انسٹیٹیوٹ آف فزکس اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے زیر اہتمام فزکس کے شعبے میں ابھرتے ہوئے رجحانات پر دو روزہ بین الا اقوامی کانفرنس کا آغاز ہو گیا ۔کانفرنس کا افتتاح وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے کیا۔ اپنے خطاب میں وائس چانسلر نے کہا فزکس سائنسی مضامین میں بنیادی اہمیت کی حامل ہے اور دنیا کی اکثر دریافتیں و ایجادات اور سائنسی ترقی فزکس کی ہی مرہون منت ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی سائنسدان فزکس کے شعبے میں ابھرتے ہوئے رجحانات اور جدت پر تحقیقی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کریں تاکہ عالمی سطح پر ہونے والی سائنسی ترقی میں وطن عزیز ترقی کر سکے۔ وائس چانسلر تھل یونیورسٹی بھکر پروفیسر ڈاکٹر سعید احمد بزدارنے اپنے خطاب میں فزکس کے ارتقای مراحل ماضی اور دور حاضر میں ہونے والی تحقیق و تدریس اور مستقبل کے امکانات پر تفصیلی لیکچر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فزکس کلائمیٹ چینج اور میڈیکل شعبے میں بھی دوررس کے حامل نتائج دے رہی ہے۔ کانفرنس سیکرٹری ڈاکٹر عالیہ نذیر نے کہا کہ دو روزہ کانفرنس میں ملکی اور غیر ملکی مندوبین میٹریل سائنس میڈیکل فزکس مادی فزکس نینو ٹیکنالوجی قابل تجدید توانائی اور دیگر جدید شعبوں سے متعلق مقالہ جات پیش کریں گے ۔ اس موقع پر ڈین فیکلٹی آف فزیکل اینڈ میتھمیٹیکل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر غلام مصطفیٰ ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف فزکس پروفیسر ڈاکٹر الطاف حسین اور فوکل پرسن ڈاکٹر نور العین نے بھی خطاب کیا۔ ڈاکٹر نور العین نے کانفرنس میں شریک پاکستان بھر سے آئے ہوئے اور آن لائن ذرائع سے شریک بین الاقوامی ماہرین کا شکریہ ادا کیا۔
Author
Ilmiat
نظریاتی بحث کے فروغ میں جامعات کا کلیدی کردا رہے،بات میں دلیل اور الفاظ میں شائستگی ہونی چاہیے، زبردستی نہیں ہونی چاہیے۔…… پرووائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود
by Ilmiat
written by Ilmiat
پنجاب یونیورسٹی کے پرووائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود نے کہا ہے کہ نظریاتی بحث کے فروغ میں جامعات کا کلیدی کردا رہے،بات میں دلیل اور الفاظ میں شائستگی ہونی چاہیے، زبردستی نہیں ہونی چاہیے۔وہ پنجاب یونیورسٹی سنٹر فار سویلیٹی اینڈ اینٹی گریٹی ڈویلپمنٹ کے زیر اہتمام پنجاب سنٹر آف ایکسیلینس آن کاؤنٹر وائلنٹ ایکسٹریمزم کے اشتراک سے ’تشدد پر مبنی انتہا پسندی کا مقابلہ کرنا: معاشرے میں شائستگی اور دیانت داری کو مضبوط بنانا‘ کے موضوع پر الرازی ہال میں منعقدہ پالیسی سیمینار سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر سیکریٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاویدقاضی،چیئرمین مرکزرویت ہلال کمیٹی مولانہ سید عبدالخبیر آزاد،دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر)غلام مصطفی،سابق وزیر قانون احمر بلال صوفی ڈائریکٹر سی سی آئی ڈی ڈاکٹر شبیر احمد خان، سکیورٹی ایڈوائزر ڈاکٹر تحمینہ اسلم رانجھا، میڈیا کنسلٹنٹ منصور اعظم قاضی، فیکلٹی ممبران اور طلباؤطالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اپنے خطاب میں پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود نے کہا کہ انسان نے معاشرے میں کیسے رہنا ہے، نظم و نسق کیسے چلانا ہے، ان سب پر بات کرنے کے لئے جامعہ ہی بہترین جگہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں رواداری، برداشت، سچ، محبت اور اخلاقیات کے فروغ کیلئے کام کررہے ہیں۔ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کہا ہے کہ پاکستان میں امن، رواداری اوربرداشت کے کلچر کو فروغ دینے اورانتہاپسندی کے خاتمے کیلئے مسلم و غیر مسلم کو قوانین کی پاسداری کرنی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو اس بات کا ادراک کرناہوگاکہ پاکستان کا باقی رہنا ہر بات سے زیادہ اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ طلباؤطالبات پیغام پاکستان کو پڑھیں اور مثبت سوچ کو پھیلانے کیلئے کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ کتاب بہترین ساتھی ہے جو سیکھنے کے عمل کو جاری رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تشدد، ناانصافی اور انتہا پسندی کی روک تھام کیلئے اپنے گھر سے آغاز کریں۔ انہوں نے کہا کہ رواں برس مشکلات کے باوجود اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو جنگ اور کھیل کے میدانوں میں سرخرو کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو مل کر ایک مہذب معاشرہ تشکیل دینا ہے اور دوسروں کے لئے آسا نیاں پیدا کرنی ہیں۔مولانہ سید عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ امن کے قیام اور دہشت گردی کی روک تھام کے لئے نبی کریم ﷺ کی تعلیمات پرعمل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں فرقوں میں بٹ کر ایک دوسرے کی دل آزاری کا باعث نہیں بنناچاہیے۔انہوں نے کہا کہ قوم یکجا ہوئی تو بنیان المرصو ص میں دشمن کو شکست فاش دی۔ جنرل (ر) غلام مصطفی نے کہاکہ آج ہم ایک دوسرے کی بات کوسُن رہے ہیں مگر سمجھنے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علم اورانفارمیشن میں فرق ہے،مگرآج کی نسل کی ذہن سازی سوشل میڈیا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ دورِ جدید میں نوجوان موبائل کے قیدی بن چکے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کونصیحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ترقی اور امن کے لئے منفی ذہنیت والے افراد سے بچنا ہے۔احمر بلال صوفی نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے جس میں قرآن کریم کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی معاہدہ کرکے اس کی پاسداری لازمی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ طلباؤطالبات داخلہ لیتے وقت پر تشد کاروائیوں کا حصہ نہ بننے کی شرائط پر دستخط کرتے ہیں اور ان پر عمل نہ کرکے غلط کرتے ہیں۔ ڈاکٹر شبیر احمد خان نے کہاکہ جامعات کے فرائض میں علم و تحقیق کی ترویج کے ساتھ افراد کی تربیت اور نشوونما کرنابھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین، محققین، صحافی، اساتذہ سمیت ہر شعبے کے لئے افرادی قوت پیدا کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں مرکز ترقی و تہذیب و دیانت کے قیام کا مقصد اعلیٰ اخلاق کے مالک، امانت اور دیانت دار گریجوئیٹس پیدا کرنا ہے۔ڈاکٹر تحمینہ اسلم رانجھا نے کہاکہ افریقہ، ڈنمارک اور مراکش میں خواتین کی شمولیت سے دہشت گردی پر کا خاتمہ کرنے میں مدد ملی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ میں کئی قربانیاں دی مگر خواتین کی شمولیت کے بغیر امن کا پیغام ادھورا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن کے خلاف اچھے طریقے سے مقابلہ کرسکتی ہیں۔ منصور اعظم قاضی نے کہا کہ بیانیہ بنانے میں میڈیا کاکردار بہت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو مل کروطن عزیر کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کیلئے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے نوجوان طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہاکہ کسی بھی معلومات کی تصدیق کئے بغیر آگے شیئر نہ کریں۔
