Home اہم خبریں چیئرمین ایچ ای سی اور چیئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے درمیان اعلیٰ تعلیم کے فروغ پر ملاقات

چیئرمین ایچ ای سی اور چیئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے درمیان اعلیٰ تعلیم کے فروغ پر ملاقات

ملاقات میں وفاقی اور صوبائی سطح پر باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور تعلیمی پالیسیوں کو ہم آہنگ کرنے پر زور دیا گیا

by Ilmiat

چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) ڈاکٹر نیاز احمد اختر اور پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر اقرار احمد خان کے درمیان پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے حوالے سے اہم ملاقات ہوئی۔ ڈاکٹر اقرار احمد خان نے ایچ ای سی سیکریٹریٹ کا دورہ کیا جہاں دونوں رہنماؤں نے اعلیٰ تعلیمی شعبے میں پیش رفت اور مستقبل کی حکمتِ عملیوں پر تبادلہ خیال کیا۔

ملاقات میں وفاقی اور صوبائی سطح پر باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور تعلیمی پالیسیوں کو ہم آہنگ کرنے پر زور دیا گیا تاکہ قومی سطح پر تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔ دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مشترکہ حکمتِ عملی اور قریبی تعاون ہی ایک مربوط اور اعلیٰ معیار کے تعلیمی نظام کی بنیاد بن سکتا ہے۔

چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر اور ڈاکٹر اقرار احمد خان نے تعلیمی معیار، تحقیق، اور ادارہ جاتی ترقی کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات پر بھی اتفاق کیا، جسے پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی شعبے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

Celebrating Indus AI week with Dr Noor Amna Malik, MD NAHE HEC

ڈاکٹر نور آمنہ ملک کا سابس یونیورسٹی آف آرٹ، ڈیزائن اینڈ ہیریٹیج جامشورو کا دورہ

جامشورو: نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن (NAHE)، ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کی منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر نور آمنہ ملک نے 16 فروری 2026 کو وائس چانسلر ڈاکٹر عربیلا بھٹو کی دعوت پر سابس یونیورسٹی آف آرٹ، ڈیزائن اینڈ ہیریٹیج جامشورو کا دورہ کیا۔

دورے کے دوران وائس چانسلر ڈاکٹر عربیلا بھٹو نے ڈاکٹر نور آمنہ ملک کو یونیورسٹی کے تعلیمی پروگرامز، جاری اقدامات اور مختلف شعبہ جات کی نمایاں کامیابیوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے ادارے کی جانب سے آرٹ، ڈیزائن اور ثقافتی ورثے کے فروغ کے لیے جدید تدریسی اور تحقیقی طریقہ کار اپنانے کے عزم کو بھی اجاگر کیا۔

ڈاکٹر نور آمنہ ملک نے یونیورسٹی کی تعلیمی سرگرمیوں اور تخلیقی تحقیقی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ آرٹ اور ثقافتی ورثے کے شعبوں میں اعلیٰ تعلیم کا فروغ قومی شناخت اور تخلیقی صنعتوں کی ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔

You may also like

Leave a Comment