اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے شعبہ اکاؤنٹنگ اینڈ فنانس نے یونیورسٹی کے کیمپسز میں مسکراہٹ مہم 2026 کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد طلباء اور عملے کے درمیان شفقت، مہربانی اور مثبت رویوں کے جذبے کو فروغ دینا ہے۔ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح روزمرہ کے جذبات اور رویے بالخصوص ایک سادہ سی مسکراہٹ انسانی تعلق کو مضبوط بنا سکتی ہے اور کیمپس کے ماحول کو بہتر بنا سکتی ہے۔ لیکچر ہال سے لے کر دالان تک مہم ٹیم ورک حوصلہ افزائی اور باہمی احترام کے لمحات کا اظہار ہے جو یونیورسٹی کو ایک خوش آئند کمیونٹی کا احساس دلاتی ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے اس مہم سے جڑے اساتذہ اور طلبا وطالبات کی حوصلہ افزائی کرتے ہوے انکے انسانی اقدار کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کاوش ایک خواشگوار تعلیمی ثقافت کی تشکیل کرتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اساتذہ اور طلباء کے درمیان مثبت تعامل سیکھنے کو ہر ایک کے لیے قابل رسائی اور دل چسپ بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
Ilmiat
ای ٹرانسفر پالیسی 2024 کی شق 9.2 پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت ۔۔۔۔محکمہ سکول ایجو کیشن کی طرف سے مراسلہ جاری
محکمہ اسکول ایجوکیشن پنجاب کی جانب سے 5 جنوری 2026 کو جاری کئے گئے مراسلہ مین، ای ٹرانسفر پالیسی 2024 کی شق 9.2 پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت دی گئی ہے۔
– تمام اساتذہ (جنہوں نے 3 سال مکمل کیے ہوں) خالی آسامیوں پر تبادلے کے لیے اہل ہوں گے۔
– تبادلہ اسی صورت میں مکمل تصور ہوگا جب استاد اپنی مقررہ ذمہ داریاں (تحریری اسسمنٹ، رزلٹ کمپائلیشن، پیرنٹ ٹیچر میٹنگ وغیرہ) مکمل کرے گا۔
– ذمہ داریوں کی تکمیل کا سرٹیفکیٹ ہیڈ ٹیچر کو جمع کروانا ہوگا۔
– ہیڈ ٹیچر اس سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر SIS پورٹل پر چارج ری لنک کریں گے۔
ریکٹر نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) ڈاکٹر محمد زاہد لطیف نے برطانیہ میں قائم NUST ٹرسٹ فنڈ (NTF) یوکے کے چیئرمین مسٹرطحہ قریشی، ایم بی ای (MBE) سے ملاقات کی،
ریکٹر نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) ڈاکٹر محمد زاہد لطیف نے برطانیہ میں قائم NUST ٹرسٹ فنڈ (NTF) یوکے کے چیئرمین مسٹرطحہ قریشی، ایم بی ای (MBE) سے ملاقات کی، جس میں مستحق طلبہ کی معاونت کے لیے جاری اشتراک اور مستقبل کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
ملاقات کے دوران NUST اور NTF یوکے کے مابین شراکت داری، وظائف اور اینڈومنٹ میں پیش رفت پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس کے علاوہ طلبہ کی مالی معاونت کو پائیدار بنانے کے لیے المنائی اور اوورسیز پاکستانی کمیونٹی کے کردار اور شمولیت کی اہمیت پر بھی تبادلۂ خیال ہوا۔
دونوں فریقین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مستحق اور باصلاحیت طلبہ کے لیے تعلیمی مواقع میں اضافہ کیا جائے گا اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے وظائف کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی جائے گی۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کی نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن (NAHE) کے زیرِ اہتمام لاہور کے سیرت سینٹر میں فہمُ القرآن کے موضوع پر ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد
ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کی نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن (NAHE) کے زیرِ اہتمام لاہور کے سیرت سینٹر میں فہمُ القرآن کے موضوع پر ایک روزہ تربیتی ورکشاپ منعقد کی گئی۔ اس علاقائی تربیتی پروگرام میں سرکاری و نجی شعبے کی اعلیٰ تعلیمی جامعات سے وابستہ عربی اور اسلامیات کے اساتذہ نے شرکت کی، جس کا مقصد لازمی دو کریڈٹ آورز پر مشتمل فہمِ قرآن کورس کی مؤثر تدریس کے لیے اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنا تھا۔
ورکشاپ کے دوران شرکاء کی فکری وضاحت، تدریسی اسالیب اور قرآنِ حکیم پر غور و فکر (تدبر) کے پہلوؤں کو مضبوط بنانے پر توجہ دی گئی، تاکہ اساتذہ اپنے اپنے اداروں میں فہمُ القرآن کورس کو زیادہ مؤثر انداز میں پڑھا سکیں۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیرت سینٹر کے ڈپٹی ڈائریکٹر، جناب عرفان شیراز نے اس امر پر زور دیا کہ قرآنِ مجید کی محض تلاوت ہی نہیں بلکہ اس کے معانی اور پیغام کو سمجھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر، ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے بروقت اور بامقصد تربیتی پروگرام کے انعقاد کو سراہا۔ انہوں نے جامعات کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اقدار پر مبنی تعلیم کے فروغ میں اساتذہ کا کلیدی کردار ہے، اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ ورکشاپ سے حاصل شدہ سیکھنے کے نتائج کو اپنی تدریسی سرگرمیوں میں عملی طور پر نافذ کریں۔
سیرت النبی ﷺ کی پیروی سے فرد اور معاشرہ دونوں کی اصلاح ممکن ہے، نبی اکرم ﷺ نے ہمیشہ انسانیت کے حقوق کا خیال رکھا، مظلوموں کی مدد کی
….چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی نے کہاہے کہ اصلاح معاشرہ کیلئے سیرت النبی ﷺ کاپیغام عام کرنا ہوگا، سیرت النبی ﷺ کی پیروی سے فرد اور معاشرہ دونوں کی اصلاح ممکن ہے، نبی اکرم ﷺ نے ہمیشہ انسانیت کے حقوق کا خیال رکھا، مظلوموں کی مدد کی اور امن کی اہمیت پر زور دیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دارالعلوم جامعہ نعیمیہ میں ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک سائنسز کے زیراہتمام درس حدیث کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
تقریب میں معروف سیرت نگار ڈاکٹر طارق شریف زادہ، مفتی سخاوت منیر،مفتی بلال فاروق نعیمی،مفتی محمود انور، مولانا عامر سلمان، مولانا مسعود احمد سیالوی، قاری محمد ذوالفقار نعیمی، مولانا محمد سلیم نعیمی، مولانا محمد علی بٹ، مفتی شہزاد احمد نعیمی سمیت ادارے کے اساتذہ و طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی نے طلبہ کو درس حدیث دیتے ہوئے معاشرتی رسومات اور اسلام کی حقیقی تعلیمات پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ صدقہ اسلام کا ایک نمایاں اقتصادی اور اخلاقی تصور ہے، یہ صرف مالی امداد نہیں بلکہ ایک روحانی تذکیہ کا ذریعہ بھی ہے، صدقہ صرف مال دینا ہی نہیں بلکہ مسکرا کر بات کرنا، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا اور کسی کو اچھا مشورہ دینا بھی صدقہ ہے، اسلام نے صدقہ کو غربت کے خاتمے، دلوں کی نرمی اور معاشرتی عدل کے قیام کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان رسومات کی بجائے نبی کریم ؐ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں، سیرت النبیؐ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسانیت کی فلاح کے لئے بہترین رہنمائی فراہم کرتی ہے۔تقریب کے اختتام پر ملک وقوم کی سلامتی کیلئے خصوصی دعا کرائی گئی۔
وفاقی وزارتِ تعلیم کا بڑا فیصلہ، نیشنل اچیومنٹ ٹیسٹ 2026 میں پہلی بار نجی سکولز بھی شامل….ملکی تاریخ میں پہلی بار قومی سطح پر ‘نیشنل فاؤنڈیشنل لرننگ اسسمنٹ’ منعقد کرنے کا بھی اعلان.
وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت نے پاکستان کے تعلیمی جائزے (Learning Assessment) کے نظام میں بڑی توسیع کا اعلان کرتے ہوئے پہلی بار نجی شعبے کے سکولوں کو بھی ’’نیشنل اچیومنٹ ٹیسٹ‘‘ (این اے ٹی) 2026 میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس شمولیت کے ساتھ ساتھ وزارت نے ملکی تاریخ میں پہلی بار قومی سطح پر ‘نیشنل فاؤنڈیشنل لرننگ اسسمنٹ’ منعقد کرنے کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ ابتدائی جماعتوں میں تعلیمی نتائج کو جانچا جا سکے۔
وفاقی سیکرٹری تعلیم ندیم محبوب نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزارت نے قومی اسسمنٹ فریم ورک کو پائیدار ترقی کے اہداف کے اشاریوں سے ہم آہنگ کیا ہے، اس کا مقصد تعلیمی معیار پر قابلِ بھروسہ اور تقابلی شواہد اکٹھے کرنا ہے تاکہ بین الاقوامی سطح پر رپورٹنگ کے وعدوں کو پورا کیا جا سکے۔اسسمنٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے ندیم محبوب نے کہا کہ یہ امتحانات پانچویں اور آٹھویں جماعت کی سطح پر منعقد ہوں گے جن میں تمام صوبوں اور علاقوں کے سکولز شامل ہوں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ نجی شعبے کو اس دائرہ کار میں لانے سے ملک بھر میں تعلیمی نتائج کی ایک جامع اور حقیقی تصویر سامنے آئے گی۔ نیشنل اچیومنٹ ٹیسٹ 2026 اور نیشنل فاؤنڈیشنل لرننگ سٹڈی کے تحت سائنسی بنیادوں پر سیمپلنگ کے ذریعے 20 ہزار سے زائد طلباء کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ نتائج کی شفافیت اور درستگی کو یقینی بنایا جا سکے۔
پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے سیکرٹری تعلیم نے بتایا کہ نیشنل اچیومنٹ ٹیسٹ 2023 کے نتائج میں ’’سنگین تعلیمی بحران‘‘ کی نشاندہی ہوئی تھی، جس کی بنیاد پر وزیراعظم پاکستان نے ’’ایجوکیشن ایمرجنسی‘‘ نافذ کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سکول سے باہر بچوں کی واپسی اور ان کی تعلیمی ضروریات پوری کرنا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔اس منصوبے پر عملدرآمد پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن (پی آئی ای) کرے گا جسے امریکن انسٹی ٹیوٹس فار ریسرچ (اے آئی آر) کی تکنیکی معاونت حاصل ہوگی۔
پاکستان اور ترقی یافتہ ممالک کی یونیورسٹیوں میں تحقیق کا معیار: آبادی، تعلیمی بحران اور بین الاقوامی موازنہ
پاکستان اس وقت تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، کمزور معیشت، سیاسی عدم استحکام، داخلی و خارجی سیکیورٹی چیلنجز اور سماجی مسائل کے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی جنوری 2023 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی 238.1 ملین تک پہنچ چکی ہے، جو ریاستی وسائل، تعلیمی ڈھانچے اور تحقیقی نظام پر شدید دباؤ ڈال رہی ہے۔ جدید دنیا میں یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ کسی بھی قوم کی پائیدار ترقی کا انحصار معیاری تعلیم اور تحقیق (Research & Innovation) پر ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان اس میدان میں ترقی یافتہ ممالک ہی نہیں بلکہ بعض ہمسایہ ترقی پذیر ممالک سے بھی پیچھے دکھائی دیتا ہے۔