گورنمنٹ گریجویٹ کالج بھکر کے طالب علم کی شاندار کامیابی — جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے ADS امتحان میں پہلی پوزیشن
by Ilmiat
written by Ilmiat
گورنمنٹ گریجویٹ کالج بھکر کے طالب علم کی شاندار کامیابی — جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے ADS امتحان میں پہلی پوزیشن
گورنمنٹ گریجویٹ کالج بھکر نے ایک بار پھر تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے ایسوسی ایٹ ڈگری اِن سائنس (ADS) امتحان 2025 میں کالج کے ہونہار طالب علم نے 675 نمبروں کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کر کے نہ صرف ادارے بلکہ ضلع بھکر کا نام بھی روشن کر دیا۔
کامیابی کی خبر پر کالج کے پرنسپل نے طالب علم کو مبارکباد دیتے ہوئے اسے ادارے کے معیارِ تعلیم، محنتی اساتذہ اور طلبہ کی مسلسل جدوجہد کا ثبوت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کامیابی کالج کی علمی روایت کا تسلسل اور آئندہ مزید بہتر نتائج کی بنیاد ہے۔
یونیورسٹی کی 12ویں کانووکیشن میں کامیاب طالب علم کو میرٹ سرٹیفکیٹ، ڈگری، گولڈ میڈل اور کیش انعام سے نوازا جائے گا، جو اس کی محنت اور لگن کا عملی اعتراف ہے۔
گورنمنٹ گریجویٹ کالج بھکر کی یہ نمایاں کامیابی ادارے کے لیے فخر اور علاقے کے لیے خوشی کا باعث ہے، جس سے طلبہ میں مزید جوش و جذبہ پیدا ہوا ہے۔
دو روزہ تربیتی ورکشاپ: “ایڈوانسڈ ایکسل برائے ڈیٹا مینجمنٹ اور اینالسس” کا انعقاد
by Ilmiat
written by Ilmiat
دو روزہ تربیتی ورکشاپ: “ایڈوانسڈ ایکسل برائے ڈیٹا مینجمنٹ اور اینالسس” کا انعقاد
اسلام آباد: امریکی محکمۂ خارجہ کے میرٹ اینڈ نیڈز بیسڈ اسکالرشپ پروگرام کے تحت، جسے ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نافذ کر رہا ہے، “Advanced Excel for Data Management and Analysis” کے عنوان سے دو روزہ عملی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ میں وفاقی اور راولپنڈی کی مختلف جامعات کے افسران کے علاوہ ایچ ای سی کے ایچ آر ڈی ڈویژن کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اس ورکشاپ کا مقصد شرکاء کی عملی صلاحیتوں کو مائیکروسافٹ ایکسل کے ذریعے ڈیٹا ہینڈلنگ، تجزیہ اور رپورٹنگ میں مضبوط بنانا تھا۔
ماہر ٹرینر مسٹر تمکین احمد نے ایڈوانسڈ فنکشنز، ڈیٹا ویژولائزیشن، ڈیش بورڈز، پائیوٹ ٹیبلز، اور پروجیکٹ مینجمنٹ میں استعمال ہونے والے تجزیاتی ٹولز پر ہینڈز آن سیشنز کروائے۔ شرکاء نے ڈیٹا کلیننگ، آٹومیشن اور ماڈل بلڈنگ پر عملی مشقیں کیں اور ورکشاپ کے انٹرایکٹو اور عملی نوعیت کے فارمیٹ کو خوب سراہا۔
دوسرے روز ایڈوائزر اسکالرشپس، ایچ ای سی، مسٹر محمد رضا چوہان نے “Building Financially Sustainable Universities: The Role of Governance, Responsibility & Autonomy” کے موضوع پر خصوصی سیشن لیا۔ انہوں نے اچھی گورننس کے بنیادی ستونوں — دیانت داری، جوابدہی، شفافیت اور کارکردگی — پر زور دیا۔ انہوں نے برانڈ ڈیولپمنٹ، ریسرچ کمرشلائزیشن، انڈسٹری پارٹنرشپس اور مارکیٹ سے ہم آہنگ تعلیمی پروگراموں کو جامعات کی طویل مدتی مالی پائیداری کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
شرکاء نے ادارہ جاتی چیلنجز اور جامعات کے بدلتے ہوئے کردار پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ایڈوائزر چوہان نے مسئلہ حل کرنے پر مبنی جدید قیادت کی ضرورت پر زور دیا اور کووڈ-19 کے دوران اعلیٰ تعلیم کے شعبے کی مؤثر پالیسی سازی کو قابلِ تقلید مثال قرار دیا۔
