Home مضامین پاکستان کا طبقاتی تعلیمی نظام: عدم مساوات، بدانتظامی اور بڑھتی ہوئی تعلیمی ناانصافیاں۔۔۔۔۔ارباب اقتدار سے تعلیمی مساوات اورانصاف کا سوال ؟

پاکستان کا طبقاتی تعلیمی نظام: عدم مساوات، بدانتظامی اور بڑھتی ہوئی تعلیمی ناانصافیاں۔۔۔۔۔ارباب اقتدار سے تعلیمی مساوات اورانصاف کا سوال ؟

ایک منصفانہ، یکساں اور معیاری تعلیمی نظام ہی حقیقی قومی ترقی اور سماجی ہم آہنگی کی بنیاد بن سکتا ہے۔جب تک صنعت و تعلیمی اداروں کے درمیان مؤثر اشتراک قائم نہیں ہوتا، تب تک اعلیٰ تعلیم ملکی ترقی میں اپنا حقیقی کردار ادا نہیں کر سکے گی۔

by Ilmiat

پاکستان کا موجودہ تعلیمی ڈھانچہ بڑی حد تک نوآبادیاتی دور کی پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ برطانوی دور میں تعلیم کو انتظامی ضرورت کے تحت محدود طبقے تک رکھا گیا، جس کے نتیجے میں اشرافیہ اور عوام کے لیے الگ تعلیمی راستے وجود میں آئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد اگرچہ مختلف تعلیمی کمیشن اور پالیسیاں تشکیل دی گئیں، مگر ایک مربوط اور یکساں نظام قائم نہ ہو سکا۔

تعلیمی نظام کی طبقاتی ساخت

پاکستان میں اس وقت بنیادی طور پر چار متوازی تعلیمی دھارے موجود ہیں:

  1. سرکاری اسکولوں کا نظام – کم وسائل، انفراسٹرکچر کی کمی اور معیارِ تعلیم کے مسائل۔

  2. نجی اسکولز (انگریزی میڈیم) – متوسط اور اعلیٰ طبقے کے لیے، بہتر سہولیات اور انگریزی زبان پر زور۔

  3. ایلیٹ ادارے – مہنگے کیمبرج یا بین الاقوامی نصاب، جو اشرافیہ اور اعلیٰ بیوروکریسی کے بچوں کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔

  4. مدارس کا نظام – دینی تعلیم پر مشتمل، جہاں عموماً نچلے معاشی طبقے کے طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

یہ تقسیم معاشرے میں واضح طبقاتی لکیر کھینچ دیتی ہے، جہاں ہر طبقہ اپنے مخصوص تعلیمی دائرے میں محدود رہتا ہے۔

تعلیم کو جدید ریاستی نظریات میں انسانی ترقی، سماجی انصاف اور معاشی استحکام کا بنیادی ستون تصور کیا جاتا ہے (Sen, 1999)۔ تاہم، پاکستان میں تعلیمی نظام شدید بحران کا شکار ہے، جہاں کروڑوں بچے اسکول سے باہر ہیں، اعلیٰ تعلیم میں داخلوں میں کمی واقع ہو رہی ہے، طبقاتی تقسیم بڑھ رہی ہے اور حکومتی پالیسی ترجیحات تعلیمی مساوات کے حصول میں ناکام نظر آتی ہیں۔ حالیہ رپورٹ “دی مسنگ تھرڈ آف پاکستان” کے مطابق پاکستان میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 2 کروڑ 53 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں، جو اسکول جانے والی عمر کی کل آبادی کا 36 فیصد بنتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار پاکستان کے تعلیمی نظام کی ساختی ناکامی کو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسکول سے باہر بچوں میں 74 فیصد دیہی علاقوں میں رہائش پذیر ہیں، جبکہ تقریباً 1 کروڑ 88 لاکھ بچے صرف دیہی علاقوں میں اسکول سے باہر ہیں۔ دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان تعلیمی مواقع کا فرق بڑھتا جا رہا ہے، جو ریاستی پالیسیوں میں علاقائی عدم مساوات کی عکاسی کرتا ہے۔ 5 سے 9 سال کی عمر کے بچوں میں سے 51 فیصد نے کبھی اسکول میں داخلہ نہیں لیا، جبکہ 50 فیصد سے زائد بچے تعلیم چھوڑ چکے ہیں۔ ابتدائی تعلیم میں یہ خلا مستقبل میں شرح خواندگی، انسانی سرمایہ اور سماجی نقل و حرکت پر طویل المدتی منفی اثرات مرتب کرے گا۔

