پاکستان کے سینئر اساتذہ کے لیے دوسرا ایڈوانسڈ ٹریننگ پروگرام چین کی تیانجن فارن اسٹڈیز یونیورسٹی میں کامیابی سے اختتام پذیر ہو گیا۔ یہ دو ہفتوں پر مشتمل تربیتی پروگرام سی پیک یونیورسٹی کنسورشیم کے تحت منعقد کیا گیا جس میں پاکستانی جامعات سے تعلق رکھنے والے 24 فیکلٹی ممبران نے شرکت کی، تاکہ تعلیمی تعاون اور استعداد سازی کو فروغ دیا جا سکے۔
سی پیک یونیورسٹی کنسورشیم کو ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور چائنا ایسوسی ایشن آف ہائر ایجوکیشن نے مشترکہ طور پر قائم کیا ہے، جس کا مقصد سی پیک کے تحت اعلیٰ تعلیم میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینا ہے۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تیانجن فارن اسٹڈیز یونیورسٹی کی صدر لی یِنگ یِنگ نے پروگرام کو مصنوعی ذہانت سے معاون تعلیم، ذہین مینوفیکچرنگ اور چین کے دستکاری کے جذبے کے حوالے سے ایک بھرپور تعلیمی تجربہ قرار دیا۔ انہوں نے شرکاء کو ڈیجیٹل تبدیلی کی قیادت کرنے اور سی پیک کے اعلیٰ معیار کی ترقی میں کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اقدام پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کی تقریبات کا بھی حصہ ہے۔
ایچ ای سی کی ڈائریکٹر جنرل (گلوبل انگیجمنٹ) عائشہ اکرم نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کا بنیادی مقصد اعلیٰ تعلیم میں معیار، شمولیت اور اثر پذیری کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دو ماہ کے اندر دوسرا تربیتی پروگرام دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد اور مضبوط تعلیمی روابط کا عکاس ہے۔
چائنا ایسوسی ایشن آف ہائر ایجوکیشن کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل گاؤ شیاؤ جیے نے دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ کنسورشیم ابھرتے ہوئے شعبوں میں مشترکہ تحقیق، استعداد سازی اور ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