جامعہ اوکاڑہ کی انتظامیہ نے فزکس ڈیپارٹمنٹ کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شہلا ہنی کی جانب سے لگائے گئے مبینہ ہراسانی کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہےجامعہ کے ترجمان کے مطابق ڈاکٹر شہلا ہنی کو تقریباً چھ سال قبل ٹینور ٹریک سسٹم (TTS) کے تحت تعینات کیا گیا تھا اور بعد ازاں انہوں نے اگلے گریڈ میں ترقی کا دعویٰ کیا۔ تاہم، جب ان کے کیس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ وہ ترقی کے لیے درکار لازمی سروس مدت پوری نہیں کر سکیں۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ ریکارڈ کے مطابق متعلقہ استاد 106 دن غیر قانونی طور پر ملک سے باہر رہیں جبکہ جون 2025 سے وہ تاحال بیرونِ ملک مقیم ہیں، جس کے باعث ان کی سروس مدت متاثر ہوئی۔
جامعہ انتظامیہ کے مطابق جب قواعد و ضوابط کے مطابق ان کی ترقی کا کیس مسترد کر دیا گیا تو اس کے بعد انہوں نے مبینہ طور پر انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے اور بلیک میل کرنے کے لیے جھوٹی شکایات درج کروانا شروع کر دیں۔ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جامعہ اوکاڑہ شفافیت، میرٹ اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور ہراسانی کے حقیقی واقعات پر زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کرتی ہے، تاہم کسی بھی قسم کے جھوٹے یا بے جا الزامات کی سختی سے تردید اور مزاحمت کی جائے گی۔