وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر و گلگت بلتستان اور سیفران و صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا انجینئر امیر مقام نے کہا ہے نوجوانوں کو بااختیار بنانا ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ نوجوانوں پر کی جانے والی سرمایہ کاری دراصل پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے. ملاکنڈ یونیورسٹی میں پرائم منسٹر یوتھ لیپ ٹاپ سکیم فیز فور کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا اب تک ملک بھر میں 10 لاکھ سے زائد لیپ ٹاپ تقسیم کیے جا چکے ہیں اور یہ سلسلہ آئندہ بھی پوری رفتار سے جاری رہے گا. وفاقی وزیر نے بتایا کہ آج ملاکنڈ یونیورسٹی کے 600 میرٹ پر آنے والے طلبہ و طالبات میں لیپ ٹاپ تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملاکنڈ یونیورسٹی کا خیبر پختونخوا میں پہلی اور ملک بھر میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر پہاڑی اور دور دراز علاقوں کے نوجوانوں کو مواقع دیے جائیں تو وہ بھی ملک و قوم کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں. وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کے مطابق حکومت ڈیجیٹل اسکلز پروگرام، اسکالرشپس، گرین یوتھ موومنٹ، اسپورٹس سہولیات اور دانش اسکولوں جیسے منصوبوں پر بھی بھرپور توجہ دے رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں. انہوں نے یقین دلایا کہ ملاکنڈ یونیورسٹی کے مسائل اور مطالبات کے حل کے لیے ان کا دفتر ہر وقت دستیاب ہے اور تعلیمی و اسپورٹس انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے پی سی ون کی منظوری میں مکمل تعاون کیا جائے گا.

انہوں نے بتایا کہ صوبے میں 3200 سے زائد بند اسکول دوبارہ فعال کر دیے گئے ہیں جبکہ متعدد پسماندہ علاقوں میں قیامِ پاکستان کے بعد پہلی بار بنیادی طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو اسکالرشپ پروگرام بلوچستان کی تاریخ کا سب سے بڑا تعلیمی اسکالرشپ منصوبہ ہے، جس کے تحت سویلین شہدائ کے بچوں، اقلیتوں اور خواجہ سرا افراد کو بھی اسکالرشپس دی جا رہی ہیں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کا ہر طالب علم سائنسی مضامین میں دنیا کی اعلیٰ جامعات سے تعلیم حاصل کر سکتا ہے اور دو سو سے زائد عالمی جامعات میں پی ایچ ڈی کے مواقع کے دروازے کھول دیے گئے ہیں .









