وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت نے پاکستان کے تعلیمی جائزے (Learning Assessment) کے نظام میں بڑی توسیع کا اعلان کرتے ہوئے پہلی بار نجی شعبے کے سکولوں کو بھی ’’نیشنل اچیومنٹ ٹیسٹ‘‘ (این اے ٹی) 2026 میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس شمولیت کے ساتھ ساتھ وزارت نے ملکی تاریخ میں پہلی بار قومی سطح پر ‘نیشنل فاؤنڈیشنل لرننگ اسسمنٹ’ منعقد کرنے کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ ابتدائی جماعتوں میں تعلیمی نتائج کو جانچا جا سکے۔
وفاقی سیکرٹری تعلیم ندیم محبوب نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزارت نے قومی اسسمنٹ فریم ورک کو پائیدار ترقی کے اہداف کے اشاریوں سے ہم آہنگ کیا ہے، اس کا مقصد تعلیمی معیار پر قابلِ بھروسہ اور تقابلی شواہد اکٹھے کرنا ہے تاکہ بین الاقوامی سطح پر رپورٹنگ کے وعدوں کو پورا کیا جا سکے۔اسسمنٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے ندیم محبوب نے کہا کہ یہ امتحانات پانچویں اور آٹھویں جماعت کی سطح پر منعقد ہوں گے جن میں تمام صوبوں اور علاقوں کے سکولز شامل ہوں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ نجی شعبے کو اس دائرہ کار میں لانے سے ملک بھر میں تعلیمی نتائج کی ایک جامع اور حقیقی تصویر سامنے آئے گی۔ نیشنل اچیومنٹ ٹیسٹ 2026 اور نیشنل فاؤنڈیشنل لرننگ سٹڈی کے تحت سائنسی بنیادوں پر سیمپلنگ کے ذریعے 20 ہزار سے زائد طلباء کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ نتائج کی شفافیت اور درستگی کو یقینی بنایا جا سکے۔
پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے سیکرٹری تعلیم نے بتایا کہ نیشنل اچیومنٹ ٹیسٹ 2023 کے نتائج میں ’’سنگین تعلیمی بحران‘‘ کی نشاندہی ہوئی تھی، جس کی بنیاد پر وزیراعظم پاکستان نے ’’ایجوکیشن ایمرجنسی‘‘ نافذ کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سکول سے باہر بچوں کی واپسی اور ان کی تعلیمی ضروریات پوری کرنا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔اس منصوبے پر عملدرآمد پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن (پی آئی ای) کرے گا جسے امریکن انسٹی ٹیوٹس فار ریسرچ (اے آئی آر) کی تکنیکی معاونت حاصل ہوگی۔