ریاض: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی نے بین الاقوامی جامعات اور تعلیمی منصوبوں کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ حالیہ امریکی-اسرائیلی حملے کے بعد خطے میں غیر یقینی صورتحال نے غیر ملکی یونیورسٹی کیمپسز کے قیام اور تعلیمی سرگرمیوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
سعودی عرب نے جہاں تعلیمی اداروں میں معمولات زندگی برقرار رکھنے کا تاثر دیا ہے، وہیں متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر خلیجی ممالک کی بعض جامعات نے حفاظتی اقدامات کے تحت آن لائن تدریس شروع کر دی ہے۔

دوسری جانب، غیر ملکی جامعات کے سعودی عرب میں کیمپس قائم کرنے کے منصوبے تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں۔ متعدد معروف جامعات کو طلبہ کی کم دلچسپی، انتظامی رکاوٹوں اور غیر یقینی حالات کا سامنا ہے۔ کچھ اداروں نے اپنے پروگرامز منسوخ کر دیے جبکہ دیگر نے ابھی تک حتمی فیصلے نہیں کیے۔
ادھر سعودی حکومت کی جانب سے تعلیمی میدان میں ترقی کے لیے نئے اقدامات بھی جاری ہیں، جن میں آرٹس یونیورسٹی کا قیام اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کرنے کا ہدف شامل ہے۔
ماہرین کے مطابق، اگرچہ جنگی حالات نے تعلیمی منصوبوں کو متاثر کیا ہے، تاہم طویل المدتی بنیادوں پر غیر ملکی جامعات کا کردار سعودی تعلیمی نظام کے لیے اہم رہے گا۔
تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا بین الاقوامی طلبہ اور جامعات مستقبل میں سعودی عرب میں سرمایہ کاری اور داخلوں کے لیے تیار ہوں گے یا نہیں۔