تحریر: مائیکل لِن سن
اسمارٹ کلاس روم مینجمنٹ: آپ کے طلبہ آپ کو کیوں پسند نہیں کرتے
تمام طلبہ یہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے استاد کو پسند کریں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر ایسا نہیں کرتے۔اس کی بنیادی وجہ یہ نہیں کہ وہ استاد کو بورنگ سمجھتے ہیں۔ نہ یہ وجہ ہے کہ وہ انہیں حد سے زیادہ سخت یا خشک مزاج لگتے ہیں۔ اور نہ ہی اس لیے کہ استاد انہیں عجیب، حد سے زیادہ ذہین، یا غیر مقبول محسوس ہوتے ہیں۔اس سے پہلے کہ میں بتاؤں کہ اتنے زیادہ اساتذہ ناپسند کیوں کیے جاتے ہیں، یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ آج کے دور میں طلبہ کا آپ کو پسند کرنا واقعی نہایت اہم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے آپ کو ان کے رویّے پر غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل ہوتا ہے۔
جب طلبہ آپ کو پسند کرتے ہیں تو وہ آپ کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔
یہ قانونِ باہمیّت (Law of Reciprocity) کا عملی اظہار ہے، اور یہ فطری طور پر ہوتا ہے۔ پسند کیے جانے کے علاوہ آپ کو کچھ اور کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اور جتنا زیادہ طلبہ آپ کو پسند کرتے ہیں، اتنا ہی آپ کا اثر و رسوخ مضبوط ہوتا جاتا ہے۔میں اس موضوع پر برسوں سے لکھتا آ رہا ہوں۔ درحقیقت، میری پہلی کتاب Dream Class (2009) میں اس موضوع پر ایک مکمل باب شامل ہے۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ اتنے زیادہ اساتذہ ناپسند کیوں کیے جاتے ہیں؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ رابطے بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

یعنی وہ طلبہ کے پاس جا کر ذاتی سطح پر ان سے جڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ ایک ایک طالب علم کو فرداً فرداً جاننے کی سعی کرتے ہیں، ان کی پسند و ناپسند معلوم کرتے ہیں، اور زبردستی گفتگو میں شامل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ اس غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں کہ اثر و رسوخ حاصل کرنا طلبہ کے ساتھ ذاتی تعلقات بنانے کا نتیجہ ہے۔
حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔
انسانی فطرت اس طرح کام نہیں کرتی۔ اصل بات یہ ہے کہ اگر آپ طلبہ کے پاس اس نیت سے جائیں کہ آپ ان سے اپنا تعلق اور اثر بڑھائیں، تو نتیجہ اس کے بالکل برعکس نکلتا ہے۔ طلبہ خود کو غیر آرام دہ، جھنجھلایا ہوا اور دباؤ میں محسوس کرتے ہیں۔یقیناً وہ زبردستی مسکرا سکتے ہیں۔ وہ ظاہری طور پر مثبت ردِعمل بھی دے سکتے ہیں۔ مگر اندر سے وہ بے چینی محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ صورتِ حال ہمیشہ سے رہی ہے، تاہم کووِڈ کے بعد اور اسمارٹ فون کی لت کے باعث یہ مسئلہ مزید گہرا ہو گیا ہے۔
تو پھر درست طریقہ کیا ہے؟
آپ طلبہ کے پاس جائے بغیر ان میں ایسی پسندیدگی کیسے پیدا کریں جو ان کے رویّے پر اثر انداز ہو؟
اس کا جواب یہ ہے: انہیں آپ کے پاس آنے دیں۔
اور وہ ضرور آئیں گے، اگر آپ صرف ایک کام کریں:
ہمیشہ خوش اخلاق اور خوش مزاج رہیں۔
بس یہی کافی ہے۔ روزانہ ایک جیسے پُرسکون اور خوش اخلاق استاد رہیں، اور طلبہ خود آپ کی طرف متوجہ ہوں گے۔وہ آپ کے قریب رہنا چاہیں گے، آپ سے (ذاتی) سوالات کریں گے، آپ کو لنچ کی دعوت دیں گے، آپ کے ساتھ مذاق کریں گے، آپ سے فِسٹ بمپس لیں گے، اور کلاس میں آپ کی کہی ہوئی مزاحیہ باتوں پر گفتگو کریں گے۔آپ ان کے لیے ایک ایسی شخصیت بن جائیں گے جس کے گرد وہ جمع ہونا چاہیں گے—جیسے ریڈ کارپٹ کا کوئی ستارہ۔ یہ طریقہ بظاہر سادہ ہے، مگر بے حد طاقتور ہے، اور یہی واحد طریقہ ہے جس کے ذریعے میں نے ہمیشہ تعلقات قائم کیے ہیں۔
اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے:
“اگر کچھ طلبہ میرے پاس نہ آئیں تو کیا ہوگا؟”
تب بھی یہ طریقہ مؤثر رہتا ہے۔ وہ آپ کو پسند کریں گے اور آپ کی مستقل خوش اخلاقی کی وجہ سے آپ کے اثر میں رہیں گے۔

اس قسم کی پسندیدگی اس صورت میں بھی کارگر ہوتی ہے جب آپ طلبہ کو ذاتی طور پر زیادہ نہ جانتے ہوں۔یہ موضوع بہت وسیع ہے اور ممکن ہے آپ کے ذہن میں سوالات ہوں۔ میں آپ کو ترغیب دیتا ہوں کہ SCM آرکائیو میں موجود Rapport & Influence کے زمرے کا مطالعہ کریں، جہاں اس تصور کو مختلف زاویوں سے بیان کرنے والے درجنوں مضامین موجود ہیں۔
ہماری زیادہ تر کتابیں بھی اس موضوع کی تفصیلات پر روشنی ڈالتی ہیں۔
بس یہ بات یاد رکھیں:
اگر آپ مستقل طور پر خوش اخلاق رہیں—اور اس سے زیادہ کچھ نہ کریں—تو آپ غیر معمولی حد تک اثر و رسوخ اور حقیقی تعلق قائم کر سکتے ہیں۔