Home Uncategorized پاکستان نے نیشنل آرٹیفیشل انٹیلی جنس پالیسی 2025 جاری کر دی………. Ignite کے R&D فنڈ کا 30 فیصد اے آئی کے لیے مختص؛ NAIF فنڈ قائم………جامعات میں سینٹرز آف ایکسیلنس ان اے آئی کے قیام کا اعلان……… سالانہ 2 لاکھ نوجوانوں کی اے آئی اسکل ڈویلپمنٹ ٹریننگ………..9. صنعتی شعبے کو AI اپنانے پر سبسڈی اور ٹیکس میں خصوصی رعایت…….پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے نئے دور میں داخل

پاکستان نے نیشنل آرٹیفیشل انٹیلی جنس پالیسی 2025 جاری کر دی………. Ignite کے R&D فنڈ کا 30 فیصد اے آئی کے لیے مختص؛ NAIF فنڈ قائم………جامعات میں سینٹرز آف ایکسیلنس ان اے آئی کے قیام کا اعلان……… سالانہ 2 لاکھ نوجوانوں کی اے آئی اسکل ڈویلپمنٹ ٹریننگ………..9. صنعتی شعبے کو AI اپنانے پر سبسڈی اور ٹیکس میں خصوصی رعایت…….پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے نئے دور میں داخل

by Ilmiat

اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے نیشنل آرٹیفیشل انٹیلی جنس پالیسی 2025 باضابطہ طور پر جاری کر دی ہے، جس کا مقصد ملک میں جدید اے آئی ٹیکنالوجی کے فروغ، اس کے ذمہ دارانہ استعمال اور سماجی و معاشی ترقی کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرنا ہے۔ پالیسی کی تیاری میں مختلف وفاقی وزارتوں، صوبائی محکموں، اعلیٰ تعلیمی اداروں اور صنعت کے نمایاں ماہرین نے کردار ادا کیا، جن کا حکومت نے خصوصی شکریہ ادا کیا ہے۔

پالیسی کا بنیادی وژن ایک مضبوط اور ذمہ دار قومی اے آئی ایکو سسٹم تشکیل دینا ہے، جو ملکی ترقی، اقتصادی استحکام اور عوامی فلاح کے لیے جدید ٹیکنالوجیز کو عملی شکل دے۔ پالیسی کے اہم مقاصد میں اقتصادی ترقی میں اضافہ، اے آئی تعلیم کا فروغ، مقامی استعداد کار میں بہتری، اور اخلاقی اصولوں پر مبنی اے آئی استعمال شامل ہے۔

پالیسی کے چار بنیادی ستون

1۔ اے آئی انوویشن ایکو سسٹم:
پالیسی کے تحت نیشنل آرٹیفیشل انٹیلی جنس فنڈ (NAIF) قائم کیا گیا ہے، جس میں Ignite کے R&D فنڈ کا کم از کم 30 فیصد مخصوص ہوگا۔ مختلف جامعات میں سینٹرز آف ایکسیلنس ان اے آئی قائم کیے جائیں گے، جو تحقیق، انفراسٹرکچر اور مقامی اسٹارٹ اپس کی معاونت کریں گے۔

2۔ آگاہی اور تیاری:
عوام میں اے آئی کے ذمہ دارانہ استعمال کے فروغ کے لیے نیشنل آگاہی پروگرام شروع کیا جائے گا، جبکہ نیشنل اے آئی اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت سالانہ 2 لاکھ نوجوانوں کو تربیت دی جائے گی۔

3۔ محفوظ اے آئی ایکو سسٹم:
پالیسی میں ڈیٹا سیکیورٹی، پرائیویسی، سائبر تحفظ اور انسانی نگرانی پر مبنی اے آئی کے اخلاقی استعمال کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات شامل ہیں۔ اے آئی پر مبنی سائبر سیکیورٹی حل بھی تیار کیے جائیں گے۔

4۔ تبدیلی اور پیش رفت:
ملکی شعبوں میں اے آئی کے عملی اطلاق کے لیے قومی سطح پر اے آئی کمپیوٹ گرڈ قائم کیا جائے گا، جو تحقیقی سرگرمیوں اور صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

شعبہ جاتی روڈمیپ

تعلیم، صحت، گورننس، زراعت، توانائی، مینوفیکچرنگ اور ماحولیات سمیت مختلف ترجیحی شعبوں کے لیے 2025–26 کے دوران اے آئی روڈمیپ تیار کیے جائیں گے، تاکہ سرکاری اداروں میں جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ اس حوالے سے خصوصی تربیتی پروگرام بھی متعارف کرائے جائیں گے۔


انفراسٹرکچر اور صنعتی ترقی

حکومت نے ملک میں جدید ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ (HPC) سینٹرز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ساتھ ہی 100 سے زائد جامعات کو ڈیٹا سیٹس اور کمپیوٹنگ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔صنعتی شعبے کو اے آئی اپنانے پر سبسڈی اور ٹیکس میں چھوٹ دی جائے گی، جبکہ دانشورانہ املاک کے تحفظ کے لیے قانونی فریم ورک کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

بین الاقوامی تعاون

پالیسی کے تحت عالمی سطح پر اے آئی کے شعبے میں ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ دو طرفہ و کثیر الجہتی تعاون بڑھایا جائے گا، اور مشترکہ تحقیقی مراکز قائم کیے جائیں گے۔ پاکستان بین الاقوامی اے آئی فورمز میں فعال کردار ادا کرے گا۔

نفاذ کا طریقہ کار

پالیسی کے شفاف اور موثر نفاذ کے لیے اے آئی کونسل تشکیل دی گئی ہے، جو وفاقی و صوبائی سطح پر اقدامات کی نگرانی کرے گی۔ کلیدی کارکردگی کے اشاریے (KPIs) ہر ستون کی پیش رفت کا جائزہ لیں گے۔مزید برآں، ایک ملین آئی ٹی گریجویٹس کے لیے اے آئی ٹریننگ پروگرام اور 30 فیصد اضافے کے ساتھ اسکالرشپس بھی متعارف کرائی جائیں گی۔

You may also like

Leave a Comment