:وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے درحقیقت خاتون کا چہرہ نہیں بلکہ بھارت کی نام نہاد جمہوریت اور ہندوتوا نظریے کو بے نقاب کیا ہے۔وہ پنجاب یونیورسٹی اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن اور ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹس افیئرز کے زیر اہتمام بھارتی وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے ایک خاتون کا حجاب کھینچنے کے عالمی سطح پر مذمت شدہ اقدام، بھارتی انتہا پسندی اور ہندوتوا نظریے کے خلاف منعقدہ احتجاجی مظاہرے کی قیادت کرتے ہوئے میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔اس موقع پرپرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود، صدر اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن ڈاکٹر امجد مگسی، ڈی جی ڈاکٹر یحان صادق، ڈائریکٹر سٹوڈنٹس افئیرز ڈاکٹر شاہزیب خان، اساتذہ اور طلباؤ طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اپنے خطاب میں وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ وزیر اعلی نتیش کمارنے دراصل بھارت کی نام نہاد جمہوریت کو بے نقاب کیاہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اس واقعے اور ہندوتوا کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعات کی اولین ذمہ داری ہے کہ واقعے کے پیچھے کی ذہنیت کو بے نقاب کرنے کیلئے کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاشرے میں بنیادی حقوق اور چادر و چاردیواری کے تقدس کا احساس ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بہار کا وزیر اعلیٰ جنوبی ایشیا ء کے کلچر کی سمجھ وبوجھ رکھتا ہے، ایک پڑھے لکھے اور منتخب بھارتی وزیر اعلیٰ نے یہ گھناؤنی حرکت کی۔انہوں نے کہا ہندوتوا کے علاوہ کسی مذہب اور کلچر میں ایسے اقدام کی اجازت نہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ، ملازمین اور طلباؤطالبات اس نظریے اور ذہنیت کی مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے برعکس پاکستان میں اقلیتیں محفوظ ہیں۔ ڈاکٹر امجد مگسی نے کہا کہ بھارت نے جمہوریت کا جو لبادہ اوڑھ رکھا ہے وہ دنیا نے دیکھ لیاہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما کے اس اقدام کی پنجاب یونیورسٹی کے تمام اساتذہ مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اس واقعے کا نوٹس لیں۔ڈاکٹر شاہزیب خان نے طلباء و طالبات کو نصیحت کی کہ اس واقعہ پر وڈیوز بنائیں اور سوشل میڈیا پر بھارت کا حقیقی چہرہ بے نقاب کریں۔
Ilmiat
ڈاکٹر شاہد منیر نے ماحولیاتی سفارت کاری (انوائرمنٹل ڈپلومیسی) کا ایک منفرد اور بالکل نیا تصور پیش کیا
سلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے شعبہ بشریات اور نفسیات کے زیر اہتمام ڈاکٹر فاروق احمد، چیئرمین شعبہ بشریات کی تصنیف ماحولیات اور صحت عامہ ، نظریہ، شواہد اور پائیدار حل کی طرف بصیرت کی رونمائی کی تقریب کا انعقاد
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے شعبہ بشریات اور نفسیات کے زیر اہتمام ڈاکٹر فاروق احمد، چیئرمین شعبہ بشریات کی تصنیف ماحولیات اور صحت عامہ ، نظریہ، شواہد اور پائیدار حل کی طرف بصیرت کی رونمائی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور کتاب کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے ڈاکٹر فاروق احمد کو اس اہم تعلیمی کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اسپرنگر نیچر کے ساتھ اشاعت اس کام کی علمی قابلیت کی عکاسی کرتی ہے اور یونیورسٹی کے قومی اور بین الاقوامی علمی مقام میں مثبت کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے عالمی چیلنجوں کا جواب دینے میں بین الضابطہ اسکالرشپ کی اہمیت پر زور دیا۔ ڈین، فیکلٹی آف سوشل سائنسز، پروفیسر ڈاکٹر روبینہ بھٹی نے بین الضابطہ کام کی اہمیت اور ایس ڈی جی کولیبریشن سینٹر کے کردار پر روشنی ڈالی تاکہ اس طرح کے کام کو اس انداز میں آسان بنایا جائے جو SDGs کے حصول میں خاطر خواہ اضافہ کرتا ہے۔حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے، ڈاکٹر فاروق احمد نے ماحولیات، ثقافت اور صحت عامہ کے درمیان باہم مربوط تعلقات کو سمجھنے میں بشریات کے کردار پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب ماحول، صحت عامہ اور سماجی مساوات کے درمیان پیچیدہ روابط پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، نظریاتی تناظر، تجرباتی ثبوت، اور پائیدار حل کو کیسے مربوط کرتی ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم چئیرمین ڈیپارٹمنٹ آف اپلائیڈ سائیکالوجی نےکلائمیٹ چینج اور سائیکالوجی کے درمیان تعلق کے عنوان سے ایک مذاکرہ دیا، جس میں افراد اور کمیونٹیز پر ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے نفسیاتی اثرات پر زور دیا گیا۔ تقریب میں پروفیسر ڈاکٹر آصف نوید رانجھا ڈائریکٹر ایڈوانس سٹڈیز اینڈ ریسرچ بورڈ، پروفیسر ڈاکٹر ثمر فہد، ڈاکٹر عدنان، چیئرمین شعبہ میڈیا سٹڈیز، ڈاکٹر اویس گیلانی، فیکلٹی ممبران اور وائس چانسلر کے پرسنل اسٹاف آفیسر وسیم صدیقی نے شرکت کی۔
لاہور: لاہور کی سرکاری اور نجی جامعات نے تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور طلبہ کی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ طور پر لاہور انٹر یونیورسٹی لیگ قائم کر دی۔ اس مقصد کے تحت گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں خواجہ خورشید انور میوزک مقابلے کا انعقاد کیا گیا، جس کے اختتام پر 17 جامعات کے وائس چانسلرز نے تعلیمی تعاون کے فریم ورک پر دستخط کیے۔
تقریب میں پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات، پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خان، جی سی یو کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر چوہدری اور یونیورسٹی آف دی پنجاب کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی سمیت دیگر یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز اور نمائندے موجود تھے۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر چوہدری نے کہا کہ لاہور انٹرورسٹی لیگ کا مقصد یونیورسٹیوں کے درمیان نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کے ذریعے تعاون کو فروغ دینا ہے۔اس موقع پر وائس چانسلر نے میوزک کے فروغ میں طارق فارانی کی خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔
وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے کہا کہ موسیقی ثقافتی ہم آہنگی اور سماجی روابط کو فروغ دیتی ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ اس معاہدے سے جامعات کے درمیان تعلیمی تعاون بڑھے گا۔پی ایچ ای سی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خان نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے یونیورسٹیوں کا اشتراک بہت ضروری تھا۔
تقریب میں گلوکارہ حمیرا چنہ اور کلاسیکل موسیقی کے استاد حمید علی خان نے بھی خطاب کیا اور تعلیمی اداروں میں موسیقی کی روایات کو برقرار رکھنے کے کردار پر زور دیا۔
شرکت کرنے والے اداروں میں یونیورسٹی آف دی پنجاب، یونیورسٹی آف ایجوکیشن، یو ای ٹی لاہور، لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی، فورمین کرسچن کالج، یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب، بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی، یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی، لاہور اسکول آف اکنامکس، قرشی یونیورسٹی، منہاج یونیورسٹی، لاہور گیریزن یونیورسٹی، این یو آر انٹرنیشنل یونیورسٹی، راشد لطیف خان یونیورسٹی، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف فیشن اینڈ ڈیزائن اور مزید دو ادارے شامل ہیں۔
پہلے، دوسرے اور تیسرے انعام کے حقدار طلبہ میں غلام قنبر، خان افسر، سفیرہ جوہنی، غیاث حیدر، طوبیٰ خالد، مبشر حسن، آمنہ بتول، عباس فاروق، توسل مہدی، اریبہ شفیق، محمد عباس، رابنسن، غلام شبیر، حماد احمد، عبداللہ فہیم، بسمہ ادریس، عندلیب، علی زین، نذر عباس، علی زر، سیدہ فارین، علی حسنین آصف، حبیبہ رمضان، علی نواز، سلمان یعقوب اور سید ثاقب انور شامل ہیں۔
