ٓ
مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی اور محدود جنگی جھڑپوں نے عالمی سطح پر دفاعی ماہرین کو ایک نئے دور کی جنگی حکمت عملی پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ پرو فیسرعبداللہ بن بندر العتیبی کے مطابقگزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران ہونے والی جھڑپوں سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ روایتی فوجی طاقت اب فیصلہ کن فتح کی ضمانت نہیں رہی۔ ایران جیسے بڑے اور جغرافیائی طور پر پیچیدہ ملک کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کو غیر معمولی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
دنیا کی تاریخ میں جنگ ہمیشہ طاقت کا استعارہ رہی ہے، مگر ہر عہد اپنی جنگ خود تخلیق کرتا ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ ماہ میں ایران کے گرد جو آگ بھڑکی، وہ محض بارود اور دھماکوں کی کہانی نہیں تھی، بلکہ یہ اس بدلتے ہوئے زمانے کی ایک جھلک تھی جہاں جنگیں ہتھیاروں سے کم اور حکمتِ عملی، صبر اور بقا کی صلاحیت سے زیادہ لڑی جا رہی ہیں۔
جغرافیہ: ایران کی سب سے بڑی طاقت
ایران—ایک ایسا خطہ جہاں پہاڑ صرف زمین کی ساخت نہیں بلکہ مزاحمت کی علامت ہیں۔ زاگرس اور البرز کے سلسلے گویا صدیوں سے آنے والے حملہ آوروں کو یہ پیغام دیتے آئے ہیں کہ یہاں فتح صرف تلوار یا ٹیکنالوجی سے ممکن نہیں۔ یہ سرزمین اپنے اندر ایک ایسی خاموش قوت رکھتی ہے جو دشمن کو تھکا دیتی ہے، اس کی رفتار کو سست کر دیتی ہے، اور اسے وقت کے شکنجے میں جکڑ دیتی ہے۔
ایران کے پہاڑی سلسلے، وسیع صحرا اور طویل ساحلی پٹی اسے قدرتی دفاع فراہم کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، یہی جغرافیائی پیچیدگی کسی بھی زمینی یا فضائی حملے کو طویل اور مشکل بنا دیتی ہے۔
قومی اتحاد میں اضافہ
جدید جنگ کا المیہ یہ ہے کہ اس میں برتری رکھنے والا بھی بے بسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ فضاؤں میں اڑتے جدید طیارے، اربوں ڈالر کے دفاعی نظام، اور مصنوعی ذہانت سے لیس ہتھیار—یہ سب اس وقت بے معنی محسوس ہوتے ہیں جب ان کے مقابلے میں ایک ایسا دشمن کھڑا ہو جو بکھرا ہوا ہو، مگر ٹوٹا نہ ہو۔ ایران کی جنگ نے یہی سبق دیا کہ اب طاقت کا مرکز بدل چکا ہے۔ اب فتح اس کے حصے میں آتی ہے جو زیادہ دیر تک برداشت کر سکے، نہ کہ وہ جو زیادہ زور سے وار کرے۔
یہ جنگ ہمیں یوکرین کے میدانوں اور افغانستان کے پہاڑوں کی یاد بھی دلاتی ہے، جہاں بڑی طاقتیں اپنے ہی وزن تلے دبتی چلی گئیں۔ شاید یہ زمانہ ہمیں یہ سکھا رہا ہے کہ جنگ اب کسی ایک لمحے کا فیصلہ نہیں، بلکہ ایک طویل کہانی ہے جس میں ہر باب پچھلے سے زیادہ پیچیدہ ہوتا جاتا ہے۔
