لاہور:پیکٹا ہیڈ آفس میں ڈائریکٹر (ایڈمن اینڈ ایچ آر) کے عہدے کے لیے انٹرویوز کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ انٹرویوز خالد نزیر سیکرٹری اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (SED) و سی ای او PECTAA کی زیرِ صدارت منعقد ہو رہے ہیں۔ اس موقع پر ایم ڈی آپریشن بھی ان کے ہمراہ موجود ہیں۔
ن زہران ممدانی نے نیویارک سٹی کے میئر کے طور پر تاریخی کامیابی حاصل کر لی، جس کے ساتھ وہ امریکہ کے سب سے بڑے اور عالمی شہرت یافتہ شہر کی قیادت کرنے والے پہلے مسلمان، پہلے جنوبی ایشیائی نژاد اور پہلے افریقہ میں پیدا ہونے والے میئر بن گئے۔34 سالہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ رہنما نے اپنے حریف، سابق گورنر اینڈریو کومو، پر واضح برتری حاصل کی۔ ابتدائی نتائج کے مطابق 90 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد ممدانی کو 10 لاکھ 33 ہزار سے زائد ووٹ ملے، جبکہ کومو کو 8 لاکھ 52 ہزار ووٹ ملے۔ ریپبلکن امیدوار کرٹس سلِوا تقریباً 7 فیصد ووٹ حاصل کر سکے۔
اپنی کامیابی کے بعد نیویارک میں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ممدانی نے کہا:
“آج رات، تمام مشکلات کے باوجود، ہم نے مستقبل اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ نیویارک نے تبدیلی کا مینڈیٹ دیا ہے — ایک ایسا شہر بنانے کا مینڈیٹ جو سب کے لیے قابلِ برداشت ہو۔”انہوں نے کہا کہ ان کی کامیابی مذہب یا نسل کی بنیاد پر نہیں بلکہ شہریوں کے روزمرہ مسائل، خاص طور پر رہائش اور مہنگائی جیسے مسائل کے حل کے وعدے پر مبنی ہے۔ممدانی نے کہا،
“میں یمنی دکانداروں، میکسیکن دادیوں، سینیگالی ٹیکسی ڈرائیوروں، ازبک نرسوں، ٹرینیڈاڈی باورچیوں اور ایتھوپیائی خالاؤں کی بات کرتا ہوں — یہ شہر تمہارا ہے، اور یہ جمہوریت بھی تمہاری ہے۔”
سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلی
یہ انتخابی معرکہ امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے مستقبل کی سمت کے لیے بھی ایک علامت بن گیا ہے۔ کومو، جو کبھی پارٹی کے مرکزی دھارے کی نمائندگی کرتے تھے، اب “دائیں بازو کے سرمایہ دارانہ دھڑوں” سے منسلک سمجھے جا رہے ہیں، جبکہ ممدانی پارٹی کے ترقی پسند اور سوشلسٹ ونگ کے ترجمان کے طور پر ابھرے ہیں۔کومو نے شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا:
“یہ ان کی رات تھی۔”
اپنی فتح کی تقریر میں ممدانی نے کہا:
“میں مسلمان ہوں، میں ڈیموکریٹک سوشلسٹ ہوں، اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ میں اس پر شرمندہ نہیں ہوں۔”
عوامی ردعمل اور امیدیںنیویارک کے مختلف طبقوں نے ممدانی کی کامیابی کو ایک نئی سیاسی بیداری سے تعبیر کیا ہے۔ برونکس کے رہائشی جوشوا ولسن نے کہا:”ہم نے کومو کو آزمایا، اب وقت ہے کسی نئے شخص کو موقع دینے کا۔ ممدانی نوجوان ہیں اور امید دلاتے ہیں۔”
کاؤن ہائٹس کی 52 سالہ میگن مارکس نے کہا:”اگر وفاقی سطح پر ٹرمپ حکومت کا تسلط ہے، تو کم از کم نیویارک میں کوئی مختلف سوچ والا لیڈر ہونا چاہیے۔”
چیلنجز اور وعدےممدانی نے عوامی نقل و حرکت کو مفت کرنے، بچوں کی نگہداشت کے لیے عالمگیر پروگرام متعارف کرانے، اور کرایہ داروں کے لیے کرایوں میں اضافہ روکنے کا وعدہ کیا ہے۔ ان کے معاشی منصوبے میں بڑی کارپوریشنز اور امیر شہریوں پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز شامل ہے۔تاہم، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ممدانی کو ریاستی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے سخت محنت کرنا ہوگی تاکہ وہ اپنی پالیسیوں پر عملدرآمد کرا سکیں۔
