
وزارت وفاقی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے سیکرٹری محی الدین احمد وانی نےکہا ہے کہ تعلیم حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ یہ بات انہوں نے ٹیک فار پاکستان فیلوز کی نویں جماعت کی گریجویشن تقریب میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹیک فار پاکستان ماڈل نے مجھے اپنی موجودہ ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے گلگت بلتستان میں ایک ٹیک فیلوز پروگرام ڈیزائن کرنے کی ترغیب دی۔
انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کے ترقیاتی شراکت داروں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ٹیک فار پاکستان کے فیلوشپ پروگرام کو پورے ملک میں پھیلانے میں مدد کریں۔ اس موقع پر ایجوکیشن فیلوز پراجیکٹ کی تکمیل پر بھی نشان لگایا گیا، جو وزارت تعلیم، ٹیک فار پاکستان، اور برطانیہ کے فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس کے درمیان شراکت داری ہے۔
اس پروجیکٹ کے تحت، 87 ٹیچنگ فیلوز، جو اعلیٰ درجے کی یونیورسٹیوں کے ذہین گریجویٹس ہیں، نے اسلام آباد کے مضافات میں دیہی علاقوں کے 47 سرکاری اسکولوں میں تقریباً 8000 طلباء کو دو سال تک پڑھایا۔ ٹیک فار پاکستان کی سی ای او خدیجہ بختیار نے کہاایجوکیشن فیلوز پراجیکٹ نے اساتذہ کی بھرتی، تربیت، ایم اینڈ ای ، احتساب اور تعلیم میں نظامی تبدیلی کے لیے کوچنگ سپورٹ میں بہترین طریقوں کی نقل تیار کرنے اور اسکیل کرنے کے لیے ایک بلیو پرنٹ فراہم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی بچے اپنے گریڈ لیول سے چار پانچ سال پیچھے رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دو سالہ فیلوشپ کے دوران، ٹیک فار پاکستان کے کلاس رومز 4.4 سال کے وقفے کو ختم کرتے ہیں، 107 اسکولوں میں تقریباً 25000 طلباء کو پڑھانے کے بعد ٹیک فار پاکستان اپنے پروگرام کو سندھ کے کم وسائل والے سرکاری اسکولوں تک پھیلا رہا ہے جس کا آغاز اگست میں کراچی سے ہوا۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں تعلیم کے حوالے سے حکومت کے غیر متزلزل عزم کو سراہتے ہوئے ایجوکیشن ٹیم کے سربراہ ایف سی ڈی او مظہر سراج نے کہا کہ اس منصوبے کے تجرباتی شواہد اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ وسائل سے محروم کمیونٹیز کے سرکاری سکول بہترین تعلیمی نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