ورکشاپ کا اختتام سرٹیفکیٹس کی تقسیم کے ساتھ ہوا۔ ایڈوائزر اسکالرشپس نے امید ظاہر کی کہ شرکاء حاصل شدہ ڈیٹا مینجمنٹ اور اینالسس کی مہارتوں کو اپنے اداروں میں مؤثر طریقے سے استعمال کریں گے۔ جامعات کے نمائندگان نے ایچ ای سی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس تربیت کو اپنے ادارہ جاتی نظام میں نافذ کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
او آئی سی کامسٹیک سیکرٹریٹ اسلام آباد میں چھٹی ریکٹرز کانفرنس، 170 سے زائد وائس چانسلرزو ریکٹرز کی شرکت
by Ilmiat
written by Ilmiat
و آئی سی کامسٹیک سیکرٹریٹ اسلام آباد میں ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز پاکستان (ایپ سپ ) اور کامسٹیک کے اشتراک سے چھٹی ریکٹرز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ملک بھر کی ممتاز جامعات کے تقریباً 170 وائس چانسلرز و ریکٹرز اور 17 ممالک سے 40 غیر ملکی مندوبین نے شرکت کی۔ کانفرنس کو پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کا ایک اہم بین الاقوامی اجتماع قرار دیا جا رہا ہے۔افتتاحی اجلاس کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبد الرحمن، چیئرمین ایپ سپ نے کی۔ کوآرڈینیٹر جنرل کامسٹیک پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد مسلم دنیا اور پاکستان کی جامعات کو ایک مضبوط، باہمی تعاون پر مبنی تعلیمی ماڈل کی طرف لے جانا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جدید دور میں تحقیق، اختراع اور قیادت وہ ستون ہیں جن پر مستقبل کی مضبوط قومیں کھڑی ہوتی ہیں۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کامسٹیک خطے کی سائنسی و تعلیمی ترقی کے لئے شواہد پر مبنی پالیسی سازی، تحقیق کے فروغ اور اکیڈمیا کے درمیان اشتراک کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھے گا۔ صدر ایپ سپ فیڈرل چیپٹر ڈاکٹر عبدالباسط نے خوش آمدیدی کلمات پیش کئے جبکہ ریکٹر سپیریئر یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر سمیرا رحمان نے ’’کردار کے ساتھ قیادت: خواہش سے عمل تک‘‘ کے موضوع پر کلیدی خطاب کیا۔تقریب سے منسٹر قونصلر برائے پبلک ڈپلومیسی امریکی سفارتخانہ اسلام آباد اینڈریو ہالس اور سفیر رومانیہ برائے پاکستان اکٹر ڈین اسٹونیسکو نے بھی خطاب کیا۔
مہمان خصوصی چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے ایپ سپ اور کامسٹیک کی اس مشترکہ کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ قومی و عالمی تعلیمی قیادت کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا اعلیٰ تعلیم کے مستقبل کے لئے خوش آئند ہے۔ اجلاس کا اختتام تعریفی شیلڈز کی تقسیم، گروپ فوٹو اور نیٹ ورکنگ بریک پر ہوا۔ بعد ازاں کانفرنس پالیسی سازی کے لئے چار ویلیڈیشن فورمز میں تقسیم ہوئی۔ پہلے فورم میں پاکستان کو درپیش حکمرانی کے بحران اور جوابدہ نظام کی ضرورت پر گفتگو ہوئی۔
دوسرے فورم میں اکیڈمیا میں قیادت کے بحران اور کردار و دیانت پر مبنی قائدانہ ماڈل پر روشنی ڈالی گئی۔تیسرے فورم میں اعلیٰ تعلیم میں اصلاحات، جدید نصاب، تحقیق کی ترجیحات اور عالمی مسابقت پر بحث ہوئی۔ چوتھے فورم میں بین الاقوامی مندوبین نے اپنے تجربات اور تجاویز پیش کیں۔کانفرنس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور مسلم دنیا کی جامعات شواہد پر مبنی پالیسی سازی، موثر گورننس اور مشترکہ تحقیق کے ذریعے اعلیٰ تعلیم کو نئی سمت دینے کے لیے اپنے تعاون کو مزید مضبوط کریں گی۔
پنجاب یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ سائیکالوجی کے زیر اہتمام مسلم سائیکالوجی پر کانفرنس کا انعقاد
by Ilmiat
written by Ilmiat