اسلاموفوبیا کے خلاف دوٹوک پیغام
انتخابی جلسے میں ممدانی نے کہا:
“اب نیویارک میں اسلاموفوبیا پر سیاست کرکے الیکشن جیتنے کا زمانہ ختم ہو گیا۔”
انہوں نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے پیغام دیا، جنہوں نے شہر میں نیشنل گارڈ تعینات کرنے اور وفاقی فنڈنگ روکنے کی دھمکی دیتھی:
“نیویارک تارکینِ وطن کا شہر ہے، ان سے چلتا ہے، اور آج سے ایک تارکِ وطن کی قیادت میں ہے۔ صدر ٹرمپ، سن لیجیے — ہم سب ایک ہیں، اور کسی ایک تک پہنچنے کے لیے آپ کو ہم سب سے گزرنا ہوگا۔”
ممدانی یکم جنوری 2026 کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے، اور ان کی جیت کو نہ صرف امریکی تاریخ میں ایک سنگ میل بلکہ مسلمانوں اور جنوبی ایشیائی برادریوں کے لیے ایک نئی امید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
فیصل آباد: یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد (UAF) میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے منعقدہ 45ویں آل پاکستان انٹرو یونیورسٹی سوئمنگ چیمپئن شپ کی اختتامی تقریب میں چیئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن، پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خان (ہلالِ امتیاز، ستارہِ امتیاز) نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔تقریب میں ملک بھر کی مختلف جامعات سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت کھلاڑیوں نے شرکت کی اور بہترین کھیل، نظم و ضبط اور ٹیم ورک کا مظاہرہ کیا۔اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خان نے ایچ ای سی اور یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کی جانب سے طلبہ میں صحت مند کھیلوں کے فروغ اور نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کے اقدامات کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ کھیل نہ صرف جسمانی صحت کے لیے ضروری ہیں بلکہ طلبہ میں نظم و ضبط، قیادت اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس کو بھی پروان چڑھاتے ہیں۔
گورنمنٹ جناح گریجویٹ کالج فار ویمن، لاہور میں آج جاگنگ ٹریک اور ہائیکنگ ٹریک کا شاندار افتتاح کیا گیا۔ اس موقع پر سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ غلام فرید،ایڈیشنل سیکرٹری ہائرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ افتاب احمد ،ڈی پی آئی کالجز پنجاب ڈاکٹر انصر اظہر، اور ڈائریکٹر کالجز لاہور ڈویژن احسن مختار ملک نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔تقریب میں ڈپٹی ڈائریکٹر سپورٹس وقاص ااکبر, اسسٹنٹ ڈائریکٹر پروموشنز محمد عمر گجر,کالج کی پرنسپل ڈاکٹر نازیہ خورشید, فیکلٹی ممبران اور طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ طالبات نے نئے تعمیر شدہ جاگنگ اور ہائیکنگ ٹریک پر واک کی اور اس صحت مندانہ سرگرمی پر خوشی کا اظہار کیا۔
سیکرٹری ہائر ایجوکیشن نے اس موقع پر محکمہ کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ طلبہ کی جسمانی صحت کے لیے ایسے اقدامات نہایت خوش آئند ہیں۔ انہوں نے انتظامیہ اور ڈائریکٹر کالجز لاہور ڈویژن کو اس شاندار اقدام پر مبارکباد پیش کی اور مزید بہتری کے لیے حوصلہ افزائی کی۔
