5
پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج نے ہنگری کے سفارتخانے،اسلام آباد کے اشتراک سے معروف اسکالر، سیاح اور ماہرِ آثارِ قدیمہ سر مارک اوریل اسٹائن (1862–1943) کی علمی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک سمپوزیم بعنوان ’سر مارک اوریل اسٹائن کی علمی خدمات‘ کا انعقاد کیا۔تقریب کے مہمانِ خصوصی ہنگری کے سفیر جناب ڈاکٹر زولتان وارگا تھے جبکہ وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی، وائس چانسلریونیورسٹی آف میانوالی پروفیسر ڈاکٹر ندیم شیخ، پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود، ڈین فیکلٹی آف اورینٹل لرننگ پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران، پرنسپل اورینٹل کالج ڈاکٹر نبیلہ رحمان، رجسٹرار ڈاکٹر احمد اسلام، فیکلٹی ممبران اور طلباؤ طالبات نے بڑی تعدادمیں شرکت کی۔
اپنے خطاب میں جناب ڈاکٹر زولتان وارگا نے اورینٹل کالج کی تاریخی خوبصورتی، علمی ورثے اور ثقافتی اہمیت کو سراہتے ہوئے اسے پاکستان اور ہنگری کے درمیان مشترکہ علمی اقدار کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے سر مارک اوریل اسٹائن جیسے عظیم اسکالرز کی علمی روایات کے تحفظ اور فروغ پر پنجاب یونیورسٹی کی کاوشوں کو بھی سراہا۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے اپنے خطاب میں سر مارک اوریل اسٹائن کی وسطی ایشیا کی آثارِ قدیمہ، قدیم تہذیبوں اور اورینٹل سٹڈیز میں گراں قدر خدمات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے معاصر تحقیق میں اسٹائن کی خدمات کی اہمیت اور مشرق و مغرب کے درمیان علمی روابط کے فروغ میں ان کے کردار کو اجاگر کیا۔ڈین فیکلٹی آف اورینٹل لرننگ پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے ہنگری کے سفارتخانے، یونیورسٹی انتظامیہ، اسکالرز اور شرکاء کا تقریب کے کامیاب انعقاد پر شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ سر مارک اوریل اسٹائن کو 1887 میں 25 سال کی عمرمیں یونیورسٹی کا رجسٹرار مقرر کیا گیا اور 26 سال کی عمرمیں انہیں اورینٹل کالج کا پرنسپل بنایا گیا۔ وہ 1888 سے 1899 تک اس کالج کے پرنسپل رہے، جو ایک منفرد اعزاز ہے۔ پرنسپل اورینٹل کالج ڈاکٹر نبیلہ رحمان نے کالج کے شاندار علمی ورثے اور تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ مشرقی علوم کا گہوارہ ہے اور سر مارک اوریل اسٹائن جیسے عظیم اسکالر کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے موزوں ترین مقام ہے۔تقریب میں ڈاکٹر زولتان وارگا اور پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے فیکلٹی ممبران کے ہمراہ اورینٹل کالج کے ’آرکائیوز سیکشن‘ کا افتتاح کیا، جو نادر علمی مواد کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ڈاکٹر نبیلہ رحمان نے سر مارک اوریل اسٹائن کی تحریر کردہ اصل دستاویز کی نقل بھی پیش کی، جو ادارے کی علمی وراثت کے تحفظ کے عزم کی عکاس ہے۔سمپوزیم میں ممتاز ماہرینِ تعلیم نے تحقیقی مقالے پیش کیے اور سر مارک اوریل اسٹائن کی تحقیق، مہمات اور آثارِ قدیمہ و اورینٹل اسٹڈیز پر ان کے دیرپا اثرات کے مختلف پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو کی۔تقریب کے اختتام پراورینٹل کالج کے احاطے میں شجرکاری کی تقریب بھی منعقد کی گئی، جو سر مارک اوریل اسٹائن کی دیرپا علمی میراث اور جامعہ پنجاب کے ماحولیاتی تحفظ اور علمی ترقی کے عزم کی علامت ہے۔
اپنے خطاب میں جناب ڈاکٹر زولتان وارگا نے اورینٹل کالج کی تاریخی خوبصورتی، علمی ورثے اور ثقافتی اہمیت کو سراہتے ہوئے اسے پاکستان اور ہنگری کے درمیان مشترکہ علمی اقدار کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے سر مارک اوریل اسٹائن جیسے عظیم اسکالرز کی علمی روایات کے تحفظ اور فروغ پر پنجاب یونیورسٹی کی کاوشوں کو بھی سراہا۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے اپنے خطاب میں سر مارک اوریل اسٹائن کی وسطی ایشیا کی آثارِ قدیمہ، قدیم تہذیبوں اور اورینٹل سٹڈیز میں گراں قدر خدمات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے معاصر تحقیق میں اسٹائن کی خدمات کی اہمیت اور مشرق و مغرب کے درمیان علمی روابط کے فروغ میں ان کے کردار کو اجاگر کیا۔ڈین فیکلٹی آف اورینٹل لرننگ پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے ہنگری کے سفارتخانے، یونیورسٹی انتظامیہ، اسکالرز اور شرکاء کا تقریب کے کامیاب انعقاد پر شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ سر مارک اوریل اسٹائن کو 1887 میں 25 سال کی عمرمیں یونیورسٹی کا رجسٹرار مقرر کیا گیا اور 26 سال کی عمرمیں انہیں اورینٹل کالج کا پرنسپل بنایا گیا۔ وہ 1888 سے 1899 تک اس کالج کے پرنسپل رہے، جو ایک منفرد اعزاز ہے۔ پرنسپل اورینٹل کالج ڈاکٹر نبیلہ رحمان نے کالج کے شاندار علمی ورثے اور تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ مشرقی علوم کا گہوارہ ہے اور سر مارک اوریل اسٹائن جیسے عظیم اسکالر کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے موزوں ترین مقام ہے۔تقریب میں ڈاکٹر زولتان وارگا اور پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے فیکلٹی ممبران کے ہمراہ اورینٹل کالج کے ’آرکائیوز سیکشن‘ کا افتتاح کیا، جو نادر علمی مواد کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ڈاکٹر نبیلہ رحمان نے سر مارک اوریل اسٹائن کی تحریر کردہ اصل دستاویز کی نقل بھی پیش کی، جو ادارے کی علمی وراثت کے تحفظ کے عزم کی عکاس ہے۔سمپوزیم میں ممتاز ماہرینِ تعلیم نے تحقیقی مقالے پیش کیے اور سر مارک اوریل اسٹائن کی تحقیق، مہمات اور آثارِ قدیمہ و اورینٹل اسٹڈیز پر ان کے دیرپا اثرات کے مختلف پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو کی۔تقریب کے اختتام پراورینٹل کالج کے احاطے میں شجرکاری کی تقریب بھی منعقد کی گئی، جو سر مارک اوریل اسٹائن کی دیرپا علمی میراث اور جامعہ پنجاب کے ماحولیاتی تحفظ اور علمی ترقی کے عزم کی علامت ہے۔