Ilmiat
سماجی رہنما و سابق طالبعلم پنجاب یونیورسٹی راجہ منورنے شعبہ تعلقات عامہ کو جدید کیمرہ عطیہ کردیا
معروف سماجی رہنما و سابق طالبعلم رہنماء پنجاب یونیورسٹی راجہ منور نے پنجاب یونیورسٹی شعبہ تعلقات عامہ کو سرکاری تقریبات کی کوریج کے لئے جدید کیمرہ بمعہ لینز عطیہ کردیا۔ اس سلسلے میں وائس چانسلر آفس میں ایک تقریب کا انعقاد ہوا جس میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرمحمد علی، رجسٹرار ڈاکٹراحمد اسلام اور سماجی رہنما راجہ منور نے شرکت کی۔ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی نے پنجاب یونیورسٹی کے لئے راجہ منور کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے جدید کیمرہ دینے پر شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر راجہ منور نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی ان کی مادر علمی ہے اور اس یونیورسٹی کا سابق طالبعلم ہونے پر انہیں فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی زندگی کی کامیابیوں میں پنجاب یونیورسٹی کا اہم کردار ہے اور اس ادارے کی ترقی کے لئے کسی بھی کام آنا اعزاز کی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کی خدمت کرنا یہاں سے پڑھنے والے ہر گریجوایٹ کا اخلاقی فریضہ ہے۔
6رمضان کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن ِ پاک کی تفہیم…….ترتیب ۔۔۔۔۔رانا شفیق پسروری
ساتویں تراویح
سورۃ یونس:10 ویں سورت
سورۃ یونس مکی ہے، اس کی 109 آیات اور 11رکوع ہیں۔ یہ گیارہویں پارہ کے چھٹے رکوع سے سولہویں رکوع تک ہے۔ اس سورت کا نام علامت کے طور پر سورت کی آیت 98 سے لیا گیا ہے جس میں حضرت یونس علیہ السلام کا نام اشارتاً آیا ہے۔ (سورت کا موضوع حضرت یونس یا ان کا قصہ نہیں) سورت توبہ کے بعد عموماً ہر سورت میں ایک ایک مضمون پر بحث ہے۔ سورۃ یونس کا موضوع دعوت الی القرآن، فہمائش اور تنبیہ ہے۔ مضمون سے ظاہر ہوتا ہے کہ سورت یونس مکی دور کے آخری حصہ میں نازل ہوئی ہو گی کہ جب مکہ والوں کی طرف سے دعوت کی مزاحمت شدت اختیار کر چکی تھی، لیکن اس سورت میں ہجرت کے بارے میں کوئی اشارہ بھی نہیں ملتا، اس لئے سمجھا جا سکتا ہے کہ ہجرت سے تھوڑا پہلے کے دور میں نازل ہوئی ہے۔ اس سورت مبارکہ میں توحیدِ ربوبیت اور حیاتِ اخروی کے دلائل دیئے گئے ہیں اور ان غلط فہمیوں کا ازالہ ہے جو توحید اور آخرت پر ایمان لانے میں حائل رہتی ہیں۔
سورت کا آغاز ہے کہ ”لوگوں کو تعجب اس بات پر ہے کہ انہی میں سے ایک شخص کو کس طرح پیغمبر بنایا گیا ہے اور کفار تو اس چیز کا یقین ہی نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ وہ تو جادو گر ہیں۔ اللہ کی توحید کو سمجھنے کیلئے آسمانوں اور زمین کی تخلیق، خود انسان کی پیدائش، جنت، دوزخ، سورج، چاند، دن،رات کی تبدیلی وغیرہ بہت سی نشانیاں ہیں۔ دنیا کی زندگی کی مثال ایسی سمجھو کہ بارش ہوئی تو کھیتی لہلہانے لگی لیکن پھر ہم کو قدرت ہے کہ ہم اس کھیتی کو تباہ کر دیں۔ اسی طرح انسان پیدا ہو کر بڑا ہوتا ہے، آخر فوت ہو جاتا ہے، اس مشاہدے سے اللہ کی قدرت کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اللہ پاک بھلائی کی طرف پکارتا ہے اور اس کی دعوت کو لینے والے بھلائی پاتے ہیں اور نہ لینے والے جہنم میں جاتے ہیں اور آخرت میں نیکی اور بدی سب کا پتا چل جائے گا۔
آپ ان سے پوچھئے کہ تم کو کون روزی دیتا ہے؟ کون سماعت اور بصارت کا مالک ہے؟ کون مردہ کو زندہ اور زندہ کو مردہ کر دیتا ہے؟ آپ یہ بھی پوچھیں کہ ان کے معبودوں میں سے کون ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا ہے اور کون اس کا اعادہ کرتا ہے؟ وہ صرف اللہ ہے اور اس کا قرآن ایسا ہے جو اس کے سوا اور کوئی نہیں بنا سکتا اور اگر تم میں قدرت ہے تو بنا لاؤ اس کی جیسی کوئی سورت، اگر تم سچے ہو۔ اور جھٹلانے والے کا انجام دیکھ لو اور اللہ خوب جانتا ہے مفسدوں کو اور اللہ تمہارے واسطے احکام اتارتا ہے، تو کیوں اپنی طرف سے بعض کو حلال اور بعض کو حرام قرار دے لیتے ہو؟ اللہ سے چھوٹی بڑی کوئی چیز پوشیدہ نہیں اور اللہ والے لوگوں کو کسی طرح کا خوف اور غم نہیں۔ دنیا اور آخرت دونوں میں ان کیلئے خوشخبری ہے۔ اور اللہ ہی کا سب کچھ ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے اور آپ دشمنوں کی سرگرمیوں کی پروا نہ کریں۔ اللہ ان کا زور توڑ دے گا۔آگے حضرت نوحؑ کا پھر موسیٰؑ وہارونؑ کا ذکر ہے کہ فرعون نے جادوگروں کو بلوایا لیکن وہ سب کے سب موسی علیہ السلام کے آگے باطل ٹھہرے اور اللہ کی بات ہی سچ رہتی ہے۔ موسیٰؑ اور ہارونؑ کو فرمایا گیا کہ وہ اپنی قوم کے واسطے مصر میں گھر بنائیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کی نافرمانی کی وجہ سے اس کے مال ومنال کے لئے بددعا کی۔ آخر بنی اسرائیلی قوم دریا کے پار ہوئی لیکن فرعون غرق ہونے لگا تو ایمان لایا جو قبول نہ ہوا۔ اللہ نے اس کے مرنے کے بعد اس کا بدن دریا میں سے نکال کر ٹیلے پر رکھوا دیا تاکہ بعد والوں کو عبرت ہو۔