صنفی عدم مساوات بھی اس بحران کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسکول سے باہر بچوں میں 53 فیصد لڑکیاں شامل ہیں اور بعض تحصیلوں میں 80 فیصد سے زائد لڑکیوں نے کبھی اسکول نہیں دیکھا۔ یہ صورتحال ثقافتی، معاشی اور پالیسی عوامل کے امتزاج کا نتیجہ ہے، جو لڑکیوں کی تعلیم کو ثانوی حیثیت دیتا ہے۔

پاکستان کا تعلیمی نظام ایک واضح طبقاتی ساخت اختیار کر چکا ہے، جہاں ایلیٹ نجی اور بین الاقوامی اسکول، درمیانے درجے کے نجی اسکول، دینی ادارے اور کمزور سرکاری ادارے موجود ہیں۔ Pierre Bourdieu کے ثقافتی سرمایہ (Cultural Capital) کے نظریے کے مطابق اعلیٰ طبقہ بہتر تعلیمی وسائل کے ذریعے اپنی سماجی برتری کو برقرار رکھتا ہے (Bourdieu, 1986)۔ نتیجتاً تعلیم مساوات کا ذریعہ بننے کے بجائے طبقاتی تفریق کو برقرار رکھنے کا آلہ بن جاتی ہے، جو سماجی و معاشی نقل و حرکت کو محدود کرتی ہے۔

محکمہ تعلیم میں بدانتظامی، سیاسی مداخلت اور مالی بدعنوانی نے تعلیمی اداروں کی کارکردگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ ادارہ جاتی نظریات کے مطابق کمزور ادارہ جاتی ڈھانچے پالیسی کے مؤثر نفاذ میں رکاوٹ بنتے ہیں (North, 1990)۔ پاکستان میں اساتذہ کی بھرتی، تربیت اور وسائل کی تقسیم میں شفافیت کی کمی نے عوامی تعلیمی اداروں کو زوال پذیر کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں طلبہ نجی شعبے کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔

تعلیمی ناانصافی کی صورتیں

(الف) وسائل کی غیر مساوی تقسیم

شہری اور دیہی علاقوں میں تعلیمی سہولیات میں نمایاں فرق موجود ہے۔ دیہی علاقوں کے اسکول بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جب کہ بڑے شہروں میں نجی ادارے جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ہیں۔

(ب) زبان کا مسئلہ

انگریزی میڈیم اداروں کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم اور ملازمتوں میں واضح برتری حاصل ہوتی ہے، جب کہ اردو یا مقامی زبانوں میں تعلیم پانے والے طلبہ پیچھے رہ جاتے ہیں۔ زبان خود ایک سماجی طاقت کا ذریعہ بن چکی ہے۔

(ج) صنفی اور علاقائی عدم مساوات

قبائلی علاقوں، اندرونِ سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں تعلیمی شرح کم ہے، خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم شدید متاثر ہے۔

(د) اعلیٰ تعلیم تک رسائی

Higher Education Commission کے قیام کے بعد جامعات کی تعداد میں اضافہ ہوا، مگر معیاری اعلیٰ تعلیم تک رسائی اب بھی معاشی حیثیت سے مشروط ہے۔ مہنگی فیسیں اور محدود اسکالرشپس نچلے طبقے کے لیے رکاوٹ بنتی ہیں۔

تعلیم کے لیے ناکافی بجٹ اور حکومتی ترجیحات

پاکستان میں تعلیمی بحران کی ایک بنیادی وجہ تعلیم کے لیے ناکافی بجٹ مختص کرنا ہے۔ پاکستان کا تعلیمی بجٹ عموماً جی ڈی پی کے 2 فیصد سے بھی کم رہتا ہے، جبکہ یونیسکو کم از کم 4 سے 6 فیصد کی سفارش کرتا ہے۔ دفاع، قرضوں کی ادائیگی اور سیاسی منصوبوں پر بھاری اخراجات کے مقابلے میں تعلیم کو کم ترجیح دی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں اسکولوں کی کمی، اساتذہ کی قلت اور تعلیمی سہولیات کی زبوں حالی پیدا ہوتی ہے۔