یہ مضمون پاکستان اور ترقی یافتہ ممالک کی یونیورسٹیوں میں تحقیق کے معیار کا تقابلی اور تنقیدی جائزہ لیتا ہے، جس میں عالمی درجہ بندیوں، تحقیقی ثقافت، بین الشعبہ جاتی تحقیق، ادارہ جاتی کمزوریوں اور پالیسی خلا کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔
آبادی کا دباؤ اور تعلیمی و تحقیقی بحران
پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی نے تعلیمی نظام کو مقداری (Quantity) تو بنا دیا ہے، مگر معیاری (Quality) ترقی نہ ہو سکی۔ یونیورسٹیاں بڑی تعداد میں ایم فل اور پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز پیدا کر رہی ہیں، مگر یہ سوال بدستور قائم ہے کہ:
کیا ہم مسئلہ حل کرنے والے محقق (Problem-solving Researchers) تیار کر رہے ہیں یا صرف ڈگری یافتہ افراد؟
ترقی یافتہ ممالک میں آبادی کے مقابلے میں تحقیق پر سرمایہ کاری کہیں زیادہ ہے، جبکہ پاکستان میں آبادی بڑھتی جا رہی ہے اور تحقیق و ترقی (R&D) کے بجٹ مسلسل سکڑ رہے ہیں، جو مستقبل کے لیے خطرناک اشارہ ہے۔
یونیورسٹیوں کی ساخت اور تحقیقی اہداف: ایک تقابلی جائزہ
پاکستانی یونیورسٹیاں
ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے مطابق پاکستان میں 247 تسلیم شدہ جامعات ہیں، جن میں 147 سرکاری اور 100 نجی ادارے شامل ہیں۔ بظاہر یہ تعداد خوش آئند معلوم ہوتی ہے، مگر عملی طور پر:
- جامعات تدریسی ادارے بن کر رہ گئی ہیں
- تحقیق کا مقصد سماجی مسائل کا حل نہیں بلکہ ڈگری کی تکمیل بن چکا ہے
- تحقیق کا دائرہ محدود، طریقۂ کار کمزور اور اثر (Impact) نہ ہونے کے برابر ہے
یوں جامعات علمی رہنمائی کے بجائے ڈگری فیکٹریوں کا تاثر دیتی ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک کی یونیورسٹیاں
اس کے برعکس امریکہ، برطانیہ، جرمنی، جاپان اور جنوبی کوریا میں یونیورسٹیوں کا بنیادی مقصد:
- علم کی تخلیق (Knowledge Production)
- صنعت اور ریاست کے لیے حل (Policy & Industrial Solutions)
- ٹیکنالوجی، پیٹنٹس اور اسٹارٹ اپس کی تیاری
وہاں یونیورسٹیاں قومی ترقی کا فکری انجن سمجھی جاتی ہیں۔
عالمی درجہ بندیاں اور تحقیقی حیثیت
اسکوپیگو جرنل رینک (SJR) کے مطابق پاکستان تحقیق میں 45ویں نمبر پر ہے، جو کئی ترقی پذیر ممالک سے بہتر ضرور ہے، مگر سوال یہ ہے کہ:
یہ فرق محض وسائل کا نہیں بلکہ تعلیمی وژن، تحقیقاتی ترجیحات اور پالیسی تسلسل کا نتیجہ ہے۔
ٹائمز ہائر ایجوکیشن (THE) رینکنگ کے مطابق:
- پاکستان کی صرف 55 جامعات عالمی فہرست میں شامل ہیں
- صرف تین جامعات 400–600 کے درمیان ہیں
- باقی جامعات 600 سے 1800 کے درمیان ہیں
تحقیقی کلچر، تشدد اور ادارہ جاتی بحران
پاکستان کی بڑی سرکاری جامعات—قائداعظم یونیورسٹی، پنجاب یونیورسٹی، پشاور یونیورسٹی—میں:
- تشدد
- نسلی و لسانی کشیدگی
- اسلحہ اور سیاسی گروہ بندی