بیکن ہاؤس نے اپنی گولڈن جوبلی’’ ری تھنکنگ ایجوکیشن: 50ویں سالگرہ ایڈیشن‘‘ کے عنوان سے منائی ۔تقریب میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے رہنماؤں، ماہرین تعلیم اور پالیسی سازوں نے شرکت کی۔ اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں منعقدہ تقریب کا مقصد گزشتہ 50سالوں کی تعلیمی کامیابیوں کا جشن منانا اور تیزی سے بدلتی دنیا میں تعلیم کے مستقبل پر غور کرنا تھا۔ تقریب کے مہمان خصوصی چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں بیکن ہاؤس کے جدت انگیز، کلیدی کردار کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ بیکن ہاؤس کی کہانی اہم اس لئے نہیں کہ یہ ایک ادارے کی کامیابی ہے بلکہ اس لئے اہم ہے کہ اس نے قومی تعلیمی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کئے اور لاکھوں بچوں اور اساتذہ کے لئے مواقع پیدا کیے۔ انہوں نے چیئرپرسن بیکن ہاؤس گروپ نسرین محمود قصوری کی وژنری قیادت کی تعریف کی جنہوں نے معیاری تعلیم کے فروغ اور تدریسی شعبے کو پیشہ وارانہ بنیادوں پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ان کے تخلیقی وژن نے ہزاروں خواتین کو تعلیم اور قیادت کے میدان میں داخل ہونے کا موقع دیا جس کے نتیجے میں وسیع سماجی اور معاشی تبدیلیاں آئیں، آج کے بہت سے اساتذہ اور سکول مالکان نے اپنے سفر کا آغاز بیکن ہاؤس سے کیا، یہ ورثہ آج بھی قوم کو سنوار رہا ہے۔1975 میں صرف 19 بچوں کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز کرنے والا بیکن ہاؤس آج چھ ممالک میں تقریباً 400,000 طلبہ کی تعلیم و تربیت کا ذمہ دار دنیا کے سب سے بڑے سکول نیٹ ورکس میں سے ایک ہے۔
یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ یہ وژن، محنت اور قومی خدمت کی ایک غیر معمولی کہانی ہے۔تقریب میں وزرا، سفارتکار، تعلیمی ماہرین، انڈسٹری کے رہنما اور بیکن ہاؤس کمیونٹی کے ارکان نے شرکت کی۔ اہم مقررین میں ایوارڈ یافتہ ماہر تعلیم اور بیسٹ سیلنگ مصنف ڈاکٹر رچرڈ گیور اور معروف مصنف و سابق ہارورڈ فیکلٹی ممبر رون برگر شامل تھے۔تقریب میں چار اعلیٰ سطح کے مباحثوں میں آئندہ 25 سالوں کی تعلیمی سمت پر گفتگو کی گئی جن میں سکولنگ، اعلیٰ تعلیم، اساتذہ کی تربیت اور پاکستان کے سکول سے باہر بچوں کے موضوعات شامل تھے۔ ان مباحثوں کے نتائج بیکن ہاؤس وژن 2050 کا حصہ ہوں گے جو مستقبل کی تعلیمی دنیا کی تشکیل کے لئے ایک اہم فریم ورک ہے۔
اس موقع پر چیئرپرسن بیکن ہاؤس گروپ نے کہا کہ بیکن ہاؤس کی اصل کہانی ہمیشہ اس کے لوگوں سے لکھی جائے گی، اساتذہ، ہیڈز اور سٹاف کی نسلیں جنہوں نے بے شمار زندگیاں بدلی ہیں، انہیں اور ان خاندانوں کو جنہوں نے اپنے بچوں کی ذمہ داری ہمیں سونپی، میں تہہ دل سے شکر گزار ہوں، وہ اس پچاس سالہ ورثے کے خاموش معمار ہیں۔انہوں نے کہا کہ وژن 2050 کے ذریعے ہمارا مقصد یہ جاننا ہے کہ ہم بطور فرد اور عالمی برادری کا حصہ ہو کر کیسے اس عظیم ورثے کو آگے بڑھا سکتے ہیں، آئندہ 25 سال اس بات سے واضح نہیں ہوں گے کہ ہم کیا تعمیر کرتے ہیں بلکہ اس سے کہ ہم سیکھنے کے تصور کو کتنی جرأت مندی سے نئے سرے سے سوچتے ہیں۔
مستقبل کے لئے بیکن ہاؤس کا عزم ماحولیاتی تحفظ، سماجی مساوات، ڈیجیٹل تبدیلی اور آئندہ نسلوں کی بھلائی تک پھیلا ہوا ہے۔ لاہور کے ایک چھوٹے سے سکول سے شروع ہونے والا یہ ادارہ آج عالمی نیٹ ورک بن چکا ہے اور تعلیم، سماج اور معیشت میں ترقی کا ایک اہم ستون ہے جو سیکھنے کی طاقت پر غیر متزلزل یقین کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