بہت سی بستیاں ایمان نہ لانے کی وجہ سے تباہ ہوئیں۔ یونس علیہ السلام کی قوم پر گو کہ عذاب منڈلا رہا تھا لیکن ایمان لانے کی وجہ سے وہ اس سے بچ گئے۔آپؐ فرما دیں کہ تم لوگ اگر میرے دین کے متعلق شک میں ہو، تو مَیں کہتا ہوں کہ مَیں صرف اللہ کو پوجتا ہوں اور مجھے حکم ہے کہ مَیں ایمان والوں میں رہوں۔ اللہ ہی سب کی تکلیف کو دور کرنے والا اور بھلائی کو پہنچانے والا ہے، کسی کو اس کے علاوہ اس کا اختیار نہیں ہے اور وہی بخشنے والا مہربان ہے۔ راہ پر آنے والے اپنی بھلائی کیلئے راہ پاتے ہیں اور گمراہ لوگ اپنی ہی برائی کیلئے گمراہ ہیں۔ آپ ان لوگوں کیلئے وکیل نہیں۔(یعنی آ پ غم نہ کریں اگر وہ لوگ راہ پر نہیں آتے) اور اللہ ہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔
سورۃ ہود: 11 ویں سورت
سورۃ ہود مکی ہے۔ اس کی 123 آیات اور دس رکوع ہیں۔ یہ گیارہویں پارہ کے آخر سے شروع ہوتی ہے۔ (صرف پانچ آیات گیارہویں پارہ میں ہیں) اور بارہویں پارہ کے دسویں رکوع تک ہے۔ اس سورت میں حضرت نوح علیہ السلام اور دیگر انبیا کا تذکرہ ہے مگر نام حضرت ہود علیہ السلام کے نام پر ہے جو عرب میں پہلے نبی تھے۔ سورۃ یونس اور سورۃ ہود ایک ہی مضمون کی تکمیل کرتی ہیں۔ اس میں بھی دعوت، فہمائش اور تنبیہ ہے، مگر سورۃ یونس کی نسبت دعوت مختصر ہے، فہمائش میں استدلال کم اور نصیحت زیادہ اور تنبیہ مفصل ہے۔
شروع ہی میں اللہ پاک کی طرف رجوع کرنے کا حکم ہے ورنہ سخت عذاب ہو گا۔ کفار اگر چھپ کر یا اوڑھ کر بھی مخالفت کی بات کریں، تب بھی اللہ کو علم ہو جاتا ہے اور دنیا میں کوئی جان دار ایسا نہیں جس کے رزق کا ذمہ اللہ نے نہیں لیا۔ وہ اس کے رہنے اور مرنے کے مقام سے واقف ہے۔ اسی نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور وہ عرش پر ہے۔ وہ تم کو آزماتا ہے کہ کون شخص اچھا کام کرتا ہے اور کافر تو موت کے بعد کی زندگی سے متعلق آپ کی بات کو جادو کہتے ہیں،لیکن جب ان پر قیامت کے دن عذاب ہو گا تو انہیں معلوم ہو گا کہ آخرت کا مذاق اڑانا کیسا ہوتا ہے۔ انسان کاحال تو یہ ہے کہ اگر اسے کچھ راحت ملتی ہے اور وہ اس سے چھین لی جاتی ہے تو وہ ناشکری کرنے لگتا ہے۔ پھر اگر مصیبت کے بعد اس کو کچھ آرام مل جاتا ہے تو وہ پہلی کیفیت کو بھول جاتا ہے۔ یہ باتیں اللہ کو پسند نہیں۔ ثابت قدم اور عمل صالح والے لوگ مغفرت اور بڑا اجر پائیں گے۔ کفار کہتے ہیں کہ آپ پر خزانہ کیوں نازل نہ ہوا اور اس کیساتھ فرشتہ کیوں نہ آیا؟ وہ آپؐ کے قرآن پر بھی اعتراض کرتے ہیں تو آپؐ فرما دیں کہ اگر تم سچے ہو تو لے آؤ اس جیسی سورتیں۔ دنیا کی خواہش کرنے والوں کو دنیا مل سکتی ہے، لیکن ان کو معلوم ہو جائے گا کہ ان کا سب کچھ ختم ہو گیا اور انہیں آخرت میں آگ ہی ملے گی۔ ایمان لانے والے موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں بھی تھے، لیکن بہت منکر ہوئے۔ اور اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھے؟ اب نوح علیہ السلام کی دعوتِ حق کا ذکر ہے کہ ان کی قوم کے سرمایہ داروں نے حق کی قبولیت کا معیار مال ودولت کو سمجھ لیا تھا اور وہ نوح علیہ السلام سے کہتے تھے کہ آپؐ کا ساتھ دینے والے مفلس اور نادار ہیں۔ نوح علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ
میں تم سے کوئی اجر تو نہیں مانگتا اور ایمان والوں کی غریبی اللہ کے نزدیک شرافت اور فضیلت کے منافی نہیں ہے اور مال ودولت سے خدا کی خوشنودی خریدی نہیں جاتی۔ خدا کی رضا صرف اس کے احکام پر چلنے سے حاصل ہوتی ہے۔ نوح علیہ السلام کی قوم نے جب ایمان قبول نہ کیا سوائے کچھ لوگوں کے تو اللہ نے کشتی بنانے کا حکم دیا جس پر اس قوم کے سردار ہنستے تھے۔ نوح علیہ السلام نے فرمایا کہ تم ہم پر ہنستے ہو اور ہم تم پر ہنستے ہیں، دیکھ لینا کس پر عذاب آتا ہے۔ جب اللہ کے حکم سے طوفان آنے لگا تو نوح علیہ السلام کو حکم ہوا کہ وہ ہر جانور کا جوڑا اس کشتی میں رکھ لیں اور اپنے گھر والوں میں سے بھی اور جو ایمان لائے ہوں۔ نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کنعان کو سوار ہونے کیلئے کہا تو اس نے کہا کہ میں لگ رہوں گا کسی پہاڑ سے۔ نوح علیہ السلام نے سمجھایا کہ آج سوائے اللہ کے حکم کے کہ جس پر اس کی رحمت ہو، کوئی بچانے والا نہیں،لیکن وہ لڑکا نہ مانا اور ڈوب گیا۔ پھر جب طوفان تھم گیا اور کشتی کوہ جودی پر ٹھہر گئی تو نوح علیہ السلام نے عرض کیا کہ اے میرے رب، میرا بیٹا تو میرے گھر والوں میں سے تھا اور تیرا وعدہ سچا ہے(کہ گھر والوں کو بچائے گا)۔ اللہ نے فرمایا کہ وہ بیٹا تمہاری اہل میں سے نہیں کیوں کہ اس کے عمل صالح نہیں۔ اب قوم عاد کا ذکر ہے کہ ہود علیہ السلام نے ان کو اللہ کی بندگی کی تعلیم دی، استغفار اور توبہ کرنے کیلئے نصیحت کی،لیکن ان لوگوں نے اپنے خداؤں کو چھوڑنا گوارا نہیں کیا۔ آخر ہود علیہ السلام اور ان کے ساتھی جو ایمان لے آئے تھے وہ تو بچا لئے گئے اور بقیہ قوم تباہ کر دی گئی۔ اب قوم ثمود کی بربادی کا ذکر ہے کہ ان لوگوں نے صالح علیہ السلام سے انکار اور سرکشی کی جس کا نتیجہ وہی ہوا جو اگلی قوموں کا ہوا۔ پھر ابراہیم علیہ السلام کے پاس فرشتوں کے آنے کا ذکر ہے کہ وہ اسحٰق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت لے کر آئے تھے، حالانکہ ان کی والدہ بوڑھی ہو چکی تھیں۔ وہ فرشتے لڑکوں کی شکل میں آئے تھے۔ قوم ان کی طرف دوڑی تو لوط علیہ السلام نے اپنی بیٹیاں اس قوم کو بیاہ دینے کی پیشکش کی،لیکن وہ قوم نہ مانی‘ پھر عذاب میں مبتلا ہوئی کہ ان کی بستی تہ وبالا کر دی گئی اور ان پر پتھروں کی بارش ہوئی۔ اب شعیب علیہ السلام کی قوم کا ذکر ہے۔ یعنی اہلِ مدین دنیا پرست تھے۔ مال ودولت کے حریص تھے اور شعیب علیہ السلام کی مسلسل تعلیم سے مطلق اثر نہ لیتے تھے۔آخر ان پر بھی عذاب نازل ہوا اور وہ برباد ہوئے۔ موسیٰ علیہ السلام کی دعوت پر فرعون اور اس کے سرداروں کا انکار اور سرکشی کا نتیجہ بھی وہی دوزخ ہے۔



ہایئر ایجوکیشن میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے HEC کے چیئرمین کی ہنگری کے سفیر سے ملاقات
اسلام آباد: چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے HEC سیکریٹریٹ میں ہنگری کے سفیر ڈاکٹر زولٹن وارگا سے ملاقات کی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ تعلیم میں تعاون کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔
ملاقات کے دوران چیئرمین HEC نے ہنگری حکومت کی تعریف کی، جو پاکستانی طلبہ کے لیے سالانہ 400 مکمل مالی معاونت والی اسکالرشپس (بیچلرز، ماسٹرز اور پی ایچ ڈی) فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے ہنگری کے انجینئرنگ ڈگریوں کے پاکستان میں تسلیم نہ ہونے کے طویل عرصے سے مسئلے کے حل کو بھی سراہا، جس سے پاکستانی گریجویٹس کو خاطر خواہ فائدہ حاصل ہوگا۔ انہوں نے تعلیمی تعاون کو مزید وسعت دینے پر زور دیا۔
ہنگری کے سفیر نے پاکستان سے واپس آنے والے سابقہ طلبہ (Alumni) کے ساتھ رابطے بڑھانے اور تحقیق، طلبہ کی موبلٹی، ثقافت اور آثار قدیمہ میں شراکت داری کو فروغ دینے میں دلچسپی ظاہر کی، خاص طور پر ٹیکسلا، ہڑپہ اور موہنجو دڑو کی قدیم تہذیبوں سے متعلق شعبوں میں۔ انہوں نے بتایا کہ ہنگری کے ریکٹرز کانفرنس پاکستان کے وائس چانسلرز فورم کے ساتھ فعال رابطے میں ہے تاکہ ادارہ جاتی تعلقات کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔
یہ ملاقات دونوں ممالک
پاکستان میں تعلیم کے حصول کے لیے 30 مزید سری لنکن طلبہ کی آمد۔۔۔۔معروف جامعات میں 430 سے زائد سری لنکن طلبہ مختلف شعبہ جات میں زیرِ تعلیم ہیں۔
لاہور: 30 مزید سری لنکن طلبہ اعلیٰ پاکستانی جامعات میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ یہ طلبہ علامہ اقبال اسکالرشپ کے تحت تعلیم حاصل کریں گے۔طلبہ کا استقبال علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ، لاہور پر کیا گیا، جہاں انہیں نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ ایمرجنگ سائنسز (FAST)، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور، اور پاک آسٹریا فاخ ہچشولے انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کے نمائندوں نے خوش آمدید کہا۔


یہ اسکالرشپ پاک–سری لنکا ہائر ایجوکیشن کوآپریشن پروگرام کے تحت پیش کی گئی ہے اور اس کا انتظام ہائیئر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کر رہا ہے۔ ان اسکالرشپس کے ذریعے دونوں ممالک کے تعلیمی روابط مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔
اس ہفتے کے آغاز میں، 25 سری لنکن طلبہ بھی MBBS کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ اس وقت ملک کی معروف جامعات میں 430 سے زائد سری لنکن طلبہ مختلف شعبہ جات میں زیرِ تعلیم ہیں۔علامہ اقبال اسکالرشپس پاکستان کی علاقائی تعلیمی تعاون اور تعلیمی سفارت کاری کے عزم کی عکاسی کرتی ہیں، اور یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان علمی اور تعلیمی تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
5 رمضان کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن ِ پاک کی تفہیم…….ترتیب ۔۔۔۔۔رانا شفیق پسروری
چھٹی تراویح
سورۃ الانفال:8 ویں سورت
سورت انفال مدنی سورت ہے، اس میں 75 آیات اور 10 رکوع ہیں۔یہ نویں پارہ کے پندرھویں رکوع سے دسویں پارہ کے چھٹے رکوع تک ہے۔یہ سورت 2ھ میں غزوہ بدر کے بعد نازل ہوئی۔اس میں معرکہ حق و باطل (اسلام و کفر کی پہلی جنگ) پر مفصل تبصرہ کیاگیا ہے مگر یہ تبصرہ دنیاوی بادشاہوں کی فتوحات کے تبصروں سے الگ اندازلئے ہوئے ہے۔اس قرآنی تبصرہ میں خامیوں کی نشاندہی بھی ہے،فتح میں تائید ِالٰہی کا تذکرہ بھی اور ان اخلاقی صفات کی توضیح بھی جن سے کامیابی میسر آتی ہے۔سورۃ مبارکہ کا نام پہلی ہی آیت میں مذکور لفظ ”انفال“ کے حوالہ سے رکھا گیا ہے۔ انفال جمع ہے ”نفل“ کی۔عربی میں نفل اس چیز کو کہتے ہیں جو واجب یا حق سے زائد ہو۔یہاں مال غنیمت کیلئے غنائم کی بجائے انفال کہا گیا ہے۔یعنی جنگ میں ہاتھ آئے ہوئے مال کے بارے میں مسلمانوں کو سبق دیا جا رہا ہے کہ اس کو اپنا مال نہ سمجھیں،بلکہ اللہ تعالیٰ کا مال سمجھیں۔ جو کچھ اللہ حصہ مقرر کریں وہ بخوشی لے لیں۔ جو غریبوں اور دیگر شرعی امور کیلئے مقرر کیا جائے اس کو برضا و رغبت گوارا کر لیں۔سورہئ انفال کا اصل موضوع غزوہ بدر اور اس کے متعلقہ واقعات ہی ہیں۔
شروع میں اجمالی طور پر مال غنیمت کا ذکر ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہے اور حکم آتا ہے کہ دشمنوں کے مقابلے میں اگر اسی طرح ایمان اور صبرو ثبات قائم رکھا گیا تو مزید رحمتیں نازل ہونگی۔مسجد حرام میں کافروں کی عبادت سیٹیاں بجانی یا تالیاں بجانی تھی اور وہ اللہ کی راہ سے روکنے کیلئے خرچ کرتے تھے۔اب ان سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنی چالبازیوں اور شرارتوں سے باز آجائیں تو ان کی مغفرت ہو سکتی ہے، ورنہ کفر پر اصرار کی وجہ سے وہ نامراد رہیں گے۔اب جہاد کا حکم ہے کہ ان سے لڑو یہاں تک کہ ان کا فساد باقی نہ رہے اور اللہ کا حکم جاری و ساری ہو جائے۔مالِ غنیمت کی تقسیم بھی بتائی ہے کہ چار حصے مجاہدین میں خرچ کئے جائیں اور پانچواں حصہ بیت المال میں جمع ہوگااور جہاد کرنے والوں کے لئے اللہ کی مدد ہوتی ہے۔ جہاد کے قواعد اور قوانین بھی بتائے جا رہے ہیں کہ ثابت قدمی اور اللہ کی یاد سے جہاد میں کامیابی ہوتی ہے اور اللہ کی اطاعت اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ہی کام آتی ہے۔شیطان دھوکے دیتا ہے اور جب وہ کافر لڑنے کو کھڑے ہوتے ہیں تو بظاہر ان کی مدد کرتا ہے لیکن پھر ان سے بری الذمہ ہو جاتا ہے۔منافقین کی ریشہ دوانیاں بتائی جا رہی ہیں تاکہ مسلمان ان سے خبردار رہیں۔مسلمانوں کو چاہئے کہ جہاد کے لئے ہر طرح کے سازوسامان سے لیس رہیں، پھر بھی ان مادی ذرائع پر بھروسہ نہ کریں بلکہ اللہ اور اس کی قدرت و مدد پر اعتماد کریں۔ جہاد پر آمادہ کرنے اور رہنے کا حکم پھر آتا ہے جس کے لئے صبرو ثبات کی تلقین ہے کہ اللہ کی رضا کے لئے جہاد ہو اور صبروثبات اور اللہ پر توکل ہو تو کم از کم دگنی تعداد پر آسانی سے غالب آسکتے ہیں۔مال غنیمت حلال ہے اور قیدیوں کے متعلق احکام ہیں کہ ان سے مال لیکر ان کو چھوڑا جا سکتا ہے یا نہیں۔پھر ایمان، جہاد اور ہجرت کے فضائل بیان کئے گئے ہیں کہ اگر وطن میں اسلامی زندگی گزارنی دوبھر ہو جائے تو پھر ہجرت ضروری ہے اور اللہ کے احکام پر عمل کرنے کیلئے ہجرت نہ ہو تو ایسے شخص کا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی تعلق نہیں۔ پھر یہ بھی حکم ہے کہ دشمن ملک اور دشمن قوم میں پھنسے ہوئے مظلوم مسلمان اگر اسلامی حکومت سے مدد طلب کریں تو ان کو ظلم و تشدد سے بچانے کیلئے ان کی مدد ضروری ہے۔ہجرت اور جہاد کرنے والے مغفرت اور عزت کی روزی حاصل کرینگے اور ان کے حقوق اور بھی ہیں۔
سورۃ التوبہ: 9 ویں سورت
سورہئ توبہ، مدنی ہے، اس میں 129 آیات اور 16رکوع ہیں۔ یہ دسویں پارہ کے ساتویں رکوع سے شروع ہو کر گیارہویں پارہ کے پانچویں رکوع تک ہے۔ یہ سورت دو ناموں سے مشہور ہے ایک ”التوبہ“ اور دوسرا ”برآۃ“۔ توبہ اس لحاظ سے کہ اس میں ایک جگہ اہل ایمان کی خطاؤں کی معافی کا ذکر ہے اور ”برأۃ“ اس لحاظ سے کہ اس کے آغاز ہی میں مشرکین اور ان کفار سے بیزاری کا اعلان ہے جو عہد شکن ہیں۔
اس سورت کے آغاز میں ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ نہیں لکھی گئی، امام رازی نے لکھا ہے کہ نبی پاکﷺ نے خود ہی اس کے آغاز میں ”بسم اللہ“ نہیں لکھوائی، اس لئے صحابہ کرامؓ نے بھی نہیں لکھی۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس سورت کے ساتھ ”بسم اللہ“ نازل ہی نہیں ہوئی تھی۔ اس میں سورۃ انفال کے مضامین کا ہی تسلسل نظر آتا ہے۔
آغاز سے لیکر پانچویں رکوع تک کا حصہ ذی القعدہ9 ھ کے لگ بھگ نازل ہوا اور رکوع 6 سے رکوع 9 کا حصہ رجب 9 ھ یا اس سے کچھ پہلے نازل ہوا جبکہ رکوع 10 سے اختتام تک کا حصہ غزوہ تبوک سے واپسی پر نازل ہوا (بعض آیات اسی دوران مختلف مواقع پر نازل ہوئیں)
جب مکہ فتح ہوا تو اس کے ایک برس بعد یہ حکم نازل ہوا کہ کسی مشرک سے صلح نہ رکھو اور یہ بات عید قربان کے دن حج کے قافلوں میں سنا دو تاکہ سب کو اطلاع ہو جائے۔ یعنی 10 ذوالحجہ سے 10 ربیع الآخر تک وہاں کے کافروں کو یہ مہلت دی گئی ہے کہ یا تو وہ جنگ کیلئے تیار ہو جائیں یا وطن چھوڑ دیں یا مسلمان ہو جائیں۔ پھر جو لوگ توبہ کر لیں، نماز اور زکٰوۃ ادا کریں تو ان سے کوئی تعرض نہیں ہو گا اور جو مشرک پناہ چاہیں انہیں پناہ دی جائے۔ مختلف قبیلوں سے جو معاہدے ہوئے تھے‘ اگر وہ ان پر قائم رہیں تو مسلمان بھی پابند رہیں ورنہ نہیں، اور جو مشرک یا کافر توبہ کر لے اور نماز وزکٰوۃ پر قائم ہو جائے تووہ مسلمان کا دینی بھائی ہے، اس سے کسی قسم کا انتقام نہ لیا جائے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ اگر ان کے باپ دادا، بیٹے اور بھائی وغیرہ کفر پر قائم ہیں تو ان سے رفاقت نہ کریں‘اللہ اور رسول ﷺ اور جہادکی راہ میں ان کا تعلق آڑے نہ آئے ورنہ تمہیں اس روش کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ بدر اور حنین کی جنگوں میں اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال رہی اور اب بھی رہے گی، اگر مسلمان، اپنے اللہ اور اس کے دین کیلئے آگے بڑھیں گے تو انہیں دنیا اور آخرت دونوں کی نعمتیں ملیں گی۔ اب حکم ہے کہ مسجد میں مشرکوں کو آنے مت دو، کیونکہ وہ پلید ہیں۔ اہل کتاب سے جزیہ لیا جائے اور جو دشمن مسلمان سے لڑیں تو ان سے مسلمان بھی لڑیں اور جو صلح رکھیں ان سے تعرض نہ کیا جائے۔ اب یہود ونصاریٰ کا ذکر ہے کہ عزیر علیہ السلام کو یہود نے اللہ کا بیٹا بنا لیا اور نصاریٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو۔ یہ سب غلط ہے اور یہ لوگ اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں اور اللہ تو اس نور کو پوری طرح چمکا کر رہے گا۔ دین ابراہیم علیہ السلام میں چار مہینے (ذی القعد‘ ذی الحج، محرم اور رجب) حرمت کے تھے۔ اب بھی اگر کفار ان مہینوں میں نہ لڑیں تو مسلمان بھی نہ لڑیں ورنہ ان مہینوں میں لڑ سکتے ہیں۔ مسلمانوں کو دنیا کی محبت میں جہاد سے دست کش نہ ہونا چاہئے اور عذاب الٰہی کا خود کو مستحق نہ بنانا چاہئے۔ اگر وہ جہاد چھوڑ دیں گے تو ان کے بجائے کسی دوسری قوم کو بھی یہ شرف دیا جا سکتا ہے جو مسلمان کو دیا گیا ہے۔ ان منافقین سے بچیں جو حیلے بہانے کر کے جہاد پر نہیں گئے۔ اللہ خود اپنے رسول ﷺ کی مدد کرتا ہے جیسا کہ غار ثور میں ان کو تسکین دی اور ان کی مدد فرمائی۔ جہاد میں شریک نہ ہونے والوں کی مذمت ہے اور منافقین کی ریشہ دوانیوں کی تفصیل بھی دی گئی ہے۔ دل میں نفاق ہوتا ہے تو نماز میں سستی ہوتی ہے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنا گراں گزرتا ہے۔ اب زکٰوۃ کے آٹھ مصارف بتائے جا رہے ہیں کہ جہاں مال خرچ کیا جائے۔ 1۔ مفلسوں پر 2۔ محتاجوں پر3۔ کام پر جانے والوں پر 4۔ اور جن کا دل تالیف کرنا ہے، 5۔ گردن چھڑانے پر، 6۔ تاوان بھرنے پر 7۔ اللہ کی راہ میں اور 8۔ مسافر پر۔ پھر ذکر ہے کہ وہ بدبخت جنہوں نے اپنی حرکتوں سے حضور انور ﷺ کو ایذا پہنچائی ہے ان کیلئے عذاب الیم ہے۔ خدا اور رسول ﷺ کی ہدایات پر جو لوگ ٹھٹھا کرتے ہیں، وہ منافق ہیں اور وہ بہانے بناتے ہیں۔اپنے گناہ کا اعتراف کرنے والے اور توبہ کرنے والے اللہ کے نزدیک قابل معافی ہیں۔ لیکن منافقوں نے ضد اور کفر کی وجہ سے جو مسجد ضرار پھوٹ ڈالنے کیلئے بنائی ہے اس میں ہرگز نماز نہ پڑھیں، بلکہ مسجد قبا میں پڑھیں جو پرہیزگاری کی بنا پر قائم کی گئی اور اس کیلئے اللہ کی رضا بھی ہے۔ ان تین حضرات کا بھی ذکر ہے جو کاہلی اور غلطی سے غزوہ تبوک میں شریک نہ ہو سکے تھے۔ لیکن انہوں نے خلوص کے ساتھ توبہ کی تو اللہ پاک توبہ قبول کرنے والا ہے۔ دین کے پھیلانے اور شریعت کا علم سیکھنے اور سکھانے کیلئے بھی ایک جماعت ضروری ہے۔ جہاد، اسلام کی سربلندی کیلئے ہے تاکہ کافروں کو معلوم ہو سکے کہ مسلمان کمزور نہیں ہیں۔ ایسے لوگ مجلس ِنبوی ﷺ سے کیا پھرے! خدا نے ان کے دلوں کو پھیر دیا اور حضور انور ﷺ خیر خواہی اور نفع رسانی کی تڑپ اپنے دل میں رکھتے ہیں اور آپ ﷺ جب سارے جہان کیلئے خیر خواہ ہیں تو امت مسلمہ کیلئے کیوں خیر خواہ نہ ہوں گے؟ آپ ﷺ تو رؤف بھی ہیں اور رحیم بھی اور اگر کوئی شخص ان سے پھر جاتا ہے تو ان کیلئے اللہ کافی ہے جو مالک ہے عرش عظیم کا۔