پنجاب یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ سائیکالوجی کے زیراہتمام سوسائٹی فار ایڈوانسمنٹ آف مسلم سائیکالوجی،پاکستان سائیکالوجیکل ایسوسی ایشن لاہور چیپٹر اور فاؤنٹین ہاؤس کے اشتراک سے بیسویں ’مسلم سائیکالوجی کانفرنس‘ کاانعقاد کیاگیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی، ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ سائیکالوجی اور پی پی اے کی صدر پروفیسر ڈاکٹر رافعہ رفیق، سوسائٹی فار ایڈوانسمنٹ آف مسلم سائیکالوجی کے صدر ڈاکٹر امجد طفیل، نامور ماہرینِ نفسیات، محققین، فیکلٹی ممبران اورطلباؤطالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اپنے خطاب میں وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ نفسیات ایک نہایت اہم مضمون ہے۔ انہوں نے موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے پاکستان میں مسلم سائیکالوجی اور ذہنی صحت کے فروغ پر پُراثر خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ۔19کے دوران ماہرینِ نفسیات نے معاشرے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم سائیکالوجی ہمیں اپنے ملک سے محبت کا درس دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان وسائل اور بہترین مواقعوں سے بھرپور ملک ہے۔ انہوں نے کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر منتظمین کی کاوشوں کو سراہا۔پروفیسر ڈاکٹر رافعہ رفیق نے کامیاب کانفرنس کیلئے تعاون کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ تقریب کا مرکزی موضوع ’آفات اور ایمرجنسی صورتحال میں ذہنی صحت: مسلم نقط نظر‘ تھا، جس نے ماہرینِ نفسیات، سکالرز اور طلبہ کو ثقافتی بنیادوں پر مبنی ذہنی صحت کی حکمتِ عملیوں پر بھرپور بحث و مباحثہ کے لیے پلیٹ فارم مہیا کیا۔ کانفرنس میں ڈاکٹر علی اکبر، ڈاکٹر امجد طفیل، ریاض فتیانہ، پروفیسر ڈاکٹر اسمعۃ اللہ، ڈاکٹر عثمان رشید، ڈاکٹر فاطمہ کمران، پروفیسر ڈاکٹر روحی اور ڈاکٹر عفیفہ نے بطور پینلسٹ اور کلیدی مقررین خدمات سرانجام دیں اور تقریب کی پیشہ ورانہ تنظیم میں اہم کردار ادا کیا۔
مسائل کے حل کے لئے مباحثے ضروری ہیں، کتابوں کے ذریعے علم اور اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔
by Ilmiat
written by Ilmiat
:وائس چانسلرپنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا ہے کہ مسائل کے حل کے لئے مباحثے ضروری ہیں، کتابوں کے ذریعے علم اور اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ آف انرجی اینڈ انوائرمینٹل انجینئرنگ کے آڈیٹوریم میں سابق وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اورماہرتعلیم پروفیسرڈاکٹر شاہد صدیقی کی دو کتابوں کی تقریب رونمائی سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پرپروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی، لمزسے ڈاکٹر طیبہ تمیم، ڈائریکٹر ادارہ تعلیم و تحقیق ڈاکٹر عبدالقیوم چوہدری،ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف سوشل اینڈ کلچرل سٹڈیز ڈاکٹر فرحان نوید یوسف،چیئرپرسن شعبہ جینڈر سٹڈیز ڈاکٹر راعناملک، سیکریٹری اکیڈمک سٹاف ایسو سی ایشن ڈاکٹر محمد اسلام، محققین، تعلیم دان، فیکلٹی ممبران اور طلباؤطالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اپنے خطاب میں وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر محمد علی نے طلباؤطالبات کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ دنیاجس تیزی سے بدل رہی ہے اگر اس تبدیلی کو ڈرائیو کرنا ہے تو مطالعے کی عادات کو اپنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ پانچ سال میں زراعت، ابلاغیات، مواصلات، درس و تدریس کے ذرائع بدل جائیں گے، لہذاطلباؤطالبات کو صرف ڈگری نہیں بلکہ سیکھنے کے لئے پڑھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ 30فیصد اپنے کلاس رومز میں جبکہ 70فیصد کلاس رومز سے باہر سیکھتے ہیں جس کیلئے ایسی سرگرمیوں کا انعقاد جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شاہد صدیقی ملن سار، قابل اور محنتی شخص ہیں جن سے ہمیشہ سیکھنے کو ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنف نے اپنی تصانیف میں تعلیم، سیاست اور جینڈر کے مختلف پہلوؤں پرتفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہا کہ ہمیں ایسے گرایجوئیٹس پیدا کرنے ہیں جو معاشرے کے مسائل اور چیلنجز سے آگاہ ہوں۔انہوں نے کہا کہ طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں اور تنقیدی سوچ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتب میرے ذاتی عملی مشاہدات کا نچوڑ ہیں جنہیں محققین، پالیسی ساز، طلبہ اور عام لوگ با آسانی سمجھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں کتب انٹر ڈسپلنری ہیں اور ہر باب میں کوئی نہ کوئی مسئلہ اجاگر کیا گیا ہے۔ انہوں نے تقریب کے انعقاد پر وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی اور ان کی ٹیم کا شکریہ اداکیا۔ ڈاکٹر طیبہ تمیم نے کہا کہ مصنف نے کتاب میں تعلیم کی اہمیت جس انداز سے اجاگر کیا ہے وہ قابل تعریف ہے جبکہ ان کتابوں کا ٹائٹل بھی قابل دید ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر شعبہ زندگی میں ترقی کیلئے تعلیم کا کردار بہت اہم ہوتاہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کتاب میں اساتذہ و طلبہ کے درمیان تعلقات پر آسان زبا ن میں بیان کیا ہے جسے پڑھ کر سوچ کے دریچے کھُلتے ہیں۔ ڈاکٹر عبد القیوم چوہدری نے کہا کہ ڈاکٹر شاہد صدیقی نے رینکنگ میں بہتری، آؤٹ آف سکول بچوں کے حوالے سے کتب بینوں کو اپنے نقطہ نظر سے انتہائی خوبصورتی سے آگاہ کیا ہے۔ ڈاکٹر فرحان نوید یوسف نے بہترین تصانیف پر ڈاکٹر شاہد صدیقی کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے ان کی تحریرکو علمی دنیا میں خوبصورت اضافہ قرار دیا۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے زیرِ اہتمام فیض ادبی میلہ سیزن 4 اختتام پذیر
by Ilmiat
written by Ilmiat
بہاول پور (پ ر) اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے زیرِ اہتمام فیض ادبی میلہ سیزن 4 اختتام پذیر ہو گیا۔اختتامی روز مصنوعی ذہانت اور سوشل میڈیا کے موضوع پر دانشور جامی چانڈیواور ڈاکٹر روبینہ شاہ جہاں ڈین فیکلٹی آف آرٹس پشاور یونیورسٹی پشاورکی زیر صدارت سیشن میں خلیل کنبھار، گل نو خیز اختر، ڈاکٹر نیر مصطفیٰ اور دیگر نے خطاب کیا۔ براڈ کاسٹر اور ماہر تعلیم ڈاکٹر نصراللہ خان ناصر مرحوم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا جس میں ڈاکٹر روبینہ رفیق ڈاکٹر مقبول گیلانی ڈاکٹر زوار شاہ اور دیگر نے خطاب کیا۔ اختتامی سیشن ڈاکٹر روبینہ ترین سابق چیئرپرسن شعبہ اردو زکریا یونیورسٹی ملتان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اس موقع پر ڈاکٹر تقی عابدی، جامی چانڈیو، ڈاکٹر عاصم ثقلین ،رانا محبوب اختر، شوکت اشفاق نے خطاب کیا۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر واصف اقبال نے سرانجام دیئے۔ فیض ادبی میلے کے روح رواں ڈین فیکلٹی آف آرٹس پروفیسر ڈاکٹر سید عامر سہیل نے کہا کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں شعبہ اردو و اقبالیات کے زیر اہتمام چوتھا فیض ادبی میلہ جامعہ کی 100 سالہ تقریبات کا حصہ ہے ۔ انہوں نے اس میلے کے انعقاد پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران کی سرپرستی فیکلٹی و یونیورسٹی انتظامیہ کے تعاون اور پاکستان بھر سے آئے مندوبین کی شرکت پر شکریہ ادا کیا۔ چوتھے فیض ادبی میلے میں کتاب میلہ اور ثقافتی رنگ پر مشتمل محفل بھی منعقد ہوئی۔