پاکستان نے ڈیجیٹل و صنعتی ترقی کی جانب اہم کامیابی حاصل کرلی،حکومت پاکستان اور گوگل نے مشترکہ طور پر ڈیجیٹل تبدیلی کا سنگ میل عبور کرلیا جس میں ملک کی پہلی کروم بک اسمبلی لائن کا آغاز اور پاکستان میں مضبوط مقامی موجودگی کے لئے اس کے منصوبے شامل ہیں۔نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن ، وزارت دفاعی پیداوار اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی )کے گوگل اور اس کے پارٹنر ٹیک ویلی کے تعاون سے وزیراعظم سیکرٹریٹ آڈیٹوریم میں پاکستان کی پہلی کروم بک اسمبلی لائن کا افتتاح کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کے قومی ڈیجیٹل تبدیلی کے ایجنڈے کی رہنمائی کرنے والے وزیر اعظم کے وژن اور قیادت کے ساتھ حکومت ڈیجیٹل شمولیت اور اے آئی کے لئے تیار پاکستان کی تعمیر کے لئے پرعزم ہے جسے ہم فخر کے ساتھ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کہتے ہیں، یہ وژن ہمارے نوجوانوں کو ڈیجیٹل مہارتوں سے بااختیار بنانے اور انہیں جدید ٹولز سے آراستہ کرنے کے ہمارے عزم کی عکاسی کرتا ہے اور گوگل کے پاکستان میں مقامی طور پر مواقع تک رسائی کو یقینی بنانے کے لئے اس کی مقامی سطح پر رسائی کو یقینی بناتا ہے،یہ قومی فخر کا لمحہ ہے اور ہمارے ملک کی ڈیجیٹل صلاحیت کی ایک طاقتور توثیق کا یہ سنگ میل ہماری ڈیجیٹل معیشت کے لیے ایک اہم قدم کی نمائندگی کرتا ہے جس سے پاکستان کے اختراعی ماحولیاتی نظام کو تقویت ملتی ہے اور ہماری تیزی سے ترقی پذیر ٹیکنالوجی کے منظر نامے پر عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔کنٹری ڈائریکٹر گوگل پاکستان فرحان قریشی نے کہاکہ ہم لوگوں، مہارتوں اور اختراع میں اپنی سرمایہ کاری کو مزید گہرا کرنے کے لئے پرجوش ہیں تاکہ ملک کی وسیع صلاحیت کو کھولنے اور اے آئی سے چلنے والی اس معیشت میں ایک جامع ڈیجیٹل مستقبل کی تعمیر میں مدد ملے، جیسے جیسے ہمارا کام پاکستان میں بڑھتا جا رہا ہے ہم یہاں مضبوط مقامی موجودگی کے لئے کام کر رہے ہیں جو جدت، شراکت داری اور اقتصادی مواقع کے لئے ایک نوڈ کے طور پر کام کرے گا۔
اس اقدام کا مقصد طلبہ، معلمین اور پیشہ ور افراد کو جدید ڈیجیٹل ٹولز کے ساتھ بااختیار بنانے کے لئے سستی، محفوظ اور مقامی طور پر تیار کردہ کروم بکس فراہم کرنا ہے۔نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این آر ٹی سی ) ہری پور سہولت پر مبنی نئی اسمبلی لائن 2026 تک سالانہ پانچ لاکھ کروم بکس تیار کرے گی۔ یہ آلات اعلیٰ معیار کے ، محفوظ اور سستے ہوں گے خاص طور پر تعلیمی اور پبلک سیکٹر کے استعمال کے لئے موزوں ہوں گے۔ 30 سال سے کم عمر کی 64فیصد آبادی کے ساتھ یہ اقدام نوجوانوں کو مستقبل کے لئے تیار ہنر سے آراستہ کرنے کی قومی کوششوں کی براہ راست حمایت کرتا ہے۔
یہ گوگل کے جاری ڈیجیٹل پروگراموں کی تکمیل کرتا ہے جو پہلے ہی 10 لاکھ پاکستانیوں کو تربیت دے چکے ہیں۔ ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرنے کے علاوہ یہ منصوبہ روزگار پیدا کرے گا، مقامی تکنیکی ماہرین کو تربیت دے گا اور وسیع تر اقتصادی ترقی میں حصہ ڈالے گا۔تقریب کے دوران گوگل نے مقامی کاروباروں کو زمینی مدد فراہم کرنے کے لئے اپنی مقامی موجودگی کو مزید گہرا کرنے کے منصوبوں کی نقاب کشائی کی جس سے انہیں اپنے آپریشنز کو بڑھانے اور عالمی منڈیوں تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔ یہ ملک کے ڈیجیٹل سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
یہ فیصلہ پاکستان کی ٹیکنالوجی کی صلاحیت اور حکومت پاکستان کے فعال ڈیجیٹل تبدیلی کے ایجنڈے پر گوگل کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے جس کی قیادت وزارت آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن ، وزارت دفاعی پیداوار اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کرتی ہے۔پاکستان ایک اہم موڑ پر ہےجو اپنے مقامی ٹیک ایکو سسٹم کو ترقی دے کر اور ڈیجیٹل مہارت کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کرکے خود کو ایک بڑے برآمدی مرکز کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
ماہرین کا منصوبہ ہے کہ موبائل ایپس، ڈیجیٹل سروسز اور سرحد پار ای کامرس کو وسعت دینے سے 2030 تک برآمدی حجم میں 6.6 ارب ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ کروم بک اسمبلی لائن اور گوگل کے مقامی دفتر جیسے اقدامات نوجوان پاکستانیوں کی صلاحیتوں اور مستقبل کے مواقع کے درمیان فرق کو ختم کرنے میں مدد کریں گے۔
این آر ٹی سی ہری پور میں کروم بک اسمبلی لائن مقامی مینوفیکچرنگ، سپلائی چین کی ترقی اور صنعتی صلاحیت کو فروغ دے گی جو براہ راست وزیراعظم کے ڈیجیٹل نیشن پاکستان ویژن اور نیشنل اے آئی پالیسی کے مقاصد کی حمایت کرے گی۔ یہ شراکت داری پاکستان کے اختراعی ماحولیاتی نظام پر عالمی اعتماد کی عکاسی کرتی ہے اور اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ملک ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی تعاون کے لئے کھلا ہے۔
:پنجاب یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ آف میٹالرجی اینڈ مٹیریلز انجینئرنگ، فیکلٹی آف کیمیکل اینڈ مٹیریلز کی ٹیم نے لاہور سائنس میلہ 2025ء میں سرپرائزیم کے تحت منعقدہ ’کیم اسٹوڈیو‘میں شرکت کی۔اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عمیق فاروق کی سرپرستی میں ٹیم نے 26 سے زائد انٹرایکٹو مظاہرے پیش کیے جن میں کیمسٹری، مٹیریلز سائنس اور انجینئرنگ کی حیرت انگیز ایجادات کو اجاگر کیا گیا۔جس مقصدطلباء میں تجسس پیدا کرنے، سائنسی سوچ کوفروغ دینے اور عملی تجربات کے ذریعے کلاس روم کی تعلیم کوعملی تربیت فراہم کرنا تھا۔ اس موقع پر سائنس دانوں، طلبہ، اساتذہ سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے سائنسی دنیا کے کمالات کو دریافت اور سراہا۔مظاہروں میں دلچسپ اور حیرت انگیز تجربات بشمول فیک بلڈ، ہِڈن میسج، بلیڈنگ ہارٹ، کمبسشن ری ایکشنز، کاپر سلفیٹ کے رنگ، کیمیکل گارڈن، کلر آف فیومز، ایلومینیم کین، کاپر الیکٹرو پلیٹنگ، زنک الیکٹرو پلیٹنگ، الیکٹرو کیمیکل سیل، فروٹ سیل، ہیٹنگ اینڈ کولنگ پیڈ، ڈی ہائیڈریشن آف شوگر، ببل فارمیشن، کنڈکٹر، سیمی کنڈکٹر اور انسولیٹر مٹیریلز، نان نیوٹونین فلوئڈ، پولرائزیشن آف لائٹ، گلوئنگ کاپر کوائل، براس لیئر آن کاپر اور فنگر پرنٹ آئیڈنٹیفکیشن شامل تھے۔ڈاکٹر عمیق فاروق نے سیکرٹری خوارزمی سائنس سوسائٹی ڈاکٹر صبیح انور صدیقی، جوائنٹ سیکرٹری ڈاکٹر محمد مصطفیٰ اور انچارج لاہور سائنس میلہ 2025ء طیب افتخار شیرازی کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے آئی ایم ایم ای ٹیم کو اس شاندار تقریب کا حصہ بننے کا موقع فراہم کیا۔
جی سی یونیورسٹی لاہور میں چین کی مزاحمتی جنگ کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر خصوصی تصویری نمائش اور فلم اسکریننگ
لاہور: گورنمنٹ کالج یونیورسٹی (جی سی یو) لاہور کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے زیر اہتمام چین کی جاپانی جارحیت کے خلاف عوامی مزاحمتی جنگ میں کامیابی اور تائیوان کی بحالی کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر ایک خصوصی تصویری نمائش اور فلم اسکریننگ کا اہتمام کیا گیا۔تقریب کے مہمانِ خصوصی چین کے ڈپٹی قونصل جنرل لاہور، جناب کاؤ کہ (Cao Ke) تھے، جبکہ جامعہ کے سینئر اساتذہ میں پروفیسر ڈاکٹر بابر عزیز، ڈاکٹر احمد رضا خان اور ڈاکٹر فوزیہ غنی بھی شریک ہوئے۔
