Home خبریں او آئی سی کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل کا یونیورسٹی آف لاہور کا دورہ، اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں

او آئی سی کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل کا یونیورسٹی آف لاہور کا دورہ، اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں

پیچیدہ سائنسی اور سماجی مسائل کے موثر حل کے لیے مختلف تعلیمی شعبہ جات کے مابین قریبی تعاون ناگزیر ہے۔ شرکا نے تحقیقی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے، بین الشعبہ روابط کو فروغ دینے اور کثیرالجہتی تحقیقی پروگرامز کے آغاز پر اتفاق کیا۔

by Ilmiat

اسلامی تعاون تنظیم کی سائنسی کمیٹی (کامسٹیک) کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر اقبال چوہدری نے یونیورسٹی آف لاہور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جامعہ کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں اور بین الشعبہ جاتی تحقیق کے فروغ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ جمعہ کو کامسٹیک سے جاری پریس ریلیز کے مطابق پروفیسر ڈاکٹر اقبال چوہدری نے دورے کے دوران یونیورسٹی آف لاہور کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین اویس روف، قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن کے سربراہ قاسم علی شاہ، ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف، ڈین فیکلٹی آف سائنسز پروفیسر ڈاکٹر احمد بلال وقار، آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (او آر آئی سی) کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال اور انٹر ڈسپلنری ریسرچ سینٹر کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر عمر یونس سے ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں کے دوران جامعہ میں بین الشعبہ جاتی تحقیق کے فروغ کے امکانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ پیچیدہ سائنسی اور سماجی مسائل کے موثر حل کے لیے مختلف تعلیمی شعبہ جات کے مابین قریبی تعاون ناگزیر ہے۔ شرکا نے تحقیقی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے، بین الشعبہ روابط کو فروغ دینے اور کثیرالجہتی تحقیقی پروگرامز کے آغاز پر اتفاق کیا۔ او آئی سی کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل نے یونیورسٹی آف لاہور کی جانب سے تحقیق کے فروغ کے لیے کئے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ کامسٹیک کے پلیٹ فارم کے ذریعے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک کے ساتھ سائنسی تعاون اور بین الاقوامی شراکت داری کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔ جامعہ کی قیادت نے اعلیٰ معیار کی بین الشعبہ جاتی تحقیق کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا اور مستقبل میں مشترکہ تحقیقی اقدامات کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا تاکہ تحقیقی پیداوار اور جدت کو فروغ دیا جا سکے۔ دورے کے اختتام پر اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ موثر حکمت عملیوں اور مربوط پروگرامز کے ذریعے بین الشعبہ جاتی تحقیق کو مزید مستحکم بنایا جائے گا، جو نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر سائنسی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔

You may also like

Leave a Comment