گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں تین روزہ پاکستان انگلش کانفرنس کا آغاز ہوگیا۔ کانفرنس میں ملک کی 50 سے زائد جامعات سے 250 سے زیادہ تحقیقی مقالہ نگار شریک ہیں۔افتتاحی سیشن سے ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف انگلش لینگویج اینڈ لیٹریچر، ڈاکٹر سجاد علی، وائس چانسلر یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر پروفیسر ناصر جمال خٹک خان، نامور مصنف،ادکار اور ہدایتکار پروفیسر نوید شہزاد اور ڈاکٹر عبداللہ نے خطاب کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سجاد علی خان نے کہا کہ کانفرنس علمی تبادلہ خیال اور فکری روابط کے فروغ کے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہے۔
وائس چانسلر یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر پروفیسر ناصر جمال خٹک نے پاکستانی تناظر میں تھیوری اور پوسٹ کولونیلزم کے مطالعہ پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ عموماً تھیوری کو مشکل اور خشک مضمون سمجھتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ اس کے بنیادی تصورات، خصوصاً پوسٹ کولونیلزم، کو ان کے تاریخی اور ثقافتی پس منظر کے ساتھ سمجھایا جائے۔ پروفیسر خٹک نے اس بات پر زور دیا کہ اساتذہ اور محققین کو اپنے تدریسی و تحقیقی کام میں مختلف خطوں اور طبقات کی آوازوں کو شامل کرنا چاہیے، کیونکہ متنوع تجربات اور پس منظر کو سننا اور سمجھنا ہی ادب، تھیوری اور ملٹی کلچرل ازم کے گہرے اور بامعنی مطالعے کو ممکن بناتا ہے۔نامور مصنف،ادکار اور ہدایتکار پروفیسر نوید شہزاد کا کہنا تھا کہ ادب کا کام صرف دکھ سنانا نہیں بلکہ اس خاموش دکھ کو آواز دینا ہے۔
ڈاکٹر عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ تین روزہ کانفرنس کے دوران ہونے والی علمی گفتگو کو دستاویزی شکل بھی دی جائے گی اور منتخب مقالات کو کتاب کی صورت میں شائع کیا جائے گا۔
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں تین روزہ پاکستان انگلش کانفرنس کا آغاز
64