اور پھر ایک اور حقیقت بھی ابھر کر سامنے آئی—قومیں باہر سے نہیں ٹوٹتیں، بلکہ خطرہ انہیں جوڑ دیتا ہے۔ ایران کے اندر موجود نسلی اور ثقافتی تنوع اس جنگ میں کمزوری کے بجائے طاقت بن کر ابھرا۔ یہ وہی اصول ہے جو تاریخ کے اوراق میں بارہا دہرایا گیا ہے کہ جب خطرہ دروازے پر دستک دیتا ہے تو اندر کی تقسیمیں مٹ جاتی ہیں اور ایک نئی یکجہتی جنم لیتی ہے۔جنگ کے دوران یہ تصور غلط ثابت ہوا کہ نسلی تنوع کسی ملک کو کمزور کرتا ہے۔ بیرونی دباؤ کے نتیجے میں ایران میں قومی اتحاد مزید مضبوط ہوا، جیسا کہ یوکرین میں روسی حملے کے بعد دیکھنے میں آیا تھا۔
ڈرون اور میزائل جنگ کا نیا دور
ایران نے مہنگے ہتھیاروں کے مقابلے میں کم لاگت والے ڈرونز اور میزائلوں کا استعمال بڑھایا، جس سے جدید اور مہنگے دفاعی نظام بھی دباؤ کا شکار ہو گئے۔ یہ رجحان مستقبل کی جنگوں کا رخ متعین کر سکتا ہے۔آج کی جنگیں شاید میدانوں میں کم اور ذہنوں میں زیادہ لڑی جا رہی ہیں۔ میزائل اور ڈرون اب محض ہتھیار نہیں رہے، بلکہ ایک پیغام ہیں—یہ پیغام کہ کم وسائل رکھنے والا بھی بڑے دشمن کو مصروف رکھ سکتا ہے، اسے تھکا سکتا ہے، اور اس کی حکمتِ عملی کو ناکام بنا سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اب جنگیں مکمل نہیں ہوتیں، بلکہ رک جاتی ہیں—جیسے کسی ادھوری کہانی کا باب اچانک بند ہو جائے۔ نہ کوئی واضح فاتح، نہ کوئی مکمل شکست؛ صرف ایک وقفہ، ایک سانس، ایک انتظار کہ شاید اگلا مرحلہ کب اور کیسے شروع ہوگا۔
فیصلہ کن فتح کا فقدان
امریکہ کی برتری کے باوجود جنگ کسی واضح نتیجے تک نہ پہنچ سکی، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جدید جنگ میں ”فتح“ کا تصور بدل رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اب جنگیں مکمل نہیں ہوتیں، بلکہ رک جاتی ہیں—جیسے کسی ادھوری کہانی کا باب اچانک بند ہو جائے۔ نہ کوئی واضح فاتح، نہ کوئی مکمل شکست؛ صرف ایک وقفہ، ایک سانس، ایک انتظار کہ شاید اگلا مرحلہ کب اور کیسے شروع ہوگا۔
ایران کی اس جنگ نے دنیا کو ایک خاموش سبق دیا ہے:
اب جنگیں جیتی نہیں جاتیں، صرف برداشت کی جاتی ہیں۔
اور شاید یہی اس عہد کی سب سے بڑی سچائی ہے—کہ طاقت کا غرور وقتی ہوتا ہے، مگر صبر کی طاقت دائمی۔
مستقبل کی جنگیں کیسی ہوں گی؟
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، مستقبل میں بڑی جنگوں کے بجائے:
- محدود جھڑپیں
- پراکسی جنگیں
- سفارتی دباؤ
زیادہ نمایاں ہوں گے۔
یہی وجہ ہے کہ اب جنگیں مکمل نہیں ہوتیں، بلکہ رک جاتی ہیں—جیسے کسی ادھوری کہانی کا باب اچانک بند ہو جائے۔ نہ کوئی واضح فاتح، نہ کوئی مکمل شکست؛ صرف ایک وقفہ، ایک سانس، ایک انتظار کہ شاید اگلا مرحلہ کب اور کیسے شروع ہوگا۔
ایران کی اس جنگ نے دنیا کو ایک خاموش سبق دیا ہے:
اب جنگیں جیتی نہیں جاتیں، صرف برداشت کی جاتی ہیں۔اور شاید یہی اس عہد کی سب سے بڑی سچائی ہے—کہ طاقت کا غرور وقتی ہوتا ہے، مگر صبر کی طاقت دائمی۔ایران جنگ نے عالمی طاقتوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ اب جنگ صرف طاقت کا نہیں بلکہ حکمت، صبر اور طویل منصوبہ بندی کا کھیل بن چکی ہے۔