
طالبات کے درمیان رسہ کشی، باسکٹ بال سمیت 15 سے زائد کھیلوں کے مقابلہ جات منعقد کیے گئے۔

کئی برسوں کی غیر موجودگی—جس کی وجہ احتیاط اور ماضی کی یادیں تھیں—کے بعد
سنت ایک بار پھر لاہور میں 6 سے 8 فروری تک ایک مکمل منظم اور حکومتی سرپرستی میں منعقد ہونے والے تہوار کی صورت میں واپس آ رہی ہے۔ یہ اقدام جنوبی ایشیا کی معروف ثقافتی روایات میں سے ایک کو بحال کرنے کی علامت ہے۔ عالمی سطح پر بسنت کی بحالی محض موسمِ بہار کی خوشی نہیں بلکہ اس بات کا اعلان بھی ہے کہ پنجاب دوبارہ ایک ایسے ثقافتی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے جہاں زندہ ورثہ، تخلیقی اظہار اور اجتماعی زندگی ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی منظوری سے ہونے والا یہ تین روزہ ایونٹ ثقافتی نظم و نسق (Cultural Governance) کا ایک جدید تصور پیش کرتا ہے، جس میں حفاظت، شمولیت اور ثقافتی شناخت سازی کو یکجا کیا گیا ہے۔

تقریباً 800 سال سے بسنت پنجاب میں بہار کی آمد کی علامت رہی ہے، جو تازگی، نئی زندگی اور اجتماعی خوشی کی نمائندگی کرتی ہے۔ پنجاب ہمیشہ سے جنوبی ایشیا کا ایک اہم ثقافتی سنگم رہا ہے، جہاں تہوار، موسیقی، دستکاری اور رسومات نے ایک مشترکہ ثقافتی نظام تشکیل دیا۔ لاہور، جو پنجاب کا تاریخی دارالحکومت ہے، شاعری، فنِ تعمیر، کھانوں اور موسمی تقریبات کے باعث ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے، جہاں یہ روایات معاشرتی ہم آہنگی کو مضبوط کرتی تھیں۔ بسنت، آسمان پر رنگ برنگی پتنگوں کے ساتھ، زندہ ثقافتی ورثے (Living Heritage) کی شکل اختیار کر گئی اور پنجاب کی شناخت کی ایک نمایاں علامت بنی۔ اس کی طویل غیر موجودگی نے خاص طور پر نئی نسل میں ایک ثقافتی خلا پیدا کیا اور عالمی سطح پر لاہور کی ثقافتی شناخت کو بھی کمزور کیا۔
بسنت کی بحالی کا فیصلہ علامتی اور حکمتِ عملی کے لحاظ سے اہم ہے۔ یہ ثقافت کو دبانے کے بجائے اسے منظم اور محفوظ انداز میں چلانے (Culture Management) کی طرف ایک تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے، جس کی حمایت عالمی ثقافتی پالیسی میں بھی بڑھ رہی ہے۔ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اس بحالی کو عوامی خوشی اور ثقافتی انصاف قرار دیا۔ ان کے مطابق پنجاب کی روایات برسوں سے نظر انداز ہوتی رہیں اور اصلاحات کے بجائے خوف نے جگہ لے لی۔ ان کا وژن ثقافت کو معاشرتی ڈھانچے (Social Infrastructure) کا حصہ قرار دیتا ہے، جو جذباتی صحت اور سماجی مضبوطی کے لیے ضروری ہے۔ ایسے معاشروں میں جہاں معاشی اور نفسیاتی دباؤ زیادہ ہو، بسنت جیسے تہوار لوگوں کو محفوظ ماحول میں میل جول اور تفریح کے مواقع فراہم کرتے ہیں، یوں ثقافت ایک ضرورت بن جاتی ہے، عیاشی نہیں۔

اس بحالی میں شمولیت کو بنیادی حیثیت دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ پنجاب اپنی تمام برادریوں کا ہے اور ہر طبقے کو اپنے تہوار آزادانہ طور پر منانے کا حق ہے، چاہے وہ عید، ہولی، کرسمس یا رمضان ہو۔ یہ نقطہ نظر بسنت کو ثقافتی تنوع اور مشترکہ ورثے کی بڑی کہانی میں شامل کرتا ہے اور پنجاب کی تاریخی شناخت کو ایک کھلے اور متنوع معاشرے کے طور پر نمایاں کرتا ہے۔ تین دہائیوں بعد ہارس اینڈ کیٹل شو کی بحالی اس بات کی مثال ہے کہ پرانے تہوار جدید طرزِ حکمرانی کے ذریعے عوامی تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے بھی دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں۔