جیسے عوامل تحقیق کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ قائداعظم یونیورسٹی کی حالیہ نسلی کشیدگیاں اگر قابو میں نہ آئیں تو اس کی عالمی درجہ بندی مزید گر سکتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں یونیورسٹیاں محفوظ، پُرامن اور علمی آزادی کی علامت ہوتی ہیں، جبکہ پاکستان میں تعلیمی ادارے خود ایک سماجی مسئلہ بنتے جا رہے ہیں۔
بین الشعبہ جاتی تحقیق: پاکستان کی سب سے بڑی کمزوری
جدید دنیا میں تحقیق اب یک رخی (Single-discipline) نہیں رہی۔ موسمیاتی تبدیلی، سیکیورٹی، آبادی، صحت اور معیشت جیسے مسائل بین الشعبہ جاتی تحقیق (Interdisciplinary Research) کے بغیر حل نہیں ہو سکتے۔
- ترقی یافتہ ممالک میں سوشل سائنس، سائنس، ٹیکنالوجی اور پالیسی ایک ساتھ کام کرتے ہیں
- پاکستان میں چند اداروں کے سوا بین الشعبہ جاتی تحقیق نہ ہونے کے برابر ہے
یہی وجہ ہے کہ ہماری تحقیق عالمی مکالمے کا حصہ نہیں بن پاتی۔
پی ایچ ڈی، سینئر طبقہ اور تحقیقی جمود
پاکستان میں پی ایچ ڈی کا مقصد اکثر:
- سرکاری ملازمت
- ترقی (Promotion)
- مراعات
تک محدود ہو جاتا ہے۔ مزید برآں:
- 60 سال کے بعد بار بار توسیع
- سینئر طبقے کی جانب سے نوجوانوں کے لیے مواقع کی بندش
- جدید تحقیق، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مہارتوں سے ناآشنائی
تحقیقی تنوع اور تخلیقی صلاحیت کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ HEC کو عمر، کارکردگی اور تحقیق کے سخت معیارات نافذ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
تحقیقی کمزوریوں کی بنیادی وجوہات
پاکستان میں تحقیق کے کمزور معیار کی نمایاں وجوہات میں شامل ہیں:
- تخلیقی صلاحیت (Creativity) کی کمی
- دہرائی گئی تحقیق (Repetitive Studies)
- ناقص تحقیقی طریقۂ کار
- اخلاقی اصولوں اور ڈیٹا پرائیویسی کی خلاف ورزی
- محققین اور اداروں کے درمیان تعاون کا فقدان
یہ تمام عوامل پاکستان کو عالمی تحقیقی منظرنامے سے دور رکھتے ہیں۔
بہتری کی سمت: ایک کثیرالجہتی حکمتِ عملی

پاکستان میں تحقیق کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:
- تحقیق و ترقی کے بجٹ میں نمایاں اضافہ
- بین الشعبہ جاتی تحقیقی مراکز کا قیام
- یونیورسٹی–انڈسٹری–حکومت اشتراک
- پی ایچ ڈی اور فیکلٹی کے لیے سخت کارکردگی معیارات
- تشدد سے پاک، محفوظ اور علمی ماحول
- اخلاقی تحقیق اور مؤثر Mentorship کا فروغ
پاکستان کے مسائل—آبادی، معیشت، سیکیورٹی، سیاست اور سماجی انتشار—کا مستقل حل معیاری تعلیم اور تحقیق کے بغیر ممکن نہیں۔ ترقی یافتہ ممالک نے تحقیق کو ریاستی پالیسی کا مرکز بنایا، جبکہ پاکستان نے اسے محض تعلیمی رسمیّت بنا دیا۔ اگر ہم تحقیق کو ڈگری سے نکال کر قومی بقا اور ترقی سے جوڑ دیں، بین الشعبہ جاتی سوچ اپنائیں اور نوجوان محققین کو حقیقی مواقع فراہم کریں تو پاکستان عالمی تحقیقی نقشے پر ایک باوقار مقام حاصل کر سکتا ہے۔
TeacherTraining…….آپ کے طلبہ آپ کو کیوں پسند نہیں کرتے؛ اور اس کا حل کیا ہے
تحریر: مائیکل لِن سن
اسمارٹ کلاس روم مینجمنٹ: آپ کے طلبہ آپ کو کیوں پسند نہیں کرتے