Pakistani students left in limbo by UKVI delays۔۔۔۔۔۔۔برطانیہ ویزا میں تاخیر: پاکستانی طلبہ کے تعلیمی خواب التوا کا شکار۔۔۔۔ متعدد طلبہ نے دسمبر 2025 میں بائیومیٹرکس مکمل کیے، تاہم مقررہ مدت کے باوجود ویزا فیصلے موصول نہ ہونے سے ان کے تعلیمی منصوبے متاثر ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔ ویزا پراسیسنگ نظام میں شفافیت اور جوابدہی کا فقدانبرطانیہ کی تعلیمی ساکھ کو بھی متاثر کر رہا ہے۔
برطانیہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند ہزاروں پاکستانی طلبہ کو یو کے ویزاز اینڈ امیگریشن (UKVI) کی جانب سے ویزا فیصلوں میں غیر معمولی تاخیر کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ جنوری/فروری 2026 کے انٹیک کے لیے درخواست دینے والے متعدد طلبہ نے دسمبر 2025 میں بائیومیٹرکس مکمل کیے، تاہم مقررہ مدت کے باوجود ویزا فیصلے موصول نہ ہونے سے ان کے تعلیمی منصوبے متاثر ہوئے۔
پائی نیوز مین شائع ہونے محمد رضوان طارق کی رپورٹ کے مطابق کئی طلبہ نے برطانیہ کی معروف جامعات سے کنفرمیشن آف ایکسیپٹنس فار اسٹڈیز (CAS) حاصل کی اور بھاری فیسیں بھی ادا کیں، مگر ویزا تاخیر کے باعث اندراج کی آخری تاریخ گزر گئی اور جامعات کو رجسٹریشن بند کرنا پڑی۔ نتیجتاً طلبہ کو ویزا درخواستیں واپس لینا پڑیں، جس سے انہیں ویزا فیس، ترجیحی سروس چارجز، سفری اخراجات اور بعض صورتوں میں یونیورسٹی ڈپازٹس کا نقصان اٹھانا پڑا۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ بار بار ادا شدہ انکوائری کرنے کے باوجود انہیں صرف خودکار یا عمومی جوابات ملے، جس سے غیر یقینی صورتحال اور ذہنی دباؤ میں اضافہ ہوا۔ ماہرین کے مطابق ویزا پراسیسنگ نظام میں شفافیت اور جوابدہی کا فقدان ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، جو نہ صرف طلبہ بلکہ برطانیہ کی تعلیمی ساکھ کو بھی متاثر کر رہا ہے۔

تعلیمی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ویزا فیصلوں میں شفافیت، بروقت کارروائی اور مؤثر شکایتی نظام متعارف کرایا جائے تاکہ طلبہ کا قیمتی وقت اور مستقبل انتظامی تاخیر کی نذر نہ ہو۔
گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج برائے خواتین گوالمنڈی میں جنریٹو اے آئی سیمینار اور پروجیکٹ نمائش کا انعقاد
گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج برائے خواتین گوالمنڈی لاہور میں جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) سیمینار اور پروجیکٹ نمائش 2026 کامیابی سے منعقد ہوئی، جس میں طالبات، اساتذہ اور ماہرینِ تعلیم کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تقریب کے مہمانانِ خصوصی میں ڈاکٹر سید انصار اظہر (ڈائریکٹر پبلک انسٹرکشنز کالجز پنجاب)، احسن مختار ملک (ڈائریکٹر ایجوکیشن کالجز لاہور ڈویژن)، نائب ڈائریکٹر کالجز لاہور نعیم اقبال اور کالج کی پرنسپل شامل تھیں۔ جبکہ مہمان مقرر محمد طاہر محمود (سافٹ ویئر کنسلٹنٹ، i2c Inc.) نے جنریٹو اے آئی پر تفصیلی خطاب کیا۔

سیمینار میں تعلیم، تحقیق اور صنعت میں جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے انقلابی کردار پر روشنی ڈالی گئی۔ اس موقع پر طالبات نے اے آئی پر مبنی جدید اور تخلیقی منصوبے نمائش میں پیش کیے، جو ان کی تکنیکی مہارت، تخلیقی صلاحیتوں اور مستقبل کی تیاری کا عملی مظہر تھے۔
مہمانانِ خصوصی نے کالج انتظامیہ، اساتذہ اور طالبات کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے جدید تعلیمی پروگرام نوجوان نسل کو ٹیکنالوجی اور اختراع کی دنیا میں آگے بڑھنے کے لیے اہم رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ سیمینار کو انتہائی معلوماتی، انٹرایکٹو اور حوصلہ افزا قرار دیا گیا، جو بالخصوص نوجوان طالبات کے لیے نہایت مفید ثابت ہوا۔
سییرت چیئر کے تحت لیڈرشپ کیمپسز، تحقیقی پروگرامز اور طلبہ فورمز قائم کیے جائیں گے تاکہ علمی سرگرمیوں کو ادارہ جاتی شکل دی جا سکے۔پروفیسر احسن اقبال