دانش اسکول اور سیاسی تعلیمی تعلیمی منصوبے

دانش اسکول جیسے منصوبے بظاہر قابلِ تعریف ہیں، مگر انہیں ایک سیاسی نمائشی منصوبہ قرار دیا جاتا ہے، کیونکہ یہ محدود تعداد میں طلبہ کو فائدہ پہنچاتے ہیں اور وسیع عوامی تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے میں ناکام رہتے ہیں۔ سیاسی حکومتیں اکثر نئی جامعات اور اسکولوں کا اعلان سیاسی مقبولیت کے لیے کرتی ہیں، مگر بنیادی معیار، اساتذہ کی تربیت اور نصاب پر کم توجہ دی جاتی ہے۔ اس سے تعلیمی نظام کی توسیع تو ہوتی ہے مگر معیار میں بہتری نہیں آتی۔

حالیہ برسوں میں سرکاری اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ اور نجکاری نے نیولبرل معاشی نظریات کے نفوذ کو ظاہر کیا ہے، جہاں تعلیم کو مارکیٹ میکانزم کے تحت چلایا جا رہا ہے (Harvey, 2005)۔ اس رجحان کے نتیجے میں فیسوں میں اضافہ، اساتذہ کے روزگار کا عدم تحفظ اور غریب طبقے کی تعلیمی رسائی میں کمی واقع ہوئی ہے، جو سماجی انصاف کے اصولوں سے متصادم ہے۔

اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں سرکاری یونیورسٹیوں کی فیسوں میں اضافہ انسانی سرمائے کی ترقی کے نظریے کے برعکس نتائج پیدا کر رہا ہے (Becker, 1964)۔ تعلیم کی بڑھتی ہوئی لاگت غریب اور متوسط طبقے کے لیے اعلیٰ تعلیم کو ناقابلِ رسائی بنا رہی ہے، جس سے معاشی عدم مساوات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اساتذہ کے حالیہ احتجاج تعلیمی نظام کے اندر ادارہ جاتی بحران کی علامت ہیں۔ اساتذہ کو کم تنخواہوں، ملازمت کے عدم تحفظ اور پالیسی عدم استحکام کا سامنا ہے، جو ان کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو متاثر کرتا ہے (Durkheim, 1956)۔

جنوبی ایشیائی تقابل سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش نے سرکاری تعلیم میں سرمایہ کاری اور مضبوط قانونی فریم ورک کے ذریعے تعلیمی اشاریوں میں نمایاں بہتری حاصل کی ہے، جبکہ پاکستان میں آئین کے آرٹیکل 25-A کے باوجود عملی نفاذ کمزور رہا ہے۔

پاکستان کی ترقی میں اعلیٰ تعلیمی شعبے کی ناکامی

اعلیٰ تعلیم کسی بھی ملک کی فکری، سائنسی اور معاشی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں جامعات تحقیق، جدت (Innovation) اور پالیسی سازی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، مگر پاکستان میں اعلیٰ تعلیمی شعبہ مطلوبہ قومی کردار ادا کرنے میں بڑی حد تک ناکام رہا ہے۔

1۔ تحقیق کا کمزور معیار

اگرچہ Higher Education Commission کے قیام کے بعد جامعات اور تحقیقی جرائد کی تعداد میں اضافہ ہوا، لیکن تحقیق کا بڑا حصہ محض ترقیِ ملازمت یا پروموشن کے لیے شائع ہوتا ہے۔ صنعتی، زرعی اور تکنیکی مسائل کے حل سے متعلق عملی تحقیق نہ ہونے کے برابر ہے۔

2۔ صنعت اور جامعہ کا فقدانِ ربط

جامعات اور صنعت کے درمیان مؤثر روابط موجود نہیں۔ نتیجتاً تحقیق لیبارٹری تک محدود رہتی ہے اور قومی معیشت کو براہِ راست فائدہ نہیں پہنچتا۔ ترقی یافتہ ممالک میں جامعات صنعت کے ساتھ مل کر نئی ٹیکنالوجی اور مصنوعات تیار کرتی ہیں، جبکہ پاکستان میں یہ اشتراک کمزور ہے۔

3۔ معیار کے بجائے تعداد پر زور

یونیورسٹیوں کی تعداد میں اضافہ تو ہوا، مگر معیارِ تعلیم، اساتذہ کی تربیت، اور تحقیقی سہولیات میں مطلوبہ بہتری نہ آ سکی۔ کئی جامعات بنیادی انفراسٹرکچر اور لیبارٹری سہولیات سے محروم ہیں۔

4۔ برین ڈرین کا مسئلہ

قابل اور باصلاحیت اساتذہ اور طلبہ بہتر مواقع کی تلاش میں بیرونِ ملک چلے جاتے ہیں۔ اس رجحان سے ملک کی علمی اور تحقیقی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

