
پاکستان کی قومی مصنوعی ذہانت پالیسی 2025 یقیناً ایک جرات مندانہ پیش رفت ہے جو اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک مستقبل کو محض قبول نہیں کرے گا بلکہ اسے خود تشکیل دے گا۔ عصرِ حاضر میں مصنوعی ذہانت محض کوئی جدید ٹیکنالوجی نہیں بلکہ عالمی معیشت، گورننس، تعلیم، صحت اور سوشل ویلفیئر کو نئی سمت دینے والی بنیادی قوت ہے۔ پاکستان کا اس شعبے میں واضح پالیسی متعارف کرانا اس بات کا اعلان ہے کہ ملک اپنی نوجوان آبادی کو جدید مہارتوں سے لیس کرکے نہ صرف عالمی ڈیجیٹل معیشت میں جگہ بنانا چاہتا ہے بلکہ قومی ترقی کے نئے دروازے بھی کھولنا چاہتا ہے۔

یہ پالیسی آئندہ برسوں کے لیے کئی دوراندیش اہداف مقرر کرتی ہے—جس میں 2030 تک دس لاکھ مصنوعی ذہانت کے ماہرین تیار کرنا، تحقیق و جدت کے لیے خصوصی فنڈز قائم کرنا، ریسرچ سنٹرز کو مضبوط بنانا، اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو سہارا دینا شامل ہے۔ خواتین اور معذور افراد کی شمولیت کو بھی پالیسی کا لازمی جزو بنایا گیا ہے تاکہ ڈیجیٹل انقلاب میں کوئی طبقہ پیچھے نہ رہ جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ پبلک سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانے، مقامی سطح پر ٹیکنالوجی مصنوعات تیار کرنے، مضبوط سائبر سیکیورٹی نظام قائم کرنے اور عالمی معیارات سے ہم آہنگ رہنے کا لائحہ عمل بھی شامل ہے۔ اگر یہ اقدامات تسلسل سے جاری رہے تو نہ صرف گورننس بہتر ہوگی بلکہ زراعت، صحت اور تعلیم جیسے اہم شعبوں میں بھی حقیقی اور تیز رفتار تبدیلی آئے گی۔
پاکستان کے نوجوانوں کے لیے یہ پالیسی ایک سنہری موقع ہے، کیونکہ جدید مہارتوں میں تربیت انہیں بین الاقوامی معیار کی ملازمتوں اور کاروباری مواقع تک رسائی فراہم کرے گی۔ مصنوعی ذہانت کی بدولت کاشتکار بہتر پیداوار، پانی کے مؤثر استعمال اور فصلوں کی پیشگوئی کرنے والے جدید سسٹمز سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ صحت کے شعبے میں AI سے چلنے والے تشخیصی نظام دور دراز علاقوں میں بھی جلد اور کم لاگت صحت سہولتیں فراہم کرسکتے ہیں۔ گورننس کے میدان میں ڈیٹا پر مبنی فیصلے شفافیت اور کارکردگی میں اضافہ کریں گے۔ مجموعی طور پر یہ پالیسی پاکستان کو عالمی مقابلہ بازی میں آگے بڑھانے، بیرونی سرمایہ کاری لانے اور عالمی ٹیکنالوجی سپلائی چین کا حصہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اس قومی وژن کو حقیقت میں بدلنے میں پنجاب کا کردار نہایت اہم ہے۔ چونکہ یہ ملک کا سب سے زیادہ آبادی والا اور تعلیم یافتہ صوبہ ہے، اس لیے یہاں کی اصلاحات باقی صوبوں پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ مریم نواز شریف کے تحت تعلیم اور آئی ٹی ریفارمز نے پورے ملک کے لیے ایک قابل تقلید مثال قائم کی ہے۔ لیپ ٹاپ اسکیم نے ہزاروں طلبہ کو ڈیجیٹل دنیا سے جوڑ کر نہ صرف آئی ٹی میں دلچسپی پیدا کی بلکہ مصنوعی ذہانت کی تعلیم کی بنیاد بھی فراہم کی۔ اسمارٹ کلاس رومز، ڈیجیٹل لائبریریاں، جدید اسکول انفراسٹرکچر، اور اساتذہ کی تربیت وہ اقدامات ہیں جنہوں نے طلبہ کو دنیا کی تیزی سے بدلتی تعلیمی ضروریات کے لیے تیار کرنا شروع کردیا ہے۔ پنجاب کی لڑکیوں کی تعلیم اور ڈیجیٹل شمولیت پر خصوصی توجہ نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ خواتین بھی ملک کی AI معیشت کی بنیادی ستون بن سکیں۔اس تبدیلی میں پاکستان کی یونیورسٹیاں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔ ملک کے سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے AI ریسرچ لیبز کے قیام، ڈیٹا سائنس اور روبوٹکس پروگرامز کی توسیع، اساتذہ کی تربیت اور صنعتی شعبے سے براہ راست شراکت داری کے ذریعے قومی پالیسی کے اہداف کو مضبوط کررہے ہیں۔ نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST)، ITU لاہور، LUMS، FAST، COMSATS، پنجاب یونیورسٹی اور دیگر ادارے نہ صرف تحقیق میں اضافہ کررہے ہیں بلکہ طلبہ کو عالمی سطح کے ہیکاتھنز، انکیوبیٹرز، اور اسٹارٹ اپ کلچرز کی طرف لا رہے ہیں۔ یونیورسٹیاں نئی نسل کو نظریاتی علم کے ساتھ ساتھ عملی تجربہ فراہم کرکے پاکستان کے ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کو مستحکم بنا رہی ہیں۔

اسی طرح ملک کا آئی ٹی سیکٹر بھی مصنوعی ذہانت کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی جیسا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کی سافٹ ویئر کمپنیاں اور اسٹارٹ اپس اے آئی پر مبنی حل تیار کر رہی ہیں—جیسے انٹیلجنٹ چیٹ بوٹس، مالیاتی تجزیے کے سسٹمز، میڈیکل امیجنگ ٹولز، ایگری ٹیک پلیٹ فارمز اور سائبر سیکیورٹی سسٹمز، جو نہ صرف ملکی ضروریات پوری کر رہے ہیں بلکہ بین الاقوامی منڈیوں میں بھی مقبول ہو رہے ہیں۔ فری لانسنگ اور ریموٹ ورک کے عالمی رجحان نے پاکستانی نوجوانوں کے لیے AI ڈیولپمنٹ، ڈیٹا لیبلنگ، مشین لرننگ ماڈلز اور آٹومیشن سروسز میں نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ اگر ریاست اور آئی ٹی کمپنیوں کے درمیان پائیدار پارٹنرشپس قائم رہیں تو پاکستان عالمی سطح پر AI سروس برآمد کرنے والا ایک اہم ملک بن سکتا ہے۔
یہ تمام اقدامات قومی سطح پر جاری نمایاں کوششوں کو تقویت دیتے ہیں، جیسے صدارتی اقدام برائے مصنوعی ذہانت و کمپیوٹنگ (PIAIC)، نیشنل سینٹر آف آرٹیفیشل انٹیلیجنس (NCAI)، اور سائنوفاک سینٹر برائے مصنوعی ذہانت (SPCAI)۔ ان اقدامات نے پاکستان میں ایک مربوط تعلیمی، تحقیقی اور صنعتی ماحول فراہم کیا ہے، جس کی مدد سے نہ صرف مقامی ٹیکنالوجی تیار ہو رہی ہے بلکہ نوجوانوں کو عالمی مارکیٹ میں مقابلے کے قابل بنایا جا رہا ہے۔ پنجاب کی لیپ ٹاپ اسکیم، اسمارٹ کلاس رومز اور ملک بھر میں آن لائن لرننگ پلیٹ فارمز اس بات کی مثال ہیں کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر ہم آہنگ پالیسی سازی کس طرح ایک پوری نسل کی صلاحیتوں کو بدل سکتی ہے۔حکومت نے اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا ہے کہ کسی بھی پالیسی کی کامیابی مضبوط انفراسٹرکچر اور مؤثر قوانین کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی لیے براڈ بینڈ تک رسائی میں اضافہ، بجلی کی فراہمی بہتر بنانا، ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ سینٹرز قائم کرنا، اور ڈیٹا پروٹیکشن قوانین متعارف کرانا اس وژن کا حصہ ہیں۔ اخلاقی اصولوں اور ماحول دوست ٹیکنالوجی پر زور دینا پاکستان کی متوازن اور ذمہ دارانہ سوچ کی علامت ہے۔

اگرچہ مالی دباؤ، ادارہ جاتی رکاوٹیں اور وزارتوں کے درمیان بہتر ربط جیسے چیلنجز موجود ہیں، لیکن پالیسی کی واضح سمت، سیاسی عزم اور تسلسل امید دلاتے ہیں کہ یہ منزل قابلِ حصول ہے۔ نجی شعبے سے شراکت، قابلِ پیمائش اہداف اور باقاعدہ کارکردگی جائزہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ یہ وژن عملی شکل اختیار کرے۔پاکستان کی مصنوعی ذہانت پالیسی دراصل ایک ٹیکنالوجی منصوبہ نہیں بلکہ قومی احیاء کا ایک جامع وژن ہے۔ یہ نوجوانوں کو مستقبل کے اوزار فراہم کرتی ہے، معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرتی ہے، خدمات کی فراہمی بہتر بناتی ہے، اور سماجی ناہمواریوں میں کمی لاتی ہے۔ قومی قیادت اور صوبائی اصلاحات، خصوصاً پنجاب کے تعلیمی و آئی ٹی اقدامات، ایک متحد سمت میں آگے بڑھتے ہوئے پاکستان کو ایک حقیقی ڈیجیٹل قوم میں بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