Home کانفرنسز / کانووکیشن نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ پوری انسانیت کے لیے ایک جامع، روشن اور قابلِ عمل نمونہ ہے, رسول اللہ ﷺ کی زندگی کا ہر پہلواخلاق، عدل، رواداری، شفقت اور حکمت آج کے دور کے چیلنجز کا بہترین حل فراہم کرتا ہے۔……….وفاقی وزیر برائے مذہبی امور، سردار محمد یوسف

نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ پوری انسانیت کے لیے ایک جامع، روشن اور قابلِ عمل نمونہ ہے, رسول اللہ ﷺ کی زندگی کا ہر پہلواخلاق، عدل، رواداری، شفقت اور حکمت آج کے دور کے چیلنجز کا بہترین حل فراہم کرتا ہے۔……….وفاقی وزیر برائے مذہبی امور، سردار محمد یوسف

by Ilmiat

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور، سردار محمد یوسف نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ پوری انسانیت کے لیے ایک جامع، روشن اور قابلِ عمل نمونہ ہے, رسول اللہ ﷺ کی زندگی کا ہر پہلواخلاق، عدل، رواداری، شفقت اور حکمت آج کے دور کے چیلنجز کا بہترین حل فراہم کرتا ہے۔اِن خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی سیرت کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ صوفیائے کرام نے سیرتِ نبوی ﷺ کو صرف بیان نہیں کیا بلکہ اپنے کردار اور عمل سے اس کا زندہ نمونہ پیش کرکے ہماری رہنمائی کی۔ آج مختلف ادارے اسی مشن کو اپنے دائرہ کار میں آگے بڑھا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وزارتِ مذہبی امور ہر سال سیرت کانفرنس کا انعقاد کرتی ہے، سیرت پر لکھنے والوں کو ایوارڈز دیتی ہے اور اس پیغام کو مؤثر انداز میں عام کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں سیرت کانفرنس کا کامیاب اہتمام اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس پر یونیورسٹی انتظامیہ، کلیہ عربی و علومِ اسلامیہ اور وائس چانسلر واقعی مبارکباد کے مستحق ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا کہ حضور ﷺ سے بہتر انسان نہ آیا ہے نہ آئے گا اور اُن کی سیرت ہر دور کے لیے روشنی ہے۔

برصغیر کے صوفیاء نے اسی سیرت کو کتابوں سے نہیں، اپنے عمل سے زندہ کیا۔ وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ برابری، رحم دلی، سادگی، نفس کی اصلاح اور اقتدار سے دوری برصغیر پاک و ہند کے صوفیاء کی عملی تعلیمات تھیں۔ڈاکٹر ناصر محمود نے مزید کہا کہ صوفیاء نے ذاتِ رسول ﷺ سے عشق کو زندگی کے ہر پہلو میں ایسا سمویا کہ معاشرہ اُن کے کردار سے سیکھتا رہا، ہماری آج کی گفتگو بھی اسی ورثے کو سمجھنے اور اپنی زندگیوں کو بہتر بنانے کا ذریعہ بنے گی۔

جامعتہ الزیتونتہ، تیونس کے پروفیسر ڈاکٹر محمد العربی بوعزیزی نے برصغیر پاک و ہند میں صوفیاء کی خدماتِ سیرت پر اپنا کلیدی خطبہ پیش کیا۔کلیہ عربی و علوم اسلامیہ کے ڈین، پروفیسر ڈاکٹر شاہ محی الدین ہاشمی نے بھی سیرت کے مختلف پہلوں اور سیرت کے حوالے سے صوفیاء کی خدمات پر روشنی ڈالی۔صدر شعبہ سیرت سٹڈیز، پروفیسر ڈاکٹر شاہ معین الدین ہاشمی نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد تفصیل سے بیان کئے۔اس کانفرنس کے پہلے روز افتتاحی سیشن کے بعد علمی سیشن (1) اور متوازی علمی سیشن (2)، نیز ایک متوازی علمی کمبائن سیشن منعقد ہوگا جبکہ دوسرے روز علمی سیشن (1)، متوازی علمی سیشن (2) اور اختتامی تقریب کا اہتمام کیا جائے گا۔ سیرتِ النبیؐ پر 50 مقالات پیش کیے جائیں گے۔

You may also like

Leave a Comment