
تحریر قدرت الللہ
پنجاب میں کرسمس 2025 پاکستان کی شہری اور سیاسی زندگی میں ایک نمایاں اور اہم لمحے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس برس یہ تہوار محض ایک مذہبی موقع تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک سوچے سمجھے ریاستی مؤقف اور پالیسی کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ بارہ روزہ سرکاری اور صوبہ گیر تقریبات کے ذریعے حکومتِ پنجاب نے ایک واضح پیغام دیا ہے کہ مذہبی اقلیتوں کا اعتراف اور تحفظ محض علامتی اقدامات نہیں بلکہ آئینی ذمہ داریاں ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں کرسمس کو جامع طرزِ حکمرانی (Inclusive Governance) کے اظہار کے طور پر پیش کیا گیا، جو پاکستان کے بانی نظریات سے جڑا ہوا اور عصرِ حاضر کی سماجی حقیقتوں سے ہم آہنگ ہے۔
اس حکمتِ عملی کی تاریخی معنویت کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ پاکستان خود برصغیر میں ایک مسلم اقلیت کی قیادت میں چلنے والی تحریک کے نتیجے میں وجود میں آیا، جس کی بنیاد سیاسی مساوات، تحفظ اور وقار کے مطالبے پر تھی۔ قائداعظم محمد علی جناح کی 11 اگست 1947 کی تقریر اس بانی وژن کی سب سے واضح ترجمان ہے۔ اس خطاب میں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ مذہب کسی شہری کے ریاست سے تعلق کا تعین نہیں کرے گا اور تمام پاکستانی بلا امتیازِ عقیدہ مساوی حقوق کے حامل ہوں گے۔ یہ محض ایک نظری تصور نہیں بلکہ ایک آئینی وعدہ تھا جس نے نئی ریاست کی اخلاقی بنیاد رکھی۔ چنانچہ 2025 میں کرسمس کی تقریبات کو یومِ قائداعظم کے ساتھ منسلک کرنا گہری علامتی اہمیت رکھتا ہے، جو حکومتِ پنجاب کو مساوی شہریت کے قومی وعدے سے جوڑتا ہے۔

پاکستان کی تاریخ کے بیشتر حصے میں اقلیتی مذاہب کے تہوار عموماً اپنی برادریوں کے دائرے تک محدود رہے ہیں اور انہیں نمایاں سرکاری یا عوامی سطح پر کم ہی جگہ ملی۔ کرسمس، اگرچہ مسیحی شہریوں کی جانب سے عقیدت اور ثقافتی گرمجوشی سے منایا جاتا رہا، لیکن شاذ و نادر ہی اسے سرکاری یا عوامی کیلنڈر میں نمایاں مقام حاصل ہوا۔ اس سال آنے والی تبدیلی اسی لیے قابلِ توجہ ہے۔ کرسمس کی تقریبات پنجاب بھر میں شہری مقامات، تاریخی ورثے کی جگہوں اور عوامی مقامات تک پھیل گئیں۔ سڑکیں روشن کی گئیں، سرکاری تقریبات منعقد ہوئیں اور ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دیا گیا، جس سے اقلیتوں کی عوامی زندگی میں موجودگی کو ایک معمول کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ یہ محض ظاہری نمائش نہیں بلکہ ایک سیاسی فیصلہ ہے، جس کا مقصد اقلیتوں کو سماجی دھارے کا لازمی حصہ تسلیم کرنا اور قومی یکجہتی کے لیے احساسِ وابستگی کو مضبوط بنانا ہے۔
بارہ روزہ پروگرام کے دوران منعقد ہونے والی کرسمس بین المذاہب سائیکلنگ ہیریٹیج رائیڈ ایک علامتی مگر بامعنی سرگرمی ثابت ہوئی۔ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کا مشترکہ شہری راستوں پر اکٹھے سائیکل چلانا بقائے باہمی کی ایک سادہ مگر طاقتور تصویر پیش کرتا ہے۔ اگرچہ صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑا کی شرکت نے ادارہ جاتی حمایت کی عکاسی کی، تاہم اصل اہمیت خود اس عمل میں تھی—بین المذاہب ہم آہنگی کو رسمی بیانات کے بجائے مشترکہ شہری سرگرمی کے ذریعے ظاہر کرنا۔ یہ اس حقیقت کی یاد دہانی تھی کہ سماجی اتحاد اکثر روزمرہ کے مشترکہ تجربات سے پروان چڑھتا ہے۔