اس موقع پر چین کے قونصلیٹ جنرل لاہور کی جانب سے جی سی یو کے طلبہ کو بیس لاکھ روپے مالیت کی میرٹ اور ضرورت کی بنیاد پر چائنیز قونصل جنرل اسکالرشپس سے نوازا گیا۔ڈپٹی قونصل جنرل کاؤ کہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی علاقائی امن و ترقی کا مضبوط ستون ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے کا آغاز دونوں ممالک کے لیے نئے مواقع فراہم کر رہا ہے، اور چین پاکستان کے طلبہ کی تعلیمی معاونت جاری رکھے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ چین اپنی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں پر کاربند ہے — چین اپنے اتحادیوں پر اپنی مرضی نہیں تھوپتا بلکہ امن، تعاون، اور باہمی ترقی پر یقین رکھتا ہے۔
#GCU #Ilmiatonline # Chinese People’s War of Resistance
شعبہ اسپیشل ایجوکیشن اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں وائٹ کین سیفٹی ڈے 2025 کی مناسبت سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار کا مقصد بصارت سے محروم افراد کا معاشرے میں فعال کردار ادا کرنے کے لیئے شعور اجاگر کرنا تھا۔ تقریب کے شرکاءمیں عمر شریف ڈی ای او اسپیشل ایجوکیشن محمد یامین اسد اشفاق شہزاد احمد اور زین خان شامل تھے ۔ سیمینار میں بینائی سے محروم افراد کو مرکزی دھارے کی تعلیم اور معاشرے میں فعال کرنے اور ان کی آزادی اور معیار زندگی کو بڑھانے کے لیے پیشہ ورانہ مہارت کی تربیت کی اہمیت پر گفتگو کی گئی۔ شعبہ سپیشل ایجوکیشن کی چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر نسرین اختر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران فیکلٹی ممبران اور طلباء وطالبات کی شرکت اور تعاون پر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ اس تقریب کا اہتمام عکس نور فائزہ رمضان ڈاکٹر عمران لطیف سیفی اور محمد اویس شہزاد نے بھرپور تعاون کیا۔ شعبہ اسپیشل ایجوکیشن مختلف صلاحیتوں کے حامل افراد کے لیے شمولیت رسائی اور بااختیار بنانے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے اور اس کے لیے کام کرتا رہے گا۔
چیئرپرسن پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن (PHEC) پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خان (تمغۂ امتیاز، ستارۂ امتیاز) نے چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن (SHEC) پروفیسر ڈاکٹر ایس۔ ایم۔ طارق رفیع سے کراچی میں سندھ ایچ ای سی کے دفتر میں ملاقات کی۔اس ملاقات میں بین الصوبائی تعاون کو مضبوط بنانے، جامعات کی گورننس، کوالٹی ایشورنس اور تحقیقی ترقی کے بہترین طریقہ کار کے تبادلے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ دونوں چیئرمینز نے اس امر پر زور دیا کہ ملک بھر میں تعلیمی معیار کو اجتماعی طور پر بلند کرنے کے لیے صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشنز کے مابین قریبی ہم آہنگی نہایت ضروری ہے۔
صدر زیبسٹ یونیورسٹی محترمہ شہناز وزیر علی بھی اس ملاقات میں شریک ہوئیں اور پالیسی ہم آہنگی اور ادارہ جاتی استعداد بڑھانے کے حوالے سے اپنے اہم خیالات پیش کیے۔یہ ملاقات پاکستان کے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں تعاون، جدت اور معیارِ تعلیم کو فروغ دینے کے عزم کی واضح عکاسی کرتی ہے۔