ہار ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے سییرت سینٹر لاہور میں “پرامن بقائے باہمی، قومی ہم آہنگی، یکجہتی، سماجی تعمیرِ نو ائور مہذب قومی تعمیر میں ایچ ای سی کے قومی سییرت چیئرز کا کردار” کے موضوع پر ایک اہم سیمینار کا انعقاد کیا۔ اس سیمینار کا انعقاد وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے اشتراک سے کیا گیا جس میں ملک بھر سے 100 سے زائد ماہرینِ تعلیم اور اسکالرز نے شرکت کی۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال تھے جبکہ ممتاز پینل میں وائس چانسلر یونیورسٹی آف نارووال ڈاکٹر محمد ضیاء الحق، کنگ خالد یونیورسٹی سعودی عرب کے ڈاکٹر علی بن خزرن بن محمد العمری، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے صدر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد، اسلامی تحقیقی ادارہ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد اکرم اور جامعہ محمدی شریف کے صدر صاحبزادہ محمد قمر الحق شامل تھے۔
سیمینار میں شرکاء کو چھ موضوعاتی گروپس میں تقسیم کیا گیا جن میں قیادت و طرزِ حکمرانی، انسانی حقوق و سماجی انصاف، تجارت و جائیداد کے حقوق، تعلیم و علم، خواتین کے حقوق و سماجی بہبود، اور عالمی امن، بین المذاہب ہم آہنگی اور پائیدار ترقی شامل تھے، جن پر سیرتِ طیبہ کی روشنی میں تفصیلی مباحثے کیے گئے۔

کلیدی خطاب میں پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ ہر سییرت چیئر کے تحت لیڈرشپ کیمپسز، تحقیقی پروگرامز اور طلبہ فورمز قائم کیے جائیں گے تاکہ علمی سرگرمیوں کو ادارہ جاتی شکل دی جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ سییرت چیئرز پر جامعات پر یہ بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سیرتِ نبوی ﷺ کی تعلیمات کو عصرِ حاضر کے عالمی چیلنجز جیسے بین المذاہب ہم آہنگی، سماجی انصاف اور پائیدار ترقی سے جوڑیں۔
ایچ ای سی کی جانب سے ڈپٹی ڈائریکٹر سییرت سینٹر لاہور ڈاکٹر محمد عرفان شیراز نے معزز مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور سیمینار میں ان کی قیمتی تجاویز اور علمی تعاون کو سراہا۔
4 رمضان کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن ِ پاک کی تفہیم…….ترتیب ۔۔۔۔۔رانا شفیق پسروری
سورۃ الاعراف: 7 ویں سورت
سورۃ اعراف مکی سورت ہے۔ 206 آیات اور 24 رکوع ہیں۔ آٹھویں پارہ کے نویں رکوع سے نویں پارہ کے 14 ویں رکوع تک ہے۔ اعراف عربی میں بلند جگہ یا ریت کے ٹیلہ کو کہا جاتا ہے۔ اس سورت کی آیات 47-46 میں ”اعراف“ اور ”اصحاب اعراف“ کا ذکر آتا ہے اس لئے اس سورت کو ”سورۃ اعراف“ کہتے ہیں، یعنی وہ سورت جس میں اعراف کا ذکر ہے۔ اعراف جنت اور دوزخ کے درمیان ایک مقام ہے جس میں ایک خاص قسم کے لوگوں کو ٹھہرایا جائے گا، یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور گناہ برابر ہوں گے، نیکیاں دوزخ میں جانے سے روکیں گی اور نہ خود اتنی ہی ہوں گی کہ جنت میں جانے کا باعث ہوں۔ یہ لوگ ایک خاص مدت تک یہاں روکے جائیں گے۔ بعد ازاں رب العزت کی رحمت سے یہ لوگ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ اس سورۃ کا زمانہ نزول اور سورۃ انعام کا زمانہ نزول ایک ہی ہے۔ اس کا مرکزی مضمون ضرورت نبوت اور دعوت رسالت ہے۔ انسان کو بتایا گیا ہے کہ دنیا کی زندگی بسر کرنے کیلئے جس رہنمائی کی ضرورت ہے اور اپنے وجود کی غرض وغایت نیز کائنات کی حقیقت سمجھنے کیلئے جو علم درکار ہے اور اپنے اخلاق، تہذیب وتمدن اور معاشرت کی تصحیح کیلئے جو اصول ضروری ہیں، ان کیلئے بہرحال نبوت کی ضرورت ہے۔ سورت کے آغاز میں حروف مقطعات ہیں، جن کے معانی اور اصل مفہوم کو سوائے رب تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جانتا۔
شروع میں نزولِ قرآن کی غرض بتائی گئی ہے کہ اس سے منکرین کو برے انجام سے ڈرایا جائے اور مومنین کو آگاہ کیا جائے کہ اللہ پاک نے اپنے رسولوں کے ذریعے کس کس طرح ان کی اصلاح چاہی۔ اب لباس کا ذکر ہے کہ وہ سترپوشی کے لئے ہوتا ہے لیکن تقویٰ کا لباس سب سے بہتر ہے۔ جو تقویٰ اختیار نہیں کرتے وہ شیطان کے حملوں سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ اللہ کی عبادت اور دعا خلوص سے ہونی چاہئے اور یہ کہ بعض گمراہ لوگ خود کو حق پر گامزن سمجھتے ہیں،حالانکہ وہ شیطان کے رفیق ہوتے ہیں۔ مسجد سے رشتہ رکھنے اور اس سے اپنی زینت (عزت) حاصل کرنے کا حکم بھی اور اسراف سے بچنے کا بھی حکم ہے۔ زینت اور حلال رزق کبھی حرام نہیں۔ البتہ کفر، نفاق، ظلم، تکبر اور شرک وغیرہ حرام ہے۔ اصحاب اعراف اور اصحاب جنت کا مکالمہ بھی ہے کہ اصحاب اعراف، جنت کے امیدوار ہوں گے اور اہل جنت سے پکار کر کہیں گے کہ سلامتی ہو تم پر اور جب وہ اصحاب اعراف، دوزخیوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے کہ اے رب، ہم کو ظالموں کا ساتھی نہ بنا۔ اہل جنت،اہل دوزخ اور اصحاب اعراف کے کچھ مکالموں کا بھی ذکر ہے کہ جنت والے کس قدر آرام وآسائش کے ساتھ رہیں گے اور دوزخ والے کتنی تکلیفوں میں ہوں گے اور ہمیشہ کیلئے یہی صورت ہو گی اور اس دنیا میں واپسی کا سوال ہی نہ ہو گا اور اس دن معلوم ہو گا کہ اللہ نے اپنے رسولوں کے ذریعے جو پیام دیا تھا وہ کتنا سچا تھا۔ اب ارشاد ہوتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کو اللہ نے چھ دن میں بنایا اور وہ خود عرش پر ہے۔ رات اور دن، سورج، چاند اور ستارے سب اس کے حکم پر ہیں۔ اسلئے صرف اسی کو گڑ گڑا کر پکارو اور زمین میں فساد نہ کرو اور پکار و اللہ کو خوف اور توقع کے ساتھ۔ آگے مختلف انبیاء اور انکی قوموں کا تذکرہ ہے۔