ریاست کی جانب سے سیکیورٹی پر دیا جانے والا زور بھی نہایت اہم ہے۔ قائداعظم کا مساوات کا وعدہ تحفظ کی یقین دہانی سے جدا نہیں تھا، کیونکہ سلامتی کے بغیر حقوق کمزور ہو جاتے ہیں۔ حکومتِ پنجاب کے کرسمس اور یومِ قائداعظم کے لیے کیے گئے سیکیورٹی انتظامات اسی شعور کی عکاسی کرتے ہیں۔ پولیس نے صوبہ بھر میں ایک جامع سیکیورٹی پلان نافذ کیا، جس کے تحت 2,900 سے زائد گرجا گھروں کی حفاظت کے لیے 30 ہزار سے زیادہ اہلکار تعینات کیے گئے۔ صرف لاہور میں 600 سے زائد مسیحی عبادت گاہوں کی حفاظت کے لیے 5 ہزار سے زائد پولیس اہلکار مامور کیے گئے، جبکہ یومِ قائداعظم کی تقریبات کے لیے اضافی نفری بھی تعینات کی گئی۔ یہ اقدامات ایک مضبوط پیغام دیتے ہیں کہ اقلیتی تقریبات کو نہ صرف تسلیم کیا جا رہا ہے بلکہ ریاستی سطح پر فعال طور پر محفوظ بھی بنایا جا رہا ہے۔
ان انتظامات کا حجم اور ہم آہنگی کسی عارضی ردِعمل کے بجائے ادارہ جاتی عزم کی نشاندہی کرتی ہے۔ سیکیورٹی منصوبہ بندی انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئی اور چرچ انتظامیہ کے ساتھ قریبی تعاون سے نافذ کی گئی، جس میں چوکسی اور احترام کے درمیان توازن رکھا گیا۔ روک تھام کے پہلو کے ساتھ ساتھ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نمایاں موجودگی مسیحی برادری کے لیے اطمینان کا باعث بنی کہ ان کی عبادات اور تقریبات کو قومی دائرے میں مساوی اہمیت دی جا رہی ہے۔
انسانی حقوق و اقلیتی امور کا محکمہ (HR&MAD) بھی شمولیتی حکمرانی کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔ اس محکمے کا دائرۂ کار چار بنیادی شعبوں پر محیط ہے: انسانی حقوق کا فروغ اور تحفظ، اقلیتی امور کی بہتری، آئینی و بین الاقوامی معاہداتی ذمہ داریوں کا نفاذ، اور بین المذاہب ہم آہنگی کا استحکام۔ یہ پالیسی پر مبنی طرزِ عمل اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ کرسمس اور اسی نوعیت کے دیگر مواقع محض وقتی اقدامات نہ ہوں بلکہ اقلیتوں کی فلاح، قانونی تحفظ اور سماجی انضمام کے لیے ایک مسلسل کوشش کا حصہ ہوں۔ اس تناظر میں شمولیت کو وقتی مظاہرے کے بجائے ایک ادارہ جاتی عمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت نے اس بیانیے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اقلیتوں کی شمولیت اور بین المذاہب روابط کو ترجیح دے کر ان کی حکومت نے تنوع کو ایک ایسی قوت کے طور پر دیکھا ہے جسے پالیسی کے ذریعے سنبھالا جانا چاہیے، نہ کہ ایک ایسے اختلاف کے طور پر جسے چھپایا جائے۔ جنوبی ایشیا میں، جہاں مذہبی شناخت کو اکثر تقسیم کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، یہ مؤقف سیاسی بلوغت اور اس شعور کی عکاسی کرتا ہے کہ دیرپا استحکام انصاف، اعتراف اور مساوی شہریت پر قائم ہوتا ہے—وہ اصول جو قائداعظم کے وژن سے ہم آہنگ ہیں۔
یوں پنجاب میں کرسمس 2025 تقریبات، سیکیورٹی اور آئینی اقدار کے امتزاج کی علامت بن کر سامنے آیا ہے۔ یہ اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے کہ اقلیتی مذاہب کو سرکاری سطح پر تسلیم کرنا قومی یکجہتی کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط کرتا ہے۔ مسیحی شہریوں نے بھی دیگر پاکستانیوں کی طرح ملکی دفاع، تعلیم، صحت اور سماجی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ریاستی سطح پر ان کے مذہب کا اعتراف کوئی احسان نہیں بلکہ جمہوریہ میں مشترکہ ملکیت کے اعتراف کے مترادف ہے۔
اس لمحے کی دیرپا اہمیت تسلسل سے مشروط ہے۔ اگر اس سال دکھایا گیا عزم برقرار رکھا گیا تو پنجاب جنوبی ایشیا کے لیے جامع طرزِ حکمرانی کا ایک قابلِ اعتبار نمونہ پیش کر سکتا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے وہ کوئی نیا راستہ متعین نہیں کرے گا بلکہ اس پرانے وعدے کی تجدید کرے گا جو قوم کی پیدائش کے وقت کیا گیا تھا: کہ پاکستان ہر اس شہری کا ہے جو اسے اپنا گھر کہتا ہے۔