تمام طلبہ یہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے استاد کو پسند کریں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر ایسا نہیں کرتے۔اس کی بنیادی وجہ یہ نہیں کہ وہ استاد کو بورنگ سمجھتے ہیں۔ نہ یہ وجہ ہے کہ وہ انہیں حد سے زیادہ سخت یا خشک مزاج لگتے ہیں۔ اور نہ ہی اس لیے کہ استاد انہیں عجیب، حد سے زیادہ ذہین، یا غیر مقبول محسوس ہوتے ہیں۔اس سے پہلے کہ میں بتاؤں کہ اتنے زیادہ اساتذہ ناپسند کیوں کیے جاتے ہیں، یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ آج کے دور میں طلبہ کا آپ کو پسند کرنا واقعی نہایت اہم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے آپ کو ان کے رویّے پر غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل ہوتا ہے۔
جب طلبہ آپ کو پسند کرتے ہیں تو وہ آپ کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔
یہ قانونِ باہمیّت (Law of Reciprocity) کا عملی اظہار ہے، اور یہ فطری طور پر ہوتا ہے۔ پسند کیے جانے کے علاوہ آپ کو کچھ اور کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اور جتنا زیادہ طلبہ آپ کو پسند کرتے ہیں، اتنا ہی آپ کا اثر و رسوخ مضبوط ہوتا جاتا ہے۔میں اس موضوع پر برسوں سے لکھتا آ رہا ہوں۔ درحقیقت، میری پہلی کتاب Dream Class (2009) میں اس موضوع پر ایک مکمل باب شامل ہے۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ اتنے زیادہ اساتذہ ناپسند کیوں کیے جاتے ہیں؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ رابطے بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

یعنی وہ طلبہ کے پاس جا کر ذاتی سطح پر ان سے جڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ ایک ایک طالب علم کو فرداً فرداً جاننے کی سعی کرتے ہیں، ان کی پسند و ناپسند معلوم کرتے ہیں، اور زبردستی گفتگو میں شامل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ اس غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں کہ اثر و رسوخ حاصل کرنا طلبہ کے ساتھ ذاتی تعلقات بنانے کا نتیجہ ہے۔
حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔
انسانی فطرت اس طرح کام نہیں کرتی۔ اصل بات یہ ہے کہ اگر آپ طلبہ کے پاس اس نیت سے جائیں کہ آپ ان سے اپنا تعلق اور اثر بڑھائیں، تو نتیجہ اس کے بالکل برعکس نکلتا ہے۔ طلبہ خود کو غیر آرام دہ، جھنجھلایا ہوا اور دباؤ میں محسوس کرتے ہیں۔یقیناً وہ زبردستی مسکرا سکتے ہیں۔ وہ ظاہری طور پر مثبت ردِعمل بھی دے سکتے ہیں۔ مگر اندر سے وہ بے چینی محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ صورتِ حال ہمیشہ سے رہی ہے، تاہم کووِڈ کے بعد اور اسمارٹ فون کی لت کے باعث یہ مسئلہ مزید گہرا ہو گیا ہے۔
تو پھر درست طریقہ کیا ہے؟
آپ طلبہ کے پاس جائے بغیر ان میں ایسی پسندیدگی کیسے پیدا کریں جو ان کے رویّے پر اثر انداز ہو؟
اس کا جواب یہ ہے: انہیں آپ کے پاس آنے دیں۔
اور وہ ضرور آئیں گے، اگر آپ صرف ایک کام کریں:
ہمیشہ خوش اخلاق اور خوش مزاج رہیں۔
