پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی کے شعبہ ہارٹیکلچر کی لینڈ سکیپ سٹوڈیو لیب کے زیراہتمام دو روزہ فلورل آرٹ ورکشاپ بعنوان ’’فرام سٹیم ٹو سٹائل‘‘ کا کامیاب انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ کے مہمان خصوصی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمرالزمان تھے جبکہ ڈینز، ڈائریکٹرز، فیکلٹی ممبران اور طلبہ کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔ اس ورکشاپ کا بنیادی مقصد طلبہ میں تخلیقی سوچ، کاروباری صلاحیت اور جمالیاتی ذوق کو فروغ دینا تھا تاکہ وہ روایتی اور جدید فلورل آرٹ تکنیکوں سے عملی طور پر استفادہ کر سکیں۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمرالزمان نے منتظمین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ورکشاپ تخلیقی فنون اور کاروباری شعور کے امتزاج کی قابل تحسین کوشش ہے جو شرکا کو فلورل ڈیزائن کے فنی و تجارتی دونوں پہلوئوں کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’’ایکیبانہ‘‘ جیسے فن کو جدید پھولوں کی آرائش کے ساتھ جوڑنے سے جدت، خوبصورتی اور پائیدار کاروباری مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمرالزمان نے فلوریکلچر کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پھول نہ صرف ہمارے ماحول کو خوبصورت بناتے ہیں بلکہ ذہنی سکون اور مثبت توانائی کا ذریعہ بھی ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ روزگار کے روایتی مواقع تک محدود رہنے کے بجائے کاروباری سوچ اپنائیں، کیونکہ کاروبار کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ اس نوعیت کی عملی تربیت طلبہ کو حقیقی دنیا کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ورکشاپ میں آسٹریلیا سے بین الاقوامی ماہر فلورل ڈیزائن ڈاکٹر عاطف ریاض قریشی نے کلیدی خطاب کیا جنہوں نے ’’نیٹو کٹ فلاورز‘‘ کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔

اس کے علاوہ فلورل آرٹ سوسائٹی آف پاکستان (میگنولیا چیپٹر) کے ماہرین نے طلبہ اور شرکا کو جدید پھولوں کی آرائش اور ترتیب کے حوالے سے بھی عملی تربیتی فراہم کی۔ ڈین، فیکلٹی آف ایگریکلچر پروفیسر ڈاکٹر طارق مختار نے منتظمین خصوصاً چیف آرگنائزر ڈاکٹر عثمان شوکت قریشی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ورکشاپ فن، سائنس اور کاروبار کے مابین تعلق کو مضبوط کرتی ہے۔ اس طرح کی سرگرمیاں طلبہ کو عملی تربیت، تخلیقی رہنمائی اور خود روزگار کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔دو روزہ ورکشاپ کا اختتام اسناد اور شیلڈز کی تقسیم کے ساتھ ہوا جہاں شرکا کی تخلیقی کارکردگی کو سراہا گیا۔ ورکشاپ کو طلبہ، ماہرین اور اساتذہ کی جانب سے بے حد سراہا گیا۔