
دنیا کے مؤثر ریاستی نظاموں میں بیوروکریسی انتظامی استحکام، پالیسی کے تسلسل اور عوامی خدمت کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ ایک اچھا اور قابل بیوروکریٹ نہ صرف حکومتی پالیسیوں کے نفاذ کو یقینی بناتا ہے بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد اور شفافیت کا رشتہ بھی مضبوط کرتا ہے۔ کسی ملک کی ترقی بڑے پیمانے پر اس کے انتظامی ڈھانچے اور سرکاری افسران کی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور وژن پر منحصر ہوتی ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس کی وجہ سے بیوروکریٹ کی شخصیت میں چند بنیادی خصوصیات کا پایا جانا لازم ہے۔
ایک مؤثر بیوروکریٹ کی اولین خوبی دیانت داری اور شفافیت ہے۔ ریاستی عہدہ ایک امانت ہے، جس کے لیے ایمانداری، غیر جانبداری اور کرپشن سے پاک فیصلہ سازی بنیادی شرط ہے۔ قوانین پر عبور، آئینی تقاضوں کی مکمل سمجھ، اور پالیسی سازی کے مختلف مراحل سے آگاہی ایک بیوروکریٹ کو انتظامی فیصلوں میں مضبوط بنا دیتی ہے۔ مزید برآں، تجزیاتی صلاحیت، بحران کے دوران بروقت فیصلہ سازی، مؤثر ابلاغ، اور وسائل کے درست استعمال کا ہنر اسے انتظامی میدان میں ایک مثالی کردار بناتا ہے۔ عوامی خدمت کا جذبہ، وقت کی پابندی، ٹیم ورک اور جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگی بھی اس کی کارکردگی کو مضبوط کرتی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ایک اچھا بیوروکریٹ ریاست، نظام اور عوام کے درمیان انصاف، اعتماد اور نظم کا پل ہوتا ہے۔
بیوروکریٹس بطور سربراہِ تعلیمی ادارہ: پاکستان کا ابھرتا ہوا رجحان
پاکستان میں گزشتہ چند برسوں سے یہ رجحان نمایاں ہوا ہے کہ تعلیمی اداروں—خصوصاً امتحانی بورڈز اور یونیورسٹیوں—کی سربراہی بیوروکریٹس کے ہاتھ میں دے دی جائے۔ پنجاب کے تقریباً تمام تعلیمی بورڈز کے سربراہ کمشنر ہیں، جبکہ سندھ میں بیوروکریٹس کو وائس چانسلر تعینات کرنے کے لیے قانون میں باقاعدہ ترمیم کی گئی ہے۔ اس فیصلے نے متعدد سوالات کو جنم دیا ہے: کیا یہ انتظامی لحاظ سے فائدہ مند قدم ہے؟ یا اس سے اساتذہ کی حق تلفی اور اداروں کی علمی خودمختاری متاثر ہو رہی ہے؟
بیوروکریٹس کی تقرری کے حق میں دلائل
اس اقدام کے حامیوں کے مطابق بیوروکریٹس میں وہ انتظامی خصوصیات موجود ہیں جو بڑے اداروں کو بہتر طور پر چلا سکتی ہیں۔ پاکستان کے امتحانی بورڈز طویل عرصے سے بدانتظامی، پیپر لیک، تاخیر، اور کرپشن جیسے مسائل کا شکار رہے ہیں۔ حکومت کا خیال ہے کہ ایک تربیت یافتہ بیوروکریٹ—جو نظم و ضبط، فیصلہ سازی اور وسائل کے انتظام کا ماہر ہو—ان اداروں میں اصلاحات اور شفافیت لا سکتا ہے۔
اسی طرح یونیورسٹیوں میں بعض اوقات فنڈز کے غلط استعمال، سیاسی مداخلت اور انتظامی کمزوری جیسے مسائل موجود ہوتے ہیں، جنہیں بیوروکریٹک نظم و ضبط سے بہتر کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے بعض حلقوں کا ماننا ہے کہ بیوروکریٹس کا کردار تعلیمی انتظامی ڈھانچے میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔
اساتذہ کا نقطۂ نظر اور حق تلفی کا مسئلہ
دوسری جانب اساتذہ اور علمی حلقوں کا مؤقف ہے کہ تعلیمی اداروں کی سربراہی بیوروکریٹس کے حوالے کرنا واضح طور پر اساتذہ کی حق تلفی ہے۔ ان کے مطابق یونیورسٹیاں اور بورڈز محض انتظامی دفاتر نہیں ہوتے بلکہ علمی، تحقیقی اور فکری ادارے ہوتے ہیں جن کی قیادت وہ افراد ہی کر سکتے ہیں جنہیں تدریس، تحقیق، نصاب فہمی اور تعلیمی مسائل پر گہری بصیرت حاصل ہو۔ ایک بیوروکریٹ انتظامی طور پر مضبوط ضرور ہوتا ہے، مگر اس کے پاس وہ علمی تجربہ اور تحقیقی پس منظر نہیں ہوتا جو ایک وائس چانسلر یا چیئرمین کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔
اساتذہ کا کہنا ہے کہ ایسے فیصلوں سے نہ صرف علمی آزادی متاثر ہوتی ہے بلکہ اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی کے راستے بھی رک جاتے ہیں، کیونکہ جب اعلیٰ عہدے ہمیشہ غیر تدریسی پس منظر رکھنے والے افراد کے ہاتھ میں ہوں گے تو اساتذہ کے لیے ترقی کا فطری راستہ مسدود ہو جائے گا۔
بین الاقوامی تناظر: عالمی تجربات اور ان کی روشنی
ترقی یافتہ ممالک میں یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کی سربراہی عموماً ممتاز اسکالرز، محققین اور پروفیسران کے پاس ہوتی ہے۔ بیوروکریسی ان اداروں کی انتظامی معاونت ضرور کرتی ہے، لیکن ان کی علمی قیادت پر قبضہ نہیں کرتی۔ چین اور سنگاپور جیسے ملکوں کی ترقی میں بیوروکریسی کا اہم کردار ہے، مگر وہاں بھی تعلیمی اداروں کے سربراہ عام طور پر علمی پس منظر رکھنے والے افراد ہوتے ہیں، جبکہ بیوروکریسی پالیسی کے نفاذ اور طویل المدتی منصوبہ بندی پر توجہ دیتی ہے۔ پاکستان اس کے برعکس تعلیم کو بنیادی طور پر انتظامی مسئلہ سمجھ کر چلانے کی غلطی کرتا رہا ہے۔
متوازن نقطۂ نظر
اصل مسئلہ “بیوروکریٹ یا استاد” کا انتخاب نہیں، بلکہ صحیح جگہ پر صحیح شخص کی تعیناتی ہے۔ بہتر حل یہ ہے کہ:
- علمی اداروں کی قیادت ہمیشہ تعلیمی پس منظر رکھنے والے اہل ماہرین کے پاس ہو؛
- انتظامی ذمہ داریوں کے لیے بیوروکریٹک مہارت رکھنے والے افسران تعینات کیے جائیں؛
- بیوروکریٹس کو صرف بحران کے وقت یا اصلاحاتی مدت کے لیے لایا جائے، مستقل سربراہ نہ بنایا جائے؛
- تقرری کا طریقہ مکمل طور پر شفاف اور سیاسی اثر سے پاک ہو۔