پاکستان انجینئرنگ کونسل (پی ای سی) نے ملک کے تعمیراتی اور انجینئرنگ شعبے کو عالمی معیار کے مطابق بنانے کے لئے تین اہم قومی کوڈز باضابطہ طور پر متعارف کرا دیئے ہیں، ان کوڈز میں گرین بلڈنگ کوڈ آف پاکستان، رین واٹر ہارویسٹنگ کوڈ اور تعمیراتی شعبے کے لئے پیشہ وارانہ حفاظت و صحت کا کوڈ شامل ہے، ان کوڈز کا مقصد ماحولیاتی تحفظ، پانی کے بہتر استعمال اور تعمیراتی مزدوروں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ افتتاحی تقریب میں بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں، سفارتکاروں، اعلیٰ سرکاری افسران، انجینئرز، تعلیمی ماہرین، تعمیراتی صنعت کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ فریقین نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینئر وائس چیئرمین اور چیئرمین ورکنگ گروپ ٹیکنیکل کوڈز اینڈ سٹینڈرڈز ڈاکٹر سروش ہاشمت لودھی نے ان کوڈز پر عملدرآمد اور اپنانے کے لئے حکمت عملی پیش کی۔ پروفیسر ڈاکٹر فاروق عارف نے تینوں کوڈز کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ صرف قوانین نہیں بلکہ عملی رہنمائی کا ذریعہ ہیں جو موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ انفراسٹرکچر، پانی کے تحفظ اور تعمیراتی شعبے کے کارکنوں کی حفاظت میں مدد دیں گے۔انٹرنیشنل کوڈ کونسل (آئی سی سی ) کی سینئر وائس پریزیڈنٹ جوڈی زکریسکی نے جو گرین بلڈنگ کوڈ اور رین واٹر ہارویسٹنگ کوڈ کی تیاری میں بین الاقوامی شراکت دار ہیں، پاکستان انجینئرنگ کونسل کی کاوشوں کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کوپ-28 اور کوپ-30 میں بھی ماحولیاتی مزاحمت اور پائیدار تعمیرات میں قیادت کا مظاہرہ کیا۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) نے تعمیراتی شعبے کے لئے پیشہ وارانہ حفاظت و صحت کے کوڈ کو محفوظ کام کی جگہوں اور مزدوروں کے بہتر تحفظ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ بین الاقوامی شراکت داروں نے پاکستان کے اس اقدام کی مکمل حمایت کرتے ہوئے مستقبل میں پی ای سی کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔وفاقی سیکرٹری وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی شاہد اقبال بلوچ نے ان کوڈز کا باضابطہ اجرا ء کیا اور اسے ایک اہم قومی سنگِ میل قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کوڈز کی منظوری اور عملدرآمد سے پاکستان کی پائیدار ترقی، موسمیاتی اقدامات اور باعزت روزگار کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے جو اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف، قومی وعدوں اور بین الاقوامی ماحولیاتی و مزدور قوانین کے مطابق ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں اور محکموں کی صلاحیت بڑھانے پر بھی زور دیا تاکہ ان کوڈز پر مؤثر عمل ہو سکے۔اجرا ء کے بعد چیئرمین پاکستان انجینئرنگ کونسل انجینئر وسیم نذیر نے تینوں کوڈز کی کتابیں مہمانِ خصوصی کو پیش کیں۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ یہ کوڈز پاکستان کے انجینئرنگ شعبے میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہیں جن سے عمارتوں کی کارکردگی بہتر ہوگی، پانی کا تحفظ ممکن ہوگا اور ملک بھر میں تعمیراتی حفاظت کے اصول مضبوط ہوں گے۔