پنجاب یونیورسٹی آسا کے زیر اہتمام ریٹائرڈ اساتذہ کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد
پنجاب یونیورسٹی اکیڈمک سٹاف ایسو سی ایشن کے زیر اہتمام ریٹائرہونے والے اساتذہ کے اعزاز میں خصوصی تقریب کا انعقاد الرازی ہال میں کیا گیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی، پرووائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر خالد محمود،صدراکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن ڈاکٹر امجد عباس مگسی،سیکریٹری ڈاکٹر محمداسلام،پروفیسرڈاکٹر غالب عطا ء سمیت عہدیدران اور فیکلٹی ممبران نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ ریٹائرڈ ہونے والے اساتذہ ادارے کا فخر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریٹائرمنٹ سسٹم کا حصہ ہے، مگر استاد کو کبھی ریٹائر نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح وکیل، صحافی، فنکارکبھی ریٹائر ڈ نہیں ہوتے اسی طرح اساتذہ کو بھی اپنے کیریئر کے عروج پر مزید خدمت کا موقع ملنا چاہیے۔ ان۔ ڈاکٹر امجد عباس مگسی نے ریٹائرڈاساتذہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں اس سطح پر اساتذہ کے اعزاز میں تقریب کا رواج نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کرام میں اختلاف ہوتے ہیں، مگر بطور ایسوسی ایشن ہم سب کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تقاریب یونیورسٹی کا نام روشن کرنے والے اساتذہ کے لیے چھوٹی سی کاوش ہے۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے لیے بہترین خدمات انجام دینے پر اساتذہ کی خدمات کو سراہا۔

پاکستان میں امن کے لئے تمام مذاہب کے لوگوں کو ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہونا چاہیے، ڈاکٹر محمد علی
:وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا ہے کہ ہم سب ایک جیسے ہیں اور پاکستان میں امن و سلامتی کے لئے ہمیں ایک دوسرے کی خوشی اور غم میں شریک ہونا چاہیے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی ایڈمنسٹریٹیو اینڈ ٹیکنیکل سٹاف ایسوسی ایشن اور مسیحی ملازمین کی طرف سے کرسمس کیک کٹنگ تقریب کا انعقاد فیصل آڈیٹوریم میں ہوا جس میں پرنسپل کنیئرڈ کالج پروفیسرڈاکٹر ارم انجم،رجسٹرار ڈاکٹر احمد اسلام،سینیئرپاسٹر انورفضل،صدر ملازمین ایسوسی ایشن چوہدری بشارت محمود،،اور ملازمین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اپنے خطاب میں وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے مسیحی ملازمین کو کرسمس اورنئے سال کی مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس تہوار کی خوشی میں مسیحی برادری کے ساتھ ہیں جن کی پاکستان کے لئے بے پناہ خدمات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تمام مذاہب کے لوگوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہترین تقریب کے انعقاد پر چوہدری بشارت اور ان کی ٹیم کی کو ششوں کو کو سراہا۔ ڈاکٹر ارم انجم نے کہا کہ ڈاکٹر محمد علی جیسے استاد ملنا خوش نصیبی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں زمین پر ستارے کی مانند چمکنے کیلئے اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دینا ہوگا۔ سینیئر پاسٹر انور فضل نے کہا کہ ہمیں حضرت عیسٰی علیہ السلام کے محبت، امن اور بھائی چارے کے پیغام پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ عصر حاضر میں لوگ ایک دوسرے کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں جس کے تدارک کے لئے اپنے آباؤ اجداد کی تعلیمات کی پیروی کرنا ہوگی۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی میں کرسمس کی بہترین تقریب کے انعقاد پر وائس چانسلر اور ان کی ٹیم کو مبارک باد پیش کی۔