سندھ حکومت نے گوگل اور ٹیک ویلی کے اشتراک سے صوبے بھر میں نوجوانوں کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے طلبہ کے لیے 30,000 سے زائد گوگل کیریئر سرٹیفکیٹ اسکالرشپس کا اعلان کیا ہے۔
سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے پیر کے روز وزیر اعلیٰ ہاؤس میں مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کے ذریعے اس اقدام کو باضابطہ بنانے کے لیے ایک اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس میں سندھ کے وزیر تعلیم سید سردار شاہ، وزیر اعلیٰ کے سیکریٹری رحیم شیخ، ایچ ای سی سندھ کے چیئرمین پروفیسر طارق رفی، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد عباسی، سیکریٹری آئی ٹی نور سمو، سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز عباس بلوچ، 30 سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز، ٹیک ویلی پاکستان کے سی ای او عمر فاروق اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد طلبہ کو مصنوعی ذہانت (AI)، سائبر سیکیورٹی، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، آئی ٹی آٹومیشن اور پروجیکٹ مینجمنٹ جیسے شعبوں میں مطلوبہ ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے تاکہ وہ تیزی سے بدلتے ہوئے روزگار کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ 2024 کے گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس سندھ پروگرام کی کامیابی کے بعد، جس میں 10 یونیورسٹیوں کے 1,500 طلبہ نے 100 فیصد کامیابی حاصل کی، 2025 کے توسیعی پروگرام سے حکومت کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور افرادی قوت کی ترقی کے عزم کا اظہار ہوتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اس پروگرام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا، “یہ شراکت داری ہمارے اس وژن کا ثبوت ہے کہ سندھ کو جدت اور مہارت کی ترقی کا مرکز بنایا جائے۔”انہوں نے مزید کہا کہ 30,000 سے زائد اسکالرشپس کی فراہمی صرف تعلیم میں سرمایہ کاری نہیں بلکہ ہمارے نوجوانوں کے مستقبل اور صوبے کی اقتصادی ترقی میں سرمایہ کاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مضبوط سرکاری و صنعتی شراکت داری کے ذریعے یہ اقدام سندھ میں ڈیجیٹل تعلیم کو ایک نئی جہت دے گا، جس سے طلبہ عالمی ڈیجیٹل معیشت میں مقابلہ کرنے اور صوبے کی سماجی و اقتصادی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں گے۔گوگل کے ماہرین کے تیار کردہ کیریئر سرٹیفکیٹس پروگرام کے تحت لچکدار آن لائن سیکھنے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے، جس کے ذریعے طلبہ روایتی ڈگری کے بغیر بھی تین سے چھ ماہ میں صنعت سے تسلیم شدہ اسناد حاصل کر سکتے ہیں۔کامیابی کی کہانیوں اور کیریئر کی ترقی پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ پچھلے بیچ کے فارغ التحصیل طلبہ نے معروف کمپنیوں میں ملازمتیں اور انٹرن شپس حاصل کیں، جہاں تنخواہیں 70,000 روپے سے 16 لاکھ روپے ماہانہ تک تھیں۔