ماضی میں غیر محفوظ پتنگ بازی سے جڑے المناک واقعات کے پیش نظر انتظامیہ نے عالمی معیار کے مطابق خطرات کم کرنے (Risk Mitigation) کا ایک مکمل فریم ورک اپنایا ہے۔ بسنت سیفٹی پلان کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جس میں زون بندی، مواد کی پابندیاں اور سخت نفاذ شامل ہیں۔ لاہور کو ریڈ، یلو اور گرین زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ صرف نو دھاگوں والی سوتی ڈور کی اجازت ہوگی جبکہ نائلون اور دھاتی ڈور پر مکمل پابندی عائد ہے۔ خلاف ورزی پر سخت سزائیں دی جائیں گی، جن میں قید اور بھاری جرمانے شامل ہیں۔ مقررہ تاریخوں کے علاوہ غیر قانونی پتنگ بازی بھی قابلِ سزا ہوگی، اور کم عمر افراد کی خلاف ورزی کی صورت میں والدین یا سرپرست کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ یہ اقدامات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ ماضی کے حادثات کو روکنے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔

مزید حفاظتی اقدامات میں پتنگ کی چرخی پر پابندی شامل ہے اور صرف ہاتھ سے پکڑی جانے والی ریل کی اجازت ہوگی، جبکہ پتنگ کے سائز کے لیے بھی مقررہ معیار طے کیا گیا ہے۔ موٹر سائیکل سوار، جو بسنت کے دوران ہمیشہ زیادہ خطرے میں رہے ہیں، ان کے تحفظ کے لیے حکومت دس لاکھ موٹر سائیکلوں پر مفت حفاظتی راڈ نصب کرے گی۔ خطرناک زونز میں داخلہ صرف انہی موٹر سائیکلوں کو دیا جائے گا جن پر یہ راڈ لگے ہوں، جبکہ خلاف ورزی پر جرمانہ ہوگا۔ شہریوں کو بھی ترغیب دی گئی ہے کہ وہ خلاف ورزیوں کی اطلاع دے کر کمیونٹی سطح پر نگرانی میں کردار ادا کریں، تاکہ اجتماعی ذمہ داری اور شہری شعور کو فروغ دیا جا سکے۔
تیاریوں کا دائرہ کار حکومتی سنجیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔ 2,150 سے زائد مینوفیکچررز، تاجروں اور دکانداروں کو رجسٹر کیا گیا ہے تاکہ معاشی سرگرمیوں کو باقاعدہ اور منظم بنایا جا سکے۔ یہ اقدام بسنت کو “Creative Economy” کے عالمی تصور سے جوڑتا ہے، جہاں ثقافت کو شناخت کے ساتھ ساتھ روزگار کا ذریعہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا گیا ہے، جس کے تحت لاہور کی اورنج لائن، میٹرو بس، الیکٹرک بسیں اور فیڈر سروسز پر مفت سفر فراہم کیا جائے گا، جبکہ اضافی بسوں اور رائیڈ ہیلنگ سہولت کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ موٹر سائیکلوں پر انحصار کم کرکے اور معاشی رکاوٹیں گھٹا کر یہ منصوبہ رسائی اور پائیداری کو فروغ دیتا ہے، جو جدید شہری ثقافتی منصوبہ بندی کے اہم اصول ہیں۔
