امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے نتیجے میں نہ صرف فوجی تنصیبات بلکہ ایران کے ثقافتی ورثے، تعلیمی اداروں، لائبریریوں اور سائنسی مراکز کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اب تک درجنوں تاریخی مقامات، یونیورسٹیاں اور لائبریریاں متاثر ہو چکی ہیں، جسے ایران اپنی قومی شناخت پر حملہ قرار دیتا ہے۔
اس جنگ میں اسکولوں پر حملے، سائنسی تحقیقاتی مراکز کی تباہی اور صدیوں پرانے تاریخی مقامات کو نقصان پہنچنا خاص طور پر تشویشناک ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ایران کی علمی و صنعتی صلاحیت کو کمزور کرنا اور ملک کو طویل مدت میں عدم استحکام کا شکار بنانا ہو سکتا ہے، تاہم ایران کا مؤقف ہے کہ اس کی تہذیب کو بمباری سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
تہران: امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر جاری حملوں کے نتیجے میں ملک کے ثقافتی ورثے، تعلیمی اداروں اور سائنسی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے، جس پر ایرانی حکام نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک کم از کم 56 تاریخی مقامات، 30 یونیورسٹیاں اور 55 لائبریریاں متاثر ہو چکی ہیں۔ ایران کے وزیر ثقافت نے ان حملوں کو “ایرانی شناخت کو مٹانے کی منظم کوشش” قرار دیا ہے۔

جنگ کے آغاز میں ایک گرلز اسکول پر حملے میں بڑی تعداد میں طالبات ہلاک ہوئیں، جبکہ بعد ازاں متعدد یونیورسٹیوں اور تحقیقاتی مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جن میں تہران کی معروف سائنسی جامعات شامل ہیں۔
اسی دوران تاریخی مقامات جیسے گلستان پیلس، تہران کا گرینڈ بازار اور اصفہان کی قدیم مساجد کو بھی نقصان پہنچا، جو ایران کی صدیوں پرانی تہذیب کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ تعلیمی اور ثقافتی مراکز کو نشانہ بنانا دراصل ملک کی علمی بنیادوں کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ حکمت عملی ایران کو طویل مدت میں کمزور ریاست بنانے کی کوشش ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب عالمی ادارہ UNESCO نے بھی ایران میں تاریخی مقامات کو پہنچنے والے نقصان کی تصدیق کی ہے، تاہم ایران نے عالمی برادری کی خاموشی پر تنقید کی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے حملے ماضی میں عراق اور غزہ میں بھی دیکھنے میں آئے، جہاں ثقافتی ورثے کو شدید نقصان پہنچا تھا۔