پنجاب یونیورسٹی نے ریسرچ،انوویشن اینڈکمرشلائزیشن پالیسی 2026 ء پر باقاعدہ عملدرآمد شروع کر دیا ہے، جو عملی تحقیق کو مضبوط بنانے، جدت کو فروغ دینے اورعلم کو سماجی و معاشی اثرات میں تبدیل کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ پالیسی کے تحت فیکلٹی اسپن آف کمپنیوں کے قیام کی بھی اجازت ہوگی، جہاں محققین یونیورسٹی میں تیار کردہ ٹیکنالوجی کی بنیاد پر تجارتی ادارے قائم اوران کی نگرانی کر سکیں گے، جس کے لیے ادارہ جاتی معاونت اور شفاف آمدنی کی تقسیم کا نظام موجود ہوگا۔اساتذہ کواپنی تخلیق کردہ مصنوعات پر رائلٹی آمدن کا 50 فیصد سے 80 فیصد تک حصہ دیا جائے گا تاکہ جدت کی حوصلہ افزائی ہو اورمنصفانہ مالی مراعات یقینی بنائی جا سکیں۔ پالیسی کی ایک نمایاں خصوصیت مضبوط دانشورانہ ملکیت (آئی پی) کا تحفظ ہے، جس کے تحت قومی اور بین الاقوامی سطح پر پیٹنٹ، کاپی رائٹ اور ٹریڈ مارک کی رجسٹریشن ممکن ہوگی تاکہ محققین کی ایجادات کو محفوظ بنایا جا سکے۔ یونیورسٹی ترجمان کے مطابق یہ پالیسی سنڈیکیٹ سے منظور شدہ ہے اور اسے پنجاب یونیورسٹی آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (اورک) نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی کی ہدایات پرتیار کیا ہے۔پالیسی میں بیرونی تحقیقاتی فنڈنگ کے لیے منظم معاونت بھی شامل ہے،جس کے تحت قومی اوربین الاقوامی گرانٹس کے حصول میں رہنمائی فراہم کی جائے گی۔کنسلٹنسی خدمات کے تحت فیکلٹی ارکان متعین آمدن کی تقسیم کے ماڈل کے ساتھ مشاورتی خدمات فراہم کر سکیں گے،جس میں محققین کو ترجیح دی جائے گی۔ ٹیکنالوجی ٹرانسفر کی سہولت کے تحت اورک ایجادات کا جائزہ لے گا، ان کا تحفظ یقینی بنائے گا اور انہیں ممکنہ صنعتی شراکت داروں تک پہنچائے گا۔ کمرشلائزیشن یا دانشورانہ ملکیت کے تحفظ کے آغاز کے لیے فیکلٹی ارکان کو اشاعت یا عوامی پیشکش سے قبل اورک میں ٹیکنالوجی ڈسکلوزر فارم جمع کروانا ہوگا تاکہ پیٹنٹ کے حصول کی اہلیت برقرار رہے۔ اس اقدام کا مقصد تحقیق کے معیار کو بہتر بنانا، صنعت کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا، بیرونی فنڈنگ حاصل کرنااوریونیورسٹی میں پیدا ہونے والی دانشورانہ ملکیت (انٹیلیکچوئیل پراپرٹی) کے مؤثر تحفظ اور تجارتی استعمال کو یقینی بنانا ہے۔ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائیزیشن پالیسی2026ء جامع فریم ورک فراہم کرتی ہے جس کے ذریعے جامعہ اور صنعت کے درمیان خلا کو پُر کیا جائے گا اور لیبارٹریوں میں تیار ہونے والی جدید ٹیکنالوجیز کو مارکیٹ تک منتقل کیا جاسکے گا۔ ا
پنجاب یونیورسٹی نے تحقیق کو سماجی و معاشی بہتری کے لئے پالیسی نافذ کر دی…..پہلی مرتبہ یونیورسٹی اساتذہ اپنی تحقیقاتی مصنوعات پر 50 سے 80 فیصد رائلٹی حاصل کر سکیں گے
الیسی کے تحت فیکلٹی اسپن آف کمپنیوں کے قیام کی بھی اجازت ہوگی، جہاں محققین یونیورسٹی میں تیار کردہ ٹیکنالوجی کی بنیاد پر تجارتی ادارے قائم اوران کی نگرانی کر سکیں گے،
86