سیکیورٹی اور ہنگامی انتظامات بھی اس منصوبے کا اہم حصہ ہیں۔ ہزاروں پولیس اہلکاروں کے ساتھ بلدیاتی عملہ تعینات ہوگا، جبکہ ریسکیو سروسز، فائر بریگیڈ، ایمبولینس اور صحت کے ادارے مربوط حکمت عملی کے تحت کام کریں گے۔ چوبیس گھنٹے کنٹرول رومز، سی سی ٹی وی نگرانی اور ڈرون مانیٹرنگ کے ذریعے صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جائے گی تاکہ فوری ردعمل ممکن ہو۔ یہ انتظامات بسنت کو محض علامتی جشن نہیں بلکہ ایک منظم شہری آپریشن کی صورت دیتے ہیں۔
اتنا ہی اہم کردار ذمہ دار میڈیا اور درست بیانیے کا بھی ہے۔ ڈیجیٹل دور میں ثقافتی تقریبات غلط معلومات اور افواہوں کی زد میں آ سکتی ہیں جو عوامی رائے کو متاثر کرتی ہیں۔ پنجاب حکومت نے میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ حقائق پر مبنی اور تعمیری رپورٹنگ کرے تاکہ فیک نیوز کا سدباب ہو اور عوام کا اعتماد قائم رہے۔ متوازن رپورٹنگ نہ صرف مقامی اعتماد کے لیے ضروری ہے بلکہ عالمی سطح پر حکمرانی کی صلاحیت اور سماجی سنجیدگی کا تاثر بنانے میں بھی مدد دیتی ہے۔
جشن کے علاوہ بسنت ثقافتی سفارت کاری اور سافٹ پاور کے لیے بھی ایک واضح موقع فراہم کرتی ہے۔ دیسی ثقافت، اگر محفوظ اور مستند انداز میں پیش کی جائے، تو سیاحت، بیرون ملک پاکستانیوں کی وابستگی اور بین الاقوامی ثقافتی تبادلے کے ذریعے عالمی سطح پر بہت کشش رکھتی ہے۔ ایک کامیاب اور محفوظ بسنت نہ صرف آمدن میں اضافہ کر سکتی ہے بلکہ ورثے پر مبنی ترقی کو تقویت دے کر لاہور کو تجرباتی ثقافت (Experiential Culture) کے بہترین مرکز کے طور پر دوبارہ متعارف کرا سکتی ہے، جو خطے سے متعلق منفی تاثر کا مثبت متبادل بن سکتی ہے۔
یاس تہوارکا 6 فروری کی رات آغاز کیا جائے گا، جبکہ باقاعدہ تقریبات 7 فروری سے شروع ہوں گی۔ اگر منصوبہ بندی کے مطابق اس پر عمل ہوا تو بسنت 2026 غیر محسوس ثقافتی ورثے (Intangible Cultural Heritage) کو ذمہ دار حکمرانی کے ذریعے بحال کرنے کی ایک مثالی مثال بن سکتی ہے۔ مجموعی طور پر یہ پنجاب کو جنوبی ایشیا کے ثقافتی دل کے طور پر دوبارہ ثابت کرتی ہے—جہاں روایت، جدت اور شمولیت مل کر مشترکہ خوشی، شہری فخر اور عالمی ثقافتی اعتماد کو جنم دیتے ہیں۔
پشاور: نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن (NAHE) نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے ملازمین کے لیے HEC ریجنل سینٹر پشاور میں تین روزہ پروفیشنل ڈویلپمنٹ پروگرام کا انعقاد کیا۔ اس تربیتی پروگرام کے ذریعے 22 اسٹاف ممبران کو جدید دفتری تقاضوں کے مطابق پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں بہتری کے لیے ضروری مہارتوں اور ٹولز کی تربیت دی گئی۔پروگرام کے پہلے روز ذاتی و پیشہ ورانہ ترقی پر خصوصی توجہ دی گئی، جہاں ڈاکٹر حمیرا ممتاز کی رہنمائی میں شرکاء نے ورک پلیس اخلاقیات، جذباتی ذہانت (Emotional Intelligence) اور ذاتی SWOT تجزیہ جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی سیکھنے کا موقع حاصل کیا۔