NUST TABA کلب کا “Book Asylum 6.0″—گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول چک خاص روات میں تعلیمی خدمت کا خوبصورت اقدام
by Ilmiat
written by Ilmiat
اسلام آباد/روات: NUST Community Services Club (TABA) کی ٹیم نے تعلیم و خواندگی کے فروغ کے لیے ایک اہم سماجی خدمت پروگرام Book Asylum 6.0 کا انعقاد گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول، چک خاص روات میں کیا۔ اس سرگرمی کا مقصد طالبات میں مطالعے کا شوق بیدار کرنا اور انہیں بہتر تعلیمی مواقع فراہم کرنا تھا۔
تقریب کے دوران طلبہ کو کتابوں، کہانیوں اور دلچسپ سرگرمیوں کے ذریعے نہ صرف علم تک رسائی فراہم کی گئی بلکہ ان میں بڑے خواب دیکھنے اور آگے بڑھنے کی تحریک بھی پیدا کی گئی۔ رضاکاروں نے بچوں کے ساتھ وقت گزارا، کتابیں شیئر کیں اور انہیں پڑھنے کی اہمیت سے آگاہ کیا، جس سے کمیونٹی اور طلبہ کے درمیان مضبوط تعلق قائم ہوا۔
پروگرام کے تحت اسکول میں ایک چھوٹی لائبریری بھی قائم کی گئی، جبکہ کتابوں کا بڑا مجموعہ عطیہ کیا گیا، تاکہ اس مہم کا اثر ایک دن سے بڑھ کر مستقل بنیادوں پر طلبہ کی تعلیمی ترقی میں کام آئے۔
اس اقدام کو مقامی کمیونٹی اور اسکول انتظامیہ نے انتہائی سراہا، جو NUST TABA کلب کے علم دوستی اور سماجی خدمت کے جذبے کی بہترین مثال ہے۔
یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور میں 6th انٹرنیشنل کانفرنس AIMS-2025 کا شاندار انعقاد…….دنیا کے 13 ممالک سے 172 ماہرینِ سائنس کی شرکت
by Ilmiat
written by Ilmiat
لاہور: شعبہ فزکس، ڈویژن آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، یونیورسٹی آف ایجوکیشن (UE) لاہور کے زیرِ اہتمام 6th سالانہ انٹرنیشنل کانفرنس آن ایڈوانسز اِن میٹیریلز سائنس (AIMS-2025) کا کامیاب انعقاد 3 اور 4 دسمبر 2025 کو کیا گیا۔ کانفرنس کا افتتاحی اجلاس ملک اور بیرونِ ملک کے ممتاز سائنس دانوں کی موجودگی میں منعقد ہوا۔
تقریب کے چیف گیسٹ پروفیسر سعید احمد بُزدَار، وائس چانسلر تھل یونیورسٹی بھکر تھے، جبکہ وائس چانسلر یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور، پروفیسر ڈاکٹر عاقف انور چوہدری نے صدارت کے فرائض انجام دیے۔ اس موقع پر پروفیسر این۔ ایم۔ بٹ، پروفیسر فضلِ علیم، پروفیسر راشد احمد، پروفیسر ریاض احمد اور پروفیسر ابرار احمد ظفر نے بطور گیسٹس آف آنر شرکت کی۔ ڈاکٹر فہیم خورشید بٹ کانفرنس چیئر رہے۔
یونیورسٹی آف ایجوکیشن کی تاریخ میں یہ کانفرنس سب سے بڑے سائنسی اجتماعات میں سے ایک قرار دی جا رہی ہے۔ AIMS-2025 میں 13 ممالک—برطانیہ، اسپین، آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، چین، جنوبی کوریا، ملائیشیا، برازیل، سعودی عرب، مصر، مراکش، پرتگال اور پاکستان—سے 172 کلیدی مقررین، مدعو محققین اور بین الاقوامی ماہرین نے شرکت کی۔
کانفرنس میں 46 پوسٹر پریزینٹرز اور 46 رجسٹرڈ اسپیکرز بھی شامل تھے، جنہوں نے جدید میٹیریلز سائنس میں تحقیق، جدت اور ٹیکنالوجی کے نئے رجحانات پر گفتگو کی۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق یہ کانفرنس تحقیق و ترقی کے فروغ اور عالمی سائنسی برادری سے روابط مضبوط کرنے میں سنگِ میل ثابت ہوگی۔
#AIMS2025 #UE_Lahore #UniversityOfEducation #MaterialsScience