ڈیجیٹل دور میں جہاں ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو بے حد آسان بنا دیا ہے، وہیں اس کے منفی اثرات خصوصاً بچوں پر تیزی سے نمایاں ہو رہے ہیں۔ آج کے بچے پیدائش کے چند ہی سالوں میں موبائل، ٹیبلٹ اور ٹی وی اسکرین کے عادی ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین تعلیم اور نفسیات اس بڑھتے ہوئے رجحان پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔
حالیہ تحقیقی رپورٹس کے مطابق پانچ سال سے کم عمر بچوں کے لیے اسکرین ٹائم کو روزانہ ایک گھنٹے تک محدود رکھنا چاہیے، جبکہ دو سال سے کم عمر بچوں کو اسکرین سے حتیٰ الامکان دور رکھا جائے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسانی دماغ کی تقریباً 90 فیصد نشوونما ابتدائی پانچ سالوں میں مکمل ہو جاتی ہے۔ اگر اس حساس مرحلے میں بچوں کا زیادہ وقت اسکرین کے ساتھ گزرے تو ان کی لسانی، سماجی اور جذباتی صلاحیتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
تحقیقات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ زیادہ اسکرین ٹائم بچوں میں بولنے کی صلاحیت کو کم کر دیتا ہے، نیند کے مسائل پیدا کرتا ہے، اور ان کی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے برعکس، وہ بچے جو اپنے والدین یا خاندان کے ساتھ زیادہ وقت گزارتے ہیں اور براہِ راست گفتگو کرتے ہیں، ان میں سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت زیادہ بہتر ہوتی ہے۔

یہاں والدین کا کردار انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بچے اپنے والدین کی عادات کو نقل کرتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ والدین خود بھی اسکرین کے استعمال میں احتیاط برتیں۔ کھانے کے وقت موبائل فون سے اجتناب، سونے سے پہلے کہانیاں سنانا، اور روزمرہ کے کاموں میں بچوں کو شامل کرنا ان کی بہتر نشوونما میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
تاہم، اسکرین ٹائم کو مکمل طور پر ختم کرنا بھی ممکن نہیں، کیونکہ جدید دنیا میں تعلیم، معلومات اور رابطے کے لیے ڈیجیٹل ذرائع ناگزیر ہو چکے ہیں۔ اس لیے اصل ضرورت توازن قائم کرنے کی ہے، جہاں ٹیکنالوجی کو سیکھنے اور مثبت سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جائے، نہ کہ محض وقت گزارنے کے لیے۔
اسی تناظر میں Austria نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے 14 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔ حکومتی موقف کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے الگورتھمز بچوں کو نشے کا عادی بنا دیتے ہیں اور ان کی ذہنی صحت پر منفی اثرات ڈالتے ہیں۔ یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دنیا بھر میں حکومتیں اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ Australia پہلے ہی 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے اسی نوعیت کی پابندی نافذ کر چکا ہے، جبکہ France اور دیگر یورپی ممالک بھی ایسے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔ اگرچہ بعض ناقدین ان پابندیوں کو آزادی اظہار کے خلاف قرار دیتے ہیں، لیکن والدین کی بڑی تعداد ان اقدامات کی حمایت کر رہی ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا صرف حکومتی پابندیاں ہی اس مسئلے کا حل ہیں؟ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کا جواب نفی میں ہے۔ اصل حل گھر سے شروع ہوتا ہے، جہاں والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ معیاری وقت گزاریں، ان کی سرگرمیوں میں دلچسپی لیں، اور انہیں حقیقی دنیا کے تجربات فراہم کریں۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اسکرین ٹائم بذاتِ خود کوئی دشمن نہیں، بلکہ اس کا بے جا اور غیر متوازن استعمال نقصان دہ ہے۔ اگر ہم اپنے بچوں کو ایک متوازن ڈیجیٹل ماحول فراہم کریں، تو یہی ٹیکنالوجی ان کی تعلیم، تخلیقی صلاحیتوں اور مستقبل کی کامیابی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔

