ڈاکٹر اظہر حسین ایسوسی ایٹ پروفیسر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور پاکستان نے چین میں 7 دسمبر سے 21 دسمبر 2025 تک منعقد ہونے والی 15 روزہ پیشہ ورانہ تربیت کامیابی کے ساتھ مکمل کی ہے ۔ “مستقبل کے لیے تیار تعلیمی قیادت: اعلیٰ تعلیم میں گورننس انوویشن اور اے آئی انٹیگریشن” کے عنوان سے اس تربیت کا اہتمام پاکستان کے ہائیر ایجوکیشن کمیشن ایچ ای سی چائنا ایسوسی ایشن آف ہائر ایجوکیشن چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کنسورشیم آف یونیورسٹیز سی پی ای سی کنسورشیم آف یونیورسٹیز نے کیا تھا اور اس کی میزبانی تیانجن فارن اسٹڈیزیونیورسٹی ٹی ایف ایس یو نے کی۔ اس پروگرام میں تعلیمی لیکچر سیشنز کے ساتھ ساتھ پیکنگ یونیورسٹی دیگر عالمی درجہ کی یونیورسٹیوں اور چین بھر کے مختلف اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ادارہ جاتی دوروں پر مشتمل تھا۔ شرکاء نے ثقافتی دوروں میں چین کے ورثے اور معاصر معاشرے کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ ان سرگرمیوں نے شرکاء کو اعلیٰ تعلیم کی گورننس تعلیمی قیادت میں جدت اور عصری تعلیمی نظاموں میں مصنوعی ذہانت کے انضمام کے بارے میں عملی تربیت فراہم کی گئی۔ اختتامی تقریب بیجنگ میں چائنا ایسوسی ایشن آف ہائر ایجوکیشن میں منعقد ہوئی۔ تقریب کی میزبانی چائنا ایسوسی ایشن آف ہائر ایجوکیشن کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل گاو شیاؤ جی نے کی۔ تقریب میں چائنہ ایسوسی ایشن آف ہائر ایجوکیشن کے نائب صدر مسٹر ژانگ ڈالیانگ پاکستان کے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی ڈائریکٹر جنرل گلوبل کوآپریشن عائشہ اکرام اور تیانجن فارن اسٹڈیز یونیورسٹی کے نائب صدر مسٹر ژو پینگ شیاؤ نے خطاب کیا۔پروفیسر ڈاکٹر زینگ سمنگ وائس ڈین تیانجن فارن اسٹڈیز یونیورسٹی چین نے شرکا کو سرٹیفکیٹس سے نوازا۔ ڈاکٹر اظہر حسین اس جامع تربیتی پروگرام کے لیے پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں کے 25 رکنی وفود میں شامل تھے۔
Ilmiat
پنجاب یونیورسٹی ہیلی کالج آف کامرس کے لیکچرارکا پی ایچ ڈی سکالرحافظ فواد علی ایلیسا اسکل اَپ کے لیے انتخاب
پنجاب یونیورسٹی فیکلٹی ممبر محمد عدنان شان نے فلبرائٹ پوسٹ ڈاکٹریٹ سکالرشپ حاصل کر لی
کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں 45ویں KEMUCON 2025 بین الاقوامی سائنسی کانفرنس کی شاندار اختتامی تقریب
کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں 45ویں سالانہ بین الاقوامی سائنسی کانفرنس KEMUCON 2025 کی شاندار اختتامی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن تھے، جبکہ سابق صوبائی وزیر صحت پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے مہمانِ اعزاز کی حیثیت سے شرکت کی۔ تقریب کی صدارت وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمود ایاز نے کی۔
اختتامی کلمات میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمود ایاز نے کہا کہ KEMUCON 2025 میں مختلف شعبہ جات اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے مندوبین نے شرکت کی، تاہم وہ ایک مشترکہ وژن، علمی ہم آہنگی اور جدت و معیارِ امتیاز کے عزم کے ساتھ رخصت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کانفرنس کے دوران حاصل ہونے والی توانائی، علم اور بصیرت کو عملی اقدامات اور مثبت تبدیلی میں ڈھالنا ہوگا، کیونکہ اصل کام کانفرنس ہال سے باہر شروع ہوتا ہے۔
اپنے خطاب میں صوبائی وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے کہا کہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی معیاری طبی تعلیم اور تحقیق میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں صحت کی سہولیات اور مریض دوست خدمات کے فروغ کے لیے کیے گئے اقدامات کا ذکر کیا اور KEMUCON 2025 کے کامیاب انعقاد پر جامعہ کی انتظامیہ کو مبارکباد دی۔

صدر KEMCAANA ڈاکٹر دانش بھٹی نے کہا کہ دنیا بھر میں موجود کنگ ایڈورڈ کے گریجویٹس اپنے ادارے سے مضبوط تعلق رکھتے ہیں اور تعلیمی، تحقیقی اور فلاحی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ صدر KEMCA-یو کے ڈاکٹر آصف خان نے کہا کہ KEMUCON عالمی سطح پر علمی روابط کے فروغ کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ہے اور یقین دہانی کرائی کہ KEMCA-یو کے آئندہ بھی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کی بھرپور معاونت جاری رکھے گا۔
کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں 45ویں KEMUCON بین الاقوامی سائنسی کانفرنس 2025 کی پروقار افتتاحی تقریب
کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی (KEMU) میں 45ویں KEMUCON سالانہ بین الاقوامی سائنسی کانفرنس 2025 کی افتتاحی تقریب نہایت وقار اور شان و شوکت کے ساتھ منعقد ہوئی۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد قومی ترانہ بجایا گیا اور وطنِ عزیز سے محبت اور احترام کا اظہار کیا گیا۔تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات جناب احسن اقبال تھے، جبکہ صوبائی وزیر برائے جیل خانہ جات جناب رانا منان اور صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور جناب سردار رمیش سنگھ اروڑا مہمانانِ اعزاز کی حیثیت سے شریک ہوئے۔
اس موقع پر کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج ایلومنائی ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکہ (KEMCAANA) کے صدر ڈاکٹر دانش بھٹی، کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج ایلومنائی ایسوسی ایشن یو کے (KEMCA-UK) کے صدر ڈاکٹر آصف خان، سابق صدر KEMCAANA ڈاکٹر فتح شہزاد، صدر KEMCA-پاکستان پروفیسر محمد امجد، چیئرمین APPNA پروفیسر خورشید خان، وائس چانسلر RLMU پروفیسر راشد لطیف، پرنسپل امیرالدین میڈیکل کالج پروفیسر فاروق افضل، پرنسپل SIMS پروفیسر زہرہ خانم، پرنسپل AIMC پروفیسر طیبہ وسیم، پرنسپل الٰعلیم میڈیکل کالج پروفیسر طیب، ڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ پروفیسر سائرہ افضل، پرو وائس چانسلر KEMU پروفیسر محمد معین، رجسٹرار KEMU پروفیسر سید اصغر نقوی، پروفیسر محمد عمران، پروفیسر علی مدیحہ ہاشمی، چیف ایگزیکٹو آفیسر میو اسپتال لاہور پروفیسر ہارون حمید، پروفیسر تحریم فاطمہ، پروفیسر فائزہ بشیر، پروفیسر عین المومنہ سمیت فیکلٹی ممبران، طلبہ اور بڑی تعداد میں ملکی و غیر ملکی مندوبین نے شرکت کی۔

وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر محمود ایاز نے استقبالیہ خطاب میں معزز مہمانوں اور شرکاء کو خوش آمدید کہا اور یونیورسٹی کی تعمیرِ نو، بحالی اور عالمی مقام کو مزید مضبوط بنانے کے وژن سے آگاہ کیا۔ انہوں نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس اسکول، بایوبینک، جینوم سیکوینسنگ سینٹر اور امپیکٹ فیکٹر جرنل کے قیام سمیت اہم تعلیمی و تحقیقی منصوبوں کا اعلان کیا۔ انہوں نے کنگ ایڈورڈ کے فعال ایلومنائی، بالخصوص ڈاکٹر فتح شہزاد، کے کردار کو سراہا
اپنے کلیدی خطاب میں وفاقی وزیر احسن اقبال نے دعوت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے وائس چانسلر اور فیکلٹی کی خدمات کو سراہا۔ ا انہوں نے مسلم تہذیب کے سنہری دور کا حوالہ دیتے ہوئے تعلیم، تحقیق اور قرآنی حکم “اقرأ” (پڑھو) کی اہمیت پر زور دیا۔ قومی ترقی کے لیے انہوں نے چار بنیادی ستون بیان کیے: امن، سیاسی استحکام، کم از کم دس سالہ پالیسی تسلسل، اور اصلاحات و جدیدیت سے وابستگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو برین ڈرین کے بجائے برین گین کو فروغ دینا ہوگا اور امید ظاہر کی کہ ملک 2030 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بن سکتا ہے۔
تقریب کے دوران KEMCAANA اور KEMCA-UK نے طلبہ اور صحت کے شعبے کے لیے نمایاں مالی معاونت کا اعلان کیا، جس میں ایم بی بی ایس انڈرگریجویٹ طلبہ کے لیے 45 ہزار امریکی ڈالر کے اینڈومنٹ وظائف، پوسٹ گریجویٹ وظائف و قرضہ جات کے لیے 2 لاکھ 4 ہزار امریکی ڈالر، “تھینکس اسکالرشپس” کے تحت 40 ہزار امریکی ڈالر، ڈاکٹر ایم مسعود اکبر ریسرچ ایوارڈ کے لیے 25 ہزار امریکی ڈالر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ میو اسپتال/کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے شعبہ تھوراسک سرجری کے لیے 15 ہزار امریکی ڈالر کا طبی سامان اور لیڈی ایچی سن اسپتال کے لیے 18 ہزار امریکی ڈالر مالیت کی جدید اینستھیزیا مشینیں بھی فراہم کی گئیں۔
سپیریئر یونیورسٹی کی وائس چانسلر/ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر سمیرا رحمان کی 35ویں نیشنل گیمز 2025 کے پوزیشن ہولڈر کھلاڑیوں سے ملاقات
سپیریئر یونیورسٹی کی وائس چانسلر/ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر سمیرا رحمان نے 35ویں نیشنل گیمز 2025 کے پوزیشن ہولڈر کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور ان کی نظم و ضبط، محنت اور شاندار کارکردگی کو سراہا۔ اس موقع پر انہوں نے کھلاڑیوں کی غیر معمولی کامیابیوں پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کوچز اور اسپورٹس ڈائریکٹوریٹ کی انتھک کاوشوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا، جن کی بدولت سپیریئر یونیورسٹی نے گولڈ میڈل سمیت متعدد اعزازات اپنے نام کیے۔ریکٹر نے کہا کہ قومی سطح کے مقابلوں میں یونیورسٹی کے کھلاڑیوں کی نمایاں کارکردگی ادارے کے مثبت تشخص اور کھیلوں کے فروغ کی عکاس ہے۔ انہوں نے میڈل یافتہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں اعلیٰ سطح کے مقابلوں میں بھی سپیریئر یونیورسٹی کی نمائندگی اسی جذبے، محنت اور عمدگی کے ساتھ جاری رکھنے کی تلقین کی۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی سینڈیکیٹ کا 90 واں اجلاس وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران کی زیر صدارت عباسیہ کیمپس میں منعقد ہوا۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی سینڈیکیٹ کا 90 واں اجلاس وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران کی زیر صدارت عباسیہ کیمپس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اہم انتظامی، قانونی اور اکیڈیمک معاملات زیر بحث آئے اور فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں گزشتہ سلیکشن بورڈ اجلاس میں پرنسپل سیٹوں پر تعیناتی سمیت اہم سفارشات پر غورو خوص کیا گیا۔ اجلاس میں اپنی مدت مکمل کرنے والے سینڈیکیٹ ممبران پروفیسر ڈاکٹرمحمد اکرم چوہدری اور ڈاکٹر مغیث امین کی خدمات کو سراہا گیا۔ اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی میاں محمد شعیب اویسی، رکن صوبائی اسمبلی سعدیہ مظفر، سابق وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم چوہدری، ڈین فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر محمد امجد، ڈین فیکلٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر محمد خالد منصور، ڈائریکٹر کوارڈینیشن ہائر ایجوکیشن کمیشن شاہ زیب عباسی، ایڈیشنل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ زاہدہ اظہر، ڈپٹی سیکرٹری فنانس ڈیپارٹمنٹ ماریہ جاوید، ڈاکٹر عالیہ نذیر، ایسوسی ایٹ پروفیسر، قیصر اعجاز اسسٹنٹ پروفیسر، محمد زمان علی لیکچرر اور محمد شجیع الرحمن رجسٹرار و سیکریٹری شریک ہوئے
وائس چانسلر نے پنجاب یونیورسٹی میں مرکز ترقی تہذیب و دیانت کا افتتاح کردیا
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے پنجاب یونیورسٹی میں ’مرکز ترقی تہذیب ودیانت‘کا افتتاح کردیا۔اس سلسلے میں خصوصی تقریب کاانعقاد کیا گیا جس میں مرکزکے پیٹرن اور پرو وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹرخالد محمود، بریگیڈیئر اسجد بلوچ، کرنل ریحان خان،ڈائریکٹر، مرکزِ ترقیِ تہذیب و دیانت ڈاکٹر شبیر احمداور طلباؤطالبات نے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ معاشرتی اصلاح اور قومی ترقی میں جامعات کا کرداراہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی و صوبائی اداروں کے اشتراک سے جامعات معاشرے میں رواداری، برداشت اور صبر و تحمل کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔انہوں نے ملکی سلامتی اور استحکام کے لیے عسکری اداروں اور اعلیٰ قیادت کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔پروفیسر ڈاکٹر خالد محمودنے کہا کہ جامعات صرف درس و تدریس کے مراکز نہیں ہیں بلکہ مختلف سماجی، علاقائی اور لسانی پس منظر رکھنے والے افراد کے مابین ہم آہنگی اور باہمی احترام کو فروغ دینے کے مراکز بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے کا احترام ایک مہذب معاشرے کی بنیاد ہے۔بریگیڈیئر اسجد بلوچ نے قومی اداروں اور جامعات کے مابین تعاون اور اشتراکِ عمل کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی سلامتی اور تحفظ کے لیے قومی و صوبائی اداروں اور تعلیمی اداروں کے درمیان قریبی روابط ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل قوم کا سرمایہ اور مستقبل ہے جبکہ اساتذہ قوم کی فکری و اخلاقی تعمیر میں ہراول دستے کا کردار ادا کرتے ہیں۔ڈاکٹر شبیر احمد خان نے مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے مرکز کے قیام کے اغراض و مقاصدپر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ درس و تدریس کے ساتھ نوجوان نسل کے کردار کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔\

پنجاب یونیورسٹی اورکاروان کرافٹس فاؤنڈیشن کے مابین معاہدہ
پاکستان میں تعلیم کے نظام کو مضبوط بنانے اور شواہد پر مبنی اصلاحات کو فروغ دینے کے لیے دو روزہ ڈیئر-آر سی انٹرنیشنل ایجوکیشن سمٹ 2025 اختتام پذیر
