کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی (KEMU) میں 45ویں KEMUCON سالانہ بین الاقوامی سائنسی کانفرنس 2025 کی افتتاحی تقریب نہایت وقار اور شان و شوکت کے ساتھ منعقد ہوئی۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد قومی ترانہ بجایا گیا اور وطنِ عزیز سے محبت اور احترام کا اظہار کیا گیا۔تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات جناب احسن اقبال تھے، جبکہ صوبائی وزیر برائے جیل خانہ جات جناب رانا منان اور صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور جناب سردار رمیش سنگھ اروڑا مہمانانِ اعزاز کی حیثیت سے شریک ہوئے۔
اس موقع پر کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج ایلومنائی ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکہ (KEMCAANA) کے صدر ڈاکٹر دانش بھٹی، کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج ایلومنائی ایسوسی ایشن یو کے (KEMCA-UK) کے صدر ڈاکٹر آصف خان، سابق صدر KEMCAANA ڈاکٹر فتح شہزاد، صدر KEMCA-پاکستان پروفیسر محمد امجد، چیئرمین APPNA پروفیسر خورشید خان، وائس چانسلر RLMU پروفیسر راشد لطیف، پرنسپل امیرالدین میڈیکل کالج پروفیسر فاروق افضل، پرنسپل SIMS پروفیسر زہرہ خانم، پرنسپل AIMC پروفیسر طیبہ وسیم، پرنسپل الٰعلیم میڈیکل کالج پروفیسر طیب، ڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ پروفیسر سائرہ افضل، پرو وائس چانسلر KEMU پروفیسر محمد معین، رجسٹرار KEMU پروفیسر سید اصغر نقوی، پروفیسر محمد عمران، پروفیسر علی مدیحہ ہاشمی، چیف ایگزیکٹو آفیسر میو اسپتال لاہور پروفیسر ہارون حمید، پروفیسر تحریم فاطمہ، پروفیسر فائزہ بشیر، پروفیسر عین المومنہ سمیت فیکلٹی ممبران، طلبہ اور بڑی تعداد میں ملکی و غیر ملکی مندوبین نے شرکت کی۔

وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر محمود ایاز نے استقبالیہ خطاب میں معزز مہمانوں اور شرکاء کو خوش آمدید کہا اور یونیورسٹی کی تعمیرِ نو، بحالی اور عالمی مقام کو مزید مضبوط بنانے کے وژن سے آگاہ کیا۔ انہوں نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس اسکول، بایوبینک، جینوم سیکوینسنگ سینٹر اور امپیکٹ فیکٹر جرنل کے قیام سمیت اہم تعلیمی و تحقیقی منصوبوں کا اعلان کیا۔ انہوں نے کنگ ایڈورڈ کے فعال ایلومنائی، بالخصوص ڈاکٹر فتح شہزاد، کے کردار کو سراہا
اپنے کلیدی خطاب میں وفاقی وزیر احسن اقبال نے دعوت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے وائس چانسلر اور فیکلٹی کی خدمات کو سراہا۔ ا انہوں نے مسلم تہذیب کے سنہری دور کا حوالہ دیتے ہوئے تعلیم، تحقیق اور قرآنی حکم “اقرأ” (پڑھو) کی اہمیت پر زور دیا۔ قومی ترقی کے لیے انہوں نے چار بنیادی ستون بیان کیے: امن، سیاسی استحکام، کم از کم دس سالہ پالیسی تسلسل، اور اصلاحات و جدیدیت سے وابستگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو برین ڈرین کے بجائے برین گین کو فروغ دینا ہوگا اور امید ظاہر کی کہ ملک 2030 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بن سکتا ہے۔
تقریب کے دوران KEMCAANA اور KEMCA-UK نے طلبہ اور صحت کے شعبے کے لیے نمایاں مالی معاونت کا اعلان کیا، جس میں ایم بی بی ایس انڈرگریجویٹ طلبہ کے لیے 45 ہزار امریکی ڈالر کے اینڈومنٹ وظائف، پوسٹ گریجویٹ وظائف و قرضہ جات کے لیے 2 لاکھ 4 ہزار امریکی ڈالر، “تھینکس اسکالرشپس” کے تحت 40 ہزار امریکی ڈالر، ڈاکٹر ایم مسعود اکبر ریسرچ ایوارڈ کے لیے 25 ہزار امریکی ڈالر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ میو اسپتال/کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے شعبہ تھوراسک سرجری کے لیے 15 ہزار امریکی ڈالر کا طبی سامان اور لیڈی ایچی سن اسپتال کے لیے 18 ہزار امریکی ڈالر مالیت کی جدید اینستھیزیا مشینیں بھی فراہم کی گئیں۔