Home عالمی خبریں مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے اثرات: یو اے ای میں تعلیمی سرگرمیاں متاثر، بین الاقوامی طلبہ بحران کا شکار

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے اثرات: یو اے ای میں تعلیمی سرگرمیاں متاثر، بین الاقوامی طلبہ بحران کا شکار

متحدہ عرب امارات، جو عالمی سطح پر تعلیمی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے، ایران کی ممکنہ جوابی کارروائیوں کے خدشے کے پیشِ نظر تعلیمی اداروں کو تاحکمِ ثانی بند کر کے آن لائن تعلیم کا آغاز کر چکا ہے۔

by Ilmiat

مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے تعلیمی شعبے کو بھی شدید متاثر کر دیا ہے، جہاں بین الاقوامی طلبہ اور تعلیمی ادارے غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔

متحدہ عرب امارات، جو عالمی سطح پر تعلیمی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے، ایران کی ممکنہ جوابی کارروائیوں کے خدشے کے پیشِ نظر تعلیمی اداروں کو تاحکمِ ثانی بند کر کے آن لائن تعلیم کا آغاز کر چکا ہے۔

Sucked Into War, Gulf Countries Face the Limits of U.S. Security Guarantees  - The New York Times

حالیہ ہفتوں کے دوران ایرانی حملوں کے باعث کئی بین الاقوامی طلبہ اور سیاح اپنے ممالک واپس جانے میں مشکلات کا شکار ہوئے، جبکہ متعدد طلبہ نے یو اے ای میں تعلیم حاصل کرنے کے اپنے منصوبے مؤخر یا منسوخ کر دیے ہیں۔

دوسری جانب، خلیجی ممالک میں قائم یا زیرِ غور غیر ملکی جامعات کے کیمپس بھی اس صورتحال سے متاثر ہوئے ہیں۔ کئی تعلیمی ادارے سیکیورٹی، مالی نقصان اور عملے کی حفاظت کے خدشات کے باعث اپنے منصوبوں پر نظرِ ثانی کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اس جنگ نے یہ تاثر ختم کر دیا ہے کہ خلیجی ممالک غیر ملکی تعلیمی سرگرمیوں کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہیں۔

مزید برآں، خطے میں بین الاقوامی تعلیم کے فروغ کے منصوبے بھی متاثر ہو رہے ہیں، اور طلبہ کی دلچسپی میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ بھارت سمیت مختلف ممالک کے والدین نے اپنے بچوں کو خلیجی ریاستوں میں بھیجنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جس کے باعث داخلوں میں کمی اور تعلیمی سرگرمیوں میں سست روی کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مستقبل میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے، تاہم اس بحران کے اثرات طویل مدت تک تعلیمی شعبے، سرمایہ کاری، اور عالمی تعلیمی شراکت داریوں پر مرتب ہوں گے۔

You may also like

Leave a Comment