اسی طرح جہاں کہیں کِسی نبی علیہ السلام کو مبعوث کیا اور قوم نے جھٹلایا تو پہلے معاشی تنگی، قحط سالی اور وبائیں آئیں پھر فراغت اور خوش حالی سے ان کو آزمایا لیکن ان آسائشوں کے باوجود انہوں نے حق کا راستہ اختیار نہیں کیا تو پھر عام تباہی آئی۔ اگر قرآن کے ساتھ بھی اسی طرح کی سرتابی اور بغاوت کی گئی تو اس طرح کا عذاب پھر بھی آ سکتا ہے۔ لوگوں کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ دیکھیں موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں نے کیا کیا۔ موسیٰ علیہ السلام سے نشانی طلب کی گئی۔ انہوں نے اپنا عصا ڈالا تو وہ اژدہابن گیا اور ہاتھ آستین سے باہر نکالا تو وہ سفید اور روشنی کے ساتھ نظر آیا۔ لیکن یہ نشانیاں جادو سمجھی گئیں اور ان کے مقابلے میں جادو گر بلوائے گئے لیکن وہ سب بازی گر سجدے میں گر پڑے اور اللہ کی ربوبیت کے قائل ہو گئے لیکن فرعون نے سرتابی کی۔ پھر موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو نصیحت کی کہ وہ اللہ سے مدد مانگیں۔ ادھر فرعون اور اس کے ماننے والوں پر قحط سالی کا عذاب آیا تاکہ وہ کچھ اصلاح پائیں لیکن ان کا حال تو یہ تھا کہ جب کوئی بھلائی ان کو حاصل ہوتی تو سمجھتے کہ وہ ہمارا حق ہے اور تباہی آتی تو کہتے موسیٰ علیہ السلام کی وجہ سے ہے۔ آخر ان پر طوفان، ٹڈی، مینڈک وغیرہ کا عذاب آیا تو کہنے لگے کہ اے موسیٰ علیہ السلام تم اپنے رب سے دعا کرو کہ ہم اس عذاب سے بچ جائیں، پھر ہم لوگ تم پر ایمان لے آئیں گے اور تمہاری قوم بنی اسرائیل کو چھوڑ دیں گے لیکن جب ان پر سے عذاب ہٹ جاتا تو وہ پھر سرتابی کرتے، آخر کار ان سب کو غرق کر دیا گیا اوربنی اسرائیل کے لئے نیکی اور بھلائی کا وعدہ پورا کیا گیا۔
لیکن بنی اسرائیل جب دریا کے پار ہوئے تو ایک بت پرست قوم کو دیکھ کر خود بھی بت پرستی کے خواہشمند ہوئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان کو ڈرایا اور اللہ کے انعامات یاد دلائے۔ پھر موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر گئے۔ چالیس دن کا اعتکاف کیا۔ تورات ان کو دی گئی۔ اس موقع پر انہوں نے اللہ کا جلوہ دیکھناچاہا تو جواب ملا کہ تم نہیں دیکھ سکتے۔ لیکن جب تجلی کا ظہور ہوا تو پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور موسیٰ علیہ السلام بے ہوش ہو گئے۔ پھر جب آپ کو افاقہ ہوا تو آپ کو رسالت اور وحی کی تختیاں اور پتھر پر لکھی (الواح) حاصل ہوئیں۔ آپ کے کوہ طور پر جانے سے قوم بچھڑے کی پرستش میں مبتلا ہو گئی تھی۔ آپ اپنے بھائی ہارون علیہ السلام پر ناراض ہوئے کہ ان کی موجودگی میں ایسا کیوں ہوا۔ قوم آخر پچھتائی۔ نافرمان لوگوں پر بے شک عذاب نازل ہوا لیکن موسیٰ علیہ السلام کی عاجزانہ دعاؤں سے وہ عذاب پھر ٹل گیا کہ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے۔
تورات کی اس پیش گوئی کا ذکر بھی آیا ہے کہ حضور انورﷺ (نبی امی) تشریف لائیں گے اور انہی کی پیروی میں قیامت تک فلاح و نجات ہے۔اور یہ کہ وہ کسی خاص قوم، کسی خاص خطہ اور کسی خاص زمانے کیلئے نہیں ہیں،بلکہ ہر زمانے اور تمام انسانیت کیلئے ہیں۔ اب ذکر ہے کہ ازل میں انسانوں نے توحید کا اعتراف کر لیا تھا جبکہ اللہ نے ان سے فرمایا تھا کہ ”کیا میں نہیں ہوں رب تمہارا؟“ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جنون نہیں ہے۔وہ تو اللہ کی طرف سے ڈرانے والے ہیں۔قیامت کا علم اور غیب کا علم سب اللہ کے لئے ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نذیر و بشیر ہی ہیں۔غیر اللہ کو پکارنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔وہ شیطان کے بھائی ہیں جو گمراہی کی طرف چلے جا رہے ہیں اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی اعتراض کرتے ہیں۔اب ارشاد ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم ہو اور تم اللہ کو یاد کرو دل میں اور گڑگڑاتے ہوئے اور ڈرتے ہوئے اور خاموشی کے ساتھ اور تم غافل نہ بن جاؤ۔اللہ کو یاد کرنے والے تکبر نہیں کرتے اور یاد کرتے ہیں اللہ کو اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔ ٭