بس یہی کافی ہے۔ روزانہ ایک جیسے پُرسکون اور خوش اخلاق استاد رہیں، اور طلبہ خود آپ کی طرف متوجہ ہوں گے۔وہ آپ کے قریب رہنا چاہیں گے، آپ سے (ذاتی) سوالات کریں گے، آپ کو لنچ کی دعوت دیں گے، آپ کے ساتھ مذاق کریں گے، آپ سے فِسٹ بمپس لیں گے، اور کلاس میں آپ کی کہی ہوئی مزاحیہ باتوں پر گفتگو کریں گے۔آپ ان کے لیے ایک ایسی شخصیت بن جائیں گے جس کے گرد وہ جمع ہونا چاہیں گے—جیسے ریڈ کارپٹ کا کوئی ستارہ۔ یہ طریقہ بظاہر سادہ ہے، مگر بے حد طاقتور ہے، اور یہی واحد طریقہ ہے جس کے ذریعے میں نے ہمیشہ تعلقات قائم کیے ہیں۔
اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے:
“اگر کچھ طلبہ میرے پاس نہ آئیں تو کیا ہوگا؟”
تب بھی یہ طریقہ مؤثر رہتا ہے۔ وہ آپ کو پسند کریں گے اور آپ کی مستقل خوش اخلاقی کی وجہ سے آپ کے اثر میں رہیں گے۔

اس قسم کی پسندیدگی اس صورت میں بھی کارگر ہوتی ہے جب آپ طلبہ کو ذاتی طور پر زیادہ نہ جانتے ہوں۔یہ موضوع بہت وسیع ہے اور ممکن ہے آپ کے ذہن میں سوالات ہوں۔ میں آپ کو ترغیب دیتا ہوں کہ SCM آرکائیو میں موجود Rapport & Influence کے زمرے کا مطالعہ کریں، جہاں اس تصور کو مختلف زاویوں سے بیان کرنے والے درجنوں مضامین موجود ہیں۔
ہماری زیادہ تر کتابیں بھی اس موضوع کی تفصیلات پر روشنی ڈالتی ہیں۔
بس یہ بات یاد رکھیں:
اگر آپ مستقل طور پر خوش اخلاق رہیں—اور اس سے زیادہ کچھ نہ کریں—تو آپ غیر معمولی حد تک اثر و رسوخ اور حقیقی تعلق قائم کر سکتے ہیں۔
ملکی ترقی میں انجینئرز کا کلیدی کردار، معرکۂ حق کے بعد معرکۂ ترقی میں بھی کامیابی حاصل کریں گے….حکومت نوجوان انجینئرز کو برسرِ روزگار لانے کے لیے رواں سال انٹرن شپ پروگرام شروع کرنے جا رہی ہے، جس کا منصوبہ وزارتِ منصوبہ بندی نے مکمل کر لیا ہے….احسن اقبال


جامعہ پشاور کے پروفیسر ڈاکٹر عطاالرحمن نیشنل کریکولم ریویو کمیٹی (NCRC) برائے جغرافیہ کے کنوینر منتخب
جامعہ پشاور کے شعبہ جغرافیہ و جیو میٹکس سے وابستہ ممتاز ماہرِ جغرافیہ پروفیسر ڈاکٹر عطاالرحمن کو نیشنل کریکولم ریویو کمیٹی (NCRC) برائے جغرافیہ کا کنوینر منتخب کر لیا گیا ہے۔ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے زیرِ اہتمام کراچی میں واقع ایچ ای سی ریجنل آفس میں نیشنل کریکولم ریویو کمیٹی برائے جغرافیہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک بھر سے آئے ہوئے سینئر ماہرینِ جغرافیہ نے متفقہ طور پر پروفیسر ڈاکٹر عطاالرحمن (جامعہ پشاور) کو NCRC کا کنوینر منتخب کیا۔

دو روزہ مشاورتی اجلاس کے دوران کمیٹی نے بیچلر آف سائنس (BS) جغرافیہ، ماسٹر آف سائنس (MSc) اور ماسٹر آف فلسفی (MPhil) جغرافیہ کے لیے نیا نصابی فریم ورک اور کورسز ترتیب دیے۔ نصاب کی تیاری میں مارکیٹ کی ضروریات، جدید عالمی معیارات اور جغرافیہ کے شعبے میں تیز رفتار ترقی کو خصوصی طور پر مدنظر رکھا گیا۔اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر عطاالرحمن نے جغرافیہ سے وابستہ علمی برادری، معزز NCRC اراکین اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندگان کا شکریہ ادا کیا اور اس اعتماد کو اعزاز قرار دیا۔
یہ پیش