پاکستان میں تعلیم کے نظام کو مضبوط بنانے اور شواہد پر مبنی اصلاحات کو فروغ دینے کے لیے دو روزہ ڈیئر-آر سی انٹرنیشنل ایجوکیشن سمٹ 2025 اختتام پذیر ہو گئی۔ جمعرات کو سمٹ کے دوسرے روز تحقیقاتی شواہد کو کلاس روم کی تدریس، اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی اور نظامی سطح پر تعلیمی حکمرانی میں موثر طریقے سے منتقل کرنے پر زور دیا جبکہ ملک بھر کے تعلیمی رہنما، پالیسی ساز اور بین الاقوامی ماہرین نے شواہد کے عملی اطلاق کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔دوسرے روز مجموعی طور پر نو سیشنز منعقد ہوئے جن میں ایک سپاٹ لائٹ خطاب، تین موضوعاتی پینل مباحثے، چار متوازی رائونڈ ٹیبل مکالمے اور ایک اختتامی پلینری شامل تھی۔ برٹش ہائی کمیشن کے ڈویلپمنٹ ڈائریکٹر سیم والڈک نے اختتامی کلمات میں حکومت، جامعات اور بین الاقوامی شراکت داروں کے درمیان پائیدار تعاون کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ تحقیق کو بامعنی نظامی اثرات میں تبدیل کرنا ہر سطح پر شراکت داری کا متقاضی ہے۔

ڈیئر-آر سی کی پروگرام ڈائریکٹر صائمہ انور نے ’’شواہد سے عمل کی طرف‘‘ فوری پیش رفت کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے بعد ایل یو ایم ایس کے ڈاکٹر عرفان مظفر نے سپاٹ لائٹ سیشن میں کلاس روم کی زمینی حقیقتوں کو نظامی اصلاحات کے ساتھ جوڑنے کے طریقے بیان کیے جس نے شرکا کو عملی تدابیر پر غور کرنے کی ترغیب دی۔
دن بھر کے پینل مباحثوں میں کیمبرج یونیورسٹی کے ڈاکٹر ریکارڈو سباتیز، آکسفورڈ یونیورسٹی کی ڈاکٹر عالیہ خالد اور وہاٹ ورکس ہب فار گلوبل ایجوکیشن کی ہیدر کیٹن سمیت بین الاقوامی سکالرز نے حصہ لیا جبکہ پاکستان کے تمام صوبوں سے سینئر سرکاری افسران بھی موجود تھے۔ شرکا نے شواہد پر مبنی تدریسی طریقے، اساتذہ کی بھرتی اور پیشہ ورانہ تربیت، جوابدہی اور کارکردگی کی نگرانی اور نظامی سطح پر تعلیمی حکمرانی جیسے موضوعات پر تفصیلی بات چیت کی۔

(نسٹ) کے اسکول آف سوشل سائنسز اینڈ ہیومینٹیز نے مقصد سے جڑی تعلیم کا شاندار مظاہرہ کیا ہے۔
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) — نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے اسکول آف سوشل سائنسز اینڈ ہیومینٹیز نے مقصد سے جڑی تعلیم کی عملی طاقت کا شاندار مظاہرہ کیا ہے۔ بی ایس سائیکالوجی کے طلبہ نے کلاس روم میں حاصل کیے گئے نظریاتی علم کو عملی زندگی میں مؤثر سماجی خدمت میں تبدیل کرتے ہوئے ایک مثالی کمیونٹی انگیجمنٹ منصوبہ مکمل کیا۔اس منصوبے کے تحت طلبہ کی ٹیم نے طویل المدتی خودمختاری اور باوقار روزگار کے فروغ پر توجہ مرکوز کی اور 4 لاکھ 70 ہزار روپے کی خطیر رقم جمع کی، جس کے ذریعے تین مستحق خاندانوں کو رکشے فراہم کیے گئے۔ یہ اقدام ان خاندانوں کے لیے باعزت اور پائیدار ذریعۂ معاش ثابت ہوگا۔
خود روزگاری اور مالی خود انحصاری کو فروغ دے کر اس منصوبے نے فوری امداد سے آگے بڑھتے ہوئے دیرپا اور بامعنی سماجی تبدیلی پیدا کی۔ اس اقدام کی باقاعدہ نگرانی بھی کی گئی تاکہ اس کے مثبت اثرات کو یقینی بنایا جا سکے۔یہ منصوبہ شہری ذمہ داری، ہمدردی اور ٹیم ورک کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور نسٹ کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت معاشرتی طور پر ذمہ دار اور باعمل قائدین تیار کیے جاتے ہیں جو پائیدار اور مؤثر اقدامات کے ذریعے کمیونٹی کی بہتری کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