دوسرے روز پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ نے شرکاء کو مؤثر ابلاغ (Communication Excellence) اور تنازعات کے انتظام (Conflict Management) کے حوالے سے تربیت دی، تاکہ ادارہ جاتی نظام میں بہتری اور تنظیمی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔پروگرام کے تیسرے اور آخری دن ڈیجیٹل مہارتوں کو مرکزِ نگاہ بنایا گیا، جہاں ڈاکٹر نومان ناصر نے ایڈوانسڈ MS Office فیچرز کے ساتھ ساتھ AI ٹولز مثلاً ChatGPT اور Copilot کے عملی استعمال پر سیشنز کرائے، تاکہ دفتری کارکردگی اور پیداوار میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔اختتامی روز اسناد کی تقسیم کی تقریب میں ڈائریکٹر NAHE ڈاکٹر منیر احمد میر جٹ نے شرکاء کی دلچسپی اور محنت کو سراہا اور پشاور ٹیم کی بہترین میزبانی پر شکریہ ادا کیا۔
مزید برآں، پروفیسر ڈاکٹر آصف نوید رانجھا سرپرست کنسورشیم برائے موسمیاتی تبدیلی، پائیداری اور تحفظ، پروفیسر ڈاکٹر محمد نفیس چیئرمین ڈیپارٹمنٹ آف ہارٹیکلچرل سائنسز، ڈاکٹر محمد حیدر نیشنل ریسرچ سنٹر آف انٹر کراپنگ اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے دیگر سائنسدان، طلباء اور فیکلٹی ممبران نے شرکت کی۔ آخر میں، پروفیسر ڈاکٹر واجد نسیم جتوئی ڈائریکٹر انٹرنیشنل سینٹر فار کلائمیٹ چینج فوڈ سیکیورٹی اینڈ سسٹین ایبلٹی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور نے تمام شرکاء بشمول چائنیز اکیڈمی آف سائنسز اور چائنیز اکیڈمی آف انوائرمینٹل سائنسز کے چینی مندوبین/سفارت کاروں کو ان کے نتیجہ خیز دورہ اور اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور کو منتخب کرنے پر سراہا۔ آخر میں، چینی مندوبین نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں ڈپلومہ ان ایگریکلچرل سائنسز، فیکلٹی آف ایگریکلچر اینڈ انوائرمنٹ کے طلباءوطالبات کے ساتھ تبادلہ خیال بھی کیا۔
یونیورسٹی آف اوکاڑہ کی تیسری کانووکیشن میں مجموعی طور پر 4,924 ڈگریاں اور 72 گولڈ میڈلز عطا کیے گئے۔ اس تقریب کی صدارت صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم، رانا سکندر حیات نے کی۔گزشتہ ایک برس کے دوران اپنی تعلیم مکمل کرنے والے 18 پی ایچ ڈی اسکالرز نے بھی اپنی ڈگریاں وصول کیں۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی رانا سکندر حیات نے اپنے خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین کی قیادت میں یونیورسٹی آف اوکاڑہ کی تعلیمی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقیاتی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ کو مبارک باد دیتے ہوئے انہیں بڑے خواب دیکھنے اور محنت کے ذریعے روشن مستقبل کی تعمیر کی تلقین کی۔ وزیر برائے اعلیٰ تعلیم نے وائس چانسلر کی قیادت میں یونیورسٹی کی قومی اور بین الاقوامی درجہ بندی میں نمایاں بہتری پر بھی اطمینان کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ جلد ہی یونیورسٹی آف اوکاڑہ پاکستان کا اعلیٰ ترین درجہ رکھنے والا ادارہ بنے گی۔
رانا سکندر حیات نے یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے مرکزِ امتیاز (Center of Excellence) کے قیام کا اعلان بھی کیا۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین نے اپنے خطاب میں کانووکیشن میں شرکت پر وزیرِ اعلیٰ تعلیم کا شکریہ ادا کیا اور یونیورسٹی کے مختلف تعلیمی اور انفراسٹرکچر ترقیاتی منصوبوں پر روشنی ڈالی۔ فارغ التحصیل طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، “جب آپ عملی زندگی میں قدم رکھیں گے تو مسابقت اور چیلنجز کا سامنا ہوگا، مگر پُراعتماد رہیں، بڑے خواب دیکھیں، جدت کے ساتھ سوچیں اور لگن و دیانت داری سے محنت کریں۔”