چوہدری بشارت محمود نے مسیحی ملازمین کو کرسمس کی مبارک باد پیش کی اور خوبصورت تقریب کے لیے تعاون پر وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی کا شکریہ ادا کیا۔ہیں۔بعد ازاں تقریب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی ودیگر نے کرسمس کا کیک کاٹا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ دانش یونیورسٹی ٹیکنالوجی اور جدید علوم کے فروغ پر توجہ مرکوز کرے گی،یونیورسٹی میں داخلے کے حوالے سے ملک کے دور دراز کے علاقوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے لائق اور مستحق طلباء کو موقع دیا جائے۔پیر کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے دانش یونیورسٹی کے بورڈ آف ٹرسٹیز کےاجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں وزیر وفاقی تعلیم و فنی تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ،وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ اور دانش یونیورسٹی کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے چیئرمین ، اراکین اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم نے بورڈ آف ٹرسٹیز کے چیئرمین اور اراکین کو اجلاس میں خوش آمدید کہا اور ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ آپ کی کاوشیں علم کی روشنی پھیلانے میں اہم کردار ادا کریں گی ۔وزیراعظم نے دانش یونیورسٹی کی عمارت کو سادہ اور پر وقار طرز پر تعمیر کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ دانش یونیورسٹی میں اعلیٰ معیار کی ریسرچ کو یقینی بنایا جائے اور فیکلٹی ممبران کو تعینات کرنے کے لئے حکمت عملی بنائی جائے ،دانش یونیورسٹی کی تعمیر کے حوالے سے اچھی شہرت اور متعلقہ تجربہ رکھنے والے کنٹریکٹرز کو پری-کوالیفائی کیا جائے،دانش یونیورسٹی میں داخلے کے حوالے سے ملک بھر کے دور دراز کے علاقوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے لائق اور مستحق طلباء کو موقع دیا جائےاورسرکاری سکولوں میں دانش یونیورسٹی کے حوالے سے آگہی پھیلائی جائے۔اس موقع پر دانش یونیورسٹی کے جاری کام کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ دانش یونیورسٹی پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے،دانش یونیورسٹی کا چارٹر وزارت قانون و انصاف سے منظور ہو چکا ہے جسے منظوری کے لئے کابینہ اور پارلیمنٹ کو بھیجا جائے گا،دانش یونیورسٹی کے حوالے سے ملک بھر میں آؤٹ ریچ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے،دانش یونیورسٹی میں ابتدائی طور پر عصری تقاضوں سے ہم آہنگ سینٹر آف ایکسیلینس قائم کیا جائے گا،ملک بھر کے مستحق طلباء کے لئے دانش یونیورسٹی میں داخلے کے حوالے سے ٹریننگ کیمپس شروع کئے جائیں گے،یونیورسٹی کے اکیڈمک وژن کے حوالے سے بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرین تعلیم سے رابطہ کیا گیا ہے۔
اسلام آباد — پاکستان میں تعلیم اور عالمی تعلیمی مواقع کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے وزیرِ مملکت وجیہہ قمر نے چارج ڈی افیئرز نتائیل اے بیکر کے ہمراہ یونائیٹڈ اسٹیٹس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن اِن پاکستان (USEFP) کی نئی تعمیر شدہ عمارت کا افتتاح کر دیا۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ یہ جدید سہولت پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلیمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی علامت ہے۔ نئی عمارت کے ذریعے تعلیمی تبادلے کے پروگراموں، تعلیمی مشاورت اور بین الاقوامی مواقع تک طلبہ کی رسائی میں اضافہ ہوگا، جس سے نوجوانوں کو عالمی سطح پر بااختیار بنانے میں مدد ملے گی۔
وزیرِ مملکت وجیہہ قمر نے معیاری تعلیم کے فروغ اور نوجوانوں کے لیے بین الاقوامی مواقع کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ USEFP کی یہ پیش رفت پاکستان کے طلبہ کے لیے نئے دروازے کھولے گی۔ انہوں نے اس اقدام کو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط شراکت داری کی عملی مثال قرار دیا۔