5۔ مالی اور انتظامی مسائل

اعلیٰ تعلیم کے لیے مختص بجٹ ناکافی ہے۔ سیاسی مداخلت، بیوروکریٹک پیچیدگیاں اور میرٹ کی کمزوری بھی نظام کو کمزور بناتی ہیں۔

6-اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں سرکاری یونیورسٹیوں کی فیسوں میں اضافہ انسانی سرمائے کی ترقی کے نظریے کے برعکس نتائج پیدا کر رہا ہے (Becker, 1964)۔ تعلیم کی بڑھتی ہوئی لاگت غریب اور متوسط طبقے کے لیے اعلیٰ تعلیم کو ناقابلِ رسائی بنا رہی ہے، جس سے معاشی عدم مساوات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اصلاح احوال، مگر کیسے

نتیجتاً، پاکستان کا تعلیمی بحران محض تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ ایک ساختی، مالی اور سیاسی مسئلہ ہے۔ طبقاتی تعلیمی نظام، ناکافی بجٹ، سیاسی نمائشی منصوبے، نجکاری کے رجحانات اور ادارہ جاتی کمزوریاں تعلیم کو سماجی انصاف کے بجائے سماجی تقسیم کا ذریعہ بنا رہی ہیں۔اس لئے ضررورت اس امر کی کی ہے تعلیم کے شعبے کا ملکی ترقی کے مطلوبہ افرادی قوت کی تیاری کے مقاصد اور چبقاتی تقسیم کے خاتمے کو مد نظر رکھتے تعلیمی شعبے کا جائزہ لیا جائے اور اصلاح احوال کے لئے اقدامات عمل میں لائے جائیں۔

ضروری ہے کہ:

  1. تعلیم کا بجٹ کم از کم 4 فیصد جی ڈی پی تک بڑھایا جائے۔

  2.  سیاسی ،نمائشی منصوبوں کے بجائے بنیادی سرکاری تعلیمی نظام کو مضبوط کیا جائے۔

  3. اساتذہ کی تربیت ،ملازمت کے تحفظاور احتساب کو یقینی بنایا جائے۔

  4. لڑکیوں اور دیہی علاقوں کے لیے ہدفی تعلیمی پالیسیاں بنائی جائیں۔

  5. تعلیمی پالیسی سازی کو سیاسی مفادات کے بجائے تحقیقی شواہد پر مبنی بنایا جائے۔

  6. زبان کی پالیسی میں توازن — ابتدائی تعلیم مادری زبان میں، جبکہ انگریزی کو مہارت کے طور پر پڑھایا جائے۔
  7. شفاف اور وسیع اسکالرشپ پروگرامز تاکہ باصلاحیت مگر نادار طلبہ آگے بڑھ سکیں۔

تعلیمی مساوات کے بغیر نہ پائیدار ترقی ممکن ہے اور نہ ہی سماجی ہم آہنگی، اس لیے تعلیم کو واقعی ریاست کی اولین ترجیح بنانا ناگزیر ہے۔ پاکستان کا تعلیمی بحران محض تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ ایک ساختی، مالی، سیاسی مسئلہ اور سماجی بحران  ہے۔ طبقاتی تعلیمی نظام، ناکافی بجٹ، سیاسی نمائشی منصوبےاور نجکاری کے رجحانات  تعلیم کو سماجی انصاف کے بجائے سماجی تقسیم کا ذریعہ بنا رہی ہیں۔ جب تک ریاست مساوی مواقع فراہم کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کرتی، تعلیمی ناانصافی معاشی اور سماجی عدم مساوات کو مزید گہرا کرتی رہے گی۔ ایک منصفانہ، یکساں اور معیاری تعلیمی نظام ہی حقیقی قومی ترقی اور سماجی ہم آہنگی کی بنیاد بن سکتا ہے۔

اس کے علاوہ اعلیٰ تعلیمی شعبے کی کمزوری نے پاکستان کی سائنسی، تکنیکی اور معاشی ترقی کی رفتار کو محدود کر دیا ہے۔ جب تک تحقیق کو قومی ضروریات سے ہم آہنگ نہیں کیا جاتا، جامعات کو خودمختاری اور وسائل فراہم نہیں کیے جاتے، اور صنعت و تعلیمی اداروں کے درمیان مؤثر اشتراک قائم نہیں ہوتا، تب تک اعلیٰ تعلیم ملکی ترقی میں اپنا حقیقی کردار ادا نہیں کر سکے گی۔

You may also like

Leave a Comment