کانووکیشن کی تقریب میں وائس چانسلر نے مختلف شعبہ جات کے 72 پوزیشن ہولڈرز کو گولڈ میڈلز جبکہ 18 پی ایچ ڈی اسکالرز کو ڈگریاں عطا کیں۔ کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر فہیم ارشد، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر محمد واجد اور رجسٹرار جمیل عاصم بھی اسٹیج پر موجود تھے اور اسناد و اعزازی شیلڈز کی تقسیم میں شریک ہوئے۔


ٹائمز ہائر ایجوکیشن (THE) کی جانب سے جاری کردہ ورلڈ یونیورسٹی رینکنگز بائے سبجیکٹ 2026 نے عالمی اعلیٰ تعلیم میں بدلتے ہوئے رجحانات کو نمایاں کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایشیائی جامعات نے جہاں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) کے شعبوں میں اپنی مضبوط پوزیشن برقرار رکھی ہے، وہیں انسانیات، سماجی علوم، قانون اور تعلیم جیسے شعبوں میں بھی غیر معمولی تیز رفتار ترقی دکھائی ہے۔
رپورٹ اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگرچہ امریکہ اور برطانیہ بدستور کئی مضامین میں سرفہرست ہیں، تاہم ایشیا کی جامعات اب یورپ اور شمالی امریکہ کے مقابلے میں سماجی علوم اور انسانیات میں زیادہ تیزی سے اوپر آ رہی ہیں، جو عالمی تعلیمی طاقت کے توازن میں ایک بڑی تبدیلی کا عندیہ ہے۔

رینکنگز کے مطابق مختلف مضامین میں درج ذیل جامعات نے پہلی پوزیشن حاصل کی:
MIT (امریکہ): آرٹس و ہیومینٹیز، بزنس و اکنامکس اور سوشل سائنسز
ہارورڈ یونیورسٹی: انجینئرنگ اور لائف سائنسز
اسٹینفورڈ یونیورسٹی: تعلیم اور قانون
آکسفورڈ یونیورسٹی (برطانیہ): کمپیوٹر سائنس اور میڈیکل اینڈ ہیلتھ
کیمبرج یونیورسٹی: نفسیات
ہارورڈ، اسٹینفورڈ اور کیمبرج وہ واحد جامعات ہیں جو تمام 11 مضامین کی ٹاپ 10 فہرست میں شامل رہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایشیائی جامعات نے کئی شعبوں میں غیر معمولی بہتری دکھائی:
چین نے کمپیوٹر سائنس، انجینئرنگ اور فزیکل سائنسز میں ٹاپ 10 میں نئی جگہیں حاصل کیں
پیکنگ یونیورسٹی کمپیوٹر سائنس میں 10ویں اور انجینئرنگ میں 8ویں نمبر پر پہنچ گئی
نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور پہلی بار لائف سائنسز میں ٹاپ 20 میں شامل ہوئی
ایشیا کی 47 فیصد جامعات نے قانون، 32 فیصد نے تعلیم اور 29 فیصد نے آرٹس و ہیومینٹیز میں اپنی رینکنگ بہتر کی
ماہرین کے مطابق یہ رجحان اس بات کا ثبوت ہے کہ ایشیائی تعلیمی نظام اب صرف STEM تک محدود نہیں رہے بلکہ سماجی و فکری علوم میں بھی منظم اور سنجیدہ سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔
ہیروشیما یونیورسٹی کے پروفیسر فوتاؤ ہوانگ کے مطابق:
“ایشیا میں سائنسی ترقی کی رفتار نسبتاً سست ہوئی ہے، مگر اسی دوران قانون، تعلیم اور انسانیات میں بڑھتی سرمایہ کاری نے ان شعبوں میں تیز رفتار بہتری کو جنم دیا ہے۔”
بوسٹن کالج کے پروفیسر فلپ آلٹ باخ کا کہنا ہے:
“عالمی اعلیٰ تعلیم اب کثیر قطبی (Multipolar) نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں مغربی دنیا کی بالادستی بتدریج کم ہو رہی ہے، جو تعلیمی ترقی کے لیے ایک مثبت رجحان ہے۔”
پاکستانی تناظر میں یہ رپورٹ ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور مقامی جامعات کے لیے ایک سنجیدہ سوالیہ نشان بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ عالمی سبجیکٹ رینکنگز میں پاکستانی جامعات کی محدود موجودگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ:
HEC کی پالیسی ترجیحات اب بھی زیادہ تر سائنسی و تکنیکی شعبوں تک محدود ہیں
قانون، تعلیم، سیاسیات، معاشیات اور سماجیات میں تحقیقی سرمایہ کاری ناکافی ہے
بین الاقوامی معیار کی اشاعت (High-impact publications) اور عالمی اشتراک کمزور ہیں
پی ایچ ڈی طلبہ اور فیکلٹی کی تحقیق عالمی رینکنگ کے تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں
چین، سنگاپور اور جنوبی کوریا جیسے ممالک میں:
سماجی علوم میں ادارہ جاتی فنڈنگ
بین الاقوامی جرائد میں اشاعت کی حوصلہ افزائی
اور فیکلٹی کی عالمی سطح پر تربیت
نے عالمی رینکنگ میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر پاکستان بھی اسی طرز پر HEC کے تحقیقی فریم ورک کو وسعت دے تو آئندہ دہائی میں مقامی جامعات کے لیے عالمی سطح پر ابھرنے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
ورلڈ یونیورسٹی رینکنگز بائے سبجیکٹ 2026 واضح کرتی ہیں کہ عالمی اعلیٰ تعلیم اب مغربی اجارہ داری سے نکل کر کثیر قطبی نظام کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اگر پاکستان بروقت پالیسی اصلاحات، سماجی علوم میں سرمایہ کاری اور تحقیقی معیار کو ترجیح دے تو یہ تبدیلی ملک کے لیے تعلیمی بحالی کا موقع بن سکتی ہے—بصورت دیگر عالمی تعلیمی دوڑ میں فاصلہ مزید بڑھنے کا خدشہ رہے گا۔
نامور ریڈیولوجسٹ اولڈ راوئین ڈاکٹر صفدر علی کی جانب سے ساتویں سکالر شپ کا اجراء
لاہور: نامور ریڈیولوجسٹ اور اولڈ راوین پروفیسر ڈاکٹر صفدر علی ملک کی جانب سے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے اینڈوومنٹ فنڈ ٹرسٹ کو 10 لاکھ روپے کی رقم عطیہ۔ اس رقم سے ہر سال میرٹ پر ایک مستحق طالب علم کو اسکالرشپ دی جائے گی۔ یہ پروفیسر صفدر کی جانب سے عطیہ کی جانے والی ساتویں سکالرشپ ہے۔پروفیسر ڈاکٹر صفدر علی ملک نے 10 لاکھ روپے کا چیک وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر چوہدری کو وائس چانسلر آفس میں ایک تقریب کے دوران پیش کیا۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر خالد منظور بٹ اور یونیورسٹی آف بلتستان، اسکردو کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود اختر بھی موجود تھے۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر چوہدری نے عطیے پر پروفیسر ڈاکٹر صفدر علی ملک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اس رقم کو میرٹ اسکالرشپ میں تبدیل کیا جائے، تاکہ ہر سال ایک مستحق طالب علم کو تعلیمی معاونت فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اسکالرشپ ایک طالب علم کی زندگی بدل دیتی ہے اور تعلیم کے ذریعے پورا خاندان بہتر مستقبل کی طرف بڑھتا ہے۔