunteers of STF and MSF are actively working shoulder to shoulder with the government to serve flood victims by providing food, medicines, and other essential supplies.
The Minister for Education stated that STF and MSF are visiting villages to distribute food, clean drinking water, and other necessities among the victims.
Encouraging the youth of STF and MSF, Rana Sikandar Hayat said that they are setting a shining example of humanitarian service in this difficult time. He added that the youth are working day and night in all affected districts to assist and support the victims.

Rana Sikandar Hayat also directed STF and MSF to ensure the provision of fodder for livestock, emphasizing that the youth must remain present among the flood-affected communities, monitor facilities in flood relief camps, and not allow any shortages.
The Education Minister affirmed that the Sikandar Tiger Force will stand with the people until the last affected individual is rehabilitated.